صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. باب كيف يقبض العبد والمتاع:
باب: غلام لونڈی اور سامان پر کیوں کر قبضہ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 2599
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ مِنْهَا شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ، انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: خَبَأْنَا هَذَا لَكَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ابن ابی ملیکہ سے اور وہ مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو اس میں سے ایک بھی نہیں دی۔ انہوں نے (مجھ سے) کہا، بیٹے چلو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلیں۔ میں ان کے ساتھ چلا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کرو کہ میں آپ کا منتظر کھڑا ہوا ہوں، چنانچہ میں اندر گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت انہیں قباؤں میں سے ایک قباء پہنے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی، لو اب یہ تمہاری ہے۔ مسور نے بیان کیا کہ (میرے والد) مخرمہ رضی اللہ عنہ نے قباء کی طرف دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مخرمہ! خوش ہو یا نہیں؟“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2599]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ قبائیں تقسیم کیں لیکن حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی قبا نہ دی جس پر حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: بیٹے! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میرے ہمراہ چلو۔ میں ان کے ہمراہ چلا گیا۔ پھر انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میرے پاس بلا لاؤ۔ حضرت مسور رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو ان قباؤں میں سے ایک قبا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے یہ قبا تیرے لیے چھپا رکھی تھی۔“ حضرت مسور رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ اسے دیکھ کر خوش ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2599]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2657
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ".
ہم سے زیاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چند قبائیں آئیں تو مجھ سے میرے باپ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو۔ ممکن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کوئی مجھے بھی عنایت فرمائیں۔ میرے والد (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خوبیاں بیان کرنے لگے، اور فرمایا ”میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2657]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ریشمی قبائیں آئیں تو میرے باپ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: ہمیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے چلو ممکن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان قباؤں میں سے کوئی قبا عطا فرمائیں، چنانچہ میرے والد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر جا کر کھڑے ہو گئے اور کچھ باتیں کرنے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب باہر تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں ایک قبا تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حسن و جمال میرے باپ کو دکھانے لگے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 2657]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3127
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ بْنِ نَوْفَلٍ فَجَاءَ وَمَعَهُ ابْنُهُ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَةَ، فَقَامَ عَلَى الْبَاب، فَقَالَ: ادْعُهُ لِي فَسَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ فَأَخَذَ قَبَاءً فَتَلَقَّاهُ بِهِ وَاسْتَقْبَلَهُ بِأَزْرَارِهِ، فَقَالَ: يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ يَا أَبَا الْمِسْوَرِ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شِدَّةٌ، وَرَوَاهُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَ: حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَقَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، تَابَعَهُ اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ‘ ان سے ایوب سختیانی نے اور ان سے عبداللہ بن ابی ملیکہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دیبا کی کچھ قبائیں تحفہ کے طور پر آئی تھیں۔ جن میں سونے کی گھنڈیاں لگی ہوئی تھیں ‘ انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چند اصحاب میں تقسیم فرما دیا اور ایک قباء مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لیے رکھ لی۔ پھر مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے اور ان کے ساتھ ان کے صاحبزادے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ آپ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میرا نام لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا لا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو قباء لے کر باہر تشریف لائے اور اس کی گھنڈیاں ان کے سامنے کر دیں۔ پھر فرمایا: ابومسور! یہ قباء میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھ لی تھی۔ مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے۔ ابن علیہ نے ایوب کے واسطے سے یہ حدیث (مرسلاً ہی) روایت کی ہے۔ اور حاتم بن وردان نے بیان کیا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ‘ ان سے ابن ابی ملیکہ نے ان سے مسور رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں کچھ قبائیں آئیں تھیں ‘ اس روایت کی متابعت لیث نے ابن ابی ملیکہ سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 3127]
حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشمی جبے بطور ہدیہ بھیجے گئے جن میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ اپنے پاس موجود صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیے اور ان میں سے ایک جبہ حضرت مخرمہ بن نوفل رضی اللہ عنہ کے لیے الگ کر رکھا، وہ آئے اور ان کے ہمراہ ان کا بیٹا حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بھی تھا، وہ دروازے پر کھڑے ہو گئے اور اپنے بیٹے سے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری خاطر بلا لائے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز سنی تو ایک جبہ لے کر باہر تشریف لائے اور سونے کے بٹنوں سمیت وہ جبہ حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کے آگے رکھ دیا اور فرمایا: ”اے مخرمہ! میں نے یہ تمہارے لیے چھپا رکھا تھا۔ اے مخرمہ! میں نے تمہارے لیے یہ چھپا کر رکھ لیا تھا۔“ حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ ذرا تیز طبیعت کے آدمی تھے، ابن علیہ رحمہ اللہ نے یہ حدیث ایوب رحمہ اللہ کے واسطے سے (مرسل ہی) بیان کی ہے، اور حاتم بن وردان رحمہ اللہ نے کہا: ہم سے ایوب رحمہ اللہ نے، ان سے ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ نے، ان سے حضرت مسور رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ جبے آئے۔۔۔ حضرت ابن ابی ملیکہ رحمہ اللہ سے روایت کرنے میں لیث بن سعد رحمہ اللہ نے ایوب رحمہ اللہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 3127]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5800
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ:" قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيِّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَقَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: رَضِيَ مَخْرَمَةُ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہیں دیا تو مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا بیٹے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے چلو چنانچہ میں اپنے والد کو ساتھ لے کر چلا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ اندر جاؤ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ذکر کر دو۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مخرمہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا تو آپ باہر تشریف لائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں قباؤں میں سے ایک قباء لیے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے ہی لیے رکھ چھوڑی تھی۔ مسور نے بیان کیا کہ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مخرمہ خوش ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5800]
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند قبائیں تقسیم کیں اور حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کچھ نہ دیا تو انہوں نے کہا: ”بیٹے! میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو۔“ چنانچہ میں اپنے والد محترم کے ساتھ گیا، انہوں نے مجھ سے کہا: ”تم اندر جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرا ذکر کرو۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے والد کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے جبکہ انہی قباؤں میں سے ایک قبا ساتھ لیے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قبا میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔“ حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ نے اسے دیکھا تو کہنے لگے: ”مخرمہ راضی ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5800]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5826
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ:" رَأَيْتُ بِشِمَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَمِينِهِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا ثِيَابٌ بِيضٌ يَوْمَ أُحُدٍ مَا رَأَيْتُهُمَا قَبْلُ وَلَا بَعْدُ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن بشر نے خبر دی، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو (جو فرشتے تھے) دیکھا وہ سفید کپڑے پہنے ہوئے تھے میں نے انہیں نہ اس سے پہلے دیکھا اور نہ اس کے بعد کبھی دیکھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5826]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”جنگِ احد کے موقع پر میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں بائیں دو آدمیوں کو دیکھا جو سفید لباس پہنے ہوئے تھے، میں نے انہیں نہ اس سے پہلے کبھی دیکھا اور نہ اس کے بعد دیکھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 5826]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6132
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ،" أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ أَقْبِيَةٌ مِنْ دِيبَاجٍ مُزَرَّرَةٌ بِالذَّهَبِ، فَقَسَمَهَا فِي نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ وَعَزَلَ مِنْهَا وَاحِدًا لِمَخْرَمَةَ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: قَدْ خَبَأْتُ هَذَا لَكَ" قَالَ أَيُّوبُ: بِثَوْبِهِ وَأَنَّهُ يُرِيهِ إِيَّاهُ وَكَانَ فِي خُلُقِهِ شَيْءٌ، رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، وَقَالَ حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ، قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ.
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن علیہ نے خبر دی، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی، انہیں عبداللہ بن ابی ملیکہ نے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں دیبا کی چند قبائیں آئیں، ان میں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبائیں اپنے صحابہ میں تقسیم کر دیں اور مخرمہ کے لیے باقی رکھی، جب مخرمہ آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ میں نے تمہارے لیے چھپا رکھی تھی۔ ایوب نے کہا یعنی اپنے کپڑے میں چھپا رکھی تھی آپ مخرمہ کو خوش کرنے کے لیے اس کے تکمے یا گھنڈی کو دکھلا رہے تھے کیونکہ وہ ذرا سخت مزاج آدمی تھے۔ اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب کے واسطہ سے روایت کیا مرسلات میں اور حاتم بن وردان نے کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، ان سے ابی ملیکہ نے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند قبائیں تحفہ میں آئیں پھر ایسی ہی حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 6132]
حضرت عبداللہ بن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ریشمی کوٹ بطور ہدیہ پیش کیے گئے جنہیں سونے کے بٹن لگے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کوٹ اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں تقسیم کر دیے اور ان میں سے ایک حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ کے لیے علیحدہ کر لیا۔ جب حضرت مخرمہ رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تیرے لیے یہ کوٹ چھپا رکھا تھا۔“ (راویِ حدیث) ایوب نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کوٹ اپنے کپڑے میں چھپا رکھا تھا اور اسے سونے کے بٹن دکھا رہے تھے کیونکہ وہ ذرا سخت مزاج آدمی تھے۔ اس حدیث کو حماد بن زید نے بھی ایوب کے واسطے سے روایت کیا ہے۔ حاتم بن وردان نے کہا: ہمیں ایوب نے ابن ابی ملیکہ سے بیان کیا، انہوں نے حضرت مسور رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چند کوٹ بطور تحفہ آئے۔۔۔۔ (پھر اسی طرح حدیث بیان کی)۔ [صحيح البخاري/كتاب الهبة/حدیث: 6132]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة