محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن نسائي کی حدیث نمبر 665 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه أبو داود (١٢٠٣) ، والنسائي (٦٦٥) كلاهما من طريق ابن وهب، عن عمرو بن الحارث، أنّ أبا عُشَّانة المعافريّ حدّثه عن عقبة بن عامر، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے ابوداؤد (1203) اور نسائی (665) نے روایت کیا ہے، دونوں نے اسے (عبداللہ) بن وہب کے طریق سے، از عمرو بن حارث (روایت کیا ہے) کہ انہیں ابوعُشّانہ معافری نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، پس انہوں نے حدیث ذکر کی۔
وصحّحه ابن حبان (١٦٦٠) ، وأخرجه من هذا الوجه.
⚖️ درجۂ حدیث: ابن حبان (1660) نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور انہوں نے اسے اسی وجہ (سند) سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الإمام أحمد (١٧٤٤٣) من وجهين - ومن وجه هذا، ومن طريق ابن لهيعة، حدّثنا أبو عشانة (١٧٣١٢، ١٧٤٤٢) . وابن لهيعة فيه كلام، ولكنه توبع في الإسناد الأوّل.
📖 حوالہ / مصدر: اور اسے امام احمد (17443) نے دو سندوں (وجوہ) سے روایت کیا ہے، ایک تو اسی (پچھلی) سند سے، اور (دوسری) ابن لہیعہ کے طریق سے، (وہ کہتے ہیں) ہمیں ابوعشانہ نے بیان کیا (17312، 17442)۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابن لہیعہ (کی ذات) میں کلام (جرح) ہے، لیکن پہلی سند میں ان کی متابعت کی گئی ہے۔