🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

43. باب كيف يبايع الإمام الناس:
باب: امام لوگوں سے کن باتوں پر بیعت لے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7200
وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ، وَأَنْ نَقُومَ أَوْ نَقُولَ بِالْحَقِّ حَيْثُمَا كُنَّا، لَا نَخَافُ فِي اللَّهِ لَوْمَةَ لَائِمٍ".
‏‏‏‏ اور اس شرط پر کہ جو شخص سرداری کے لائق ہو گا (مثلاً قریش میں سے ہو اور شرع پر قائم ہو) اس کی سرداری قبول کر لیں گے اس سے جھگڑا نہ کریں اور یہ کہ ہم حق کو لے کر کھڑے ہوں گے یا حق بات کہیں گے جہاں بھی ہوں اور اللہ کے راستے میں ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہ کریں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7200]
اور اس شرط پر بیعت کی کہ جو شخص حکومت کے لائق ہوگا، اس کی سرداری قبول کریں گے اور اس سے جھگڑا نہیں کریں گے اور ہم جہاں بھی ہوں حق کہیں گے اور اللہ کے راستے میں کسی ملامت گر کی ملامت کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7200]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7056
فَقَالَ فِيمَا أَخَذَ عَلَيْنَا: أَنْ بَايَعَنَا عَلَى السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي مَنْشَطِنَا وَمَكْرَهِنَا، وَعُسْرِنَا وَيُسْرِنَا، وَأَثَرَةً عَلَيْنَا، وَأَنْ لَا نُنَازِعَ الْأَمْرَ أَهْلَهُ إِلَّا أَنْ تَرَوْا كُفْرًا بَوَاحًا عِنْدَكُمْ مِنَ اللَّهِ فِيهِ بُرْهَانٌ".
انہوں (عبادہ بن صامت) نے بیان کیا کہ جن باتوں کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عہد لیا تھا ان میں یہ بھی تھا کہ خوشی و ناگواری، تنگی اور کشادگی اور اپنی حق تلفی میں بھی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور یہ بھی کہ حکمرانوں کے ساتھ حکومت کے بارے میں اس وقت تک جھگڑا نہ کریں جب تک ان کو اعلانیہ کفر کرتے نہ دیکھ لیں۔ اگر وہ اعلانیہ کفر کریں تو تم کو اللہ کے پاس سے دلیل مل جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7056]
انہوں نے مزید کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے جن باتوں کا عہد لیا تھا وہ یہ تھیں کہ ہم خوشی و ناگواری، تنگی و کشادگی اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دینے کی صورت میں بھی اپنے امیر کی بات سنیں گے اور اس کی اطاعت کریں گے اور حکمرانوں کے ساتھ حکومتی معاملات میں کوئی جھگڑا نہیں کریں گے: الّا یہ کہ تم انہیں اعلانیہ کفر کرتے دیکھو اور تمہارے پاس اس کے متعلق کوئی واضح دلیل ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب الأحكام/حدیث: 7056]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں