صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
100. باب شراء المملوك من الحربي وهبته وعتقه:
باب: حربی کافر سے غلام لونڈی خریدنا اور اس کا آزاد کرنا اور ہبہ کرنا۔
حدیث نمبر: 2217
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام بِسَارَةَ، فَدَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ: دَخَلَ إِبْرَاهِيمُ بِامْرَأَةٍ هِيَ مِنْ أَحْسَنِ النِّسَاءِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ، أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ، مَنْ هَذِهِ الَّتِي مَعَكَ؟ قَالَ: أُخْتِي، ثُمَّ رَجَعَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: لَا تُكَذِّبِي، حَدِيثِي فَإِنِّي أَخْبَرْتُهُمْ أَنَّكِ أُخْتِي، وَاللَّهِ إِنْ عَلَى الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرُكِ، فَأَرْسَلَ بِهَا إِلَيْهِ، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ، قَالَ الْأَعْرَجُ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَتِ: اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ، يُقَالُ: هِيَ قَتَلَتْهُ فَأُرْسِلَ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ تُصَلِّي، وَتَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ هَذَا الْكَافِرَ فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ يَمُتْ، فَيُقَالُ: هِيَ قَتَلَتْهُ، فَأُرْسِلَ فِي الثَّانِيَةِ أَوْ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا أَرْسَلْتُمْ إِلَيَّ إِلَّا شَيْطَانًا ارْجِعُوهَا إِلَى إِبْرَاهِيمَ، وَأَعْطُوهَا آجَرَ فَرَجَعَتْ إِلَى إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَقَالَتْ: أَشَعَرْتَ أَنَّ اللَّهَ كَبَتَ الْكَافِرَ وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ابراہیم علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ (نمرود کے ملک سے) ہجرت کی تو ایک ایسے شہر میں پہنچے جہاں ایک بادشاہ رہتا تھا یا (یہ فرمایا کہ) ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کے متعلق کسی نے کہہ دیا کہ وہ ایک نہایت ہی خوبصورت عورت لے کر یہاں آئے ہیں۔ بادشاہ نے آپ علیہ السلام سے پچھوا بھیجا کہ ابراہیم! یہ عورت جو تمہارے ساتھ ہے تمہاری کیا ہوتی ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہے۔ پھر جب ابراہیم علیہ السلام سارہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آئے تو ان سے کہا کہ میری بات نہ جھٹلانا، میں تمہیں اپنی بہن کہہ آیا ہوں۔ اللہ کی قسم! آج روئے زمین پر میرے اور تمہارے سوا کوئی مومن نہیں ہے۔ چنانچہ آپ علیہ السلام نے سارہ رضی اللہ عنہا کو بادشاہ کے یہاں بھیجا، یا بادشاہ سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا۔ اس وقت سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے نماز پڑھنے کھڑی ہو گئی تھیں۔ انہوں نے اللہ کے حضور میں یہ دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول (ابراہیم علیہ السلام) پر ایمان رکھتی ہوں اور اگر میں نے اپنے شوہر کے سوا اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے، تو تو مجھ پر ایک کافر کو مسلط نہ کر۔“ اتنے میں بادشاہ تھرایا اور اس کا پاؤں زمین میں دھنس گیا۔ اعرج نے کہا کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ کے حضور میں دعا کی کہ اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔ چنانچہ وہ پھر چھوٹ گیا اور سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھا۔ سارہ رضی اللہ عنہا وضو کر کے پھر نماز پڑھنے لگی تھیں اور یہ دعا کرتی جاتی تھیں ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں اور اپنے شوہر (ابراہیم علیہ السلام) کے سوا اور ہر موقع پر میں نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے تو تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔“ چنانچہ وہ پھر تھرایا، کانپا اور اس کے پاؤں زمین میں دھنس گئے۔ عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ ابوسلمہ نے بیان کیا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ سارہ رضی اللہ عنہا نے پھر وہی دعا کی کہ ”اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو لوگ کہیں گے کہ اسی نے مارا ہے۔“ اب دوسری مرتبہ یا تیسری مرتبہ بھی وہ بادشاہ چھوڑ دیا گیا۔ آخر وہ کہنے لگا کہ تم لوگوں نے میرے یہاں ایک شیطان بھیج دیا۔ اسے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس لے جاؤ اور انہیں آجر (ہاجرہ) کو بھی دے دو۔ پھر سارہ ابراہیم علیہ السلام کے پاس آئیں اور ان سے کہا کہ دیکھتے نہیں اللہ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ساتھ میں ایک لڑکی بھی دلوا دی۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2217]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ ہجرت کی اور انہیں لے کر ایک شہر پہنچے جہاں ایک سخت گیر ظالم حکمران تھا۔ اسے اطلاع دی گئی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ایک خوبرو عورت کو لے کر آئے ہیں۔ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیغام بھیجا کہ تمہارے ساتھ یہ عورت کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: یہ میری بہن ہے، پھر حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ تم نے میری بات کو جھٹلانا نہیں کیونکہ میں نے ان لوگوں کو بتایا ہے کہ تو میری بہن ہے۔ اللہ کی قسم! اس سرزمین پر میرے اور تیرے علاوہ کوئی دوسرا مومن نہیں ہے۔ پھر انہوں نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو اس ظالم کے پاس بھیج دیا۔ وہ بادشاہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف بڑھنے کے لیے اٹھا تو انہوں نے کھڑے ہوکر وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگیں، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ هَذَا الْكَافِرَ» ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور میں نے اپنی شرمگاہ کو اپنے شوہر کے سوا محفوظ رکھا ہے تو اس کافر کو میرے اوپر مسلط نہ ہونے دے۔“ اس پر بادشاہ کا سانس گلے میں پھنس گیا اور وہ گر کر ایڑیاں رگڑنے لگا۔“ حضرت اعرج نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: ”اے اللہ! اگر یہ مر گیا تو کہا جائے گا کہ اسے اس (سارہ) نے قتل کیا ہے، چنانچہ وہ درست ہو گیا۔ پھر وہ (بُری نیت سے) اٹھ کر حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف جانے لگا تو انہوں نے وضو کرنے کے بعد نماز شروع کر دی، پھر دعا کی: «اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، وَأَحْصَنْتُ فَرْجِي إِلَّا عَلَى زَوْجِي، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ» ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان لائی ہوں اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی ہے بجز اپنے خاوند کے کسی کو اجازت نہیں دی تو اس کافر کو مجھ پر مسلط نہ ہونے دے۔“ اس پر وہ زمین پر گرا اور اس کا سانس حلق میں پھنس گیا حتیٰ کہ زمین پر ایڑیاں رگڑنے لگا۔“ حضرت عبدالرحمان نے ابوسلمہ کے حوالے سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان نقل کیا کہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے دعا کی: ”اے اللہ! اگر یہ ظالم مر گیا تو کہا جائے کہ اس عورت نے اسے قتل کیا ہے تو وہ دوسری دفعہ بھی اچھا ہو گیا۔ پھر جب تیسری دفعہ بھی ایسا ہوا تو بادشاہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے ایک شیطان عورت کو میرے پاس بھیج دیا ہے۔ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس لے جاؤ اور اسے آجر (حضرت ہاجرہ علیہا السلام) بھی دے دو، چنانچہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آئیں اور فرمایا: تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ذلیل و خوار کیا اور اس نے ایک لڑکی خدمت گزاری کے لیے بھی ساتھ دی ہے؟“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2217]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2635
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ، فَأَعْطَوْهَا آجَرَ، فَرَجَعَتْ، فَقَالَتْ: أَشَعَرْتَ أَنَّ اللهَ كَتَبَ الْكَافِرَ، وَأَخْدَمَ وَلِيدَةً". وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے ابوالزناد نے بیان کیا، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کے ساتھ ہجرت کی تو انہیں بادشاہ نے آجر کو (یعنی ہاجرہ علیہا السلام کو) عطیہ میں دے دیا۔ پھر وہ واپس ہوئیں اور ابراہیم علیہ السلام سے کہا، دیکھا آپ نے اللہ تعالیٰ نے کافر کو کس طرح ذلیل کیا اور ایک لڑکی خدمت کے لیے بھی دے دی۔ ابن سیرین نے کہا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا کہ بادشاہ نے ہاجرہ کو ان کی خدمت کے لیے دے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2635]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ جب ہجرت کی تو اہل مصر نے آپ کو ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے دی۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے واپس آکر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا: آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کو ذلیل و خوار کیا اور اس نے ایک لڑکی خدمت کے لیے دی ہے۔“ ابن سیرین نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”اس نے سارہ کو ہاجرہ بطور خدمت دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 2635]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3357
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ الرُّعَيْنِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثًا".
