صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
53. باب بركة صاع النبى صلى الله عليه وسلم ومدهم:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاع اور مد کی برکت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2129
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ وَدَعَا لَهَا، وَحَرَّمْتُ الْمَدِينَةَ كَمَا حَرَّمَ إِبْرَاهِيمُ مَكَّةَ، وَدَعَوْتُ لَهَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا مِثْلَ مَا دَعَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام لِمَكَّةَ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عباد بن تمیم انصاری نے اور ان سے عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا۔ اور اس کے لیے دعا فرمائی۔ میں بھی مدینہ کو اسی طرح حرام قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرام قرار دیا تھا۔ اور اس کے لیے، اس کے مد اور صاع (غلہ ناپنے کے دو پیمانے) کی برکت کے لیے اس طرح دعا کرتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کے لیے دعا کی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2129]
حضرت عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جس طرح مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے لیے دعا فرمائی، اسی طرح میں مدینہ طیبہ کو حرم قرار دیتا ہوں اور میں مدینہ طیبہ کے مد اور صاع میں برکت کی دعا کرتا ہوں جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے لیے دعا کی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1869
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُرِّمَ مَا بَيْنَ لَابَتَيْ الْمَدِينَةِ عَلَى لِسَانِي"، قَالَ: وَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي حَارِثَةَ، فَقَالَ: أَرَاكُمْ يَا بَنِي حَارِثَةَ قَدْ خَرَجْتُمْ مِنْ الْحَرَمِ، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَقَالَ: بَلْ أَنْتُمْ فِيهِ.
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن بلال نے، ان سے عبیداللہ نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں میں جو زمین ہے وہ میری زبان پر حرم ٹھہرائی گئی۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس آئے اور فرمایا بنوحارثہ! میرا خیال ہے کہ تم لوگ حرم سے باہر ہو گئے ہو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مڑ کر دیکھا اور فرمایا کہ نہیں بلکہ تم لوگ حرم کے اندر ہی ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 1869]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ کے دونوں پتھریلے کناروں کا درمیانی حصہ میری زبان سے قابل احترام ٹھہرایا گیا ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو حارثہ کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا: ”اے بنو حارثہ! میرے خیال کے مطابق تم حرم سے باہر ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ فرمائی تو فرمایا: ”نہیں، بلکہ تم حرم کے اندر ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 1869]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1873
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَوْ رَأَيْتُ الظِّبَاءَ بِالْمَدِينَةِ تَرْتَعُ مَا ذَعَرْتُهَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا بَيْنَ لَابَتَيْهَا حَرَامٌ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب زہری نے، انہیں سعید بن مسیب نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے اگر میں مدینہ میں ہرن چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں کبھی نہ چھیڑوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ کی زمین دونوں پتھریلے میدانوں کے بیچ میں حرم ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 1873]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: اگر میں مدینہ طیبہ میں ہرن چرتے ہوئے دیکھوں تو انہیں ہراساں نہیں کرتا ہوں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ طیبہ کے دونوں پتھریلے کناروں کا درمیانی علاقہ قابل احترام ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 1873]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة