صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. باب من لم يظهر حزنه عند المصيبة:
باب: جو شخص مصیبت کے وقت (اپنے نفس پر زور ڈال کر) اپنا رنج ظاہر نہ کرے۔
حدیث نمبر: 1301
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ:" اشْتَكَى ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ , قَالَ: فَمَاتَ وَأَبُو طَلْحَةَ خَارِجٌ، فَلَمَّا رَأَتِ امْرَأَتُهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ هَيَّأَتْ شَيْئًا وَنَحَّتْهُ فِي جَانِبِ الْبَيْتِ، فَلَمَّا جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ , قَالَ: كَيْفَ الْغُلَامُ؟ قَالَتْ: قَدْ هَدَأَتْ نَفْسُهُ , وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدِ اسْتَرَاحَ، وَظَنَّ أَبُو طَلْحَةَ أَنَّهَا صَادِقَةٌ , قَالَ: فَبَاتَ، فَلَمَّا أَصْبَحَ اغْتَسَلَ فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ أَعْلَمَتْهُ أَنَّهُ قَدْ مَاتَ، فَصَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ أَخْبَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا كَانَ مِنْهُمَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لَكُمَا فِي لَيْلَتِكُمَا"، قَالَ سُفْيَانُ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ: فَرَأَيْتُ لَهُمَا تِسْعَةَ أَوْلَادٍ كُلُّهُمْ قَدْ قَرَأَ الْقُرْآنَ.
ہم سے بشر بن حکم نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے بیان کیا ‘ کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ آپ نے بتلایا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بچہ بیمار ہو گیا انہوں نے کہا کہ اس کا انتقال بھی ہو گیا۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے۔ ان کی بیوی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) نے جب دیکھا کہ بچے کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے کچھ کھانا تیار کیا اور بچے کو گھر کے ایک کونے میں لٹا دیا۔ جب ابوطلحہ رضی اللہ عنہ تشریف لائے تو انہوں نے پوچھا کہ بچے کی طبیعت کیسی ہے؟ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اسے آرام مل گیا ہے اور میرا خیال ہے کہ اب وہ آرام ہی کر رہا ہو گا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہیں۔ (اب بچہ اچھا ہے) پھر ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس رات گزاری اور جب صبح ہوئی تو غسل کیا لیکن جب باہر جانے کا ارادہ کیا تو بیوی (ام سلیم رضی اللہ عنہا) نے اطلاع دی کہ بچے کا انتقال ہو چکا ہے۔ پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی اور آپ سے ام سلیم رضی اللہ عنہا کا حال بیان کیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شاید اللہ تعالیٰ تم دونوں کو اس رات میں برکت عطا فرمائے گا۔ سفیان بن عیینہ نے بیان کیا کہ انصار کے ایک شخص نے بتایا کہ میں نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی انہیں بیوی سے نو بیٹے دیکھے جو سب کے سب قرآن کے عالم تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1301]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک بیٹا بیمار تھا، وہ فوت ہو گیا جبکہ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت گھر پر موجود نہیں تھے۔ ان کی بیوی نے بچے کو غسل و کفن دے کر اسے گھر کے ایک گوشے میں رکھ دیا۔ جب حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ گھر تشریف لائے تو پوچھا: لڑکے کا کیا حال ہے؟ ان کی بیوی نے جواب دیا: اسے آرام ہے اور مجھے امید ہے کہ اسے سکون میسر ہوا ہے۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سمجھا کہ وہ صحیح کہہ رہی ہیں (بچہ اب ٹھیک ہے)، پھر وہ رات بھر اپنی بیوی کے پاس رہے اور صبح کو غسل کر کے باہر جانے لگے تو بیوی نے انہیں بتایا کہ لڑکا تو فوت ہو چکا ہے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صبح کی نماز ادا کی، پھر رات کے ماجرے کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تم دونوں میاں بیوی کو تمہاری اس رات میں برکت دے گا۔“ ایک انصاری شخص کا بیان ہے کہ میں نے حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ (کی نسل) سے نو لڑکے دیکھے جو سارے کے سارے حافظِ قرآن تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1301]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5470
حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَانَ ابْنٌ لِأَبِي طَلْحَةَ يَشْتَكِي، فَخَرَجَ أَبُو طَلْحَةَ فَقُبِضَ الصَّبِيُّ، فَلَمَّا رَجَعَ أَبُو طَلْحَةَ، قَالَ: مَا فَعَلَ ابْنِي؟ قَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هُوَ أَسْكَنُ مَا كَانَ، فَقَرَّبَتْ إِلَيْهِ الْعَشَاءَ، فَتَعَشَّى ثُمَّ أَصَابَ مِنْهَا، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَتْ: وَارُوا الصَّبِيَّ، فَلَمَّا أَصْبَحَ أَبُو طَلْحَةَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: أَعْرَسْتُمُ اللَّيْلَةَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا، فَوَلَدَتْ غُلَامًا، قَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: احْفَظْهُ حَتَّى تَأْتِيَ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَى بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَرْسَلَتْ مَعَهُ بِتَمَرَاتٍ، فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَمَعَهُ شَيْءٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ، تَمَرَاتٌ، فَأَخَذَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَضَغَهَا ثُمَّ أَخَذَ مِنْ فِيهِ فَجَعَلَهَا فِي فِي الصَّبِيِّ وَحَنَّكَهُ بِهِ وَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ".
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے، انہیں عبداللہ بن عون نے خبر دی، انہیں انس بن سیرین نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا ایک لڑکا بیمار تھا۔ ابوطلحہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے کہ بچہ کا انتقال ہو گیا۔ جب وہ (تھکے ماندے) واپس آئے تو پوچھا کہ بچہ کیسا ہے؟ ان کی بیوی ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ وہ پہلے سے زیادہ سکون کے ساتھ ہے پھر بیوی نے ان کے سامنے کھانا رکھا اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کھانا کھایا۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے ساتھ ہمبستری کی پھر جب فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا کہ بچہ کو دفن کر دو۔ صبح ہوئی تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تم نے رات ہمبستری بھی کی تھی؟ انہوں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ”اے اللہ! ان دونوں کو برکت عطا فرما۔“ پھر ان کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا تو مجھ سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے حفاظت کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ۔ چنانچہ بچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے اور ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بچہ کے ساتھ کچھ کھجوریں بھیجیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچہ کو لیا اور دریافت فرمایا کہ اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جی ہاں کھجوریں ہیں۔ آپ نے اسے لے کر چبایا اور پھر اسے اپنے منہ میں نکال کر بچہ کے منہ میں رکھ دیا اور اس سے بچہ کی تحنیک کی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 5470]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا بیٹا بیمار ہو گیا۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے کہ ان کا بیٹا فوت ہو گیا۔ جب وہ واپس آئے تو پوچھا: ”میرا بیٹا کیسا ہے؟“ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ”وہ پہلے سے سکون میں ہے۔“ پھر بیوی نے انہیں کھانا پیش کیا۔ انہوں نے کھانا کھایا، پھر بیوی سے ہم بستری کی۔ جب فارغ ہوئے تو حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ”بچے کو دفن کر آؤ۔“ صبح ہوئی تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع دی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”کیا تم نے آج رات ہم بستری کی تھی؟“ انہوں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمَا فِي لَيْلَتِهِمَا» ”اے اللہ! ان دونوں کی اس رات میں برکت عطا فرما۔“ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ”بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ۔“ چنانچہ اس بچے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا۔ حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کچھ کھجوریں بھی ہمراہ بھیجی تھیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے کو لیا اور پوچھا: ”اس کے ساتھ کوئی چیز بھی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”جی ہاں، کھجوریں ہیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجوریں لیں، انہیں چبایا، پھر انہیں اپنے منہ سے نکال کر بچے کے منہ میں رکھ دیں اور اس سے بچے کو گھٹی دی اور اس کا نام عبداللہ رکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 5470]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة