صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب المكاتب، وما لا يحل من الشروط التى تخالف كتاب الله:
باب: مکاتب کا بیان اور جو شرطیں ناجائز اور کتاب اللہ کے مخالف ہیں ان کا بیان۔
حدیث نمبر: 2735
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَّرْتُهُ ذَلِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ:" مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا۔ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ یحییٰ بن سعید انصاری سے ‘ ان سے عمرہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مکاتبت کے سلسلے میں ان سے مدد مانگنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو تمہارے مالکوں کو (پوری قیمت) دے دوں اور تمہاری ولاء میرے ہو گی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انہیں تو خرید لے اور آزاد کر دے۔ ولاء تو بہرحال اسی کی ہو گی جو آزاد کر دے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کا کوئی پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہیں ہے ‘ جس نے بھی کوئی ایسی شرط لگائی جس کا پتہ (دلیل، سند) کتاب اللہ میں نہ ہو تو خواہ ایسی سو شرطیں لگا لے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھائے گا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2735]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ان کے پاس حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور ان سے بدلِ کتابت کے متعلق تعاون کا سوال کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تیرے مالکان کو بدلِ کتابت ادا کر دیتی ہوں، لیکن ولاء میرے لیے ہوگی۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے آپ سے اس کا ذکر کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے خرید کر آزاد کر دو، ولاء تو اسی کے لیے ہے جو آزاد کرے۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا: ”ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے جو ایسی شرطیں عائد کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں؟ آگاہ رہو! جس نے کوئی ایسی شرط لگائی جس کی بنیاد کتاب اللہ میں نہیں، وہ (شرط) قابل اعتبار ہی نہیں اگرچہ ایسی سو شرطیں لگائے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 2735]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 456
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَتْهَا بَرِيرَةُ تَسْأَلُهَا فِي كِتَابَتِهَا، فَقَالَتْ: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتُ أَهْلَكِ وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لِي، وَقَالَ أَهْلُهَا: إِنْ شِئْتِ أَعْطَيْتِهَا مَا بَقِيَ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: إِنْ شِئْتِ أَعْتَقْتِهَا وَيَكُونُ الْوَلَاءُ لَنَا، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَّرَتْهُ ذَلِكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْتَاعِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّ الْوَلَاءَ لِمَنْ أَعْتَقَ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: فَصَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَشْتَرِطُونَ شُرُوطًا لَيْسَتْ فِي كِتَابِ اللَّهِ، مَنِ اشْتَرَطَ شَرْطًا لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ فَلَيْسَ لَهُ وَإِنِ اشْتَرَطَ مِائَةَ مَرَّةٍ"، قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ يَحْيَى، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ نَحْوَهُ، وَقَالَ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ: عَنْ يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَةَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ عَمْرَةَ، أَنَّ بَرِيرَةَ، وَلَمْ يَذْكُرْ صَعِدَ الْمِنْبَرَ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا کہ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے یحییٰ بن سعید انصاری کے واسطہ سے، انہوں نے عمرہ بنت عبدالرحمٰن سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے۔ آپ نے فرمایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ (لونڈی) ان سے اپنی کتابت کے بارے میں مدد لینے آئیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا تم چاہو تو میں تمہارے مالکوں کو یہ رقم دے دوں (اور تمہیں آزاد کرا دوں) اور تمہارا ولاء کا تعلق مجھ سے قائم ہو۔ اور بریرہ کے آقاؤں نے کہا (عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہ اگر آپ چاہیں تو جو قیمت باقی رہ گئی ہے وہ دے دیں اور ولاء کا تعلق ہم سے قائم رہے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس امر کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم بریرہ کو خرید کر آزاد کرو اور ولاء کا تعلق تو اسی کو حاصل ہو سکتا ہے جو آزاد کرائے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے۔ سفیان نے (اس حدیث کو بیان کرتے ہوئے) ایک مرتبہ یوں کہا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے اور فرمایا۔ ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جو ایسی شرائط کرتے ہیں جن کا تعلق کتاب اللہ سے نہیں ہے۔ جو شخص بھی کوئی ایسی شرط کرے جو کتاب اللہ میں نہ ہو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی، اگرچہ وہ سو مرتبہ کر لے۔ اس حدیث کی روایت مالک نے یحییٰ کے واسطہ سے کی، وہ عمرہ سے کہ بریرہ اور انہوں نے منبر پر چڑھنے کا ذکر نہیں کیا الخ۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 456]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، ان کے پاس حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا آئیں اور بدلِ کتابت کے سلسلے میں ان سے سوال کیا۔ اس پر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: تم اگر چاہو تو میں تمہارے آقا کو بدلِ کتابت (یک مشت) ادا کر دوں لیکن تمہاری ولا کا حق میرے لیے ہو گا۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا کے آقاؤں نے (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے) کہا: اگر آپ چاہیں تو بقیہ رقم ادا کر کے اسے آزاد کرالیں لیکن حقِ ولا ہمارا ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تشریف لائے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا تذکرہ کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اسے (بریرہ رضی اللہ عنہا کو) خرید کر آزاد کر دو، بلاشبہ ولا کا وہی حق دار ہے جو آزاد کرتا ہے۔“ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ معاملات میں ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو کتاب اللہ میں نہیں ہیں، جو شخص بھی کوئی شرط لگائے جو کتاب اللہ میں ذکر شدہ شرائط کے مناسب نہیں ہے تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی، خواہ وہ ایسی سو شرطیں لگا لیں۔“ اس روایت کو امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید سے اور یحییٰ بن سعید نے حضرت عمرہ رحمہا اللہ سے روایت کیا ہے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر چڑھنے کا ذکر نہیں ہے، نیز اس روایت کو علی بن عبداللہ نے یحییٰ بن سعید قطان اور عبدالوہاب بن عبدالمجید سے، پھر ان دونوں نے یحییٰ بن سعید انصاری سے، انہوں نے عمرہ رحمہا اللہ سے اسی طرح بیان کیا۔ اور جعفر بن عون نے اس روایت کو یحییٰ سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے عمرہ رحمہا اللہ سے سنا، انہوں نے اس روایت کو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سن کر بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الشروط/حدیث: 456]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة