صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
79. باب إذا أسلم الصبي فمات هل يصلى عليه وهل يعرض على الصبي الإسلام:
باب: ایک بچہ اسلام لایا پھر اس کا انتقال ہو گیا، تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی؟ اور کیا بچے کے سامنے اسلام کی دعوت پیش کی جا سکتی ہے؟
حدیث نمبر: 1356
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهْوَ ابْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَعَدَ عِنْدَ رَأْسِهِ فَقَالَ لَهُ: أَسْلِمْ، فَنَظَرَ إِلَى أَبِيهِ , وَهُوَ عِنْدَهُ، فَقَالَ لَهُ: أَطِعْ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ثابت نے ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک یہودی لڑکا (عبدالقدوس) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، ایک دن وہ بیمار ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا مزاج معلوم کرنے کے لیے تشریف لائے اور اس کے سرہانے بیٹھ گئے اور فرمایا کہ مسلمان ہو جا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، باپ وہیں موجود تھا۔ اس نے کہا کہ (کیا مضائقہ ہے) ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ کہتے ہیں مان لے۔ چنانچہ وہ بچہ اسلام لے آیا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شکر ہے اللہ پاک کا جس نے اس بچے کو جہنم سے بچا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1356]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک یہودی لڑکا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ بیمار ہو گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اس کے سرہانے بیٹھ کر اس سے فرمایا: ”تو مسلمان ہو جا۔“ اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا جو اس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے کہا: ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات مان لو، چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرماتے ہوئے باہر تشریف لے آئے: «الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ» ”اللہ کا شکر ہے جس نے اس لڑکے کو آگ سے بچا لیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 1356]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5657
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" أَنَّ غُلَامًا لِيَهُودَ كَانَ يَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُودُهُ، فَقَالَ: أَسْلِمْ". فَأَسْلَمَ، وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِيهِ: لَمَّا حُضِرَ أَبُو طَالِبٍ جَاءَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ثابت نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ ایک یہودی لڑکا (عبدوس نامی) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا وہ بیمار ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کی مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسلام قبول کر لے چنانچہ اس نے اسلام قبول کر لیا اور سعید بن مسیب نے بیان کیا اپنے والد سے کہ جب ابوطالب کی وفات کا وقت قریب ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس مزاج پرسی کے لیے تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 5657]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک یہودی کا لڑکا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ وہ لڑکا ایک دفعہ بیمار ہو گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور اسے فرمایا: ”تم اسلام قبول کر لو۔“ چنانچہ وہ مسلمان ہو گیا۔ حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت قریب ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس (عیادت کے لیے) تشریف لے گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 5657]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5656
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِيٍّ يَعُودُهُ، قَالَ: وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٍ يَعُودُهُ، فَقَالَ لَهُ: لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، قَالَ: قُلْتَ طَهُورٌ، كَلَّا بَلْ هِيَ حُمَّى تَفُورُ أَوْ تَثُورُ عَلَى شَيْخٍ كَبِيرٍ تُزِيرُهُ الْقُبُورَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَنَعَمْ إِذًا".
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دیہاتی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کی عیادت کو تشریف لے جاتے تو مریض سے فرماتے «لا بأس طهور إن شاء الله» ”کوئی فکر کی بات نہیں۔ ان شاءاللہ یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے“ لیکن اس دیہاتی نے آپ کے ان مبارک کلمات کے جواب میں کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ یہ پاک کرنے والا ہے ہرگز نہیں بلکہ یہ بخار ایک بوڑھے پر غالب آ گیا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کے رہے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ایسا ہی ہو گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 5656]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کے پاس اس کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے۔ انہوں نے فرمایا: ”اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مریض کے ہاں اس کی عیادت کے لیے جاتے تو اس سے کہتے: «لَا بَأْسَ، طَهُورٌ إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”فکر کی کوئی بات نہیں، یہ بیماری گناہوں سے پاک کرنے والی ہے إن شاء اللہ۔““ اس اعرابی نے کہا: ”آپ کہتے ہیں: یہ پاک کرنے والی ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو بخار ہے جو ایک بوڑھے پر غالب آ گیا ہے اور اسے قبر تک پہنچا کر رہے گا۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ایسا ہی ہوگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجنائز/حدیث: 5656]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة