محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
صحيح البخاري کی حدیث نمبر 831 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه البخاريّ في الأذان (٨٣١) عن أبي نعيم، قال: حَدَّثَنَا الأعمش، عن شقيق بن سلمة، قال: قال عبد الله فذكر الحديث
⚖️ درجۂ حدیث: صحيح (متفق علیہ کا حصہ)۔ 📖 حوالہ / مصدر: صحيح بخاری، کتاب الأذان 831۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس روایت کو امام بخاری رحمہ اللہ نے ابو نعیم (فضل بن دکین) کے واسطے سے روایت کیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں اعمش (سلیمان بن مہران) نے حدیث بیان کی، انہوں نے شقیق بن سلمہ (ابو وائل) سے روایت کیا اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول نقل کرتے ہوئے مذکورہ حدیث بیان کی۔
وفي رواية يحيى، عن الأعمش حَدَّثَنِي شقيق، عن عبد الله (٨٣٥) قال: كنا إذا كنا مع النَّبِيّ ﷺ في الصّلاة، قلنا: السّلام على الله من عباده، السّلام على فلان وفلان، فقال النَّبِيّ - ﷺ "لا تقولوا السّلام على الله فإن الله هو السّلام ثمّ ذكر بقية التّشهد مثله، وقال في آخره:" ثمّ يتخيرُ من الدُّعاء أعجَبَه إليه فيدعو ".
📖 حوالہ / مصدر: صحيح بخاری 835۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: اس سند میں یحییٰ (یحییٰ بن سعید القطان) نے اعمش (سلیمان بن مہران) سے روایت کی ہے جس میں شقیق (ابو وائل) نے صراحت کی ہے کہ انہوں نے یہ روایت براہِ راست حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب ہم نبی کریم ﷺ کے ہمراہ نماز میں ہوتے تو ہم (تشہد میں) کہتے: 'اللہ کے بندوں کی طرف سے اللہ پر سلام ہو، فلاں اور فلاں پر سلام ہو'۔ یہ سن کر نبی کریم ﷺ نے ہدایت فرمائی: 'اللہ پر سلام نہ کہو کیونکہ اللہ کی ذات تو خود "السلام" (سلامتی دینے والی) ہے'۔ پھر آپ ﷺ نے مکمل تشہد اسی طرح ذکر کیا اور آخر میں فرمایا: 'پھر (تشہد کے بعد) اسے جو دعا سب سے زیادہ پسند ہو اس کا انتخاب کرے اور اللہ سے مانگے'۔
ورواه أيضًا في الدعوات (٦٣٢٨) ، ومسلم في الصّلاة (٤٠٢) كلاهما عن عثمان بن أبي شيبة، ثنا جرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن عبد الله قال: كنا نقول في الصّلاة خلف رسول الله - ﷺ - كذا ذكره مسلم وقال أيضًا:" تم يتخيَّرُ من المسألة ما شاء "وفي رواية:" ثمّ ليتخيَّر بعد من المسألة ما شاء ".
📖 حوالہ / مصدر: صحيح بخاری، کتاب الدعوات 6328 اور صحيح مسلم، کتاب الصلاة 402۔ 📝 نوٹ / توضیح: ان دونوں ائمہ (بخاری و مسلم) نے اسے عثمان بن ابی شیبہ کے واسطے سے روایت کیا ہے، جنہیں جریر (بن عبد الحمید) نے، انہوں نے منصور (بن معتمر) سے، انہوں نے ابو وائل (شقیق بن سلمہ) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز میں اس طرح (سلام) کہا کرتے تھے جیسا کہ امام مسلم نے ذکر کیا ہے۔ نیز مسلم کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: 'پھر وہ اپنی حاجت کے مطابق جو چاہے دعا مانگے'۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں: 'پھر اس کے بعد اسے اختیار ہے کہ جو چاہے سوال (دعا) کرے'۔
وفي الصحيحين أيضًا - البخاريّ في الاستئذان (٦٢٦٥) واللّفظ له، ومسلم في الصّلاة كلاهما عن أبي نعيم، قال: حَدَّثَنَا سيف بن سليمان، قال: سمعت مجاهدًا يقول: حَدَّثَنِي عبد الله بن سَخْبَرة قال: سمعتُ ابن مسعود يقول: عَلَّمني رسول الله - ﷺ - وكفّي بين كفَّيه - التّشهُّدَ كما يُعلِّمني السورةَ من القرآن فذكر مثله إلى قوله:" وأشهد أن محمدًا رسول الله "وقال: وهو بين ظهْرانَينا، فلمّا قُبِض قلنا: السّلام - يعني على النَّبِيّ - ﷺ -.
