محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 254 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه البخاريّ في الغسل (٢٥٤) ومسلم في الحيض (٣٢٧) كلاهما من طريق أبي إسحاق، عن سليمان بن صُرَدٍ، عن جبير بن مُطْعِم، فذكر الحديث. وفي رواية مسلم: قال: تَمارَوُا في الغُسْل عند رسول الله - ﷺ -، فقال بعضُ القوم: أمَّا أنا فإني أغْسِلُ رأسي كذا وكذا، فقال رسولُ الله: - ﷺ - "أَمَّا أنا فَإِنِّي أُفيض على رأسي ثلاث أكُفٍّ" .
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے کتاب الغسل 254 اور امام مسلم نے کتاب الحیض 327 میں ابو اسحاق سبیعی کے واسطے سے روایت کیا ہے، جنہوں نے حضرت سلیمان بن صرد سے اور انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے نقل کیا۔ 🧾 تفصیلِ روایت: مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں غسل کے بارے میں گفتگو (تکرار) ہوئی، تو کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم تو اپنا سر اس اس طرح دھوتے ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "لیکن میں تو اپنے سر پر تین لپ بھر کر پانی بہاتا ہوں"۔