محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 387 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه البخاري في الصلاة (٣٨٧) ومسلم في الطهارة (٢٧٢) واللفظ له، كلاهما عن الأعمش، عن إبراهيم، عن همام بن الحارث قال: رأيت جريرًا بال، وذكر الحديث
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے کتاب الصلاۃ 387 میں اور امام مسلم نے کتاب الطہارت 272 میں روایت کیا ہے (الفاظ مسلم کے ہیں)۔ دونوں نے اسے امام اعمش کے طریق سے روایت کیا ہے، وہ ابراہیم نخعی سے، وہ ہمام بن حارث سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے پیشاب کیا... (پھر وضو کر کے موزوں پر مسح کیا)۔
وفي رواية عند الترمذي: قيل لجرير: متى أسلمت؟ فقال: بعد المائدة.
📌 اہم نکتہ: امام ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت جریر بن عبداللہ سے پوچھا گیا: آپ کب اسلام لائے؟ انہوں نے جواب دیا: سورہ مائدہ کے نزول کے بعد۔ (اس سے ثابت ہوتا ہے کہ موزوں پر مسح کا حکم سورہ مائدہ کی آیتِ وضو سے منسوخ نہیں ہوا کیونکہ جریر کا اسلام لانا اور آپ ﷺ کو مسح کرتے دیکھنا اس کے بعد کا واقعہ ہے)۔