🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ترمذي کی حدیث نمبر 2863 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه الترمذيّ (٢٨٦٣) عن محمد بن إسماعيل (البخاريّ) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلام، أنّ أبا سلّام، حدّثه، فذكر مثله.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے سنن ترمذی 2863 میں امام محمد بن اسماعیل البخاری کے واسطے سے روایت کیا ہے، وہ موسیٰ بن اسماعیل سے، وہ ابان بن یزید سے، وہ یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ زید بن سلام سے اور وہ اپنے دادا ابو سلام ممطور حبشی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کے مثل حدیث بیان کی۔
قال الترمذيّ:" حديث حسن صحيح غريب. قال محمد بن إسماعيل (البخاريّ) : "الحارث الأشعري له صحبة وله غير هذا الحديثه" .
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام محمد بن اسماعیل البخاری فرماتے ہیں کہ حارث اشعری رضی اللہ عنہ صحابی رسول ہیں اور اس کے علاوہ بھی ان کی احادیث موجود ہیں۔
ورواه أيضًا عن محمد بن بشّار، حدّثنا أبو داود الطّيالسيّ، حدّثنا أبان بن يزيد، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن أبي سلّام، عن الحارث الأشعريّ، عن النبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم-، بمعناه.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے محمد بن بشار کے واسطے سے بھی روایت کیا ہے، وہ ابو داؤد طیالسی سے، وہ ابان بن یزید سے، وہ یحییٰ بن ابی کثیر سے، وہ زید بن سلام سے، وہ ابو سلام سے اور وہ حارث اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہم معنی حدیث بیان فرمائی۔
وقال: "هذا حديث حسن غريب، وأبو سلّام: اسمه ممطور، وقد رواه علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثيره" . انتهى.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو سلام کا نام "ممطور" ہے اور اسے علی بن مبارک الہنائی نے بھی یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔
قلت: ورواه أحمد (١٧١٧٠) ، وصحّحه ابن خزيمة (١٨٩٥) ، وابن حبان (٦٢٣٣) ، والحاكم (١/ ٤٢١) كلّهم من طرق عن يحيى بن أبي كثير، به نحوه.
📖 حوالہ / مصدر: میں (مصنف) کہتا ہوں کہ اسے امام احمد نے مسند احمد 17170 میں روایت کیا ہے، اور امام ابن خزیمہ 1895، امام ابن حبان 6233 اور امام حاکم 1/421 نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ یہ تمام ائمہ یحییٰ بن ابی کثیر کے مختلف طرق سے اس کے ہم معنی روایت کرتے ہیں۔
قال الحاكم: "صحيح على شرط الشيخين" .
⚖️ درجۂ حدیث: امام حاکم فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
ایک اور سیکشن سے محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
رواه الترمذيّ (٢٨٦٣) عن محمد بن إسماعيل (البخاريّ) حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبان بن يزيد، حدثنا يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلام، أنّ أبا سلّام حدّثه، فذكر الحديث بطوله، وقد تقدّم في موضعه.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی (حدیث 2863) نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری) سے روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: (سند یوں ہے:) ہمیں موسیٰ بن اسماعیل (تبوذکی) نے حدیث بیان کی، ہمیں ابان بن یزید (العطار) نے حدیث بیان کی، انہیں یحییٰ بن ابی کثیر نے زید بن سلام (بن ابی سلام) سے، اور انہیں ابوسلام (مطور الحبشی) نے حدیث بیان کی، پھر انہوں نے طویل حدیث ذکر کی جو پہلے اپنے مقام پر گزر چکی ہے۔
قال الترمذيّ:" حديث حسن صحيح غريب. قال محمد بن إسماعيل (البخاريّ) : "الحارث الأشعري له صحبة وله غير هذا الحديث" .
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی فرماتے ہیں: "یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے"۔ 📌 اہم نکتہ: محمد بن اسماعیل (امام بخاری) فرماتے ہیں: "حارث اشعری (رضی اللہ عنہ) صحابی ہیں اور ان کی اس (روایت) کے علاوہ بھی احادیث موجود ہیں"۔
وقال "هذا حديث حسن غريب. وأبو سلّام: اسمه ممطور، وقد رواه علي بن المبارك، عن يحيى بن أبي كثير" انتهى.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے فرمایا: یہ حدیث حسن غریب ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: (راوی) ابو سلّام کا نام ممطور ہے۔ اور اسے علی بن مبارک نے (بھی) یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے۔ (یہاں امام ترمذی کا کلام ختم ہوا)۔
قلت: ورواه الإمام أحمد (١٧١٧٠) ، وصحّحه ابن خزيمة (١٨٩٥) ، وابن حبان (٦٢٣٣) ،
📝 نوٹ / توضیح: میں (محقق) کہتا ہوں: 📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کو امام احمد (17170) نے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: اور اسے ابن خزیمہ (1895) اور ابن حبان (6233) نے صحیح قرار دیا ہے۔
والحاكم (١/ ٤٢١) كلّهم من طرق عن يحيى بن أبي كثير، بإسناده نحوه.
📖 حوالہ / مصدر: اور حاکم (1/ 421) نے بھی روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: ان سب محدثین نے (مختلف) طرق سے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا ہے، جو اپنی سند کے ساتھ اسی کی مثل (الفاظ) لائے ہیں۔
قال الحاكم: "صحيح على شرط الشيخين" .
⚖️ درجۂ حدیث: امام حاکم نے فرمایا: یہ حدیث شیخین (بخاری و مسلم) کی شرط پر صحیح ہے۔
ورواه أيضًا عن محمد بن بشّار، حدثنا أبو داود الطّيالسيّ، حدّثنا أبان بن يزيد، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن أبي سلّام، عن الحارث الأشعريّ، عن النّبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم-، بمعناه.
📖 حوالہ / مصدر: امام ترمذی نے اسے محمد بن بشار (بندار) سے بھی روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: (سند یوں ہے:) ہمیں ابوداؤد الطیالسی نے حدیث بیان کی، ہمیں ابان بن یزید نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے زید بن سلام سے، انہوں نے ابوسلام سے، انہوں نے حارث اشعری (رضی اللہ عنہ) سے اور انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اسی معنی میں روایت کیا ہے۔
وأبو سلّام هو ممطور الأسود الحبشيّ جدّ زيد بن سلّام كما صرّح بذلك الإمام أحمد في "مسنده" (١٧١٧٠) ، ورواه من طريق آخر عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن جدّه ممطور، عن الحارث الأشعريّ، فذكر مثله.
🔍 فنی نکتہ / علّت: ابو سلّام درحقیقت ممطور الاسود الحبشی ہیں، جو زید بن سلّام کے دادا ہیں۔ 📖 حوالہ / مصدر: جیسا کہ اس کی صراحت امام احمد نے اپنی "مسند" (17170) میں فرمائی ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اور امام احمد نے اسے ایک دوسری سند سے (بھی) یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کیا، انہوں نے زید بن سلّام سے، انہوں نے اپنے دادا ممطور سے، اور انہوں نے حارث اشعری سے روایت کیا، پس انہوں نے اسی کی مثل ذکر کیا۔