🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 364 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
البخاريّ في الصّلاة (٣٦٤) واللّفظ له، ومسلم في الحيض (٣٤٠) كلاهما من طريق رَوْحِ بن عُبادة، حَدَّثَنَا زكريا بن إسحاق، حَدَّثَنَا عمرو بن دينار به مثله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے کتاب الصلاۃ 364 (الفاظ بخاری کے ہیں) اور امام مسلم نے کتاب الحیض 340 میں روایت کیا ہے۔ یہ دونوں روایات روح بن عبادہ از زکریا بن اسحاق از عمرو بن دینار کے طریق سے اسی طرح مروی ہیں۔
وفي رواية عندهما البخاريّ (١٥٨٢، ٣٨٢٩) : فخرَّ إلى الأرض وطَمَحَتْ عيناهُ إلى السَّماء فقال: "إزاري" فشدَّه عليه. وفي رواية: "إزاري! إزاري!" .
🧾 تفصیلِ روایت: بخاری 1582 اور 3829 کی روایت میں ہے کہ (جب کعبہ کی تعمیر کے وقت آپ ﷺ کا تہبند کھل گیا) تو آپ ﷺ زمین پر گر پڑے اور آپ کی آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ گئیں۔ آپ ﷺ نے پکارا: "میرا تہبند!" چنانچہ اسے آپ پر باندھ دیا گیا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ آپ ﷺ "میرا تہبند! میرا تہبند!" پکارنے لگے۔
والقصة وقعت قبل البعثة، ورواية جابر لها من مراسيل الصّحابة، والعلماء متفقون على قبول مراسيل الصّحابة، وعليه بنى الشيخان مذهبَهما في صحيحيهما. وجابر إما سمع ذلك من النَّبِيّ ﷺ أو من بعض من حضر ذلك من الصّحابة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: یہ واقعہ نبوت سے پہلے کا ہے، اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اس روایت کی حیثیت 'مرسلِ صحابی' کی ہے (کیونکہ وہ اس وقت موجود نہیں تھے)۔ علماء کا اتفاق ہے کہ صحابہ کی مرسل روایات مقبول ہوتی ہیں، اور اسی پر امام بخاری و مسلم نے اپنی صحیحین میں بنیاد رکھی ہے۔ حضرت جابر نے یہ واقعہ یا تو براہِ راست نبی ﷺ سے سنا یا ان صحابہ سے سنا جو اس وقت وہاں موجود تھے۔
يقول الحافظ ابن حجر: "والذي يظهر أنه العباس، وحدَّث به عن العباس أيضًا ابنه عبد الله" . الفتح (١/ ٤٧٤) .
📖 حوالہ / مصدر: حافظ ابن حجر عسقلانی 'فتح الباری' 1/474 میں فرماتے ہیں: "ظاہر یہی ہے کہ حضرت جابر نے یہ واقعہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ہے، اور اسے حضرت عباس سے ان کے بیٹے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی روایت کیا ہے"۔
وقوله: "طَمَحَتْ" - بفتح الطاء والميم - أي: ارتفعتْ.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ "طَمَحَت" (طا اور میم کے فتحہ کے ساتھ) کا معنی ہے 'بلند ہو جانا' یا 'اوپر اٹھ جانا'۔
وفي الحديث بيان بعض ما أكرم الله سبحانه وتعالى به رسول الله - ﷺ -، أنه جعله مصونًا محميًا في صغره عن القبائح وأخلاق الجاهليّة. قاله النوويّ.
📌 اہم نکتہ: امام نووی فرماتے ہیں: "اس حدیث میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی اس خاص تکریم کا بیان ہے جو اس نے اپنے رسول ﷺ کے لیے فرمائی؛ کہ آپ ﷺ کو بچپن ہی سے تمام برائیوں اور جاہلیت کے اخلاق سے محفوظ و مامون رکھا گیا"۔