🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
25. باب ما جاء فى التطوع مثنى مثنى:
باب: نفل نمازیں دو دو رکعتیں کر کے پڑھنا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1166
حَدَّثَنَا آدَمُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ:" إِذَا جَاءَ أَحَدُكُمْ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ أَوْ قَدْ خَرَجَ فَلْيُصَلِّ رَكْعَتَيْنِ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں شعبہ نے خبر دی، انہیں عمرو بن دینار نے خبر دی، کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص بھی (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو یا خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعت نماز (تحیۃ المسجد کی) پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1166]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دورانِ خطبہ فرمایا: تم میں سے جب کوئی دورانِ خطبہ آئے تو اسے چاہیے کہ دو رکعتیں پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6382
حَدَّثَنَا مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَبُو مُصْعَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا، كَالسُّورَةِ مِنَ الْقُرْآنِ:" إِذَا هَمَّ بِالْأَمْرِ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي، وَآجِلِهِ، فَاقْدُرْهُ لِي، وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ فِي عَاجِلِ أَمْرِي، وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ، وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ وَيُسَمِّي حَاجَتَهُ".
ہم سے ابومصعب مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے بیان کیا، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے، قرآن کی سورت کی طرح (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) جب تم میں سے کوئی شخص کسی (مباح) کام کا ارادہ کرے (ابھی پکا عزم نہ ہوا ہو) تو دو رکعات (نفل) پڑھے اس کے بعد یوں دعا کرے کہ اے اللہ! میں بھلائی مانگتا ہوں (استخارہ) تیری بھلائی سے، تو علم والا ہے، مجھے علم نہیں اور تو تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا ہے، اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے، میرے دین کے اعتبار سے، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے یا دعا میں یہ الفاظ کہے «في عاجل أمري وآجله» تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے میرے دین کے لیے، میری زندگی کے لیے اور میرے انجام کار کے لیے یا یہ الفاظ فرمائے «في عاجل أمري وآجله» تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے (یہ دعا کرتے وقت) اپنی ضرورت کا بیان کر دینا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 6382]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں قرآنی سورت کی طرح استخارے کی تعلیم دیتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی اہم کام کا ارادہ کرے تو رکعتیں پڑھے، اس کے بعد یوں دعا کرے: اے اللہ! میں تیرے علم کے ذریعے سے تجھ سے خیر طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ ہمت کا طالب ہوں اور تیرے عظیم فضل کے ذریعے سے تجھ سے سوال کرتا ہوں۔ بلاشبہ تو ہی قدرت رکھنے والا ہے میں قدرت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے میں نہیں جانتا۔ اور تو تمام تر پوشیدہ چیزوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے بہتر ہے میرے دین کے اعتبار سے، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے۔۔۔۔۔ یا دعا میں یہ الفاظ کہے: «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» میرے معاملے کے فوری یا دیر سے ہونے کے متعلق۔۔۔۔۔ تو پھر اسے میرے لیے مقدر کر دے۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے دین کے لیے، میری زندگی اور میرے انجام کار کے اعتبار سے۔۔۔۔ یا دعا میں یہ الفاظ کہے: «فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ» میرے معاملے کے فوری یا دیر سے ہونے کے متعلق۔۔۔۔۔ تو اس کو مجھ سے دور کر دے اور مجھے اس سے دور کر دے، پھر جہاں کہیں بھی بھلائی ہو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور مجھے اس سے مطمئن بھی کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دعا کرتے وقت اپنی ضروریات کا ذکر بھی کرے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 6382]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7390
حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ يُحَدِّثُ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَسَنِ، يَقُولُ: أَخْبَرَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيُّ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُ أَصْحَابَهُ الِاسْتِخَارَةَ فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا كَمَا يُعَلِّمُهُمُ السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، يَقُولُ: إِذَا هَمَّ أَحَدُكُمْ بِالْأَمْرِ، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ مِنْ غَيْرِ الْفَرِيضَةِ، ثُمَّ لِيَقُلْ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ، وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ، وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ، فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ، وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ، اللَّهُمَّ فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ هَذَا الْأَمْرَ، ثُمَّ تُسَمِّيهِ بِعَيْنِهِ خَيْرًا لِي فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، قَالَ: أَوْ فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، فَاقْدُرْهُ لِي وَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ، اللَّهُمَّ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّهُ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي، أَوْ قَالَ: فِي عَاجِلِ أَمْرِي وَآجِلِهِ، فَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ".
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، کہا ہم سے معن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی الموالی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے محمد بن المنکدر سے سنا، وہ عبداللہ بن حسن سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ مجھے جابر بن عبداللہ سلمیٰ رضی اللہ عنہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کو ہر مباح کام میں استخارہ کرنا سکھاتے تھے جس طرح آپ قرآن کی سورت سکھاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ جب تم میں سے کوئی کسی کام کا مقصد کرے تو اسے چاہئے کہ فرض کے سوا دو رکعت نفل نماز پڑھے، پھر سلام کے بعد یہ دعا کرے اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں خیریت طلب کرتا ہوں اور تیری قدرت کے طفیل طاقت مانگتا ہوں اور تیرا فضل۔ کیونکہ تجھے قدرت ہے اور مجھے نہیں ‘، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیوب کا بہت جاننے والا ہے۔ اے اللہ! پس اگر تو یہ بات جانتا ہے (اس وقت استخارہ کرنے والے کو اس کام کا نام لینا چاہئیے) کہ اس کام میں میرے لیے دنیا و آخرت میں بھلائی ہے یا اس طرح فرمایا کہ میرے دین میں اور گزران میں اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے بھلائی ہے تو اس پر مجھے قادر بنا دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اے اللہ! اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے برا ہے۔ میرے دین اور گزراہ کے اعتبار سے اور میرے انجام کے اعتبار سے، یا فرمایا کہ میری دنیا و دین کے اعتبار سے تو مجھے اس کام سے دور کر دے اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس پر راضی اور خوش رکھ۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 7390]
حضرت جابر بن عبداللہ سلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تمام (جائز) کاموں میں استخارہ کرنے کی تعلیم دیتے تھے جس طرح آپ انہیں قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، آپ فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو اسے چاہیے کہ فرض کے علاوہ دو رکعت نفل پڑھے، پھر یوں کہے: اے اللہ! میں تیرے علم کے طفیل اس کام میں طاقت مانگتا ہوں اور تیرے فضل کا طلبگار ہوں کیونکہ تجھے قدرت ہے مجھے نہیں، تو جانتا ہے میں نہیں، تو غیبوں کو اچھی طرح جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اس کام کا بعینہ نام لے) میرے لیے دنیا و آخرت میں۔۔۔۔۔۔۔ یا اس طرح فرمایا کہ میرے دین، میری زندگی اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے۔۔۔۔ بہتر ہے، تو مجھے اس کی قدرت دے اور میرے لیے اسے آسان کر دے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام (یہاں اس کام کا بعینہ نام لے) میرے دنیا و آخرت میں۔۔۔۔۔ یا اس طرح فرمایا کہ میرے دین، زندگی اور میرے ہر انجام کے اعتبار سے۔۔۔۔ برا ہے، مجھے اس کام سے دور رکھ اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں بھی وہ ہو، پھر مجھے اس پر راضی اور خوش کر دے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 7390]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 930
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النَّاسَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ:" أَصَلَّيْتَ يَا فُلَانُ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: قُمْ فَارْكَعْ".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کا خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ اے فلاں! کیا تم نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھ لی۔ اس نے کہا کہ نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا اٹھ اور دو رکعت نماز پڑھ لے۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 930]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک شخص اس وقت آیا جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے خطاب فرما رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھڑے ہو کر نماز ادا کرو۔ [صحيح البخاري/كتاب التهجد/حدیث: 930]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں