محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 1147 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه مالك في صلاة اللّيل (٩) عن سعيد بن أبي سعيد المقبريّ، عن أبي سلمة بن عبد الرحمن بن عوف، أنّه سأل عائشة زوج النبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم-:" كيف كانت صلاة رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- في رمضان؟ فقالت: (فذكرت الحديث بطوله) ، وسيأتي في موضعه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مالک 9 نے صلاۃ اللیل میں سعید بن ابی سعید المقبری سے، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: "رمضان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز (تہجد) کیسی ہوتی تھی؟" تو انہوں نے جواب دیا، (پھر راوی نے پوری طویل حدیث بیان کی)۔ 📝 نوٹ / توضیح: اور یہ (حدیث) اپنے مقام پر آگے آئے گی۔
ورواه البخاريّ في صلاة التراويح (١١٤٧) ، ومسلم في صلاة المسافرين (٧٣٨) ، كلاهما من حديث مالك بإسناده.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری 1147 نے صلاۃ التراویح میں اور امام مسلم 738 نے صلاۃ المسافرین میں روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان دونوں نے اسے امام مالک کی حدیث سے ان کی سند کے ساتھ ہی بیان کیا ہے۔