🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

1. باب وجوب الزكاة:
باب: زکوٰۃ دینا فرض ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1399
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنْ الْعَرَبِ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَهَا فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ , وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ , وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ.
ہم سے ابوالیمان حکم بن نافع نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہمیں شعیب بن ابی حمزہ نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے کہا کہ ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کافر ہو گئے (اور کچھ نے زکوٰۃ سے انکار کر دیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا) تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی موجودگی میں کیونکر جنگ کر سکتے ہیں مجھے حکم ہے لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک کہ وہ «لا إله إلا الله» کی شہادت نہ دیدیں اور جو شخص اس کی شہادت دیدے تو میری طرف سے اس کا مال و جان محفوظ ہو جائے گا۔ سوا اسی کے حق کے (یعنی قصاص وغیرہ کی صورتوں کے) اور اس کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1399]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو عرب کے بعض لوگ کافر (مرتد) ہو گئے۔ (حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے خلاف قتال کا اقدام کیا) تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: آپ ان کے خلاف قتال کیوں کرتے ہیں، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے لوگوں سے قتال کا حکم اس وقت تک ہے جب تک وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں نہ پڑھ لیں، جب انہوں نے کلمہ توحید پڑھ لیا تو انہوں نے اپنے مال اور جان کو مجھ سے محفوظ کر لیا مگر اسلام کا حق ادا کرنا ہو گا اور ان (کے باطن) کا حساب اللہ کے سپرد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1399]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1457
قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ أَنَّ اللَّهَ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِالْقِتَالِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ".
عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کے سوا اور کوئی بات نہیں تھی جیسا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو جہاد کے لیے «شرح صدر» عطا فرمایا تھا اور پھر میں نے بھی یہی سمجھا کہ فیصلہ انہیں کا حق تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1457]
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بات صرف یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے جنگ کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا، میں نے پہچان لیا کہ حق یہی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1457]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6924
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ:" لَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ: يَا أَبَا بَكْرٍ كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَدْ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے، انہوں نے عقیل سے، انہوں نے ابن شہاب سے، انہوں نے کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور عرب کے کچھ لوگ کافر بن گئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا تم ان لوگوں سے کیسے لڑو گے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا ہے مجھ کو لوگوں سے لڑنے کا اس وقت تک حکم ہوا جب تک وہ لا الہٰ الا اللہ نہ کہیں پھر جس نے لا الہٰ الا اللہ کہہ لیا اس نے اپنے مال اور اپنی جان کو مجھ سے بچا لیا البتہ کسی حق کے بدلہ اس کی جان یا مال کو نقصان پہنچایا جائے تو یہ اور بات ہے۔ اب اس کے دل میں کیا ہے اس کا حساب لینے والا اللہ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 6924]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ مقرر ہوئے تو عرب کے کچھ قبائل کفر کی راہ پر چل پڑے۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابوبکر! آپ ان لوگوں سے کیسے جنگ کریں گے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہہ دیں، پھر جس نے «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کہہ دیا اس نے مجھ سے اپنا مال اور اپنی جان کو بچا لیا۔ ہاں، اسلام کا حق وصول کرنے کے لیے اس کی جان یا مال کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے اور اس کا حساب لینے والا اللہ تعالیٰ ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 6924]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7284
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَهُ وَكَفَرَ مَنْ كَفَرَ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: كَيْفَ تُقَاتِلُ النَّاسَ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، فَمَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ عَصَمَ مِنِّي مَالَهُ وَنَفْسَهُ إِلَّا بِحَقِّهِ وَحِسَابُهُ عَلَى اللَّهِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عِقَالًا كَانُوا يُؤَدُّونَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهِ"، فَقَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ شَرَحَ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ لِلْقِتَالِ، فَعَرَفْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ، قَالَ ابْنُ بُكَيْرٍ وَعَبْدُ اللَّهِ: عَنْ اللَّيْثِ عَنَاقًا وَهُوَ أَصَحُّ.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے زہری نے، انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ بنایا گیا اور عرب کے کئی قبائل پھر گئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑنا چاہا تو عمر رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ لوگوں سے کس بنیاد پر جنگ کریں گے جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ کلمہ لا الہٰ الا اللہ کا اقرار نہ کر لیں پس جو شخص اقرار کر لے کہ لا الہٰ الا اللہ تو میری طرف سے اس کا مال اور اس کی جان محفوظ ہے۔ البتہ کسی حق کے بدل ہو تو وہ اور بات ہے (مثلاً کسی کا مال مار لے یا کسی کا خون کرے) اب اس کے باقی اعمال کا حساب اللہ کے حوالے ہے لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ واللہ! میں تو اس شخص سے جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکوٰۃ میں فرق کیا ہے کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے، واللہ! اگر وہ مجھے ایک رسی بھی دینے سے رکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے ان کے انکار پر بھی جنگ کروں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا پھر جو میں نے غور کیا تو مجھے یقین ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں لڑائی کی تجویز ڈالی ہے تو میں نے جان لیا کہ وہ حق پر ہیں۔ ابوبکیر اور عبداللہ بن صالح نے لیث سے «عناقا» (کی بجائے «عقلا») کہا یعنی بکری کا بچہ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 7284]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اور آپ کے بعد حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب کیے گئے تو عرب کے کچھ لوگ کافر ہوگئے۔ (ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے جنگ کرنا چاہی۔) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگوں سے کس بنیاد پر جنگ کرنا چاہتے ہیں حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں کا اقرار کرلیں، لہٰذا جو شخص «لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ» کا اقرار کرے گا تو میری طرف سے اس کا مال اور اس کی جان محفوظ ہے مگر حق اسلام باقی رہے گا اور ان کے اعمال کا حساب اللہ کے ذمے ہے؟ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے ضرور جنگ کروں گا جس نے نماز اور زکاۃ میں فرق کیا کیونکہ زکاۃ دینا مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے مجھ سے ایک رسی بھی روکی جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے اس کے انکار پر جنگ کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے غور کیا تو مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی اللہ تعالیٰ نے جنگ کے لیے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا ہے اور وہ جنگ کرنے کے سلسلے میں حق پر ہیں۔ ابن بکیر اور عبداللہ بن صالح نے لیث سے «عَنَاقًا» کا لفظ بیان کیا ہے جس کے معنیٰ ہیں: بکری کا بچہ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 7284]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں