🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
15. باب هل يؤاجر الرجل نفسه من مشرك فى أرض الحرب:
باب: کیا کوئی مسلمان دار الحرب میں کسی مشرک کی مزدوری کر سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2275
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، حَدَّثَنَا خَبَّابٌ، قَالَ:" كُنْتُ رَجُلًا قَيْنًا، فَعَمِلْتُ لِلْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ، فَاجْتَمَعَ لِي عِنْدَهُ، فَأَتَيْتُهُ أَتَقَاضَاهُ، فَقَالَ: لَا، وَاللَّهِ لَا أَقْضِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ حَتَّى تَمُوتَ ثُمَّ تُبْعَثَ فَلَا، قَالَ: وَإِنِّي لَمَيِّتٌ ثُمَّ مَبْعُوثٌ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّهُ سَيَكُونُ لِي، ثَمَّ مَالٌ وَوَلَدٌ فَأَقْضِيكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا سورة مريم آية 77".
ہم سے عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے مسلم بن صبیح نے، ان سے مسروق نے، ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں لوہار تھا، میں نے عاص بن وائل (مشرک) کا کام کیا۔ جب میری بہت سی مزدوری اس کے سر چڑھ گئی تو میں اس کے پاس تقاضا کرنے آیا، وہ کہنے لگا کہ اللہ کی قسم! میں تمہاری مزدوری اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پھر جاؤ۔ میں نے کہا، اللہ کی قسم! یہ تو اس وقت بھی نہ ہو گا جب تو مر کے دوبارہ زندہ ہو گا۔ اس نے کہا، کیا میں مرنے کے بعد پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں گا؟ میں نے کہا کہ ہاں! اس پر وہ بولا پھر کیا ہے۔ وہیں میرے پاس مال اور اولاد ہو گی اور وہیں میں تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا‏» اے پیغمبر! کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیتوں کا انکار کیا، اور کہا کہ مجھے ضرور وہاں مال و اولاد دی جائے گی۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2275]
حضرت خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: میں لوہار کا پیشہ کرتا تھا۔ میں نے عاص بن وائل کا ایک کام کیا۔ اس کے پاس میری مزدوری جمع ہوگئی۔ میں نے اس سے اپنی اجرت کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تمہیں کوڑی نہ دوں گا تاآنکہ تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کرے۔ (حضرت خباب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کا انکار نہیں کروں گا حتیٰ کہ تو مر جائے، پھر زندہ کیا جائے۔ اس نے کہا: کیا مجھے مرنا بھی ہے اور پھر اٹھنا بھی ہے؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس نے کہا: پھر تو وہاں میرے پاس مال بہت ہوگا اور اولاد بھی تو (وہاں) تیری مزدوری ادا کر دوں گا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا﴾ [سورة مريم: 77] (اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم !) کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے میری آیات کا انکار کیا اور کہا کہ میں مال اور اولاد دیا جاؤں گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2275]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2091
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ:" كُنْتُ قَيْنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَكَانَ لِي عَلَى الْعَاصِ بْنِ وَائِلٍ دَيْنٌ فَأَتَيْتُهُ، أَتَقَاضَاهُ؟ قَالَ: لَا، أُعْطِيكَ حَتَّى تَكْفُرَ بِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: لَا أَكْفُرُ حَتَّى يُمِيتَكَ اللَّهُ، ثُمَّ تُبْعَثَ، قَالَ: دَعْنِي حَتَّى أَمُوتَ وَأُبْعَثَ، فَسَأُوتَى مَالًا وَوَلَدًا فَأَقْضِيكَ، فَنَزَلَتْ: أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لأُوتَيَنَّ مَالا وَوَلَدًا {77} أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا {78} سورة مريم آية 77-78".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے سلیمان نے، ان سے ابوالضحیٰ نے، ان سے مسروق نے اور ان سے خباب بن ارت رضی اللہ عنہ نے کہ جاہلیت کے زمانہ میں میں لوہار کا کام کیا کرتا تھا۔ عاص بن وائل (کافر) پر میرا کچھ قرض تھا میں ایک دن اس پر تقاضا کرنے گیا۔ اس نے کہا کہ جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار نہیں کرے گا میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے جواب دیا کہ میں آپ کا انکار اس وقت تک نہیں کروں گا جب تک اللہ تعالیٰ تیری جان نہ لے لے، پھر تو دوبارہ اٹھایا جائے، اس نے کہا کہ پھر مجھے بھی مہلت دے کہ میں مر جاؤں، پھر دوبارہ اٹھایا جاؤں اور مجھے مال اور اولاد ملے اس وقت میں بھی تمہارا قرض ادا کر دوں گا۔ اس پر آیت نازل ہوئی «أفرأيت الذي كفر بآياتنا وقال لأوتين مالا وولدا * أطلع الغيب أم اتخذ عند الرحمن عهدا» کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے ہماری آیات کو نہ مانا اور کہا (آخرت میں) مجھے مال اور دولت دی جائے گی، کیا اسے غیب کی خبر ہے؟ یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں سے کوئی اقرار لے لیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2091]
حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں زمانہ جاہلیت میں لوہار تھا اور عاص بن وائل کے ذمے میرا کچھ قرض تھا۔ میں اس کے پاس اپنے قرض کا تقاضا کرنے آیا تو اس نے کہا: جب تک تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہیں کرے گا اس وقت تک میں تیرا قرض نہیں دوں گا۔ میں نے کہا: اگر اللہ تجھے موت سے دوچار کر دے اور مرنے کے بعد پھر زندہ کر دے تو بھی میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت سے انکار نہیں کروں گا۔ اس نے کہا: پھر تو مجھے چھوڑ دے تاکہ میں مروں، پھر زندہ کیا جاؤں کیونکہ پھر مجھے وہاں مال بھی ملے گا اور اولاد بھی، پھر تمہارا قرض ادا کروں گا۔ اس وقت یہ آیات نازل ہوئیں: ﴿أَفَرَأَيْتَ الَّذِي كَفَرَ بِآيَاتِنَا وَقَالَ لَأُوتَيَنَّ مَالًا وَوَلَدًا ﴿٧٧﴾ أَطَّلَعَ الْغَيْبَ أَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمَنِ عَهْدًا﴾ [سورة مريم: 77-78] (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو ہماری آیات کا انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی۔ کیا اسے غیب کی اطلاع ہو گئی ہے؟ یا اللہ سے اس نے کوئی عہد لے رکھا ہے؟ [صحيح البخاري/كتاب الإجارة/حدیث: 2091]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں