🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 3267 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه البخاريّ في بدء الخلق (٣٢٦٧) ، ومسلم في الزّهد والرّقائق (٢٩٨٩) كلاهما من طريق الأعمش، عن شقيق، عن أسامة بن زيد، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "بدء الخلق" (3267) اور امام مسلم نے "الزہد والرقائق" (2989) میں روایت کیا، ان دونوں نے اسے اعمش کے طریق سے، انہوں نے شقیق سے، انہوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
قوله: "فتندلق أقتاب بطنه" . أقتاب: جمع قِتْب -بكسر القاف وسكون المثناة- وهي الأمعاء، واندلاقها خروجها بسرعة.
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ "فتندلق أقتاب بطنه" کی تشریح: "أقتاب" یہ "قِتْب" (قاف کے کسرہ اور تاء کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، اور اس سے مراد آنتیں ہیں۔ "اندلاق" کا معنی تیزی سے باہر نکلنا ہے۔