🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ابي داود کی حدیث نمبر 819 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه أبو داود (٨١٩، ٨٢٠) ، وأحمد (٩٥٢٩) ، والدارقطني (١٢٢٤) ، وابن حبان (١٧٩١) ، والحاكم (١/ ٢٣٩) ، والبيهقي (٢/ ٣٧، ٥٩، ٣٧٥) ، والبخاري في جزء القراءة خلف الإمام (٧) كلّهم من طرق عن جعفر بن ميمون، قال: حَدَّثَنَا أبو عثمان النهديّ، عن أبي هريرة، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد (819، 820)، امام احمد (9529)، امام دارقطنی (1224)، امام ابن حبان (1791)، امام حاکم (1/ 239)، امام بیہقی (2/ 37، 59، 375) اور امام بخاری نے 'جزء القراءۃ' (7) میں مختلف طرق سے جعفر بن میمون از ابو عثمان النہدی از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
قال الحاكم: "هذا حديث صحيح لا غبار عليه، فإن جعفر بن ميمون العبدي من ثقات البصريين، ويحيى بن سعيد لا يحدث إِلَّا عن الثّقات" .
⚖️ درجۂ حدیث: امام حاکم فرماتے ہیں: "یہ حدیث صحیح ہے اور اس میں کوئی شک نہیں، کیونکہ جعفر بن میمون العبدی اہل بصرہ کے ثقہ راویوں میں سے ہیں، اور یحییٰ بن سعید القطان صرف ثقہ راویوں ہی سے روایت کرتے ہیں"۔
وقال الذّهبيّ: الصَّحيح لا غبار عليه، وجعفر ثقة ".
⚖️ درجۂ حدیث: امام ذہبی نے بھی حاکم کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: "یہ صحیح ہے اور جعفر بن میمون ثقہ ہیں"۔
قلت: ليس كما قالا، فإنَّ جعفر بن ميمون وهو أبو عليّ بياع الأنماط مختلف فيه، فضعَّفه ابن معين وأحمد والنسائي.
🔍 فنی نکتہ / علّت: میں کہتا ہوں کہ حقیقت وہ نہیں جو ان دونوں نے بیان کی، کیونکہ جعفر بن میمون (ابو علی بياع الانماط) کے بارے میں محدثین کا اختلاف ہے۔ امام یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل اور امام نسائی نے انہیں ضعیف قرار دیا ہے۔
وقال أبو حاتم: صالح، وذكره ابن حبان في" الثّقات "وأخرج له في" صحيحه"، وقال الدَّارقطنيّ: يعتبر به، وقال ابن عدي: لم أر أحاديثه منكرة، وأرجو أنه لا بأس به. فمثله إذا تُوبع يحسن وإلَّا فلا.
🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ابو حاتم نے انہیں 'صالح' کہا، ابن حبان نے اپنی کتاب 'الثقات' اور 'صحیح' میں انہیں جگہ دی، امام دارقطنی نے انہیں قابلِ اعتبار (يعتبر به) کہا، اور ابن عدی نے فرمایا کہ ان کی احادیث منکر نہیں ہوتیں اور ان میں کوئی حرج نہیں۔ 📚 مجموعی اصول / قاعدہ: ان جیسے راوی کی حدیث تب 'حسن' ہوتی ہے جب اس کی متابعت موجود ہو، ورنہ نہیں۔
فوجدنا أن البيهقيّ رواه أيضًا في القراءة (٤٦) من طريق منصور بن سعد، عن عبد الكريم بن رُشيد، عن أبي عثمان النهديّ، عن أبي هريرة أن رسول الله - ﷺ - أمره، فنادى في طرق المدينة: أن "لا صلاة إِلَّا بقراءة ولو بفاتحة الكتاب" ومن هذا الطريق رواه أيضًا الطبرانيّ في الأوسط كما في نصب الراية (١/ ٣٦٧) ولكن في طريقه الحجاج بن أرطاة وهو مدلِّس إِلَّا أنه توبع أيضًا.
🧩 متابعات و شواہد: ہمیں اس کی متابعت ملی ہے؛ امام بیہقی نے 'القراءۃ' (46) میں منصور بن سعد از عبد الکریم بن رشید از ابو عثمان النہدی از حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے مدینہ کی گلیوں میں یہ منادی کی کہ: "قراءت کے بغیر کوئی نماز نہیں، چاہے صرف سورہ فاتحہ ہی کیوں نہ ہو"۔ 📖 حوالہ / مصدر: اسے امام طبرانی نے 'الاوسط' (جیسا کہ نصب الرایہ 1/ 367 میں ہے) میں بھی روایت کیا ہے، مگر اس کی سند میں حجاج بن ارطاة مدلس ہے، البتہ اس کی بھی متابعت ہو چکی ہے۔
وعبد الكريم بن رُشيد أو ابن راشد وثَّقه ابن معين.
🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الکریم بن رشید (یا ابن راشد) کو امام یحییٰ بن معین نے ثقہ قرار دیا ہے۔
وقال النسائيّ: ليس به بأس. وفي "التقريب" : "صدوق" . وهي متابعة قوية لجعفر بن ميمون.
📖 حوالہ / مصدر: امام نسائی نے راوی (عبد الکریم بن رشید) کے بارے میں فرمایا ہے کہ ان میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ حافظ ابن حجر نے 'تقریب التہذیب' میں انہیں 'صدوق' (سچا) قرار دیا ہے۔ 🧩 متابعات و شواہد: یہ روایت جعفر بن میمون کے لیے ایک قوی متابعت (تائیدی سند) کی حیثیت رکھتی ہے۔
وبهذين الطريقين يصح هذا الحديث أو يُحسّن.
⚖️ درجۂ حدیث: ان دونوں سندوں (جعفر بن میمون اور عبد الکریم بن رشید) کے ملنے سے یہ حدیث 'صحیح' یا کم از کم 'حسن' کے درجے تک پہنچ جاتی ہے۔