ہم سے سعید بن تلید رعینی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے توریہ تین مرتبہ کے سوا اور کبھی نہیں کیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3357]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے زندگی میں صرف تین مرتبہ خلاف واقعہ بات کی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3357]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3358
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ ثِنْتَيْنِ مِنْهُنَّ فِي ذَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَوْلُهُ إِنِّي سَقِيمٌ سورة الصافات آية 89 وَقَوْلُهُ بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا سورة الأنبياء آية 63، وَقَالَ: بَيْنَا هُوَ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَارَةُ إِذْ أَتَى عَلَى جَبَّارٍ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ هَا هُنَا رَجُلًا مَعَهُ امْرَأَةٌ مِنْ أَحْسَنِ النَّاسِ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَسَأَلَهُ عَنْهَا، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ، قَالَ: أُخْتِي فَأَتَى سَارَةَ، قَالَ: يَا سَارَةُ لَيْسَ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ مُؤْمِنٌ غَيْرِي وَغَيْرَكِ، وَإِنَّ هَذَا سَأَلَنِي فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّكِ أُخْتِي فَلَا تُكَذِّبِينِي فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا فَلَمَّا دَخَلَتْ عَلَيْهِ ذَهَبَ يَتَنَاوَلُهَا بِيَدِهِ فَأُخِذَ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ فَدَعَتِ اللَّهَ فَأُطْلِقَ، ثُمَّ تَنَاوَلَهَا الثَّانِيَةَ فَأُخِذَ مِثْلَهَا أَوْ أَشَدَّ، فَقَالَ: ادْعِي اللَّهَ لِي وَلَا أَضُرُّكِ فَدَعَتْ فَأُطْلِقَ فَدَعَا بَعْضَ حَجَبَتِهِ، فَقَالَ: إِنَّكُمْ لَمْ تَأْتُونِي بِإِنْسَانٍ إِنَّمَا أَتَيْتُمُونِي بِشَيْطَانٍ فَأَخْدَمَهَا هَاجَرَ فَأَتَتْهُ وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي فَأَوْمَأَ بِيَدِهِ مَهْيَا، قَالَتْ: رَدَّ اللَّهُ كَيْدَ الْكَافِرِ أَوِ الْفَاجِرِ فِي نَحْرِهِ وَأَخْدَمَ هَاجَرَ، قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ تِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ".
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے، ان سے محمد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابراہیم علیہ السلام نے تین مرتبہ جھوٹ بولا تھا، دو ان میں سے خالص اللہ عزوجل کی رضا کے لیے تھے۔ ایک تو ان کا فرمانا (بطور توریہ کے) کہ ”میں بیمار ہوں“ اور دوسرا ان کا یہ فرمانا کہ ”بلکہ یہ کام تو ان کے بڑے (بت) نے کیا ہے۔“ اور بیان کیا کہ ایک مرتبہ ابراہیم علیہ السلام اور سارہ علیہا السلام ایک ظالم بادشاہ کی حدود سلطنت سے گزر رہے تھے۔ بادشاہ کو خبر ملی کہ یہاں ایک شخص آیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ دنیا کی ایک خوبصورت ترین عورت ہے۔ بادشاہ نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس اپنا آدمی بھیج کر انہیں بلوایا اور سارہ علیہا السلام کے متعلق پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ میری بہن ہیں۔ پھر آپ سارہ علیہا السلام کے پاس آئے اور فرمایا کہ اے سارہ! یہاں میرے اور تمہارے سوا اور کوئی بھی مومن نہیں ہے اور اس بادشاہ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس سے کہہ دیا کہ تم میری (دینی اعتبار سے) بہن ہو۔ اس لیے اب تم کوئی ایسی بات نہ کہنا جس سے میں جھوٹا بنوں۔ پھر اس ظالم نے سارہ کو بلوایا اور جب وہ اس کے پاس گئیں تو اس نے ان کی طرف ہاتھ بڑھانا چاہا لیکن فوراً ہی پکڑ لیا گیا۔ پھر وہ کہنے لگا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کرو (کہ اس مصیبت سے نجات دے) میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے اللہ سے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا۔ لیکن پھر دوسری مرتبہ اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس مرتبہ بھی اسی طرح پکڑ لیا گیا، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت اور پھر کہنے لگا کہ اللہ سے میرے لیے دعا کرو، میں اب تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ سارہ علیہا السلام نے دعا کی اور وہ چھوڑ دیا گیا۔ اس کے بعد اس نے اپنے کسی خدمت گار کو بلا کر کہا کہ تم لوگ میرے پاس کسی انسان کو نہیں لائے ہو، یہ تو کوئی سرکش جن ہے (جاتے ہوئے) سارہ علیہ السلام کے لیے اس نے ہاجرہ علیہا السلام کو خدمت کے لیے دیا۔ جب سارہ آئیں تو ابراہیم علیہ السلام کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ نے ہاتھ کے اشارہ سے ان کا حال پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر یا (یہ کہا کہ) فاجر کے فریب کو اسی کے منہ پر دے مارا اور ہاجرہ علیہا السلام کو خدمت کے لیے دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے «بني ماء السماء.» (اے آسمانی پانی کی اولاد! یعنی اہل عرب) تمہاری والدہ یہی (ہاجرہ علیہا السلام) ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3358]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین مرتبہ خلافِ واقعہ بات کی ہے، ان میں سے دو تو اللہ کی ذاتِ ستودہ صفات کے متعلق تھیں۔ پہلا آپ کا یہ کہنا: ﴿ «إِنِّي سَقِيمٌ» ﴾ [سورة الصافات: 89] ”میں بیمار ہوں“، دوسری بات آپ کا یہ کہنا: ﴿ «بَلْ فَعَلَهُ كَبِيرُهُمْ هَذَا» ﴾ [سورة الأنبياء: 63] ”بلکہ یہ ان کے بڑے بت نے کیا ہے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(تیسری بات یہ ہے کہ) ایک دن وہ اور (ان کی بیوی) حضرت سارہ رضی اللہ عنہا (سفر کرتے کرتے) ایک ظالم بادشاہ کے پاس سے گزرے تو اس (بادشاہ) سے کہا گیا: یہاں ایک مرد آیا ہے، اس کے ساتھ بہت خوبصورت عورت ہے، چنانچہ اس بادشاہ نے ان کے پاس ایک آدمی بھیجا اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے متعلق پوچھا کہ وہ کون ہے؟ انہوں نے (حضرت ابراہیم علیہ السلام نے) جواب دیا: یہ میری بہن ہے۔ اس کے بعد آپ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے فرمایا: اے سارہ! میرے اور تیرے سوا اس سرزمین میں کوئی مومن نہیں ہے، اس ظالم بادشاہ نے مجھ سے پوچھا تھا تو میں نے اسے بتایا کہ تو میری بہن ہے، لہٰذا تو نے مجھے جھٹلانا نہیں۔ اس دوران میں اس ظالم نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کی طرف آدمی بھیجا، جب وہ اس کے پاس گئیں تو اس نے اپنے ہاتھ سے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا تو وہ زمین میں دھنس گیا، اس نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میرے لیے اللہ سے دعا کرو، میں تجھے کوئی تکلیف نہیں پہنچاؤں گا۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے اللہ سے دعا کی تو اسے نجات مل گئی۔ اس نے دوبارہ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو پکڑنا چاہا تو پہلے سے زیادہ گرفت میں آگیا، اس نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میرے لیے اللہ سے دعا کرو، میں تمہیں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچاؤں گا۔ چنانچہ انہوں نے دعا کی تو اس کی خلاصی ہو گئی۔ پھر اس نے اپنے خادم کو بلایا اور کہا: تم میرے پاس انسان نہیں بلکہ کوئی شیطان لائے ہو اور حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو بطور خدمت حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے کر واپس بھیج دیا۔ وہ (حضرت سارہ رضی اللہ عنہا ان) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس واپس آئیں تو آپ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے ہاتھ سے اشارہ کر کے پوچھا: تمہارا حال کیسا رہا؟ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر یا فاجر کی تدبیر کو الٹا اس کے خلاف کر دیا اور اس نے خدمت کے لیے حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا بھی دی ہے۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے آسمانی پانی کی اولاد! تمہاری والدہ یہی حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 3358]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5084
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ تَلِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ"، بَيْنَمَا إِبْرَاهِيمُ مَرَّ بِجَبَّارٍ وَمَعَهُ سَارَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فَأَعْطَاهَا هَاجَرَ، قَالَتْ: كَفَّ اللَّهُ يَدَ الْكَافِرِ وَأَخْدَمَنِي آجَرَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَتِلْكَ أُمُّكُمْ يَا بَنِي مَاءِ السَّمَاءِ.
ہم سے سعید بن تلید نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، کہا کہ مجھے جریر بن حازم نے خبر دی، انہیں ایوب سختیانی نے، انہیں محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ (دوسری سند) ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ان سے حماد بن زید نے، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے تین مرتبہ کے سوا کبھی دین میں جھوٹ بات نہیں نکلی۔ ایک مرتبہ آپ ایک ظالم بادشاہ کی حکومت سے گزرے آپ کے ساتھ آپ کی بیوی سارہ علیہ السلام تھیں۔ پھر پورا واقعہ بیان کیا (کہ بادشاہ کے سامنے) آپ نے سارہ علیہ السلام کو اپنی بہن (یعنی دینی بہن) کہا۔ پھر اس بادشاہ نے سارہ علیہا السلام کو آجر (ہاجرہ) کو دے دیا۔ (بی بی سارہ علیہا السلام نے ابراہیم علیہ السلام سے) کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کافر کے ہاتھ کو روک دیا اور آجر (ہاجرہ) کو میری خدمت کے لیے دلوا دیا۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اے آسمان کے پانی کے بیٹو! یعنی اے عرب والو! یہی ہاجرہ علیہا السلام تمہاری ماں ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5084]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بظاہر تین خلاف باتیں کی ہیں: ایک یہ کہ آپ کا گزر ایک ظالم بادشاہ کے پاس سے ہوا جبکہ آپ کے ہمراہ آپ کی بیوی حضرت سارہ رضی اللہ عنہا تھیں۔“ اس کے بعد مکمل حدیث بیان کی، (اس میں ہے کہ) اس (بادشاہ) نے بی بی ہاجرہ رضی اللہ عنہا دے کر ان کو رخصت کیا۔ حضرت سارہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے کافر کا ہاتھ مجھ سے روکے رکھا اور مجھے خدمت کے لیے ہاجرہ بھی عنایت کر دی۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اے آسمان کے پانی سے گزر اوقات کرنے والو! یہی ہاجرہ رضی اللہ عنہا تمہاری والدہ ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 5084]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6950
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، حَدَّثَنَا شُعَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"هَاجَرَ إِبْرَاهِيمُ بِسَارَةَ، دَخَلَ بِهَا قَرْيَةً فِيهَا مَلِكٌ مِنَ الْمُلُوكِ، أَوْ جَبَّارٌ مِنَ الْجَبَابِرَةِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ أَنْ أَرْسِلْ إِلَيَّ بِهَا، فَأَرْسَلَ بِهَا، فَقَامَ إِلَيْهَا، فَقَامَتْ تَوَضَّأُ وَتُصَلِّي، فَقَالَتْ: اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ آمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ، فَغُطَّ حَتَّى رَكَضَ بِرِجْلِهِ".
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا، ان سے ابوالزناد نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ابراہیم علیہ السلام نے سارہ علیہا السلام کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ یا ظالموں میں سے ایک ظالم رہتا تھا اس ظالم نے ابراہیم علیہ السلام کے پاس یہ حکم بھیجا کہ سارہ علیہا السلام کو اس کے پاس بھیجیں آپ نے سارہ کو بھیج دیا وہ ظالم ان کے پاس آیا تو وہ (سارہ علیہا السلام) وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو تو مجھ پر کافر کو نہ مسلط کر پھر ایسا ہوا کہ وہ کم بخت بادشاہ اچانک خراٹے لینے اور گر کر پاؤں ہلانے لگا۔ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6950]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت سارہ رضی اللہ عنہا کو ساتھ لے کر ہجرت کی تو ایک ایسی بستی میں پہنچے جس میں ظالم بادشاہوں میں سے ایک ظالم بادشاہ رہتا تھا۔ اس ظالم نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پیغام بھیجا کہ میرے پاس سارہ (رضی اللہ عنہا) کو بھیج دو۔ جب وہ ان کے پاس گیا تو وہ وضو کر کے نماز پڑھ رہی تھیں۔ انہوں نے دعا کی: «اللّٰهُمَّ إِنْ كُنْتُ اٰمَنْتُ بِكَ وَبِرَسُولِكَ، فَلَا تُسَلِّطْ عَلَيَّ الْكَافِرَ» ”اے اللہ! اگر میں تجھ پر اور تیرے رسول پر ایمان رکھتی ہوں تو مجھ پر اس کافر کو مسلط نہ کر۔“ پھر ایسا ہوا کہ اس ظالم کا دم گھٹنے لگا اور گر کر زمین پر پاؤں مارنے (ایڑیاں رگڑنے) لگا۔“ [صحيح البخاري/كتاب البيوع/حدیث: 6950]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة