🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
185. باب من غلب العدو فأقام على عرصتهم ثلاثا:
باب: جس نے دشمن پر فتح پائی اور پھر تین دن تک ان کے ملک میں ٹھہرا رہا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3065
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ كَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ" تَابَعَهُ مُعَاذٌ وَعَبْدُ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا ‘ ان سے سعید نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی قوم پر فتح حاصل ہوتی، تو میدان جنگ میں تین رات قیام فرماتے۔ روح بن عبادہ کے ساتھ اس حدیث کو معاذ اور عبدالاعلیٰ نے بھی روایت کیا۔ دونوں نے کہا ہم سے سعید نے بیان کیا انہوں نے قتادہ سے ‘ انہوں نے انس سے ‘ انہوں نے ابوطلحہ سے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3065]
حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ جب کسی قوم پر فتح یاب ہوتے تو تین دن اسی میدان میں قیام کرتے تھے۔ اس حدیث کو روایت کرنے میں معاذ اور عبد الاعلیٰ نے روح بن عبادہ کی متابعت کی ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے سعید نے قتادہ سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3065]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3976
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعَ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ , فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ , وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ , فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا , ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَالُوا: مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ , فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا , فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ"، قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنَقِيمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمًا".
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا، ہم سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دئیے گئے۔ عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدان جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے جنگ بدر کے خاتمہ کے تیسرے دن آپ کے حکم سے آپ کی سوای پر کجاوہ باندھا گیا اور آپ روانہ ہوئے آپ کے اصحاب بھی آپ کے ساتھ تھے صحابہ نے کہا، غالباً آپ کسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں آخر آپ اس کنویں کے کنارے آ کر کھڑے ہو گئے اور کفار قریش کے مقتولین سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر آپ انہیں آواز دینے لگے کہ اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بیشک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہو گیا تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جو وعدہ (عذاب کا) تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے: یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں؟ جن میں کوئی جان نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔ قتادہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا تھا (اس وقت) تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی بات سنا دیں ان کی توبیخ ‘ ذلت ‘ نامرادی اور حسرت و ندامت کے لیے۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3976]
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدر کی لڑائی میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قریش کے چوبیس (24) مقتول سردار مقام بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دیے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جہاد میں جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدان جنگ میں تین دن تک قیام کرتے، چنانچہ جنگ بدر کے خاتمے کے تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کی سواری پر کجاوہ باندھا گیا تو آپ روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ آپ شاید اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے تشریف لے جا رہے ہیں۔ آخر آپ اس کنویں کے کنارے آ کر کھڑے ہو گئے اور کفار قریش کے مقتولین کے نام اور ان کے باپ دادا کے نام لے کر انہیں پکارنے لگے: اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بہتر نہیں تھا کہ تم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ یقیناً ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے حاصل کر لیا تو کیا تمہارے رب کا جو تمہارے متعلق وعدہ تھا وہ تمہیں بھی پوری طرح مل گیا؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! آپ ان لاشوں سے کیوں محوِ گفتگو ہیں جن میں جان نہیں ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو میں ان سے کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔ (راوی حدیث) حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ: اللہ تعالیٰ نے اس وقت انہیں زندہ کر دیا تھا تاکہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ان کو سنائے، یہ سب کچھ ان کی زجر و توبیخ، ذلت و نامرادی اور حسرت و ندامت کے لیے تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب الجهاد والسير/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں