🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ ذِكْرِ الْمَلاَئِكَةِ:
باب: فرشتوں کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3207
وَقَالَ أَنَسٌ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام عَدُوُّ الْيَهُودِ مِنَ الْمَلَائِكَةِ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَنَحْنُ الصَّافُّونَ سورة الصافات آية 165 الْمَلَائِكَةُ.
انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ جبریل علیہ السلام کو یہودی فرشتوں میں سے اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سورہ الصافات میں بیان کہ «نحن الصافون» میں مراد ملائکہ ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: Q3207]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3207
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، وقَالَ لِي خَلِيفَةُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ وَهِشَامٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ صَعْصَعَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَا أَنَا عِنْدَ الْبَيْتِ بَيْنَ النَّائِمِ وَالْيَقْظَانِ، وَذَكَرَ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَأُتِيتُ بِطَسْتٍ مِنْ ذَهَبٍ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا فَشُقَّ مِنَ النَّحْرِ إِلَى مَرَاقِّ الْبَطْنِ، ثُمَّ غُسِلَ الْبَطْنُ بِمَاءِ زَمْزَمَ، ثُمَّ مُلِئَ حِكْمَةً وَإِيمَانًا وَأُتِيتُ بِدَابَّةٍ أَبْيَضَ دُونَ الْبَغْلِ، وَفَوْقَ الْحِمَارِ الْبُرَاقُ فَانْطَلَقْتُ مَعَ جِبْرِيلَ حَتَّى أَتَيْنَا السَّمَاءَ الدُّنْيَا، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى آدَمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنَ ابْنٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّانِيَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قَالَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى عِيسَى وَيَحْيَى، فَقَالَا: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الثَّالِثَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ يُوسُفَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، قَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الرَّابِعَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قِيلَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِدْرِيسَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ الْخَامِسَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قَالَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: وَمَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ، قَالَ: نَعَمْ، قِيلَ: مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْنَا عَلَى هَارُونَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ، فَأَتَيْنَا عَلَى السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى مُوسَى فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنْ أَخٍ وَنَبِيٍّ فَلَمَّا جَاوَزْتُ بَكَى، فَقِيلَ: مَا أَبْكَاكَ؟، قَالَ: يَا رَبِّ هَذَا الْغُلَامُ الَّذِي بُعِثَ بَعْدِي يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِهِ أَفْضَلُ مِمَّا يَدْخُلُ مِنْ أُمَّتِي، فَأَتَيْنَا السَّمَاءَ السَّابِعَةَ، قِيلَ: مَنْ هَذَا؟، قِيلَ: جِبْرِيلُ، قِيلَ: مَنْ مَعَكَ؟، قِيلَ: مُحَمَّدٌ، قِيلَ: وَقَدْ أُرْسِلَ إِلَيْهِ مَرْحَبًا بِهِ وَلَنِعْمَ الْمَجِيءُ جَاءَ، فَأَتَيْتُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: مَرْحَبًا بِكَ مِنَ ابْنٍ وَنَبِيٍّ فَرُفِعَ لِي الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: هَذَا الْبَيْتُ الْمَعْمُورُ يُصَلِّي فِيهِ كُلَّ يَوْمٍ سَبْعُونَ أَلْفَ مَلَكٍ إِذَا خَرَجُوا لَمْ يَعُودُوا إِلَيْهِ آخِرَ مَا عَلَيْهِمْ وَرُفِعَتْ لِي سِدْرَةُ الْمُنْتَهَى، فَإِذَا نَبِقُهَا كَأَنَّهُ قِلَالُ هَجَرَ وَوَرَقُهَا كَأَنَّهُ آذَانُ الْفُيُولِ فِي أَصْلِهَا أَرْبَعَةُ أَنْهَارٍ نَهْرَانِ بَاطِنَانِ وَنَهْرَانِ ظَاهِرَانِ، فَسَأَلْتُ جِبْرِيلَ، فَقَالَ: أَمَّا الْبَاطِنَانِ فَفِي الْجَنَّةِ وَأَمَّا الظَّاهِرَانِ النِّيلُ وَالْفُرَاتُ، ثُمَّ فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً فَأَقْبَلْتُ حَتَّى جِئْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ، قُلْتُ: فُرِضَتْ عَلَيَّ خَمْسُونَ صَلَاةً، قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِالنَّاسِ مِنْكَ عَالَجْتُ بَنِي إِسْرَائِيلَ أَشَدَّ الْمُعَالَجَةِ، وَإِنَّ أُمَّتَكَ لَا تُطِيقُ فَارْجِعْ إِلَى رَبِّكَ فَسَلْهُ فَرَجَعْتُ فَسَأَلْتُهُ فَجَعَلَهَا أَرْبَعِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ، ثُمَّ ثَلَاثِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ فَجَعَلَ عِشْرِينَ، ثُمَّ مِثْلَهُ فَجَعَلَ عَشْرًا فَأَتَيْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مِثْلَهُ فَجَعَلَهَا خَمْسًا فَأَتَيْتُ مُوسَى، فَقَالَ: مَا صَنَعْتَ، قُلْتُ: جَعَلَهَا خَمْسًا، فَقَالَ: مِثْلَهُ، قُلْتُ: سَلَّمْتُ بِخَيْرٍ فَنُودِيَ إِنِّي قَدْ أَمْضَيْتُ فَرِيضَتِي وَخَفَّفْتُ، عَنْ عِبَادِي وَأَجْزِي الْحَسَنَةَ عَشْرًا، وَقَالَ هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْبَيْتِ الْمَعْمُورِ.
ہم سے ہدبۃ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ اور ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں ایک دفعہ بیت اللہ کے قریب نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان لیٹے ہوئے ایک تیسرے آدمی کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا، جو حکمت اور ایمان سے بھرپور تھا۔ میرے سینے کو پیٹ کے آخری حصے تک چاک کیا گیا۔ پھر میرا پیٹ زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور اسے حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سواری لائی گئی۔ سفید، خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی یعنی براق، میں اس پر سوار ہو کر جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ چلا۔ جب ہم آسمان دنیا پر پہنچے تو پوچھا گیا کہ یہ کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا کہ جبرائیل۔ پوچھا گیا کہ آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پوچھا گیا کہ کیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، اس پر جواب آیا کہ اچھی کشادہ جگہ آنے والے کیا ہی مبارک ہیں، پھر میں آدم علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، آؤ پیارے بیٹے اور اچھے نبی۔ اس کے بعد ہم دوسرے آسمان پر پہنچے یہاں بھی وہی سوال ہوا۔ کون صاحب ہیں؟ کہا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ کوئی اور صاحب بھی آئے ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سوال ہوا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں۔ اب ادھر سے جواب آیا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، آنے والے کیا ہی مبارک ہیں۔ اس کے بعد میں عیسیٰ اور یحییٰ علیہ السلام سے ملا، ان حضرات نے بھی خوش آمدید، مرحبا کہا اپنے بھائی اور نبی کو۔ پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کون صاحب ہیں؟ جواب ملا جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ بھی کوئی ہے؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، سوال ہوا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں، اب آواز آئی اچھی کشادہ جگہ آئے آنے والے کیا ہی صالح ہیں، یہاں یوسف علیہ السلام سے میں ملا اور انہیں سلام کیا، انہوں نے فرمایا، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو میرے بھائی اور نبی، یہاں سے ہم چوتھے آسمان پر آئے اس پر بھی یہی سوال ہوا، کون صاحب، جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا، آپ کے ساتھ اور کون صاحب ہیں؟ کہا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا کیا انہیں لانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا، جواب دیا کہ ہاں، پھر آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے کیا ہی اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں ادریس علیہ السلام سے ملا اور سلام کیا، انہوں نے فرمایا، مرحبا، بھائی اور نبی۔ یہاں سے ہم پانچویں آسمان پر آئے۔ یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا اور آپ کے ساتھ اور کون صاحب آئے ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، پوچھا گیا، انہیں بلانے کے لیے بھیجا گیا تھا؟ کہا کہ ہاں، آواز آئی، اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں۔ آنے والے کیا ہی اچھے ہیں۔ یہاں ہم ہارون علیہ السلام سے ملے اور میں نے انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، مبارک میرے بھائی اور نبی، تم اچھی کشادہ جگہ آئے، یہاں سے ہم چھٹے آسمان پر آئے، یہاں بھی سوال ہوا، کون صاحب؟ جواب دیا کہ جبرائیل، پوچھا گیا، آپ کے ساتھ اور بھی کوئی ہیں؟ کہا کہ ہاں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا، کیا انہیں بلایا گیا تھا کہا ہاں، کہا اچھی کشادہ جگہ آئے ہیں، اچھے آنے والے ہیں۔ یہاں میں موسیٰ علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا، میرے بھائی اور نبی اچھی کشادہ جگہ آئے، جب میں وہاں سے آگے بڑھنے لگا تو وہ رونے لگے کسی نے پوچھا بزرگوار آپ کیوں رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اے اللہ! یہ نوجوان جسے میرے بعد نبوت دی گئی، اس کی امت میں سے جنت میں داخل ہونے والے، میری امت کے جنت میں داخل ہونے والے لوگوں سے زیادہ ہوں گے۔ اس کے بعد ہم ساتویں آسمان پر آئے یہاں بھی سوال ہوا کہ کون صاحب ہیں؟ جواب دیا کہ جبرائیل، سوال ہوا کہ کوئی صاحب آپ کے ساتھ بھی ہیں؟ جواب دیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا، انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ مرحبا، اچھے آنے والے۔ یہاں میں ابراہیم علیہ السلام سے ملا اور انہیں سلام کیا۔ انہوں نے فرمایا میرے بیٹے اور نبی، مبارک، اچھی کشادہ جگہ آئے ہو، اس کے بعد مجھے بیت المعمور دکھایا گیا۔ میں نے جبرائیل علیہ السلام سے اس کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے بتلایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ستر ہزار فرشتے روزانہ نماز پڑھتے ہیں۔ اور ایک مرتبہ پڑھ کر جو اس سے نکل جاتا ہے تو پھر کبھی داخل نہیں ہوتا۔ اور مجھے سدرۃ المنتہیٰ بھی دکھایا گیا، اس کے پھل ایسے تھے جیسے مقام ہجر کے مٹکے ہوتے ہیں اور پتے ایسے تھے جیسے ہاتھی کے کان، اس کی جڑ سے چار نہریں نکلتی تھیں، دو نہریں تو باطنی تھیں اور دو ظاہری، میں نے جبرائیل علیہ السلام سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ جو دو باطنی نہریں ہیں وہ تو جنت میں ہیں اور دو ظاہری نہریں دنیا میں نیل اور فرات ہیں، اس کے بعد مجھ پر پچاس وقت کی نمازیں فرض کی گئیں۔ میں جب واپس ہوا اور موسیٰ علیہ السلام سے ملا تو انہوں نے پوچھا کہ کیا کر کے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ پچاس نمازیں مجھ پر فرض کی گئی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ انسانوں کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں، بنی اسرائیل کا مجھے برا تجربہ ہو چکا ہے۔ تمہاری امت بھی اتنی نمازوں کی طاقت نہیں رکھتی، اس لیے اپنے رب کی بارگاہ میں دوبارہ حاضری دو، اور کچھ تخفیف کی درخواست کرو، میں واپس ہوا تو اللہ تعالیٰ نے نمازیں چالیس وقت کی کر دیں۔ پھر بھی موسیٰ علیہ السلام اپنی بات (یعنی تخفیف کرانے) پر مصر رہے۔ اس مرتبہ تیس وقت کی رہ گئیں۔ پھر انہوں نے وہی فرمایا اور اس مرتبہ بارگاہ رب العزت میں میری درخواست کی پیشی پر اللہ تعالیٰ نے انہیں دس کر دیا۔ میں جب موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو اب بھی انہوں نے کم کرانے کے لیے اپنا اصرار جاری رکھا۔ اور اس مرتبہ اللہ تعالیٰ نے پانچ وقت کی کر دیں۔ اب موسیٰ علیہ السلام سے ملا، تو انہوں نے پھر دریافت فرمایا کہ کیا ہوا؟ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پانچ کر دی ہیں۔ اس مرتبہ بھی انہوں نے کم کرانے کا اصرار کیا۔ میں نے کہا کہ اب تو میں اللہ کے سپرد کر چکا۔ پھر آواز آئی۔ میں نے اپنا فریضہ (پانچ نمازوں کا) جاری کر دیا۔ اپنے بندوں پر تخفیف کر چکا اور میں ایک نیکی کا بدلہ دس گنا دیتا ہوں۔ اور ہمام نے کہا، ان سے قتادہ نے کہا، ان سے حسن نے، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیت المعمور کے بارے میں الگ روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3207]
حضرت مالک بن صعصعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک دفعہ بیت اللہ کے نزدیک نیند اور بیداری کی درمیانی حالت میں تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کے درمیان ایک تیسرے آدمی کا ذکر کیا، یعنی اپنی ذاتِ کریمہ کو دو فرشتوں کے درمیان ذکر کیا تو فرمایا: میرے پاس سونے کا ایک طشت لایا گیا جو حکمت اور ایمان سے لبریز تھا۔ میرے سینے کو پیٹ کے آخری حصے تک چاک کیا گیا۔ پھر (میرے) پیٹ (کے اندرونی حصے) کو زمزم کے پانی سے دھویا گیا اور اسے ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔ اس کے بعد میرے پاس ایک سواری لائی گئی جس کا رنگ سفید، خچر سے چھوٹی اور گدھے سے بڑی تھی، یعنی براق، چنانچہ میں اس پر سوار ہو کر حضرت جبرئیل علیہ السلام کے ہمراہ چل پڑا۔ جب میں آسمانِ دنیا پر پہنچا تو جبرئیل علیہ السلام نے آسمان کے نگران فرشتے سے (دروازہ) کھولنے کو کہا تو اس نے پوچھا: کون ہے؟ کہا گیا: جبرئیل علیہ السلام۔ پوچھا گیا: آپ کے ہمراہ کون ہے؟ کہا گیا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ پوچھا گیا انہیں بلانے کے لیے آپ کو بھیجا گیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ اس پر جواب آیا: خوش آمدید، آنے والے کیا ہی مبارک ہیں۔ پھر میں حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آیا، انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: اے بیٹے اور پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا آنا مبارک ہو۔ پھر ہم دوسرے آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: میں جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ پوچھا گیا: تمہارے ساتھ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا: آپ کو تشریف آوری کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری مبارک ہو۔ میں وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے کہا: اے برادرِ مکرم اور نبیِ محترم خوش آمدید! پھر ہم تیسرے آسمان پر آئے تو کہا گیا: کون ہے؟ کہا: میں جبرئیل ہوں۔ کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پوچھا گیا: آپ کو تشریف لانے کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، آپ کا آنا بہت اچھا ہے۔ میں وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس آیا اور ان کو سلام کیا تو انھوں نے کہا: اے برادرِ عزیز اور نبیِ معظم! خوش آمدید۔ پھر ہم چوتھے آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ کہا گیا: تمہارے ساتھ کون ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، کہا گیا: انہیں تشریف لانے کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری مبارک ہو۔ میں وہاں حضرت ادریس علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انھوں نے کہا: برادرِ مکرم اور نبیِ معظم کو خوش آمدید۔ پھر ہم پانچویں آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ اس نے کہا: جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: حضرت محمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ کہا گیا: کیا آپ کو بلایا گیا ہے؟ جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ہاں۔ کہا گیا: مرحبا، تشریف آوری بابرکت ہو۔ ہم وہاں حضرت ہارون علیہ السلام کے پاس آئے تو میں نے سلام کہا۔ انھوں نے کہا: پیارے بھائی اور نبیِ معظم! خوش آمدید۔ پھر ہم چھٹے آسمان پر آئے تو کہا گیا: یہ کون ہے؟ کہا: جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ کہا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا گیا: آپ کو تشریف لانے کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ (کہا جی ہاں۔) کہا گیا: مرحبا، آپ کی تشریف آوری باعثِ عزت ہے۔ میں وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انھوں نے کہا: اے برادرِ عزیز اور نبیِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! خوش آمدید۔ جب میں وہاں سے آگے بڑھا تو موسیٰ علیہ السلام رو پڑے۔ ان سے پوچھا گیا: آپ کس لیے رو رہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا: اے میرے رب! یہ ایک نوجوان ہے جو میرے بعد مبعوث ہوا، اس کی امت کے افراد میری امت کے افراد سے زیادہ جنت میں داخل ہوں گے۔ پھر ہم ساتویں آسمان پر آئے تو کہا گیا: کون ہے؟ کہا گیا: میں جبرئیل علیہ السلام ہوں۔ پوچھا گیا: آپ کے ساتھ کون ہے؟ کہا گیا: حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ کہا گیا: آپ کو تشریف آوری کا پیغام بھیجا گیا تھا؟ (کہا، ہاں) کہا گیا: مرحبا، آپ کا تشریف لانا مبارک ہو۔ پھر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا اور انہیں سلام کیا تو انھوں نے کہا: اے فرزندِ ارجمند اور نبیِ محترم! مرحبا۔ پھر بیت المعمور میرے لیے کھول دیا گیا۔ میں نے اس کے متعلق حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ بیت المعمور ہے۔ اس میں ہر روز ستر ہزار فرشتے نماز پڑھتے ہیں۔ جو ایک دفعہ عبادت کر کے باہر نکل جائیں تو دوبارہ واپس نہیں آتے، یعنی آخر تک ان کی باری نہیں آئے گی۔ پھر سدرۃ المنتہیٰ کو میرے سامنے کیا گیا۔ اس کے بیر مقامِ ہجر کے مٹکوں کی طرح تھے اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کان معلوم ہوتے تھے۔ اس کی جڑ میں چار نہریں جاری تھیں: ان میں سے دو باطنی اور دو ظاہری ہیں۔ میں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ باطنی نہریں تو جنت کی ہیں اور ظاہری نہریں نیل اور فرات ہیں۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں واپس آیا حتیٰ کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس سے گزرا تو انھوں نے کہا کہ آپ کیا کر کے آئے ہیں؟ میں نے کہا: مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئی ہیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: میں لوگوں کے حال کو آپ سے زیادہ جاننے والا ہوں کیونکہ میں نے بنی اسرائیل کا سخت تجربہ کیا ہے۔ آپ کی امت اسے پورا کرنے کی طاقت نہیں رکھے گی، لہذا آپ اپنے رب کے پاس واپس جائیں اور وہاں عرض کریں، چنانچہ میں واپس چلا آیا اور اللہ تعالیٰ سے (تخفیف کا) سوال کیا تو اللہ تعالیٰ نے چالیس نمازیں کر دیں۔ پھر اسی طرح کیا تو تیس کر دیں۔ پھر اسی طرح ہوا تو بیس رہ گئیں۔ پھر بات چیت ہوئی تو دس رہ گئیں۔ پھر موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے پہلے کی طرح کہا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے پانچ کر دیں۔ پھر میں موسیٰ علیہ السلام کے پاس آیا تو انھوں نے پوچھا: آپ نے کیا بنایا ہے؟ میں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے پانچ نمازیں کر دی ہیں تو انھوں نے پھر اسی طرح کہا۔ میں نے کہا: اب میں نے تسلیم کر لیا ہے۔ اب ندا آئی کہ میں نے اپنا فریضہ نافذ کر دیا ہے اور اپنے بندوں سے تخفیف کر دی ہے۔ میں ایک نیکی کے بدلے میں دس گنا اجر دوں گا۔ ہمام نے اپنی سند سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی جنہوں نے بیت المعمور کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3207]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3208
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ مَلَكًا فَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ، وَيُقَالُ لَهُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ وَرِزْقَهُ وَأَجَلَهُ وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ فَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْكُمْ لَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ كِتَابُهُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، وَيَعْمَلُ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ إِلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ".
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوالاحوص نے، ان سے اعمش نے، ان سے زید بن وہب نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم سے صادق المصدوق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا اور فرمایا کہ تمہاری پیدائش کی تیاری تمہاری ماں کے پیٹ میں چالیس دنوں تک (نطفہ کی صورت) میں کی جاتی ہے اتنی ہی دنوں تک پھر ایک بستہ خون کے صورت میں اختیار کئے رہتا ہے اور پھر وہ اتنے ہی دنوں تک ایک مضغہ گوشت رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور اسے چار باتوں (کے لکھنے) کا حکم دیتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کے عمل، اس کا رزق، اس کی مدت زندگی اور یہ کہ بد ہے یا نیک، لکھ لے۔ اب اس نطفہ میں روح ڈالی جاتی ہے (یاد رکھ) ایک شخص (زندگی بھر نیک) عمل کرتا رہتا ہے اور جب جنت اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر سامنے آ جاتی ہے اور دوزخ والوں کے عمل شروع کر دیتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص (زندگی بھر برے) کام کرتا رہتا ہے اور جب دوزخ اور اس کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو اس کی تقدیر غالب آ جاتی ہے اور جنت والوں کے کام شروع کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3208]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم «الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ» سچے اور سچ مانے گئے ہیں: تم میں سے ہر ایک کی پیدائش اس کی ماں کے پیٹ میں مکمل کی جاتی ہے۔ چالیس دن تک نطفہ رہتا ہے، پھر اتنے ہی وقت تک منجمد خون کی شکل اختیار کرتا ہے۔ پھر اتنے ہی روز تک گوشت کا لوتھڑا رہتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے، اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے اور اسے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل، اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ بھی لکھ دے کہ بدبخت ہے یا نیک بخت۔ اس کے بعد اس میں روح پھونک دی جاتی ہے، پھر تم میں سے کوئی ایسا ہوتا ہے جو نیک عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے مگر اس پر نوشتہ تقدیر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جہنم والے کام کر بیٹھتا ہے۔ ایسے ہی کوئی شخص برے کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، پھر تقدیر کا فیصلہ غالب آ جاتا ہے تو وہ اہل جنت کے سے کام کرنے لگتا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3208]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3209
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَتَابَعَهُ أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ الْعَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحْبِبْهُ فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ فُلَانًا فَأَحِبُّوهُ فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ الْقَبُولُ فِي الْأَرْضِ".
