🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
22. بَابُ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: {وَهَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ مُوسَى إِذْ رَأَى نَارًا} إِلَى قَوْلِهِ: {بِالْوَادِي الْمُقَدَّسِ طُوًى} :
باب: اللہ تعالیٰ کا (سورۃ طہٰ میں) فرمان فرمانا ”اے نبی تو نے موسیٰ کا قصہ سنا ہے جب انہوں نے آگ دیکھی“ آخر آیت «بالوادي المقدس طوى‏» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3393
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَهُمْ عَنْ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ حَتَّى أَتَى السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ فَإِذَا هَارُونُ، قَالَ: هَذَا هَارُونُ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ، ثُمَّ قَالَ: مَرْحَبًا بِالْأَخِ الصَّالِحِ وَالنَّبِيِّ الصَّالِحِ"، تَابَعَهُ ثَابِتٌ وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي عَلِيٍّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے بیان کیا ‘ ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس رات کے متعلق بیان کیا جس میں آپ کو معراج ہوا کہ جب آپ پانچویں آسمان پر تشریف لے گئے تو وہاں ہارون علیہ السلام سے ملے۔ جبرائیل علیہ السلام نے بتایا کہ یہ ہارون علیہ السلام ہیں ‘ انہیں سلام کیجئے۔ میں نے سلام کیا تو انہوں نے جواب دیتے ہوئے فرمایا: خوش آمدید ‘ صالح بھائی اور صالح نبی۔ اس حدیث کو قتادہ کے ساتھ ثابت بنانی اور عباد بن ابی علی نے بھی انس رضی اللہ عنہ سے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3393]
حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس رات کے متعلق بتایا جس میں آپ کو سیر کرائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانچویں آسمان پر پہنچے تو وہاں حضرت ہارون علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ ہارون علیہ السلام ہیں ان کو سلام کریں۔ میں نے ان کو سلام کیا، انہوں نے جواب دیتے ہوئے کہا: اے برادرِ محترم و نبیِ مکرم! خوش آمدید۔“ ثابت اور عباد بن ابو علی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرنے میں قتادہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3393]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3207
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وقَالَ لِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، وَذَكَرَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ، ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا وَأُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ دُونَ الْبَغْلِ، وَفَوْقَ الْحِمَارِ الْبُرَاقُ فَانْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنَ ابْنٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى عِيسَى وَيَحْيَى، فَقَالَا: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ يُوسُفَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قِيلَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْنَا عَلَى هَارُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا عَلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَكَى، فَقِيلَ: مَا أَبْكَاكَ؟، قَالَ: يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنَ ابْنٍ وَنَبِيٍّ فَرُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا لَمْ يَعُودُوا إِلَيْهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ وَرُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبِقُهَا كَأَنَّهُ قِلَالُ هَجَرَ وَوَرَقُهَا كَأَنَّهُ آذَانُ الْفُيُولِ فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ النِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جِئْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ، قُلْتُ: فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ فَرَجَعْتُ فَسَأَلْتُهُ فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ، ثُمَّ ثَلَاثِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ فَجَعَلَ عِشْرِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ فَجَعَلَ عَشْرًا فَأَتَيْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مِثْلَهُ فَجَعَلَهَا خَمْسًا فَأَتَيْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ، قُلْتُ: جَعَلَهَا خَمْسًا، فَقَالَ: مِثْلَهُ، قُلْتُ: سَلَّمْتُ بِخَيْرٍ فَنُودِيَ إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ، عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي الْحَسَنَةَ عَشْرًا، وَقَالَ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ.
ہم سے ہدبۃ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں ایک دفعہ بیت اللہ کے قریب نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان لیٹے ہوئے ایک تیسرے آدمی کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا۔ میرے سینے کو پیٹ کے آخری حصے تک چاک کیا گیا۔ پھر میرا پیٹ زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سواری لائی گئی۔ سفید، خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی یعنی براق، میں اس پر سوار ہو کر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ چلا۔ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو پوچھا گیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل۔ پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اس پر جواب آیا کہ اچھی کشادہ جگہ آنے والے کیا ہی مبارک ہیں، پھر میں آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، آؤ پیارے بیٹے اور اچھے نبی۔ اس کے بعد ہم دوسرے آسمان پر پہنچے یہاں بھی وہی سوال ہوا۔ کون صاحب ہیں؟ کہا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ کوئی اور صاحب بھی آئے ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سوال ہوا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں۔ اب ادھر سے جواب آیا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، آنے والے کیا ہی مبارک ہیں۔ اس کے بعد میں عیسیٰ اور یحییٰ علیہ السلام سے ملا، ان حضرات نے بھی خوش آمدید، مرحبا کہا اپنے بھائی اور نبی کو۔ پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کون صاحب ہیں؟ جواب ملا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ بھی کوئی ہے؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سوال ہوا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں، اب آواز آئی اچھی کشادہ جگہ آئے آنے والے کیا ہی صالح ہیں، یہاں یوسف علیہ السلام سے میں ملا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو میرے بھائی اور نبی، یہاں سے ہم چوتھے آسمان پر آئے اس پر بھی یہی سوال ہوا، کون صاحب، جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ اور کون صاحب ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا، جواب دیا کہ ہاں، پھر آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے کیا ہی اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں ادریس علیہ السلام سے ملا اور سلام کیا، انہوں نے فرمایا، مرحبا، بھائی اور نبی۔ یہاں سے ہم پانچویں آسمان پر آئے۔ یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، پوچھا گیا، انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں، آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں۔ آنے والے کیا ہی اچھے ہیں۔ یہاں ہم ہارون علیہ السلام سے ملے اور میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، مبارک میرے بھائی اور نبی، تم اچھی کشادہ جگہ آئے، یہاں سے ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی سوال ہوا، کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ اور بھی کوئی ہیں؟ کہا کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا، کیا انہیں بلایا گیا تھا کہا ہاں، کہا اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، میرے بھائی اور نبی اچھی کشادہ جگہ آئے، جب میں وہاں سے آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا بزرگوار آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ! یہ نوجوان جسے میرے بعد نبوت دی گئی، اس کی امت میں سے جنت میں داخل ہونے والے، میری امت کے جنت میں داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ اس کے بعد ہم ساتویں آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا کہ کوئی صاحب آپ کے ساتھ بھی ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ مرحبا، اچھے آنے والے۔ یہاں میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا میرے بیٹے اور نبی، مبارک، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو، اس کے بعد مجھے بیت المعمور دکھایا گیا۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے بتلایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ستر ہزار فرشتے روزانہ نماز پڑھتے ہیں۔ اور ایک مرتبہ پڑھ کر جو اس سے نکل جاتا ہے تو پھر کبھی داخل نہیں ہوتا۔ اور مجھے سدرۃ المنتہیٰ بھی دکھایا گیا، اس کے پھل ایسے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے ہوتے ہیں اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی تھیں، دو نہریں تو باطنی تھیں اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں، اس کے بعد مجھ پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں۔ میں جب واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا کر کے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ پچاس نمازیں مجھ پر فرض کی گئی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انسانوں کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، بنی اسرائیل کا مجھے برا تجربہ ہو چکا ہے۔ تمہاری امت بھی اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی، اس لیے اپنے رب کی بارگاہ میں دوبارہ حاضری دو، اور کچھ تخفیف کی درخواست کرو، میں واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نمازیں چالیس وقت کی کر دیں۔ پھر بھی موسیٰ علیہ السلام اپنی بات (یعنی تخفیف کرانے) پر مصر رہے۔ اس مرتبہ تیس وقت کی رہ گئیں۔ پھر انہوں نے وہی فرمایا اور اس مرتبہ بارگاہ رب العزت میں میری درخواست کی پیشی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں دس کر دیا۔ میں جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اب بھی انہوں نے کم کرانے کے لیے اپنا اصرار جاری رکھا۔ اور اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی کر دیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام سے ملا، تو انہوں نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ کر دی ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے کم کرانے کا اصرار کیا۔ میں نے کہا کہ اب تو میں اللہ کے سپرد کر چکا۔ پھر آواز آئی۔ میں نے اپنا فریضہ (پانچ نمازوں کا) جاری کر دیا۔ اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں۔ اور ہمام نے کہا، ان سے قتادہ نے کہا، ان سے حسن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المعمور کے بارے میں الگ روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3207]
حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ایک دفعہ بیت اللہ کے نزدیک نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان ایک تیسرے آدمی کا ذکر کیا، یعنی اپنی ذاتِ کریمہ کو دو فرشتوں کے درمیان ذکر کیا تو فرمایا: ”میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا۔ میرے سینے کو پیٹ کے آخری حصے تک چاک کیا گیا۔ پھر (میرے) پیٹ (کے اندرونی حصے) کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سواری لائی گئی جس کا رنگ سفید، خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی تھی، یعنی براق، چنانچہ میں اس پر سوار ہو کر حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ہمراہ چل پڑا۔ جب میں آسمانِ دنیا پر پہنچا تو جبرئیل علیہ السلام نے آسمان کے نگران فرشتے سے (دروازہ) کھولنے کو کہا تو اس نے پوچھا: کون ہے؟ کہا گیا: جبرئیل علیہ السلام۔ پوچھا گیا: آپ کے ہمراہ کون ہے؟ کہا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس پر جواب آیا: خوش آمدید، آنے والے کیا ہی مبارک ہیں۔ پھر میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آیا، انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: اے بیٹے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا آنا مبارک ہو۔ پھر ہم دوسرے آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: میں جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا: آپ کو تشریف آوری کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری مبارک ہو۔ میں وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے کہا: اے برادرِ مکرم اور نبیِ محترم خوش آمدید! پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے تو کہا گیا: کون ہے؟ کہا: میں جبرئیل ہوں۔ کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا گیا: آپ کو تشریف لانے کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، آپ کا آنا بہت اچھا ہے۔ میں وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آیا اور ان کو سلام کیا تو انھوں نے کہا: اے برادرِ عزیز اور نبیِ معظم! خوش آمدید۔ پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ کہا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، کہا گیا: انہیں تشریف لانے کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری مبارک ہو۔ میں وہاں حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انھوں نے کہا: برادرِ مکرم اور نبیِ معظم کو خوش آمدید۔ پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: حضرت محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کہا گیا: کیا آپ کو بلایا گیا ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، تشریف آوری بابرکت ہو۔ ہم وہاں حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس آئے تو میں نے سلام کہا۔ انھوں نے کہا: پیارے بھائی اور نبیِ معظم! خوش آمدید۔ پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا: آپ کو تشریف لانے کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ (کہا جی ہاں۔) کہا گیا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری باعثِ عزت ہے۔ میں وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انھوں نے کہا: اے برادرِ عزیز اور نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! خوش آمدید۔ جب میں وہاں سے آگے بڑھا تو موسیٰ علیہ السلام رو پڑے۔ ان سے پوچھا گیا: آپ کس لیے رو رہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: اے میرے رب! یہ ایک نوجوان ہے جو میرے بعد مبعوث ہوا، اس کی امت کے افراد میری امت کے افراد سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے تو کہا گیا: کون ہے؟ کہا گیا: میں جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کہا گیا: آپ کو تشریف آوری کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ (کہا، ہاں) کہا گیا: مرحبا، آپ کا تشریف لانا مبارک ہو۔ پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انھوں نے کہا: اے فرزندِ ارجمند اور نبیِ محترم! مرحبا۔ پھر بیت المعمور میرے لیے کھول دیا گیا۔ میں نے اس کے متعلق حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔ جو ایک دفعہ عبادت کر کے باہر نکل جائیں تو دوبارہ واپس نہیں آتے، یعنی آخر تک ان کی باری نہیں آئے گی۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کیا گیا۔ اس کے بیر مقامِ ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان معلوم ہوتے تھے۔ اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں: ان میں سے دو باطنی اور دو ظاہری ہیں۔ میں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ باطنی نہریں تو جنت کی ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں واپس آیا حتیٰ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا کہ آپ کیا کر کے آئے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں لوگوں کے حال کو آپ سے زیادہ جاننے والا ہوں کیونکہ میں نے بنی اسرائیل کا سخت تجربہ کیا ہے۔ آپ کی امت اسے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھے گی، لہذا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور وہاں عرض کریں، چنانچہ میں واپس چلا آیا اور اللہ تعالیٰ سے (تخفیف کا) سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے چالیس نمازیں کر دیں۔ پھر اسی طرح کیا تو تیس کر دیں۔ پھر اسی طرح ہوا تو بیس رہ گئیں۔ پھر بات چیت ہوئی تو دس رہ گئیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے پہلے کی طرح کہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانچ کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے پوچھا: آپ نے کیا بنایا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کر دی ہیں تو انھوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں نے کہا: اب میں نے تسلیم کر لیا ہے۔ اب ندا آئی کہ میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے۔ میں ایک نیکی کے بدلے میں دس گنا اجر دوں گا۔“ ہمام نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی جنہوں نے بیت المعمور کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں