یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب غزوة الحديبية:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
حدیث نمبر: 4170
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقُلْتُ: طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ".
مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر (درخت) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4170]
حضرت مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: ”آپ کو مبارک ہو! آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی اور آپ کو درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعتِ رضوان کا موقع ملا۔“ انہوں نے فرمایا: ”اے بھتیجے! تم نہیں جانتے کہ ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کیے۔“ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
4170
| صحبت النبي وبايعته تحت الشجرة |
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4170 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4170
حدیث حاشیہ:
بیعت رضوان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا پروانہ عطا فرمایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”بے شک اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے۔
“ (الفتح: 17/48)
اس کے باوجود یہ حضرات تواضع اور کسرنفسی کے طورپر فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم لوگ فتنوں میں مبتلا ہوگئے۔
ممکن ہے کہ حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد جو اختلاف رونما ہوئے، ان کی طرف اشارہ مقصود ہو۔
بہرحال یہ حضرات خوشخبری کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے۔
بیعت رضوان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا پروانہ عطا فرمایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”بے شک اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے۔
“ (الفتح: 17/48)
اس کے باوجود یہ حضرات تواضع اور کسرنفسی کے طورپر فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم لوگ فتنوں میں مبتلا ہوگئے۔
ممکن ہے کہ حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد جو اختلاف رونما ہوئے، ان کی طرف اشارہ مقصود ہو۔
بہرحال یہ حضرات خوشخبری کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4170]
Sahih Bukhari Hadith 4170 in Urdu
المسيب بن رافع الأسدي ← البراء بن عازب الأنصاري