صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب الوصايا بأهل ذمة رسول الله صلى الله عليه وسلم:
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کافروں کو امان دی (اپنے ذمہ میں لیا) ان کے امان کو قائم رکھنے کی وصیت کرنا۔
حدیث نمبر: 3162
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو جَمْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُوَيْرِيَةَ بْنَ قُدَامَةَ التَّمِيمِيَّ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ" قُلْنَا أَوْصِنَا يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: أُوصِيكُمْ بِذِمَّةِ اللَّهِ فَإِنَّهُ ذِمَّةُ نَبِيِّكُمْ، وَرِزْقُ عِيَالِكُمْ".
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوجمرہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے جویریہ بن قدامہ تمیمی سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا تھا، (جب وہ زخمی ہوئے) آپ سے ہم نے عرض کیا تھا کہ ہمیں کوئی وصیت کیجئے! تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہیں اللہ تعالیٰ کے عہد کی (جو تم نے ذمیوں سے کیا ہے) وصیت کرتا ہوں (کہ اس کی حفاظت میں کوتاہی نہ کرنا) کیونکہ وہ تمہارے نبی کا ذمہ ہے اور تمہارے گھر والوں کی روزی ہے (کہ جزیہ کے روپیہ سے تمہارے بال بچوں کی گزران ہوتی ہے)۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3162]
حضرت جویریہ بن قدامہ تمیمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ ہمیں کوئی وصیت کریں تو انہوں نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے عہد کی وصیت کرتا ہوں (کہ اس کو پورا کرو) کیونکہ وہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عہد اور تمہارے بال بچوں کا رزق ہے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 3162]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1392
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَ: رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ اذْهَبْ إِلَى أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا , فَقُلْ: يَقْرَأُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَلَيْكِ السَّلَامَ، ثُمَّ سَلْهَا أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَيَّ، قَالَتْ: كُنْتُ أُرِيدُهُ لِنَفْسِي فَلَأُوثِرَنَّهُ الْيَوْمَ عَلَى نَفْسِي، فَلَمَّا أَقْبَلَ , قَالَ لَهُ: مَا لَدَيْكَ؟ , قَالَ: أَذِنَتْ لَكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: مَا كَانَ شَيْءٌ أَهَمَّ إِلَيَّ مِنْ ذَلِكَ الْمَضْجَعِ، فَإِذَا قُبِضْتُ فَاحْمِلُونِي، ثُمَّ سَلِّمُوا، ثُمَّ قُلْ: يَسْتَأْذِنُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَإِنْ أَذِنَتْ لِي فَادْفِنُونِي، وَإِلَّا فَرُدُّونِي إِلَى مَقَابِرِ الْمُسْلِمِينَ، إِنِّي لَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَحَقَّ بِهَذَا الْأَمْرِ مِنْ هَؤُلَاءِ النَّفَرِ الَّذِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَنْهُمْ رَاضٍ، فَمَنِ اسْتَخْلَفُوا بَعْدِي فَهُوَ الْخَلِيفَةُ فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا، فَسَمَّى عُثْمَانَ، وَعَلِيًّا، وَطَلْحَةَ , وَالزُّبَيْرَ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَسَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ، وَوَلَجَ عَلَيْهِ شَابٌّ مِنْ الْأَنْصَارِ , فَقَالَ: أَبْشِرْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ بِبُشْرَى اللَّهِ كَانَ لَكَ مِنَ الْقَدَمِ فِي الْإِسْلَامِ مَا قَدْ عَلِمْتَ، ثُمَّ اسْتُخْلِفْتَ فَعَدَلْتَ، ثُمَّ الشَّهَادَةُ بَعْدَ هَذَا كُلِّهِ، فَقَالَ: لَيْتَنِي يَا ابْنَ أَخِي، وَذَلِكَ كَفَافًا لَا عَلَيَّ وَلَا لِي أُوصِي الْخَلِيفَةَ مِنْ بَعْدِي بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ خَيْرًا أَنْ يَعْرِفَ لَهُمْ حَقَّهُمْ وَأَنْ يَحْفَظَ لَهُمْ حُرْمَتَهُمْ، وَأُوصِيهِ بِالْأَنْصَارِ خَيْرًا الَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ أَنْ يُقْبَلَ مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَيُعْفَى عَنْ مُسِيئِهِمْ، وَأُوصِيهِ بِذِمَّةِ اللَّهِ وَذِمَّةِ رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُوفَى لَهُمْ بِعَهْدِهِمْ، وَأَنْ يُقَاتَلَ مِنْ وَرَائِهِمْ وَأَنْ لَا يُكَلَّفُوا فَوْقَ طَاقَتِهِمْ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ‘ کہا کہ ہم سے حصین بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن میمون اودی نے بیان کیا کہ میری موجودگی میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ اے عبداللہ! ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں جا اور کہہ کہ عمر بن خطاب نے آپ کو سلام کہا ہے اور پھر ان سے معلوم کرنا کہ کیا مجھے میرے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونے کی آپ کی طرف سے اجازت مل سکتی ہے؟ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے اس جگہ کو اپنے لیے پسند کر رکھا تھا لیکن آج میں اپنے پر عمر رضی اللہ عنہ کو ترجیح دیتی ہوں۔ جب ابن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو عمر رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کیا پیغام لائے ہو؟ کہا کہ امیرالمؤمنین انہوں نے آپ کو اجازت دے دی ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے کہ اس جگہ دفن ہونے سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز عزیز نہیں تھی۔ لیکن جب میری روح قبض ہو جائے تو مجھے اٹھا کر لے جانا اور پھر دوبارہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو میرا سلام پہنچا کر ان سے کہنا کہ عمر نے آپ سے اجازت چاہی ہے۔ اگر اس وقت بھی وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہیں دفن کر دینا ‘ ورنہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دینا۔ میں اس امر خلافت کا ان چند صحابہ سے زیادہ اور کسی کو مستحق نہیں سمجھتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی وفات کے وقت تک خوش اور راضی رہے۔ وہ حضرات میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنائیں ‘ خلیفہ وہی ہو گا اور تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اپنے خلیفہ کی باتیں توجہ سے سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ آپ نے اس موقع پر عثمان ‘ علی ‘ طلحہ ‘ زبیر ‘ عبدالرحمٰن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کے نام لیے۔ اتنے میں ایک انصاری نوجوان داخل ہوا اور کہا کہ اے امیرالمؤمنین آپ کو بشارت ہو ‘ اللہ عزوجل کی طرف سے ‘ آپ کا اسلام میں پہلے داخل ہونے کی وجہ سے جو مرتبہ تھا وہ آپ کو معلوم ہے۔ پھر جب آپ خلیفہ ہوئے تو آپ نے انصاف کیا۔ پھر آپ نے شہادت پائی۔ عمر رضی اللہ عنہ بولے میرے بھائی کے بیٹے! کاش ان کی وجہ سے میں برابر چھوٹ جاؤں۔ نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب۔ ہاں میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ مہاجرین اولین کے ساتھ اچھا برتاو رکھے ‘ ان کے حقوق پہچانے اور ان کی عزت کی حفاظت کرے اور میں اسے انصار کے بارے میں بھی اچھا برتاو رکھنے کی وصیت کرتا ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایمان والوں کو اپنے گھروں میں جگہ دی۔ (میری وصیت ہے کہ) ان کے اچھے لوگوں کے ساتھ بھلائی کی جائے اور ان میں جو برے ہوں ان سے درگذر کیا جائے اور میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی جو اللہ اور رسول کی ذمہ داری ہے (یعنی غیر مسلموں کی جو اسلامی حکومت کے تحت زندگی گذارتے ہیں) کہ ان سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے۔ انہیں بچا کر لڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بار نہ ڈالا جائے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 1392]
حضرت عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا: اے عبداللہ! تم ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ، ان سے کہو کہ عمر بن خطاب آپ کو سلام کہتے ہیں اور ان سے دریافت کرو کہ میں اپنے دونوں ساتھیوں کے ساتھ دفن ہونا چاہتا ہوں۔ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے جواب دیا: میں اپنی ذات کے لیے اس جگہ کا ارادہ رکھتی تھی، لیکن آج میں ان کو اپنی ذات پر ترجیح دیتی ہوں۔ جب حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما واپس آئے تو انہوں نے پوچھا: کیا جواب لائے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے آپ کو اجازت دے دی ہے، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے سب سے زیادہ فکر اسی خواب گاہ کی تھی۔ جب میں فوت ہو جاؤں تو مجھے اٹھا کر وہاں لے جانا، سلام کرنا پھر کہنا کہ عمر بن خطاب اجازت مانگتے ہیں۔ اگر وہ اجازت دے دیں تو مجھے وہاں دفن کر دینا، بصورتِ دیگر مجھے مسلمانوں کے قبرستان میں واپس لے جانا۔ میں خلافت کا مستحق ان لوگوں سے زیادہ کسی کو خیال نہیں کرتا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خوش ہو کر فوت ہوئے ہیں۔ یہ لوگ میرے بعد جسے بھی خلیفہ بنا لیں وہی خلیفہ ہیں۔ اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا، پھر آپ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ، حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ، اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے نام ذکر کیے۔ دریں اثنا انصار کا ایک نوجوان آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! آپ کو اللہ تعالیٰ کی بشارت سے خوش ہونا چاہیے، کیونکہ آپ کو اسلام میں قدامت کا شرف حاصل ہے جو آپ بھی اچھی طرح جانتے ہیں، علاوہ ازیں آپ خلیفہ منتخب ہوئے اور عدل و انصاف سے کام لیا، پھر ان سب کے بعد آپ نے شہادت پائی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے میرے بھتیجے! کاش کہ میں ان کی وجہ سے برابر برابر چھوٹ جاؤں، نہ مجھے کوئی عذاب ہو اور نہ کوئی ثواب ملے۔ میں اپنے بعد آنے والے خلیفہ کو مہاجرینِ اولین سے اچھے سلوک کی وصیت کرتا ہوں، وہ ان کے حقوق کو پہچانے اور ان کی عزت و حرمت کی نگہداشت کرے، اور انصار کے متعلق بھی خیر خواہی کی وصیت کرتا ہوں جنہوں نے مدینہ کو اپنا گھر بنایا اور (مہاجرین کے مدینہ آنے سے پہلے) ایمان لے آئے کہ ان میں سے محسن کا احسان قبول کیا جائے اور ان میں سے جو بُرا کام کرنے والے ہوں ان سے درگزر کیا جائے۔ میں ہونے والے خلیفہ کو وصیت کرتا ہوں کہ وہ اس ذمہ داری کو پورا کرے جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری ہے، یعنی ان کے عہد و پیمان کو پورا کیا جائے اور ان کے آگے دشمن سے لڑا جائے اور طاقت سے زیادہ ان پر کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ [صحيح البخاري/کتاب الجزیہ والموادعہ/حدیث: 1392]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة