🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 3883 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه البخاريّ في المناقب (٣٨٨٣) ، ومسلم في الإيمان (٢٠٩) كلاهما من حديث يحيى بن سعيد، عن سفيان، حدّثنا عبد الملك بن عمير، حدّثنا عبد اللَّه بن الحارث، حدّثنا عباس ابن عبد المطلب، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری 3883 اور مسلم 209 دونوں نے یحییٰ بن سعید (القطان) کے طریق سے روایت کیا ہے، وہ سفیان (بن عیینہ) سے، وہ عبد الملک بن عمیر سے، وہ عبد اللہ بن الحارث سے اور وہ عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، پھر انہوں نے حدیث بیان کی۔
وفي لفظ عند مسلم من رواية ابن أبي عمر، عن سفيان بإسناده. قلت: يا رسول اللَّه، إنّ أبا طالب كان يحوطك وينصرك، فهل نفعه ذلك؟ قال: "نعم، وجدتُه في غمرات من النّار، فأخرجته إلى ضحضاح" .
🧾 تفصیلِ روایت: صحیح مسلم کے ایک لفظ (روایت) میں جو ابن ابی عمر کی سفیان بن عیینہ سے اپنی سند کے ساتھ ہے، (عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں) میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بے شک ابو طالب آپ کی حفاظت کرتے تھے اور آپ کی مدد فرماتے تھے، تو کیا انہیں اس بات نے کوئی فائدہ پہنچایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "ہاں، میں نے انہیں آگ کی گہرائیوں میں پایا، تو (میری شفاعت کی وجہ سے) میں نے انہیں نکال کر آگ کے ضحضاح (کم گہرے حصے) میں کر دیا"۔