⚖️ درجۂ حدیث: صحيح (متفق علیہ)۔ 📖 حوالہ / مصدر: صحيح بخاری، کتاب الاستئذان 6265 (الفاظ بخاری کے ہیں) اور صحيح مسلم، کتاب الصلاة۔ 📝 نوٹ / توضیح: دونوں ائمہ نے ابو نعیم (فضل بن دکین) سے، انہوں نے سیف بن سلیمان (المکی) سے، انہوں نے مجاہد (بن جبر) سے اور انہوں نے عبداللہ بن سخبیرہ سے روایت کیا ہے کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے تشہد سکھایا جبکہ میرا ہاتھ آپ ﷺ کی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان تھا، آپ ﷺ نے اس کی اہمیت کے پیشِ نظر مجھے اس طرح سکھایا جیسے آپ ﷺ ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: انہوں نے 'وأشهد أن محمداً رسول اللہ' تک تشہد ذکر کیا اور یہ اضافہ کیا کہ یہ اس وقت تک تھا جب آپ ﷺ ہمارے درمیان موجود تھے، لیکن جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی تو ہم (السلام علیک کے بجائے) 'السلام' یعنی 'نبی ﷺ پر سلام ہو' (السلام علی النبی) کہنے لگے۔
رواه عبد الرزّاق قال: أخبرنا ابن جريج، أخبرني عطاء، أن الصّحابة، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: مصنف عبد الرزاق۔ 📝 نوٹ / توضیح: اسے امام عبد الرزاق (بن ہمام الصنعانی) نے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ ہمیں ابن جریج (عبد الملک بن عبد العزیز) نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء (بن ابی رباح) نے خبر دی کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسی طرح (یعنی وفات کے بعد صیغہ بدل کر) کہا کرتے تھے۔
وإسناده صحيح، كما قال الحافظ في "الفتح" (٢/ ٣١٤) .
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح۔ 📖 حوالہ / مصدر: فتح الباری 2/314۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس روایت کی سند صحیح ہے، جیسا کہ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب 'فتح الباری' 2/314 میں صراحت کی ہے۔
يعني أنهم كانوا يقولون في حياة النَّبِيّ - ﷺ السّلام عليك أيها النَّبِيّ" بكاف الخطّاب، فلمّا مات عليه السّلام عدلوا عن ذلك وقالوا: "السّلام على النَّبِيّ" تركوا الخطّاب، وذكروه بلفظ الغيبة.
🔍 فنی نکتہ / علّت: صیغۂ خطاب سے صیغۂ غائب کی طرف تبدیلی۔ 📝 نوٹ / توضیح: اس کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم ﷺ کی ظاہری زندگی میں 'السلام علیک ایھا النبی' (اے نبی! آپ پر سلام ہو) "کاف" کے ساتھ خطاب کے صیغے میں پڑھتے تھے، لیکن جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی تو انہوں نے اس صیغے کو تبدیل کر دیا اور 'السلام علی النبی' (نبی ﷺ پر سلام ہو) کہنا شروع کر دیا۔ یعنی انہوں نے روبرو خطاب والا صیغہ چھوڑ دیا اور غائب کے لفظ کے ساتھ آپ ﷺ کا تذکرہ کرنے لگے۔
وقد صحَّ عن الصّحابة أنّهم كانوا يقولون والنَّبِيّ - ﷺ - حيٌّ: "السّلام عليك أيّها النَّبِيّ. فلمّا مات قالوا: السّلام على النَّبِيّ" .
📌 اہم نکتہ: صحابہ کرام کا عمل۔ 📝 نوٹ / توضیح: صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ بات صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ظاہری زندگی میں (تشہد میں) 'السلام علیک ایھا النبی' (اے نبی! آپ پر سلام ہو) کہتے تھے، مگر جب آپ ﷺ کی وفات ہو گئی تو وہ (خطاب کے بجائے غائب کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے) 'السلام علی النبی' (نبی ﷺ پر سلام ہو) کہنے لگے۔
ورواه أبو داود (٩٧٠) ، والدارقطني (١٣٣٣) ، وصحّحه ابن حبان (١٩٦٢) كلّهم من حديث الحسن بن الحر، عن القاسم بن مخيمرة، قال: أخذ علقمة بيديّ، وأخذ ابن مسعود بيد علقمة، وأخذ النَّبِيّ - ﷺ - بيد ابن مسعود، فعلَّمه التّشهد كما ذكره الأعمش: "إذا قلت هذا، أو قضيت هذا، فقد قضيت صلاتك، إن شئتَ أن تقوم فقم، وإن شئت أن تقعد فاقعد" .
⚖️ درجۂ حدیث: صحیح۔ 📖 حوالہ / مصدر: سنن ابی داود 970، سنن دارقطنی 1333 اور صحیح ابن حبان 1962۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ تمام روایت حسن بن الحر کے واسطے سے ہے جنہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے نقل کیا، وہ کہتے ہیں کہ علقمہ (بن قیس) نے میرا ہاتھ پکڑا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کا ہاتھ پکڑا تھا، اور نبی کریم ﷺ نے ابن مسعود کا ہاتھ پکڑ کر انہیں اسی طرح تشہد سکھایا جیسا کہ اعمش کی روایت میں ذکر ہوا، اور آخر میں یہ الفاظ تھے: 'جب تم یہ کہہ لو یا اسے پورا کر لو تو تمہاری نماز مکمل ہو گئی، اب اگر تم اٹھنا چاہو تو اٹھ جاؤ اور اگر بیٹھنا چاہو تو بیٹھے رہو'۔
هكذا قال أبو داود، وقال ابن حبان: قال عبد الله بن مسعود: "فإذا فرغت من هذا فقد فرغت من صلاتك، فإن شئت فاثبت، وإن شئت فانصرف" .
📖 حوالہ / مصدر: سنن ابی داود اور صحیح ابن حبان۔ 🧾 تفصیلِ روایت: امام ابو داود نے الفاظ اوپر والے ذکر کیے ہیں، جبکہ امام ابن حبان نے اپنی روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: 'پس جب تم اس (تشہد) سے فارغ ہو جاؤ تو تم اپنی نماز سے فارغ ہو گئے، اب چاہو تو وہیں بیٹھے رہو اور چاہو تو واپس چلے جاؤ'۔
فاختلف أهل العلم في هذه الزيادة، هل هي مرفوعة أو موقوفة على عبد الله بن مسعود؟ .
🔍 فنی نکتہ / علّت: روایت کے آخری ٹکڑے کی نسبت میں اختلاف۔ 📝 نوٹ / توضیح: اہل علم کے درمیان اس اضافی جملے ('تمہاری نماز مکمل ہوگئی') کے بارے میں اختلاف ہے کہ کیا یہ کلامِ نبوی (مرفوع) ہے یا یہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اپنا قول (موقوف) ہے؟
فذهب الدارقطني إلى أن مَنْ جعله مِنْ كلام ابن مسعود أشبه بالصّواب، وذكر عللها وتبعه في ذلك البيهقيّ.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ترجیحِ موقوف۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام دارقطنی رحمہ اللہ کا میلان اس طرف ہے کہ اس ٹکڑے کو حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا کلام (موقوف) قرار دینا ہی صواب اور درست بات کے زیادہ قریب ہے، انہوں نے اس کی علمی وجوہات (علل) بھی بیان کی ہیں اور امام بیہقی رحمہ اللہ نے بھی اسی موقف میں ان کی پیروی کی ہے۔
شرح ألفاظ الحديث:
📝 نوٹ / توضیح: حدیث کے الفاظ کی لغوی و اصطلاحی تشریح و وضاحت۔
قوله: "التشهد" سُمّي بالتشهد للنطق بالشهادة بالوحدانية والرسالة.
📝 نوٹ / توضیح: لفظ 'تشہد' کی وجہ تسمیہ: اسے تشہد اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں اللہ کی وحدانیت اور نبی ﷺ کی رسالت کی گواہی (شہادت) دی جاتی ہے۔
قوله: "إنَّ الله هو السلام" معناه أن السّلام اسم من أسماء الله تعالى، ومعناه السالم من النقائص، وسمات الحدوث، ومن الشريك والنِّدّ.
📝 نوٹ / توضیح: 'اللہ ہی السلام ہے' کا مفہوم: اس کا مطلب یہ ہے کہ 'السلام' اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نام ہے، جس کے معنی ہیں وہ ذات جو تمام عیوب، نقائص، فنا ہونے کی علامات، اور کسی بھی شریک یا ہمسر سے مکمل پاک اور سالم ہے۔
قوله: "التحيات" جمع تحية وهي المِلك، يقال: حيَّاك الله - أي ملَّكك. كذا في "مختار الصحاح" .
📖 حوالہ / مصدر: مختار الصحاح۔ 📝 نوٹ / توضیح: 'التحیات' تحیہ کی جمع ہے جس کے معنی 'ملکیت' کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں 'حیاک اللہ' یعنی اللہ تجھے مالک بنا دے۔
وقال ابن التركماني في "الجوهر النقي" (٢/ ١٧٤، ١٧٥) : "لا تعلل بها رواية من رفع؛ لأن الرّفع زيادة مقبولة على ما عرف من مذاهب أهل الفقه والأصول. فيحمل على أن ابن مسعود سمعه من النَّبِيّ - ﷺ - فرواه كذلك مرة، وأفتى به مرة أخرى، وهذا أولى من جعل كلامه، إذ فيه تخطئة الجماعة الذين وصلوه" .
📖 حوالہ / مصدر: الجوہر النقی 2/174، 175۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: زیادتِ ثقہ کا قبول ہونا۔ 📝 نوٹ / توضیح: علامہ ابن الترکمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جن راویوں نے اسے مرفوع (نبی ﷺ کا کلام) بیان کیا ہے ان کی روایت کو معلول قرار نہیں دیا جا سکتا، کیونکہ فقہاء اور اصولیین کے نزدیک 'زیادتِ ثقہ' (ثقہ راوی کا اضافہ) مقبول ہوتی ہے۔ لہٰذا اسے اس بات پر محمول کیا جائے گا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اسے نبی ﷺ سے سنا تھا تو کبھی اسے حدیث کے طور پر بیان کر دیا اور کبھی اسی کے مطابق فتویٰ دے دیا؛ یہ توجیہ اس سے بہتر ہے کہ اسے صرف ان کا کلام قرار دے کر ان تمام راویوں کو غلط قرار دے دیا جائے جنہوں نے اسے مرفوعاً روایت کیا ہے۔
قلت: وفي حال ثبوته مرفوعًا فيه دلالة على أن الصّلاة على النَّبِيّ - ﷺ - في التّشهد غير واجبة، وهو رأي جمهور أهل العلم من المحدثين والفقهاء إِلَّا الشافعي ورواية عن أحمد فإنهما ذهبا إلى وجوبها. وسيأتي الكلام على هذه المسألة في الباب الذي يليه.
📌 اہم نکتہ: درودِ ابراہیمی کے وجوب کا مسئلہ۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: میں (مصنف) کہتا ہوں کہ اگر اس روایت کا مرفوع ہونا ثابت مان لیا جائے تو اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ تشہد میں نبی کریم ﷺ پر درود پڑھنا واجب نہیں ہے (کیونکہ آپ ﷺ نے تشہد کے بعد نماز مکمل ہونے کی خوشخبری دی)؛ یہی محدثین اور فقہاء کی اکثریت (جمہور) کا مسلک ہے، سوائے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل کی ایک روایت کے، کیونکہ یہ دونوں درود کے وجوب کے قائل ہیں۔ اس مسئلے کی تفصیل اگلے باب میں آئے گی۔
قال النوويّ: "التحيات جمع تحية وهي الملك، وقبل البقاء، وقيل العظمة، وقيل الحياة، وإنما قيل التحيات بالجمع، لأن ملوك العرب كان كل واحد منهم تحييه أصحابه بتحية مخصوصة، فقيل: جميع تحياتهم الله تعالى، وهو المستحق لذلك حقيقة" . انتهى.
📝 نوٹ / توضیح: امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: 'التحیات' تحیہ کی جمع ہے جس کے معنی ملکیت، بقا، عظمت یا زندگی کے ہیں۔ اسے جمع کے صیغے میں اس لیے لایا گیا کیونکہ عرب کے بادشاہوں میں سے ہر ایک کے لیے اس کے ساتھیوں کا ایک مخصوص سلام (تحیہ) ہوتا تھا، تو (نماز میں) یہ کہا گیا کہ وہ تمام سلام اور تعظیمات صرف اللہ کے لیے ہیں، کیونکہ حقیقت میں وہی ان کا مستحق ہے۔
قوله: "فليقل التحيات لله" : قال الخطّابي: "فيه إيجاب التّشهد؛ لأن الأمر على الوجوب" . انتهى.
📚 مجموعی اصول / قاعدہ: وجوبِ تشہد۔ 📝 نوٹ / توضیح: امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس جملے ('پس اسے چاہیے کہ وہ التحیات للہ کہے') میں تشہد کے واجب ہونے کی دلیل ہے، کیونکہ عربی قواعد کے مطابق 'امر' کا صیغہ وجوب کے لیے ہوتا ہے۔
قلت: وإليه ذهب جمهور المحدثين بأن التشهدين واجبان، وذهب أبو حنيفة ومالك وجمهور الفقهاء إلى أنهما سنَّتان، وقال الشافعي: الأوّل سنة، والأخير واجب.
📌 اہم نکتہ: تشہد کے حکم میں فقہی مذاہب۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: میں کہتا ہوں کہ محدثین کی اکثریت اس طرف گئی ہے کہ دونوں تشہد واجب ہیں۔ امام ابو حنیفہ، امام مالک اور فقہاء کی اکثریت کے نزدیک یہ دونوں سنت ہیں، جبکہ امام شافعی فرماتے ہیں کہ پہلا تشہد سنت اور آخری واجب ہے۔
تشهد ابن عباس:
📌 اہم نکتہ: حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا تشہد۔