🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
36. باب غزوة الحديبية:
باب: غزوہ حدیبیہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4170
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ , عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , فَقُلْتُ: طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ , فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ".
مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر (درخت) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4170]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥البراء بن عازب الأنصاري، أبو عمارة، أبو الطفيل، أبو عمروصحابي
👤←👥المسيب بن رافع الأسدي، أبو العلاء
Newالمسيب بن رافع الأسدي ← البراء بن عازب الأنصاري
ثقة
👤←👥العلاء بن المسيب الكاهلي
Newالعلاء بن المسيب الكاهلي ← المسيب بن رافع الأسدي
ثقة
👤←👥محمد بن الفضيل الضبي، أبو عبد الرحمن
Newمحمد بن الفضيل الضبي ← العلاء بن المسيب الكاهلي
صدوق عارف رمي بالتشيع
👤←👥أحمد بن أشكاب الحضرمي، أبو عبد الله
Newأحمد بن أشكاب الحضرمي ← محمد بن الفضيل الضبي
ثقة حافظ
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
4170
صحبت النبي وبايعته تحت الشجرة
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4170 کے فوائد و مسائل
الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:4170
حدیث حاشیہ:
بیعت رضوان کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کا پروانہ عطا فرمایا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
بے شک اللہ تعالیٰ اہل ایمان سے راضی ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت کررہے تھے۔
(الفتح: 17/48)
اس کے باوجود یہ حضرات تواضع اور کسرنفسی کے طورپر فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہم لوگ فتنوں میں مبتلا ہوگئے۔
ممکن ہے کہ حضرت عمر ؓ کی شہادت کے بعد جو اختلاف رونما ہوئے، ان کی طرف اشارہ مقصود ہو۔
بہرحال یہ حضرات خوشخبری کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہتے تھے۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4170]