🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

37. باب من قال لا نكاح إلا بولي:
باب: بغیر ولی کے نکاح صحیح نہیں ہوتا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5130
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ، قَالَ:" زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَفَرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللَّهِ لَا تَعُودُ إِلَيْكَ أَبَدًا، وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ الْمَرْأَةُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ هَذِهِ الْآيَةَ: فَلا تَعْضُلُوهُنَّ سورة البقرة آية 232، فَقُلْتُ: الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَزَوَّجَهَا إِيَّاهُ".
ہم سے احمد بن عمرو نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد حفص بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے حسن بصری نے آیت «فلا تعضلوهن‏» کی تفسیر میں بیان کیا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی میں نے اپنی ایک بہن کا نکاح ایک شخص سے کر دیا تھا۔ اس نے اسے طلاق دے دی لیکن جب عدت پوری ہوئی تو وہ شخص (ابوالبداح) میری بہن سے پھر نکاح کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اس سے کہا کہ میں نے تم سے اس کا (اپنی بہن) کا نکاح کیا اسے تمہاری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دیدی اور اب پھر تم نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو۔ ہرگز نہیں، اللہ کی قسم! اب میں تمہیں کبھی اسے نہیں دوں گا۔ وہ شخص ابوالبداح کچھ برا آدمی نہ تھا اور عورت بھی اس کے یہاں واپس جانا چاہتی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «فلا تعضلوهن‏» کہ تم عورتوں کو مت روکو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اب میں کر دوں گا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے اپنی بہن کا نکاح اس شخص سے کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5130]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: یہ آیت ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ عورتوں کو (نکاح کرنے سے) مت روکو [سورة البقرة: 232] میرے متعلق نازل ہوئی۔ ہوا یوں کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک آدمی سے کر دیا، اس نے اسے طلاق دے دی۔ جب عدت ختم ہو گئی تو وہی شخص میری بہن سے دوبارہ نکاح کرنے کا پیغام لے کر آیا۔ میں نے اسے کہا: میں نے تیرے ساتھ (اپنی بہن کا) نکاح کر دیا، اسے تیری بیوی بنایا اور تمہیں عزت دی لیکن تم نے اسے طلاق دے دی، اب پھر تم اس سے نکاح کا پیغام لے کر آئے ہو، اللہ کی قسم! اب ایسا ہرگز نہیں ہوگا، میں تمہیں وہ کسی صورت میں نہیں دوں گا۔ وہ شخص کوئی برا آدمی نہ تھا اور عورت کی بھی خواہش تھی کہ وہ اس کے پاس چلی جائے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ تم عورتوں کو (نکاح کرنے سے) مت روکو۔ [سورة البقرة: 232] ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں ابھی اس پر عمل درآمد کرتا ہوں، چنانچہ انہوں نے اپنی ہمشیرہ کا نکاح اس سے کر دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 5130]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4529
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ , قَالَ: كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَيَّ , وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: عَنْ يُونُسَ , عَنْ الْحَسَنِ , حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ. ح حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ الْحَسَنِ: أَنَّ أُخْتَ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ , طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَتَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَخَطَبَهَا فَأَبَى مَعْقِلٌ , فَنَزَلَتْ فَلا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ سورة البقرة آية 232".
ہم سے عبیداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن راشد نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ میری ایک بہن تھیں۔ ان کو ان کے اگلے خاوند نے نکاح کا پیغام دیا۔ (دوسری سند) اور ابراہیم بن طہمان نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے امام حسن بصری نے اور ان سے معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ (تیسری سند) اور امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا اور ان سے امام حسن بصری نے کہ معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی تھی لیکن جب عدت گزر گئی اور طلاق بائن ہو گئی تو انہوں نے پھر ان کے لیے پیغام نکاح بھیجا۔ معقل رضی اللہ عنہ نے اس پر انکار کیا، مگر عورت چاہتی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی «فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن‏» کہ تم انہیں اس سے مت روکو کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے دوبارہ نکاح کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4529]
حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میری ایک بہن تھی، اس سے نکاح کے متعلق مجھے پیغام بھیجا گیا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی اور اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہو گئی۔ پھر اس کے شوہر نے پیغام بھیجا تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] تم ان مطلقہ عورتوں کو مت روکو کہ وہ اپنے (پہلے) شوہروں سے نکاح کریں۔ [صحيح البخاري/كتاب النكاح/حدیث: 4529]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں