صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب كيف فرضت الصلاة فى الإسراء:
باب: اس بارے میں کہ شب معراج میں نماز کس طرح فرض ہوئی؟
حدیث نمبر: 350
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ:"فَرَضَ اللَّهُ الصَّلَاةَ حِينَ فَرَضَهَا رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ فِي الْحَضَرِ وَالسَّفَرِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ، وَزِيدَ فِي صَلَاةِ الْحَضَرِ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں خبر دی امام مالک نے صالح بن کیسان سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے، آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے پہلے نماز میں دو دو رکعت فرض کی تھی۔ سفر میں بھی اور اقامت کی حالت میں بھی۔ پھر سفر کی نماز تو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھی گئی اور حالت اقامت کی نمازوں میں زیادتی کر دی گئی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 350]
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جب نماز فرض کی تو حضر و سفر میں (ہر نماز کی) دو دو رکعتیں فرض کی تھیں، پھر نمازِ سفر اپنی اصلی حالت میں قائم رکھی گئی اور حضر کی نماز میں اضافہ کر دیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 350]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 1090
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتِ:" الصَّلَاةُ أَوَّلُ مَا فُرِضَتْ رَكْعَتَيْنِ، فَأُقِرَّتْ صَلَاةُ السَّفَرِ وَأُتِمَّتْ صَلَاةُ الْحَضَرِ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِعُرْوَةَ: مَا بَالُ عَائِشَةَ تُتِمُّ، قَالَ: تَأَوَّلَتْ مَا تَأَوَّلَ عُثْمَانُ.
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری (چار رکعت) کر دی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1090]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: پہلے پہل (سفر و حضر کی) نماز دو رکعتیں فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز تو برقرار رہی، البتہ صلاۃِ حضر میں اضافہ کر کے اسے مکمل کر دیا گیا۔ امام زہری رحمہ اللہ نے حضرت عروہ رحمہ اللہ سے سوال کیا: ایسے حالات میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا دورانِ سفر میں نماز کو پورا کیوں پڑھتی ہیں؟ تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے وہی تاویل کی ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کرتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 1090]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3935
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" فُرِضَتِ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ هَاجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفُرِضَتْ أَرْبَعًا وَتُرِكَتْ صَلَاةُ السَّفَرِ عَلَى الْأُولَى". تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ (پہلے) نماز صرف دو رکعت فرض ہوئی تھی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو وہ فرض رکعات چار رکعات ہو گئیں۔ البتہ سفر کی حالت میں نماز اپنی حالت میں باقی رکھی گئی۔ اس روایت کی متابعت عبدالرزاق نے معمر سے کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”آغاز میں نماز صرف دو رکعت فرض ہوئی تھی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی تو فرض نماز چار رکعت کر دی گئی، البتہ نمازِ سفر کو سابقہ حالت میں باقی رکھا گیا۔“ معمر سے روایت کرنے میں عبدالرزاق نے یزید بن زریع کی متابعت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 3935]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة