🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 307 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه مالك في الطهارة (١٦٦ - رواية أبي مصعب الزهريّ) عن هشام بن عروة، عن فاطمة بنت المنذر بن الزبير (زوج هشام) ، عن أسماء، فذكرت الحديث. ومن طريقه البخاري في الحيض (٣٠٧) ومسلم في الطهارة (٢٩١) .
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام مالک نے کتاب الطہارہ 166 (روایتِ ابومصعب زہری) میں ہشام بن عروہ کے طریق سے، انہوں نے اپنی زوجہ فاطمہ بنت منذر سے اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ اسی طریق سے امام بخاری 307 اور امام مسلم 291 نے بھی اسے نقل کیا ہے۔
وفي رواية عند البخاري (٢٢٧) : "تحتُّه ثم تقرصُه بالماء وتنضحه وتصلي فيه" . ووقع في بعض الروايات أن السائلة هي أسماء نفسها.
🧾 تفصیلِ روایت: بخاری کی روایت 227 کے الفاظ ہیں: "(کپڑے پر لگے خون کو) پہلے کھرچے، پھر پانی کے ساتھ انگلیوں سے ملے (دھوئے)، پھر اس پر پانی چھڑک کر اس میں نماز پڑھ لے"۔ بعض روایات میں صراحت ہے کہ سائلہ خود حضرت اسماء رضی اللہ عنہا تھیں۔
تنبيه:
📌 اہم نکتہ: (ضروری وضاحت)
وأما ما رواه يحيى اللّيثي في موطئه (١٠٣) عن مالك، وزاد بن هشام بن عروة وفاطمة بنت المنذر "عن أبيه" فهو وهم منه. انظر: التمهيد (٢٢/ ٢٢٩) .
🔍 فنی نکتہ / علّت: یحییٰ لیثی نے موطا 103 میں امام مالک سے روایت کرتے ہوئے فاطمہ بنت منذر اور حضرت اسماء کے درمیان "عن ابیہ" (اپنے والد سے) کا جو اضافہ کیا ہے، وہ ان کا وہم ہے۔ تفصیل کے لیے ابن عبدالبر کی "التمہید" 229/22 دیکھیں۔
قلت: وكذلك رواه غير مالك عن هشام منهم: حماد بن زيد، وابن عيينة، ويحيي القطان، ووكيع، وأبو أسامة، وأبو معاوية، ذكر ذلك ابن خزيمة في صحيحه (٢٧٥) .
🧩 متابعات و شواہد: میں کہتا ہوں کہ ہشام بن عروہ سے امام مالک کے علاوہ حماد بن زید، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید القطان، وکیع بن الجراح، ابو اسامہ اور ابو معاویہ نے بھی (بغیر اس اضافے کے) روایت کیا ہے، جیسا کہ امام ابن خزیمہ نے اپنی صحیح 275 میں ذکر کیا ہے۔