صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
40. باب قول الله تعالى: {ووهبنا لداود سليمان نعم العبد إنه أواب} :
باب: اللہ تعالیٰ کے اس قول کا بیان ”اور ہم نے داؤد کو سلیمان (بیٹا) عطا فرمایا، وہ بہت اچھا بندہ تھا، بیشک وہ بہت رجوع کرنے والا تھا“۔
حدیث نمبر: 3425
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ أَوَّلَ، قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: ثُمَّ الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: أَرْبَعُونَ ثُمَّ، قَالَ: حَيْثُمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ فَصَلِّ وَالْأَرْضُ لَكَ مَسْجِدٌ".
مجھ سے عمر بن حفص نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی تھی؟ فرمایا کہ مسجد الحرام! میں نے سوال کیا، اس کے بعد کون سی؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ۔ میں نے سوال کیا اور ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی فاصلہ کتنا تھا؟ فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس جگہ بھی نماز کا وقت ہو جائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3425]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا: ”مسجد حرام۔“ میں نے عرض کیا: اس کے بعد کون سی؟ آپ نے فرمایا: ”مسجد اقصیٰ۔“ میں نے عرض کیا: ان دونوں کی تعمیر کا درمیانی عرصہ کتنا تھا؟ آپ نے فرمایا: ”چالیس (سال)۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”جس جگہ بھی نماز کا وقت آجائے فوراً نماز پڑھ لو۔ تمہارے لیے تمام روئے زمین مسجد ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3425]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 336
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّاءُ بْنُ يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ،" أَنَّهَا اسْتَعَارَتْ مِنْأَسْمَاءَ قِلَادَةً فَهَلَكَتْ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا، فَوَجَدَهَا، فَأَدْرَكَتْهُمُ الصَّلَاةُ وَلَيْسَ مَعَهُمْ مَاءٌ فَصَلَّوْا، فَشَكَوْا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ التَّيَمُّمِ"، فَقَالَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ لِعَائِشَةَ: جَزَاكِ اللَّهُ خَيْرًا، فَوَاللَّهِ مَا نَزَلَ بِكِ أَمْرٌ تَكْرَهِينَهُ إِلَّا جَعَلَ اللَّهُ ذَلِكِ لَكِ وَلِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ خَيْرًا.
ہم سے سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے، وہ اپنے والد سے، وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہ انھوں نے اسماء رضی اللہ عنہا سے ہار مانگ کر پہن لیا تھا، وہ گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا، جسے وہ مل گیا۔ پھر نماز کا وقت آ پہنچا اور لوگوں کے پاس (جو ہار کی تلاش میں گئے تھے) پانی نہیں تھا۔ لوگوں نے نماز پڑھ لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری جسے سن کر اسید بن حضیر نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا آپ کو اللہ بہترین بدلہ دے۔ واللہ جب بھی آپ کے ساتھ کوئی ایسی بات پیش آئی جس سے آپ کو تکلیف ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے اس میں خیر پیدا فرما دی۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 336]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے ایک ہار حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے مستعار لیا جو گم ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو اس کی تلاش کے لیے روانہ کیا۔ وہ اسے مل گیا لیکن ان لوگوں کو نماز کا وقت ایسی حالت میں آیا کہ ان کے پاس پانی نہیں تھا، چنانچہ انہوں نے (ویسے ہی) نماز ادا کر لی۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرما دی۔ حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اللہ تمہیں جزائے خیر دے، اللہ کی قسم! جب بھی تم پر کوئی ایسی بات آ پڑی جسے تم ناگوار خیال کرتی تھیں تو اللہ تعالیٰ نے اس میں تمہارے لیے اور تمام مسلمانوں کے لیے خیر و برکت عطا فرما دی۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 336]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3366
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ مَسْجِدٍ وُضِعَ فِي الْأَرْضِ أَوَّلَ؟ قَالَ:" الْمَسْجِدُ الْحَرَامُ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ، قَالَ: الْمَسْجِدُ الْأَقْصَى، قُلْتُ: كَمْ كَانَ بَيْنَهُمَا، قَالَ: أَرْبَعُونَ سَنَةً ثُمَّ أَيْنَمَا أَدْرَكَتْكَ الصَّلَاةُ بَعْدُ فَصَلِّهْ فَإِنَّ الْفَضْلَ فِيهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم تیمی نے، ان سے ان کے والد یزید بن شریک نے بیان کیا کہ میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! سب سے پہلے روئے زمین پر کون سی مسجد بنی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسجد الحرام۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے عرض کیا اور اور اس کے بعد؟ فرمایا کہ مسجد الاقصیٰ (بیت المقدس) میں نے عرض کیا، ان دونوں کی تعمیر کے درمیان کتنا فاصلہ رہا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ چالیس سال۔ پھر فرمایا اب جہاں بھی تجھ کو نماز کا وقت ہو جائے وہاں نماز پڑھ لے۔ بڑی فضیلت نماز پڑھنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3366]
حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! روئے زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد حرام۔“ میں نے عرض کیا: پھر کون سی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسجد اقصیٰ۔“ میں نے دریافت کیا: ان دونوں میں کتنی مدت کا فاصلہ تھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چالیس سال کا، مگر جہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آ جائے وہیں نماز پڑھ لو کیونکہ فضیلت اسی میں ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب أحاديث الأنبياء/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة