صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ غَزْوَةِ الْحُدَيْبِيَةِ:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: Q4147
وَقَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبَايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ سورة الفتح آية 18
اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ الفتح میں) ارشاد «لقد رضي الله عن المؤمنين إذ يبايعونك تحت الشجرة» ”بیشک اللہ تعالیٰ مومنین سے راضی ہو گیا جب انہوں نے آپ سے درخت کے نیچے بیعت کی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4147]
حدیث نمبر: 4147
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ , حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ , فَأَصَابَنَا مَطَرٌ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَصَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ , ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟" قُلْنَا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , فَقَالَ:" قَالَ اللَّهُ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِي , فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِرَحْمَةِ اللَّهِ وَبِرِزْقِ اللَّهِ وَبِفَضْلِ اللَّهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ , وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَجْمِ كَذَا فَهُوَ مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي".
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے صالح بن کیسان نے بیان کیا ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ حدیبیہ کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے تو ایک دن، رات کو بارش ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھانے کے بعد ہم سے خطاب کیا اور دریافت فرمایا کہ معلوم ہے تمہارے رب نے کیا کہا؟ ہم نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صبح ہوئی تو میرے کچھ بندوں نے اس حالت میں صبح کی کہ ان کا ایمان مجھ پر تھا اور کچھ نے اس حالت میں صبح کی کہ وہ میرا انکار کئے ہوئے تھے۔ تو جس نے کہا کہ ہم پر یہ بارش اللہ کے رزق ‘ اللہ کی رحمت اور اللہ کے فضل سے ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستارے کا انکار کرنے والا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ بارش فلاں ستارے کی تاثیر سے ہوئی ہے تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والا اور میرے ساتھ کفر کرنے والا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4147]
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نکلے تو ایک رات ہمیں بارش نے آ لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟“ ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول ہی زیادہ جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: میرے کچھ بندوں نے اس حال میں صبح کی کہ وہ میرے ساتھ ایمان رکھتے ہیں اور کچھ کفر کرنے والے ہیں، تو جس نے کہا: اللہ کی رحمت، اللہ کے رزق اور اللہ کے فضل کے باعث ہم پر بارش ہوئی تو یہ لوگ مجھ پر ایمان لانے والے اور ستاروں سے کفر کرنے والے ہیں۔ اور جنہوں نے کہا: ہم پر فلاں ستارے کی وجہ سے بارش ہوئی تو وہ ستاروں پر ایمان لانے والے اور میرے ساتھ کفر کرنے والے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4147]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4148
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَخْبَرَهُ قَالَ:" اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلَّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ , إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنْ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ , وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ , وَعُمْرَةً مِنْ الْجِعْرَانَةِ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ".
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کئے اور سوا اس عمرے کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے ساتھ کیا ‘ تمام عمرے ذیقعدہ (کے مہینے) میں کئے۔ حدیبیہ کا عمرہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم ذی قعدہ (کے مہینے) میں کرنے تشریف لے گئے پھر دوسرے سال (اس کی قضاء میں) آپ نے ذی قعدہ میں عمرہ کیا اور ایک عمرہ جعرانہ سے آپ نے کیا تھا ‘ جہاں غزوہ حنین کی غنیمت آپ نے تقسیم کی تھی۔ یہ بھی ذی قعدہ میں کیا تھا اور ایک عمرہ حج کے ساتھ کیا (جو ذی الحجہ میں کیا تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4148]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے جو سب کے سب ذوالقعدہ میں تھے سوائے اس عمرے کے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے ذوالقعدہ میں کیا، دوسرا جو آئندہ سال ذوالقعدہ میں کیا۔ تیسرا عمرہ جعرانہ سے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کی غنیمتیں تقسیم فرمائیں، یہ بھی ذوالقعدہ میں کیا۔ اور چوتھا عمرہ اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ادا فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4148]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4149
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الرَّبِيعِ , حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ , أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ , قَالَ:" انْطَلَقْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فَأَحْرَمَ أَصْحَابُهُ وَلَمْ أُحْرِمْ".
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے ‘ تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے احرام باندھ لیا تھا لیکن میں نے ابھی احرام نہیں باندھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4149]
حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ حدیبیہ کے سال روانہ ہوئے۔ آپ کے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے احرام باندھا تھا لیکن میں نے احرام نہیں باندھا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4149]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4150
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" تَعُدُّونَ أَنْتُمُ الْفَتْحَ فَتْحَ مَكَّةَ وَقَدْ كَانَ فَتْحُ مَكَّةَ فَتْحًا , وَنَحْنُ نَعُدُّ الْفَتْحَ بَيْعَةَ الرِّضْوَانِ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ , كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَالْحُدَيْبِيَةُ بِئْرٌ فَنَزَحْنَاهَا , فَلَمْ نَتْرُكْ فِيهَا قَطْرَةً , فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَاهَا فَجَلَسَ عَلَى شَفِيرِهَا , ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ مِنْ مَاءٍ , فَتَوَضَّأَ ثُمَّ مَضْمَضَ وَدَعَا , ثُمَّ صَبَّهُ فِيهَا فَتَرَكْنَاهَا غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ إِنَّهَا أَصْدَرَتْنَا مَا شِئْنَا نَحْنُ وَرِكَابَنَا".
ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے ابواسحاق نے ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ‘ تم لوگ (سورۃ انا فتحنا میں) فتح سے مراد مکہ کی فتح لیتے ہو۔ فتح مکہ تو بہرحال فتح ہی تھی لیکن ہم غزوہ حدیبیہ کی بیعت رضوان کو حقیقی فتح سمجھتے ہیں۔ اس دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چودہ سو آدمی تھے۔ حدیبیہ نامی ایک کنواں وہاں پر تھا ‘ ہم نے اس میں سے اتنا پانی کھینچا کہ اس کے اندر ایک قطرہ بھی پانی باقی نہ رہا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ہوئی (کہ پانی ختم ہو گیا ہے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر کسی ایک برتن میں پانی طلب فرمایا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر سارا پانی اس کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے کنویں کو یوں ہی رہنے دیا اور اس کے بعد جتنا ہم نے چاہا اس میں سے پانی پیا اور اپنی سواریوں کو پلایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4150]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”تم لوگ فتح سے مراد فتح مکہ لیتے ہو، ٹھیک ہے فتح مکہ تو فتح تھی ہی، لیکن ہم لوگ حدیبیہ کے روز بیعتِ رضوان کو فتح شمار کرتے ہیں۔ اس دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ہم چودہ سو افراد تھے۔ حدیبیہ نامی وہاں ایک کنواں تھا۔ ہم نے اس سے اتنا پانی نکالا کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ چھوڑا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ کر ایک برتن میں پانی طلب کیا۔ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر کلی کی اور دعا فرمائی، پھر اس پانی کو کنویں میں ڈال دیا۔ تھوڑی دیر کے لیے ہم نے اس کنویں کو یوں ہی رہنے دیا، پھر تو یوں ہوا کہ اس نے ہماری چاہت کے مطابق ہمیں اور ہمارے اونٹوں کو بھی سیراب کر دیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4150]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4151
حَدَّثَنِي فَضْلُ بْنُ يَعْقُوبَ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَعْيَنَ أَبُو عَلِيٍّ الْحَرَّانِيّ , حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ , قَالَ: أَنْبَأَنَا الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ أَوْ أَكْثَرَ , فَنَزَلُوا عَلَى بِئْرٍ فَنَزَحُوهَا , فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَتَى الْبِئْرَ وَقَعَدَ عَلَى شَفِيرِهَا , ثُمَّ قَالَ:" ائْتُونِي بِدَلْوٍ مِنْ مَائِهَا" , فَأُتِيَ بِهِ فَبَصَقَ فَدَعَا ثُمَّ قَالَ:" دَعُوهَا سَاعَةً" , فَأَرْوَوْا أَنْفُسَهُمْ وَرِكَابَهُمْ حَتَّى ارْتَحَلُوا.
مجھ سے فضل بن یعقوب نے بیان کیا ‘ ہم سے حسن بن محمد بن اعین ابوعلی حرانی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے زہیر بن معاویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسحاق سبیعی نے بیان کیا کہ ہمیں براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ وہ لوگ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار چار سو کی تعداد میں تھے یا اس سے بھی زیادہ۔ ایک کنویں پر پڑاؤ ہوا لشکر نے اس کا (سارا) پانی کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنویں کے پاس تشریف لائے اور اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے۔ پھر فرمایا کہ ایک ڈول میں اسی کنویں کا پانی لاؤ۔ پانی لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کلی کی اور دعا فرمائی۔ پھر فرمایا کہ کنویں کو یوں ہی تھوڑی دیر کے لیے رہنے دو۔ اس کے بعد سارا لشکر خود بھی سیراب ہوتا رہا اور اپنی سواریوں کو بھی خوب پلاتا رہا۔ یہاں تک کہ وہاں سے انہوں نے کوچ کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4151]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ حدیبیہ کے روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ چودہ سو یا اس سے زیادہ لوگ تھے۔ انہوں نے وہاں ایک کنویں پر پڑاؤ کیا اور اس کا سارا پانی نکال لیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کنویں پر تشریف لائے اور اس کے کنارے پر بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”میرے پاس اس پانی کا ڈول لاؤ۔“ جب ڈول بھر کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں لعابِ دہن ڈالا اور دعا فرمائی، اس کے بعد فرمایا: ”اسے تھوڑی دیر تک یوں ہی رہنے دو۔“ پھر انہوں نے خود پیا اور اپنی سواریوں کو بھی سیراب کیا، پھر وہاں سے مدینہ کے لیے عازمِ سفر ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4151]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4152
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى , حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ , حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ , عَنْ سَالِمٍ , عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رَكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ مِنْهَا , ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ نَحْوَهُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكُمْ" , قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ بِهِ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا فِي رَكْوَتِكَ , قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ فِي الرَّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ , قَالَ: فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا , فَقُلْتُ لِجَابِرٍ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً.
ہم سے یوسف بن عیسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے ‘ کہا ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر سارا ہی لشکر پیاسا ہو چکا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھا ‘ اس کے پانی سے آپ نے وضو کیا۔ پھر صحابہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہے؟ صحابہ بولے کہ یا رسول اللہ! ہمارے پاس اب پانی نہیں رہا ‘ نہ وضو کرنے کے لیے اور نہ پینے کے لیے۔ سوا اس پانی کے جو آپ کے برتن میں موجود ہے۔ بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اس برتن میں رکھا اور پانی آپ کی انگلیوں کے درمیان سے چشمے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر ابلنے لگا۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ہم نے پانی پیا بھی اور وضو بھی کیا۔ (سالم کہتے ہیں کہ) میں نے جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ انہوں نے بتلایا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو بھی وہ پانی کافی ہو جاتا۔ ویسے اس وقت ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4152]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کا ایک برتن تھا۔ آپ نے اس سے وضو فرمایا۔ پھر لوگ آپ کے پاس حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے کہا: ”اللہ کے رسول! ہمارے پاس پانی نہیں ہے جس سے ہم وضو کریں اور اسے پئیں۔ صرف وہی پانی ہے جو آپ کے برتن میں ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک پانی کے برتن میں رکھا تو آپ کی انگلیوں سے پانی فوارے کی طرح پھوٹنے لگا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ہم سب نے پانی پیا اور اس سے وضو کیا۔“ (راوی کہتا ہے:) میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”اس روز تمہاری تعداد کتنی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہم سب کو پانی کافی ہوتا، ویسے ہم اس روز پندرہ سو (1500) کی تعداد میں تھے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4152]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4153
حَدَّثَنَا الصَّلْتُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , بَلَغَنِي أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , كَانَ يَقُولُ:" كَانُوا أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً" , فَقَالَ لِي سَعِيدٌ: حَدَّثَنِي جَابِرٌ:" كَانُوا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً الَّذِينَ بَايَعُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ. تَابَعَهُ أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا قُرَّةُ , عَنْ قَتَادَةَ.
ہم سے صلت بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی عروبہ نے، ان سے قتادہ نے کہ میں نے سعید بن مسیب سے پوچھا ‘ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جابر رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے کہ (حدیبیہ کی صلح کے موقع پر) صحابہ کی تعداد چودہ سو تھی۔ اس پر سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ مجھ سے جابر رضی اللہ عنہ نے یہ کہا تھا اس موقع پر پندرہ سو صحابہ رضی اللہ عنہم موجود تھے۔ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیبیہ میں بیعت کی تھی۔ ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا، ہم سے قرۃ بن خالد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور محمد بن بشار نے بھی ابوداؤد طیالسی کے ساتھ اس کو روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4153]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا: ”مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کے کہنے کے مطابق حدیبیہ کے دن لوگوں کی تعداد چودہ سو تھی“ تو حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا: ”مجھے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ وہ پندرہ سو تھے جنہوں نے حدیبیہ کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی تھی“۔ امام ابو داود رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمیں قرہ نے بیان کیا، وہ حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں“۔ صلت بن محمد کی محمد بن بشار نے متابعت کی ہے۔ امام ابو داود رحمہ اللہ نے کہا: ”ہمیں شعبہ نے خبر دی ہے“۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4153]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4154
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , قَالَ عَمْرٌو , سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ:" أَنْتُمْ خَيْرُ أَهْلِ الْأَرْضِ" , وَكُنَّا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ وَلَوْ كُنْتُ أُبْصِرُ الْيَوْمَ لَأَرَيْتُكُمْ مَكَانَ الشَّجَرَةِ. تَابَعَهُ الْأَعْمَشُ , سَمِعَ سَالِمًا , سَمِعَ جَابِرًا أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حدیبیہ کے موقع پر فرمایا تھا کہ تم لوگ تمام زمین والوں میں سب سے بہتر ہو۔ ہماری تعداد اس موقع پر چودہ سو تھی۔ اگر آج میری آنکھوں میں بینائی ہوتی تو میں تمہیں اس درخت کا مقام دکھاتا۔ اس روایت کی متابعت اعمش نے کی، ان سے سالم نے سنا اور انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ چودہ سو صحابہ غزوہ حدیبیہ میں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4154]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حدیبیہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”تم تمام اہل زمین سے افضل ہو۔“ ہم اس وقت چودہ سو (1400) افراد تھے۔ انہوں نے کہا: ”اگر میں آج بینا ہوتا تو تمہیں اس درخت کی جگہ دکھاتا (جس کے نیچے بیعت ہوئی تھی)۔“ اعمش نے سفیان بن عیینہ کی متابعت کی ہے کہ واقعی ان کی تعداد چودہ سو (1400) تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4154]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4155
وَقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: كَانَ أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ أَلْفًا وَثَلَاثَ مِائَةٍ , وَكَانَتْ أَسْلَمُ ثُمْنَ الْمُهَاجِرِينَ. تَابَعَهُ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ.
اور عبیداللہ بن معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ درخت والوں (بیعت رضوان کرنے والوں) کی تعداد تیرہ سو تھی۔ قبیلہ اسلم مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔ اس روایت کی متابعت محمد بن بشار نے کی ‘ ان سے ابوداؤد طیالسی نے بیان کیا اور ان سے شعبہ نے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4155]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”اصحاب شجرہ (بیعت رضوان والے) تیرہ سو (1300) تھے اور قبیلہ اسلم کے لوگ مہاجرین کا آٹھواں حصہ تھے۔“ اس (عبیداللہ بن معاذ) کی متابعت محمد بن بشار نے کی، انہوں نے کہا: ”ہم سے ابو داود (طیالسی) نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے شعبہ نے بیان کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4155]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة