صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
168. باب إذا نزل العدو على حكم رجل:
باب: اگر کافر لوگ ایک مسلمان کے فیصلے پر راضی ہو کر اپنے قلعے سے اتر آئیں؟
حدیث نمبر: 3043
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ هُوَ ابْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ بَنُو قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ هُوَ ابْنُ مُعَاذٍ، بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ قَرِيبًا مِنْهُ فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا دَنَا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ فَجَاءَ فَجَلَسَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَهُ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ وَأَنْ تُسْبَى الذُّرِّيَّةُ، قَالَ: لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ".
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ ان سے ابوامامہ نے ‘ جو سہل بن حنیف کے لڑکے تھے کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا جب بنو قریظہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال کر قلعہ سے اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں (سعد رضی اللہ عنہ کو) بلایا۔ آپ وہیں قریب ہی ایک جگہ ٹھہرے ہوئے تھے (کیونکہ زخمی تھے) سعد رضی اللہ عنہ گدھے پر سوار ہو کر آئے ‘ جب وہ آپ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ اپنے سردار کی طرف کھڑے ہو جاؤ (اور ان کو سواری سے اتارو) آخر آپ اتر کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ کر بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان لوگوں (بنو قریظہ کے یہودی) نے آپ کی ثالثی کی شرط پر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ (اس لیے آپ ان کا فیصلہ کر دیں) انہوں نے کہا کہ پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان میں جتنے آدمی لڑنے والے ہیں ‘ انہیں قتل کر دیا جائے ‘ اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3043]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب بنو قریظہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی ثالثی پر ہتھیار ڈال کر قلعے سے اتر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ وہیں قریب ہی ایک مقام پر پڑاؤ کیے ہوئے تھے، وہ گدھے پر (سوار ہو کر) تشریف لائے، جب قریب آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کے استقبال کے لیے اٹھو“ چنانچہ وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آکر بیٹھ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”ان لوگوں (یہودِ بنو قریظہ) نے آپ کی ثالثی پر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔“ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ دیا کہ ان میں جو جنگجو ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3043]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 463
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فِي الْأَكْحَلِ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ، فَلَمْ يَرُعْهُمْ، وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ، فَقَالُوا: يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ، مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ؟ فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ فِيهَا".
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا کہ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے کہ کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ بن زبیر کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے آپ نے فرمایا کہ غزوہ خندق میں سعد (رضی اللہ عنہ) کے بازو کی ایک رگ (اکحل) میں زخم آیا تھا۔ ان کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرا دیا تاکہ آپ قریب رہ کر ان کی دیکھ بھال کیا کریں۔ مسجد ہی میں بنی غفار کے لوگوں کا بھی ایک خیمہ تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ کے زخم کا خون (جو رگ سے بکثرت نکل رہا تھا) بہہ کر جب ان کے خیمہ تک پہنچا تو وہ ڈر گئے۔ انہوں نے کہا کہ اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ کیسا خون ہمارے خیمہ تک آ رہا ہے۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ یہ خون سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے بہہ رہا ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ کا اسی زخم کی وجہ سے انتقال ہو گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 463]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: جنگ خندق کے موقع پر حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ کی رگ (ہفت اندام) میں تیر لگ گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تاکہ نزدیک سے ان کی عیادت کر لیا کریں اور مسجد میں بنو غفار کا خیمہ بھی تھا۔ پھر اچانک ان کی طرف خون بہہ کر آنے لگا تو لوگ اس سے خوفزدہ ہوئے، کہنے لگے: اے خیمے والو! یہ کیا ہے جو تمہاری طرف سے ہمارے پاس آ رہا ہے؟ دیکھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا، چنانچہ وہ اسی زخم سے فوت ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 463]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2813
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَجَعَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَوَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ وَقَدْ عَصَبَ رَأْسَهُ الْغُبَارُ، فَقَالَ:" وَضَعْتَ السِّلَاحَ فَوَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ، فَقَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ؟ قَالَ: هَا هُنَا وَأَوْمَأَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ، قَالَتْ: فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ہشام بن عروہ سے ‘ انہیں ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنگ خندق سے (فارغ ہو کر) واپس آئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کرنا چاہا تو جبرائیل علیہ السلام آئے ‘ ان کا سر غبار سے اٹا ہوا تھا۔ جبرائیل علیہ السلام نے کہا آپ نے ہتھیار اتار دیئے ‘ اللہ کی قسم میں نے تو ابھی تک ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا تو پھر اب کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے فرمایا ادھر اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ کے خلاف لشکر کشی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2813]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ خندق سے واپس ہوئے تو آپ نے ہتھیار اتارے اور غسل فرمایا۔ اس وقت جبریل علیہ السلام آپ کے پاس تشریف لائے جبکہ ان کا سر گردوغبار سے اٹا ہوا تھا، انہوں نے کہا: آپ نے ہتھیار اتار دیے ہیں؟ لیکن اللہ کی قسم! میں نے تو ابھی تک نہیں اتارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تمہارا کہاں کا پروگرام ہے؟“ انہوں نے کہا کہ اس طرف اور بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت ان کی طرف روانہ ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 2813]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3804
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّ أُنَاسًا نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ , فَجَاءَ عَلَى حِمَارٍ فَلَمَّا بَلَغَ قَرِيبًا مِنَ الْمَسْجِدِ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قُومُوا إِلَى خَيْرِكُمْ أَوْ سَيِّدِكُمْ، فَقَالَ:" يَا سَعْدُ إِنَّ هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ"، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، قَالَ:" حَكَمْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ أَوْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ".
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک قوم (یہود بنی قریظہ) نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جنگ میں) نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا) اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ) فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3804]
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ (بنو قریظہ کے) لوگ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے پر راضی ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «قُومُوا إِلَىٰ سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ» اپنے میں سے بہتر یا اپنے سردار کے استقبال کے لیے آگے بڑھو۔“ اور فرمایا: ”اے سعد! ان لوگوں نے تمہارا فیصلہ منظور کر لیا ہے۔“ انہوں نے کہا: ”میں ان کے متعلق فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا لیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَقَدْ حَكَمْتَ فِيهِمْ بِحُكْمِ الْمَلِكِ» اے سعد! تو نے اللہ کے حکم کے مطابق، یا (آپ نے فرمایا) بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ دیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3804]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4121
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ سَعْدٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , يَقُولُ: نَزَلَ أَهْلُ قُرَيْظَةَ عَلَى حُكْمِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ , فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى سَعْدٍ فَأَتَى عَلَى حِمَارٍ , فَلَمَّا دَنَا مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَ لِلْأَنْصَارِ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ أَوْ خَيْرِكُمْ" , فَقَالَ:" هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ" , فَقَالَ: تَقْتُلُ مُقَاتِلَتَهُمْ وَتَسْبِي ذَرَارِيَّهُمْ , قَالَ:" قَضَيْتَ بِحُكْمِ اللَّهِ" وَرُبَّمَا قَالَ:" بِحُكْمِ الْمَلِكِ".
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے ابوامامہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ بنو قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ (یعنی اللہ) کا حکم تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4121]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: بنو قریظہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے قلعے سے نیچے اترے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو پیغام بھیجا تو وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب وہ مسجد کے قریب آئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا: ”اپنے سردار یا افضل کی طرف آگے بڑھو۔“ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”بنو قریظہ نے تمہیں ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیے ہیں۔“ چنانچہ انہوں نے یہ فیصلہ دیا کہ ان میں سے جنگجو لوگوں کو قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ (اس پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا۔“ یا اس طرح فرمایا: ”تو نے بادشاہانہ فیصلہ دیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4121]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4122
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , قَالَتْ: أُصِيبَ سَعْدٌ يَوْمَ الْخَنْدَقِ رَمَاهُ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ يُقَالُ لَهُ: حِبَّانُ بْنُ الْعَرِقَةِ وَهُوَ حِبَّانُ بْنُ قَيْسٍ مِنْ بَنِي مَعِيصِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ رَمَاهُ فِي الْأَكْحَلِ , فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْمَةً فِي الْمَسْجِدِ لِيَعُودَهُ مِنْ قَرِيبٍ , فَلَمَّا رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْخَنْدَقِ وَضَعَ السِّلَاحَ وَاغْتَسَلَ , فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام وَهُوَ يَنْفُضُ رَأْسَهُ مِنَ الْغُبَارِ , فَقَالَ: قَدْ وَضَعْتَ السِّلَاحَ وَاللَّهِ مَا وَضَعْتُهُ اخْرُجْ إِلَيْهِمْ , قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَأَيْنَ" , فَأَشَارَ إِلَى بَنِي قُرَيْظَةَ , فَأَتَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَنَزَلُوا عَلَى حُكْمِهِ , فَرَدَّ الْحُكْمَ إِلَى سَعْدٍ , قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ فِيهِمْ أَنْ تُقْتَلَ الْمُقَاتِلَةُ , وَأَنْ تُسْبَى النِّسَاءُ وَالذُّرِّيَّةُ , وَأَنْ تُقْسَمَ أَمْوَالُهُمْ , قَالَ هِشَامٌ فَأَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ عَائِشَةَ: أَنَّ سَعْدًا قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّكَ تَعْلَمُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ , مِنْ قَوْمٍ كَذَّبُوا رَسُولَكَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَخْرَجُوهُ , اللَّهُمَّ فَإِنِّي أَظُنُّ أَنَّكَ قَدْ وَضَعْتَ الْحَرْبَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ فَإِنْ كَانَ بَقِيَ مِنْ حَرْبِ قُرَيْشٍ شَيْءٌ , فَأَبْقِنِي لَهُ حَتَّى أُجَاهِدَهُمْ فِيكَ , وَإِنْ كُنْتَ وَضَعْتَ الْحَرْبَ فَافْجُرْهَا وَاجْعَلْ مَوْتَتِي فِيهَا , فَانْفَجَرَتْ مِنْ لَبَّتِهِ فَلَمْ يَرُعْهُمْ وَفِي الْمَسْجِدِ خَيْمَةٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ إِلَّا الدَّمُ يَسِيلُ إِلَيْهِمْ , فَقَالُوا: يَا أَهْلَ الْخَيْمَةِ مَا هَذَا الَّذِي يَأْتِينَا مِنْ قِبَلِكُمْ , فَإِذَا سَعْدٌ يَغْذُو جُرْحُهُ دَمًا فَمَاتَ مِنْهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ غزوہ خندق کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص ‘ حسان بن عرفہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپ غزوہ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے۔ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے۔ اللہ کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ تک پہنچے (اور انہوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیئے جائیں ‘ ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔ ہشام نے بیان کیا کہ پھر مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں ان کے وطن سے نکالا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی اب ختم کر دی ہے۔ لیکن اگر قریش سے ہماری لڑائی کا کوئی بھی سلسلہ ابھی باقی ہو تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھنا۔ یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں اور اگر لڑائی کے سلسلے کو تو نے ختم ہی کر دیا ہے تو میرے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ اس دعا کے بعد سینے پر ان کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کے کچھ صحابہ کا بھی ایک خیمہ تھا۔ خون ان کی طرف بہہ کر آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا: اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف بہہ کر آ رہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ‘ ان کی وفات اسی میں ہوئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4122]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”غزوہ خندق کے موقع پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک حبان بن عرقہ نامی شخص (جس کا اصل نام حبان بن قیس تھا اور وہ بنو معیص بن عامر بن لؤی کے قبیلے سے تھا) نے انہیں تیر مارا جو ان کے بازو کی رگ میں لگا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ان کا خیمہ نصب کرایا تھا تاکہ قریب سے ان کی بیمار پرسی کر لیا کریں۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ خندق سے واپس لوٹے، ہتھیار اتار دیے اور غسل فرما لیا تو حضرت جبریل علیہ السلام حاضر ہوئے جبکہ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ”آپ نے تو ہتھیار اتار دیے ہیں، اللہ کی قسم! میں نے ابھی نہیں اتارے۔ آپ ان کی طرف چلیں۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کدھر؟“ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ پر چڑھائی کی تو انہوں نے آپ کا فیصلہ قبول کر لیا، لیکن آپ نے ان کا فیصلہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیا۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تو ان کے متعلق یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے جنگجو لوگ قتل کر دیے جائیں، ان کی عورتیں اور بچے قیدی بنا لیے جائیں اور ان کا مال و دولت تقسیم کر دیا جائے۔“ (راوی حدیث) ہشام نے کہا: مجھے میرے والد گرامی (حضرت عروہ رضی اللہ عنہ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی: ”اے اللہ! تجھے بخوبی علم ہے کہ مجھے اس سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا اور انہیں (ان کے وطن سے) نکلنے پر مجبور کر دیا، لیکن مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی کو ختم کر دیا ہے، لہذا اگر ان سے جنگ کا کوئی حصہ باقی ہے تو مجھے زندگی عطا فرما تاکہ میں تیری رضا کے لیے ان سے جنگ کروں، لیکن اگر تو نے لڑائی کے سلسلے کو ختم ہی کر دیا ہے تو میرے اس زخم کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی وجہ سے میری موت واقع کر دے۔“ اس دعا کے بعد ان کے سینے سے خون جاری ہو گیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کا خیمہ بھی تھا۔ جب خون ان کی طرف بہتا ہوا آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا: ”اے خیمے والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف کیوں بہہ کر آ رہا ہے؟“ جب دیکھا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا۔ اسی زخم سے ان کی شہادت واقع ہوئی۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 4122]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 6262
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ أَهْلَ قُرَيْظَةَ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِ سَعْدٍ، فَأَرْسَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ، فَجَاءَ فَقَالَ:" قُومُوا إِلَى سَيِّدِكُمْ، أَوْ قَالَ خَيْرِكُمْ"، فَقَعَدَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" هَؤُلَاءِ نَزَلُوا عَلَى حُكْمِكَ"، قَالَ: فَإِنِّي أَحْكُمُ أَنْ تُقْتَلَ مُقَاتِلَتُهُمْ وَتُسْبَى ذَرَارِيُّهُمْ، فَقَالَ:" لَقَدْ حَكَمْتَ بِمَا حَكَمَ بِهِ الْمَلِكُ"، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: أَفْهَمَنِي بَعْضُ أَصْحَابِي، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ مِنْ قَوْلِ أَبِي سَعِيدٍ إِلَى حُكْمِكَ.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے سعد بن ابراہیم نے ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ قریظہ کے یہودی سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا جب وہ آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کو اٹھو یا یوں فرمایا کہ اپنے میں سب سے بہتر کو لینے کے لیے اٹھو۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی قریظہ کے لوگ تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر (قلعہ سے) اتر آئے ہیں (اب تم کیا فیصلہ کرتے ہو)۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ ان میں جو جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قید کر لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ نے وہی فیصلہ فرمایا جس فیصلہ کو فرشتہ لے کر آیا تھا۔ ابوعبداللہ (مصنف) نے بیان کیا کہ مجھے میرے بعض اصحاب نے ابوالولید کے واسطہ سے ابوسعید رضی اللہ عنہ کا قول ( «على» کے بجائے بصلہ «إلى حكمك.» نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6262]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اہل قریظہ، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث بنانے پر تیار ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا۔ جب وہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار یا اپنی بہتر شخصیت کو لینے کے لیے اٹھو۔“ بہرحال وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ لوگ (بنو قریظہ کے یہودی) تمہارے فیصلے پر راضی ہو کر قلعے سے اتر آئے ہیں۔“ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں یہ فیصلہ دیتا ہوں کہ ان میں سے جو جنگجو ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آپ نے وہی فیصلہ کیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے کیا تھا۔“ ابو عبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: ”میرے بعض ساتھیوں نے ابوالولید کے واسطے سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے قول سے «إِلٰی حُكْمِكَ» تک بیان کیا ہے یعنی شروع سے لے کر «إِلٰی حُكْمِكَ» تک روایت نقل کی ہے، بعد والا حصہ نہیں کیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 6262]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة