صحيح البخاري سے متعلقہ
97. باب قول الرجل للرجل اخسأ:
باب: کسی کا کسی کو یوں کہنا چل دور ہو۔
حدیث نمبر: 6174
قَالَ سَالِمٌ: فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: انْطَلَقَ بَعْدَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ يَؤُمَّانِ النَّخْلَ الَّتِي فِيهَا ابْنُ صَيَّادٍ، حَتَّى إِذَا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ أَنْ يَسْمَعَ مِنَ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ، وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْرَمَةٌ أَوْ زَمْزَمَةٌ، فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ، فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ: أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ هَذَا مُحَمَّدٌ فَتَنَاهَى ابْنُ صَيَّادٍ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ.
سالم نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر اس کھجور کے باغ کی طرف روانہ ہوئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ نے کھجور کی ٹہنیوں میں چھپنا شروع کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ اس سے پہلے کہ وہ دیکھے چھپ کر کسی بہانے ابن صیاد کی کوئی بات سنیں۔ ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ ابن صیاد کی ماں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں سے چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے بتا دیا کہ اے صاف! (یہ اس کا نام تھا) محمد آ رہے ہیں۔ چنانچہ وہ متنبہ ہو گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اس کی ماں اسے متنبہ نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6174]
سالم رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرما رہے تھے کہ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابی بن کعب انصاری رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر نخلستان کی طرف گئے جہاں ابن صیاد رہتا تھا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کے تنوں کی اوٹ میں چھپنا شروع کر دیا، یہ حیلہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی کوئی بات سن سکیں اور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ نہ پائے، اس وقت ابن صیاد ایک مخملی چادر کے بستر پر لیٹا کچھ گنگنا رہا تھا، ابن صیاد کی ماں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کھجور کے تنوں (کی اوٹ) میں چھپ کر آتے ہوئے دیکھ لیا تو اسے کہنے لگی: ”اے صاف! (یہ اس کا نام ہے) محمد صلی اللہ علیہ وسلم آ رہے ہیں“، چنانچہ ابن صیاد چوکس ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس کی ماں اسے خبردار نہ کرتی تو بات صاف ہو جاتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 6174]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 1155
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي الْهَيْثَمُ بْنُ أَبِي سِنَانٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُصُّ فِي قَصَصِهِ وَهُوَ يَذْكُرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنَّ أَخًا لَكُمْ لَا يَقُولُ الرَّفَثَ يَعْنِي بِذَلِكَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ رَوَاحَةَ:" وَفِينَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَهُ إِذَا انْشَقَّ مَعْرُوفٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعُ أَرَانَا الْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ" , تَابَعَهُ عُقَيْلٌ، وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ: أَخْبَرَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدٍ وَالْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یونس نے، ان سے ابن شہاب نے، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ہیثم بن ابی سنان نے خبر دی کہ انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ اپنے وعظ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کر رہے تھے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ تمہارے بھائی نے (اپنے نعتیہ اشعار میں) یہ کوئی غلط بات نہیں کہی۔ آپ کی مراد عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اور ان کے اشعار سے تھی جن کا ترجمہ یہ ہے: ”ہم میں اللہ کے رسول موجود ہیں، جو اس کی کتاب اس وقت ہمیں سناتے ہیں جب فجر طلوع ہوتی ہے۔ ہم تو اندھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں گمراہی سے نکال کر صحیح راستہ دکھایا۔ ان کی باتیں اسی قدر یقینی ہیں جو ہمارے دلوں کے اندر جا کر بیٹھ جاتی ہیں اور جو کچھ آپ نے فرمایا وہ ضرور واقع ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بستر سے اپنے کو الگ کر کے گزارتے ہیں جبکہ مشرکوں سے ان کے بستر بوجھل ہو رہے ہوتے ہیں“۔ یونس کی طرح اس حدیث کو عقیل نے بھی زہری سے روایت کیا اور زبیدی نے یوں کہا سعید بن مسیب اور اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 1155]
ہیثم بن ابو سنان کہتے ہیں: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ وعظ کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرنے لگے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا: ”تمہارا بھائی عبداللہ بن رواحہ کوئی بے ہودہ بات نہیں کہتا۔“ یعنی وہ کیسے اچھے مضامین سناتا ہے: ہم میں اللہ کے رسول ہیں جو کلام اللہ کی تلاوت کرتے ہیں جب صبح کے وقت بلند ہونے والی پو پھٹتی ہے۔ ہم تو اندھے تھے انہوں نے ہمیں ہدایت پر لگایا اور ہمیں دلی یقین ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ واقعی سچ ہے۔ رات کو ان کا پہلو بستر سے الگ رہتا ہے جبکہ نیند کی وجہ سے مشرکین پر بستر بھاری ہوتے ہیں۔ عقیل نے یونس کی متابعت کی ہے اور زبیدی کا قول ہے کہ مجھے زہری نے سعید اور اعرج سے خبر دی ہے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الأدب/حدیث: 1155]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»