صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب أخذ العناق فى الصدقة:
باب: بکری کا بچہ زکوٰۃ میں لینا۔
حدیث نمبر: 1456
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. ح وَقَالَ اللَّيْثُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا کہ ہمیں شعیب نے خبر دی اور انہیں زہری نے (دوسری سند) اور لیث بن سعد نے بیان کیا کہ مجھ سے عبدالرحمٰن بن خالد نے بیان کیا ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتلایا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے فوراً بعد زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے والوں کے متعلق فرمایا تھا) قسم اللہ کی اگر یہ مجھے بکری کے ایک بچہ کو بھی دینے سے انکار کریں گے جسے یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے تو میں ان کے اس انکار پر ان سے جہاد کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1456]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اگر مانعین زکاۃ مجھ سے بکری کا بچہ بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے تو اس کے روکنے پر میں ان سے جنگ کروں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1456]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1400
فَقَالَ: وَاللَّهِ لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ , وَالزَّكَاةِ، فَإِنَّ الزَّكَاةَ حَقُّ الْمَالِ , وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا كَانُوا يُؤَدُّونَهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَاتَلْتُهُمْ عَلَى مَنْعِهَا، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ قَدْ شَرَحَ اللَّهُ صَدْرَ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَعَرَفْتُ، أَنَّهُ الْحَقُّ".
اس پر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ قسم اللہ کی میں ہر اس شخص سے جنگ کروں گا جو زکوٰۃ اور نماز میں تفریق کرے گا۔ (یعنی نماز تو پڑھے مگر زکوٰۃ کے لیے انکار کر دے) کیونکہ زکوٰۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے زکوٰۃ میں چار مہینے کی (بکری کے) بچے کو دینے سے بھی انکار کیا جسے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیتے تھے تو میں ان سے لڑوں گا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بخدا یہ بات اس کا نتیجہ تھی کہ اللہ تعالیٰ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیا تھا اور بعد میں، میں بھی اس نتیجہ پر پہنچا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی حق پر تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1400]
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں ہر اس شخص سے قتال کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرتا ہے، کیونکہ زکاۃ مال کا حق ہے۔ اللہ کی قسم! اگر انہوں نے ایک بکری کا بچہ بھی روک لیا جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ادا کرتے تھے تو اس کے روکنے پر بھی میں ضرور ان سے جنگ لڑوں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں بھی اس وضاحت کے بعد وہی سمجھنے لگا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا سینہ کھول دیا تھا۔ اب میں پہچان گیا کہ حق یہی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الزكاة/حدیث: 1400]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة