🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

محدثانہ نکات از محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ
سنن ترمذي کی حدیث نمبر 3235 پر
محدث مدینہ ڈاکٹر محمد عبداللہ اعظمی رحمہ اللہ کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ New
رواه الترمذيّ (٣٢٣٥) عن محمّد بن بشّار، حدثنا معاذ بن هانئ، حدثنا أبو هانئ اليشكريّ، حدثنا جهضم بن عبد اللَّه، عن يحيى بن أبي كثير، عن زيد بن سلّام، عن أبي سلّام، عن عبد الرحمن بن عائش الحضرميّ، أنّه حدّثه عن مالك بن يُخامر السّكسكيّ، عن معاذ بن جبل، فذكره.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ترمذی نے حدیث نمبر 3235 کے تحت روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: اس کی سند میں محمد بن بشار، معاذ بن ہانی، ابو ہانی الیشکری، جہضم بن عبد اللہ، یحییٰ بن ابی کثیر، زید بن سلام اور ابو سلام (مطور بن ممیطر) شامل ہیں، جنہوں نے عبد الرحمن بن عائش الحضرمی سے، انہوں نے مالک بن یخامر السکسکی سے اور انہوں نے معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو نقل کیا ہے۔
ورواه ابن خزيمة في كتاب التوحيد (٤٤١) ، وأحمد (٢٢١٠٩) ، وابن عدي (٦/ ٢٣٤٤) كلَّهم من طريق يحيى بن أبي كثير به نحوه، واختصره ابن عديّ.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام ابن خزیمہ نے "کتاب التوحید" 441 میں، امام احمد نے اپنی مسند 22109 میں اور امام ابن عدی نے "الکامل" 6/ 2344 میں روایت کیا ہے۔ 🧾 تفصیلِ روایت: یہ تمام روایتیں یحییٰ بن ابی کثیر کے اسی مذکورہ طریق سے مروی ہیں، البتہ ابن عدی نے اسے اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
قال الترمذيّ:" هذا حديث حسن صحيح، سألت محمد بن إسماعيل عن هذا الحديث. فقال: هذا حديث حسن صحيح، وقال: هذا أصحّ من حديث الوليد بن مسلم، عن عبد الرحمن بن يزيد ابن جابر، قال: حدثنا خالد بن اللّجلاج، حدثني عبد الرحمن بن عائش الحضرميّ قال: سمعت رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم- (فذكر الحديث) ، وهذا غير محفوظ: هكذا ذكر الوليد في حديثه عن عبد الرحمن بن عائش قال سمعت رسول اللَّه -صلى اللَّه عليه وسلم-.
⚖️ درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اس حدیث کو "حسن صحیح" قرار دیا ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے امام بخاری (محمد بن اسماعیل) سے اس حدیث کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے بھی اسے "حسن صحیح" کہا۔ امام بخاری کے نزدیک یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت ولید بن مسلم کی روایت سے زیادہ صحیح ہے، کیونکہ ولید بن مسلم نے اپنی روایت میں عبد الرحمن بن عائش کا سماع (سنا ہے) ذکر کیا ہے جو کہ "غیر محفوظ" (غلط) ہے۔ 📌 اہم نکتہ: ولید بن مسلم مدلّس ہیں اور ان کی اس روایت میں سماع کی صراحت کے باوجود ائمہ نے اسے وہم قرار دیا ہے۔
وروى بشر بن بكر، عن عبد الرحمن بن يزيد بن جابر هذا الحديث بهذا الإسناد عن عبد الرحمن ابن عائش عن النّبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم- وهذا أصحّ، وعبد الرحمن بن عائش لم يسمع من النبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم- ". انتهى.
⚖️ درجۂ حدیث: بشر بن بكر کی روایت (جو کہ مرسل ہے) ولید بن مسلم کی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: امام ترمذی کی تحقیق کے مطابق عبد الرحمن بن عائش الحضرمی کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع ثابت نہیں ہے، اس لیے یہ روایت منقطع یا مرسل کے حکم میں ہے۔
وأخرجه الحاكم (١/ ٥٢٠ - ٥٢١) من وجه آخر عن محمد بن شعيب بن شابور، عن عبد الرحمن ابن يزيد بن جابر مثل حديث بشر بن بكر كما أشار إليه الترمذيّ، وقال الحاكم:" هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه ". ثم قال الحاكم:" وقد روي عن معاذ بن جبل، عن النبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم- مثله".
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام حاکم نے اپنی کتاب المستدرک 1/ 520 - 521 میں محمد بن شعیب بن شابور کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام حاکم نے اسے "صحیح الاسناد" قرار دیا ہے، اگرچہ امام بخاری اور امام مسلم نے اسے اپنی صحیحین میں روایت نہیں کیا۔ 🧩 متابعات و شواہد: امام حاکم نے اشارہ کیا ہے کہ اسی طرح کی روایت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
وقال الحافظ في" تهذيبه "(٦/ ٢٠٥):" وكذا قوَّاه ابن خزيمة من رواية يحيى، عن زيد، عن جدّه، عنه، عن مالك بن يخامر، عن معاذ بن جبل ".
📖 حوالہ / مصدر: حافظ ابن حجر نے "تہذیب التہذیب" 6/ 205 میں اسے ذکر کیا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام ابن خزیمہ نے بھی یحییٰ کی اس روایت کو تقویت دی ہے جو زید کے واسطے سے ان کے دادا سے اور وہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔
فكان أولى أن يخرّج حديث يحيى بن أبي كثير؛ لأنّه صحّحه أهل العلم منهم البخاريّ وأحمد كما سيأتي. وأمّا عبد الرحمن بن عائش فلم يسمع من النبيّ -صلى اللَّه عليه وسلم- كما قال الترمذيّ، وقال أبو حاتم: هو تابعيّ .
📌 اہم نکتہ: بہتر یہی تھا کہ یحییٰ بن ابی کثیر کی روایت کو بنیاد بنایا جاتا کیونکہ امام بخاری اور امام احمد بن حنبل جیسے کبار محدثین نے اس کی تصحیح کی ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: راوی عبد الرحمن بن عائش کے بارے میں امام ترمذی اور امام ابو حاتم کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وہ صحابی نہیں بلکہ تابعی ہیں، لہذا ان کی براہِ راست روایت مرسل کہلائے گی۔
وقال ابن عدي: وهذا له طرق، قوله: "رأيتُ ربّي في أحسن صورة" واختلفوا في أسانيدها فرأيتُ أحمد بن حنبل صحّح هذه الرّواية التي رواها موسى بن خلف، عن يحيى بن أبي كثير حديث معاذ بن جبل، قال: هذا أصحُّها ".
📌 اہم نکتہ: امام ابن عدی فرماتے ہیں کہ "میں نے اپنے رب کو بہترین صورت میں دیکھا" والی حدیث کے متعدد طرق ہیں اور ان کی اسانید میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ ⚖️ درجۂ حدیث: امام احمد بن حنبل نے موسیٰ بن خلف کی یحییٰ بن ابی کثیر سے مروی معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والی روایت کو سب سے زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