محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 399 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه البخاريّ في الصّلاة (٣٩٩) ، ومسلم في المساجد (٥٢٥) كلاهما من حديث أبي إسحاق، عن البراء بن عازب، واللّفظ للبخاريّ، وذكره مسلم مختصرًا نحوه، وانفرد البخاريّ فذكر في كتاب الإيمان (٤٠) : وهم راكعون، فداروا كما هم قِبَل البيت، وكانت اليهود قد أعجبهم إذ كان يُصَلِّي قبل بيت المقدس وأهلُ الكتاب، فلمّا ولَّى وجْهَه قِبل البيتِ أنكروا ذلك.
📖 حوالہ / مصدر: اسے بخاری 399 اور مسلم 525 نے ابو اسحاق سبیعی عن براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت کیا ہے، الفاظ بخاری کے ہیں۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام بخاری نے کتاب الایمان 40 میں یہ اضافہ ذکر کیا ہے کہ "لوگ رکوع کی حالت میں ہی بیت اللہ کی طرف مڑ گئے"۔ یہود اس بات پر خوش تھے کہ آپ ﷺ بیت المقدس کی طرف رخ کرتے ہیں، مگر قبلہ بدلنے پر انہوں نے اعتراض کیا۔