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو مخلد نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی، انہیں نافع نے، انہوں نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اور اس روایت کی متابعت ابوعاصم نے ابن جریج سے کی ہے کہ مجھے موسیٰ بن عقبہ نے خبر دی انہیں نافع نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو جبرائیل علیہ السلام سے فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے۔ تم بھی اس سے محبت رکھو، چنانچہ جبرائیل علیہ السلام بھی اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ پھر جبرائیل علیہ السلام تمام اہل آسمان کو پکار دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت رکھتا ہے۔ اس لیے تم سب لوگ اس سے محبت رکھو، چنانچہ تمام آسمان والے اس سے محبت رکھنے لگتے ہیں۔ اس کے بعد روئے زمین والے بھی اس کو مقبول سمجھتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3209]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ بندے سے محبت کرتا ہے تو حضرت جبریل علیہ السلام کو آواز دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص کو دوست رکھتا ہے، لہٰذا تم بھی اسے دوست رکھو، تو حضرت جبریل علیہ السلام اس کو دوست رکھتے ہیں۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام تمام اہل آسمان میں اعلان کر دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ فلاں شخص سے محبت کرتا ہے، لہٰذا تم بھی اس سے محبت رکھو، چنانچہ تمام اہل آسمان اس سے محبت رکھتے ہیں۔ پھر زمین میں بھی اس کی مقبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3209]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3210
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْمَلَائِكَةَ تَنْزِلُ فِي الْعَنَانِ وَهُوَ السَّحَابُ فَتَذْكُرُ الْأَمْرَ قُضِيَ فِي السَّمَاءِ فَتَسْتَرِقُ الشَّيَاطِينُ السَّمْعَ، فَتَسْمَعُهُ فَتُوحِيهِ إِلَى الْكُهَّانِ فَيَكْذِبُونَ مَعَهَا مِائَةَ كَذْبَةٍ مِنْ عِنْدِ أَنْفُسِهِمْ".
ہم سے محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں لیث نے خبر دی، ان سے ابن ابی جعفر نے بیان کیا، ان سے محمد بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا فرشتے «عنان» میں اترتے ہیں۔ اور «عنان» سے مراد بادل ہیں۔ یہاں فرشتے ان کاموں کا ذکر کرتے ہیں جن کا فیصلہ آسمان میں ہو چکا ہوتا ہے۔ اور یہیں سے شیاطین کچھ چوری چھپے باتیں اڑا لیتے ہیں۔ پھر کاہنوں کو اس کی خبر کر دیتے ہیں اور یہ کاہن سو جھوٹ اپنی طرف سے ملا کر اسے بیان کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3210]
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: فرشتے ابر (بادلوں) میں آتے ہیں اور اس کام کا ذکر کرتے ہیں جس کا فیصلہ آسمانوں میں ہو چکا ہوتا ہے تو شیاطین چپکے سے فرشتوں کی باتیں اڑا لیتے ہیں اور کاہنوں کو بتا دیتے ہیں اور وہ کم بخت سچی بات میں اپنی طرف سے جھوٹ ملا دیتے ہیں۔ (پھر اسے اپنے مریدوں میں بیان کرتے ہیں)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3210]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3211
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ وَالْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ كَانَ عَلَى كُلِّ بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ الْمَلَائِكَةُ يَكْتُبُونَ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، فَإِذَا جَلَسَ الْإِمَامُ طَوَوْا الصُّحُفَ وَجَاءُوا يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ".
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے ابوسلمہ اور اغر نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جمعہ کا دن آتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے کھڑے ہو جاتے ہیں اور سب سے پہلے آنے والے اور پھر اس کے بعد آنے والوں کو نمبر وار لکھتے جاتے ہیں۔ پھر جب امام (خطبے کے لیے منبر پر) بیٹھ جاتا ہے تو یہ فرشتے اپنے رجسٹر بند کر لیتے ہیں اور ذکر سننے لگ جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3211]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب جمعے کا دن ہوتا ہے تو مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے مقرر ہو جاتے ہیں جو پہلے پہلے آنے والوں کا نام لکھتے ہیں۔ پھر جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ کر خطبہ سننے کے لیے آ جاتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3211]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3212
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: مَرَّ عُمَرُ فِي الْمَسْجِدِ وَحَسَّانُ يُنْشِدُ، فَقَالَ: كُنْتُ أُنْشِدُ فِيهِ وَفِيهِ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ، ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَجِبْ عَنِّي اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ، قَالَ: نَعَمْ".
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زہری نے بیان کیا، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے تو حسان رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اس وقت یہاں شعر پڑھا کرتا تھا جب آپ سے بہتر شخص (آپ صلی اللہ علیہ وسلم ) یہاں تشریف رکھتے تھے۔ پھر حسان رضی اللہ عنہ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہو کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے تم نے نہیں سنا تھا کہ اے حسان! (کفار مکہ کو) میری طرف سے جواب دے۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ حسان کی مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں بیشک (میں نے سنا تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3212]
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ مسجد میں سے گزرے تو حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ اشعار پڑھ رہے تھے۔ (انہوں نے مسجد میں شعر پڑھنے پر اظہار ناپسندیدگی فرمایا تو) حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تو اس وقت یہاں شعر پڑھا کرتا تھا جب آپ سے بہتر ستودہ صفات یہاں تشریف رکھتے تھے۔ پھر وہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ میں تم سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: «أَجِبْ عَنِّي، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ» اے حسان! میری طرف سے (کفارِ مکہ کو) جواب دو۔ اے اللہ! روح القدس کے ذریعے سے اس کی مدد فرما۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہاں (بلاشبہ میں نے سنا تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3212]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3213
حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَسَّانَ:" اهْجُهُمْ أَوْ هَاجِهِمْ وَجِبْرِيلُ مَعَكَ".
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا مشرکین مکہ کی تم بھی ہجو کو یا (یہ فرمایا کہ) ان کی ہجو کا جواب دو، جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3213]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم مشرکین کی ہجو کرو یا ان کی ہجو کا جواب دو، بہرصورت حضرت جبریل علیہ السلام تمہارے ساتھ ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3213]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3214
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ حُمَيْدَ بْنَ هِلَالٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى غُبَارٍ سَاطِعٍ فِي سِكَّةِ بَنِي غَنْمٍ زَادَ مُوسَى مَوْكِبَ جِبْرِيلَ".
ہم سے اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم کو وہب بن جریر نے خبر دی، ان سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حمید بن ہلال سے سنا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جیسے وہ غبار میری نظروں کے سامنے ہے۔ موسیٰ نے روایت میں یوں زیادتی کی کہ جبرائیل علیہ السلام کے (ساتھ آنے والے) سوار فرشتوں کی وجہ سے۔ جو غبار خاندان بنو غنم کی گلی سے اٹھا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3214]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ گویا میں اب بھی وہ غبار دیکھ رہا ہوں جو بنو غنم کی گلیوں میں بلند ہو رہا تھا۔ (راویِ حدیث) موسیٰ نے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ وہ غبار حضرت جبرئیل علیہ السلام کے لشکر کی وجہ سے تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3214]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3215
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ؟، قَالَ:" كُلُّ ذَاكَ يَأْتِي الْمَلَكُ أَحْيَانًا فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا، قَالَ: وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَيَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ أَحْيَانًا رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ".
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ وحی آپ کے پاس کس طرح آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کئی طرح سے آتی ہے۔ کبھی فرشتہ کے ذریعہ آتی ہے تو وہ گھنٹی بجنے کی آواز کی طرح نازل ہوتی ہے۔ جب وحی ختم ہو جاتی ہے تو جو کچھ فرشتے نے نازل کیا ہوتا ہے، میں اسے پوری طرح یاد کر چکا ہوتا ہوں۔ وحی اترنے کی یہ صورت میرے لیے بہت دشوار ہوتی ہے۔ کبھی فرشتہ میرے سامنے ایک مرد کی صورت میں آ جاتا ہے وہ مجھ سے باتیں کرتا ہے اور جو کچھ کہہ جاتا ہے میں اسے پوری طرح یاد کر لیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3215]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کے متعلق سوال کیا کہ وہ کیسے آتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ کئی طرح سے آتی ہے، ہر دفعہ فرشتہ آتا ہے۔ کبھی تو وہ گھنٹی بجنے کی طرح ہوتی ہے۔ جب وحی ختم ہوتی ہے تو جو کچھ فرشتے نے نازل کیا ہوتا ہے میں نے اسے پوری طرح یاد کر لیا ہوتا ہے۔ وحی کی یہ صورت میرے لیے انتہائی دشوار ہوتی ہے۔ اور کبھی میرے سامنے فرشتہ وحی مرد کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور وہ میرے ساتھ کلام کرتا ہے تو جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ/حدیث: 3215]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں