صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. باب علامات النبوة فى الإسلام:
باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 3632
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: انْطَلَقَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ مُعْتَمِرًا، قَالَ: فَنَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ أَبِي صَفْوَانَ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا انْطَلَقَ إِلَى الشَّأْمِ فَمَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ، فَقَالَ: أُمَيَّةُ لِسَعْدٍ انْتَظِرْ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ وَغَفَلَ النَّاسُ انْطَلَقْتُ فَطُفْتُ فَبَيْنَا سَعْدٌ يَطُوفُ إِذَا أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا الَّذِي يَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ؟، فَقَالَ سَعْدٌ: أَنَا سَعْدٌ، فَقَالَ أَبُو جَهْلٍ: تَطُوفُ بِالْكَعْبَةِ آمِنًا وَقَدْ آوَيْتُمْ مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَ: نَعَمْ فَتَلَاحَيَا بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: أُمَيَّةُ لسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ فَإِنَّهُ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي، ثُمّ قَالَ: سَعْدٌ وَاللَّهِ لَئِنْ مَنَعْتَنِي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ لَأَقْطَعَنَّ مَتْجَرَكَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَجَعَلَ أُمَيَّةُ، يَقُولُ لِسَعْدٍ لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ وَجَعَلَ يُمْسِكُهُ فَغَضِبَ سَعْدٌ، فَقَالَ: دَعْنَا عَنْكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلُكَ، قَالَ:" إِيَّايَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: وَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ إِذَا حَدَّثَ فَرَجَعَ إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: أَمَا تَعْلَمِينَ مَا قَالَ لِي: أَخِي الْيَثْرِبِيُّ، قَالَتْ: وَمَا قَالَ: قَالَ: زَعَمَ أَنَّه سَمِعَ مُحَمَّدًا يَزْعُمُ أَنَّهُ قَاتِلِي، قَالَتْ: فَوَاللَّهِ مَا يَكْذِبُ مُحَمَّدٌ، قَالَ: فَلَمَّا خَرَجُوا إِلَى بَدْرٍ وَجَاءَ الصَّرِيخُ، قَالَتْ: لَهُ امْرَأَتُهُ أَمَا ذَكَرْتَ مَا قَالَ: لَكَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ، قَالَ: فَأَرَادَ أَنْ لَا يَخْرُجَ، فَقَالَ: لَهُ أَبُو جَهْلٍ إِنَّكَ مِنْ أَشْرَافِ الْوَادِي فَسِرْ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ فَسَارَ مَعَهُمْ فَقَتَلَهُ اللَّهُ".
ہم سے احمد بن اسحٰق نے بیان کیا، کہا ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے، ان سے عمرو بن میمون نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کی نیت سے (مکہ) آئے اور ابوصفوان امیہ بن خلف کے یہاں اترے۔ امیہ بھی شام جاتے ہوئے (تجارت وغیرہ کے لیے) جب مدینہ سے گزرتا تو سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے یہاں قیام کیا کرتا تھا۔ امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابھی ٹھہرو، جب دوپہر کا وقت ہو جائے اور لوگ غافل ہو جائیں (تب طواف کرنا کیونکہ مکہ کے مشرک مسلمانوں کے دشمن تھے) سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، چنانچہ میں نے جا کر طواف شروع کر دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ ابھی طواف کر ہی رہے تھے کہ ابوجہل آ گیا اور کہنے لگا، یہ کعبہ کا طواف کون کر رہا ہے؟ سعد رضی اللہ عنہ بولے کہ میں سعد ہوں۔ ابوجہل بولا: تم کعبہ کا طواف خوب امن سے کر رہے ہو حالانکہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دے رکھی ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں ٹھیک ہے۔ اس طرح دونوں میں بات بڑھ گئی۔ پھر امیہ نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابوالحکم (ابوجہل) کے سامنے اونچی آواز سے نہ بولو۔ وہ اس وادی (مکہ) کا سردار ہے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر تم نے مجھے بیت اللہ کے طواف سے روکا تو میں بھی تمہاری شام کی تجارت خاک میں ملا دوں گا (کیونکہ شام جانے کا صرف ایک ہی راستہ ہے جو مدینہ سے جاتا ہے) بیان کیا کہ امیہ برابر سعد رضی اللہ عنہ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور انہیں (مقابلہ سے) روکتا رہا۔ آخر سعد رضی اللہ عنہ کو اس پر غصہ آ گیا اور انہوں نے امیہ سے کہا۔ چل پرے ہٹ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تیرے متعلق سنا ہے۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تجھ کو ابوجہل ہی قتل کرائے گا۔ امیہ نے پوچھا: مجھے؟ سعد رضی اللہ عنہ کہا: ہاں تجھ کو۔ تب تو امیہ کہنے لگا۔ اللہ کی قسم محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) جب کوئی بات کہتے ہیں تو وہ غلط نہیں ہوتی پھر وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس نے اس سے کہا تمہیں معلوم نہیں، میرے یثربی بھائی نے مجھے کیا بات بتائی ہے؟ اس نے پوچھا: انہوں نے کیا کہا؟ امیہ نے بتایا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کہہ چکے ہیں کہ ابوجہل مجھ کو قتل کرائے گا۔ وہ کہنے لگی۔ اللہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ وسلم غلط بات زبان سے نہیں نکالتے۔ پھر ایسا ہوا کہ اہل مکہ بدر کی لڑائی کے لیے روانہ ہونے لگے اور امیہ کو بھی بلانے والا آیا تو امیہ سے اس کی بیوی نے کہا، تمہیں یاد نہیں رہا تمہارا یثربی بھائی تمہیں کیا خبر دے گیا تھا۔ بیان کیا کہ اس یاددہانی پر امیہ نے چاہا کہ اس جنگ میں شرکت نہ کرے۔ لیکن ابوجہل نے کہا: تم وادی مکہ کے رئیس ہو۔ اس لیے کم از کم ایک یا دو دن کے لیے ہی تمہیں چلنا پڑے گا۔ اس طرح وہ ان کے ساتھ جنگ میں شرکت کے لیے نکلا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3632]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ عمرہ کرنے کے لیے مکہ مکرمہ گئے تو ابو صفوان امیہ بن خلف کے پاس ٹھہرے۔ اور امیہ جب شام جاتا اور مدینہ طیبہ سے گزرتا تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے پاس ٹھہرا کرتا تھا۔ امیہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: کچھ انتظار کرو حتی کہ جب دوپہر ہوگی اور لوگ غافل ہو جائیں گے تو چلیں اور بیت اللہ کا طواف کر لیں۔ جس وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ طواف کر رہے تھے ادھر سے اچانک ابو جہل آگیا۔ اس نے آتے ہی کہا: کعبہ کا طواف کرنے والا یہ شخص کون ہے؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں سعد ہوں۔ ابو جہل بولا: تو کعبہ کا طواف امن و امان سے کر رہا ہے، حالانکہ تم لوگوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کو جگہ دی ہے؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، اس میں کیا شک ہے، چنانچہ وہ دونوں جھگڑ پڑے۔ امیہ نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: ابو الحکم پر آواز بلند نہ کرو، وہ اس وادی کے لوگوں کا سردار ہے۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تو مجھے بیت اللہ کا طواف کرنے سے منع کرے گا تو میں شام کے اندر تمہاری تجارت بند کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ امیہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے کہتا رہا کہ اپنی آواز بلند نہ کرو اور انہیں روکنے لگا، اس پر حضرت سعد رضی اللہ عنہ غصے میں آگئے اور فرمانے لگے: میرے آگے سے ہٹ جاؤ، میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: ”وہ تجھے قتل کرنے والے ہیں۔“ امیہ نے کہا: مجھے قتل کریں گے؟ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں۔ اس پر امیہ نے کہا: اللہ کی قسم! جب وہ کوئی بات کریں تو وہ جھوٹ نہیں ہوتی۔ چنانچہ امیہ جب اپنی بیوی کے پاس واپس آیا تو کہنے لگا: تجھے معلوم نہیں کہ میرے یثربی بھائی نے مجھ سے کیا کہا ہے؟ اس نے پوچھا: کیا کہا ہے؟ کہنے لگا: اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے سنا ہے کہ ”وہ مجھے قتل کرنے والے ہیں۔“ وہ بھی کہنے لگی: اللہ کی قسم! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔ راوی کہتے ہیں کہ جب قریش نے بدر کی طرف کوچ کرنے کا ارادہ کیا اور منادی کی آواز بلند ہوئی تو امیہ کی بیوی نے کہا: تجھے وہ بات یاد نہیں جو تیرے یثربی بھائی نے کہی تھی؟ چنانچہ امیہ نے ساتھ نہ جانے کا عزم کر لیا، تو ابو جہل نے کہا: آپ مکہ کے بڑے لوگوں میں سے ہیں، ایک دو دن کے لیے ہمارے ساتھ چلو پھر واپس آجانا۔ وہ ان کے ہمراہ چلا تو اللہ تعالیٰ نے اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3632]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3950
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، أَنَّهُ قَالَ: كَانَ صَدِيقًا لِأُمَيَّةَ بْنِ خَلَفٍ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا مَرَّ بِالْمَدِينَةِ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ , وَكَانَ سَعْدٌ إِذَا مَرَّ بِمَكَّةَ نَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ , فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْطَلَقَ سَعْدٌ مُعْتَمِرًا , فَنَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ بِمَكَّةَ، فَقَالَ لِأُمَيَّةَ: انْظُرْ لِي سَاعَةَ خَلْوَةٍ لَعَلِّي أَنْ أَطُوفَ بِالْبَيْتِ , فَخَرَجَ بِهِ قَرِيبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ , فَلَقِيَهُمَا أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا صَفْوَانَ مَنْ هَذَا مَعَكَ؟ فَقَالَ: هَذَا سَعْدٌ، فَقَالَ لَهُ أَبُو جَهْلٍ: أَلَا أَرَاكَ تَطُوفُ بِمَكَّةَ آمِنًا وَقَدْ أَوَيْتُمُ الصُّبَاةَ , وَزَعَمْتُمْ أَنَّكُمْ تَنْصُرُونَهُمْ وَتُعِينُونَهُمْ , أَمَا وَاللَّهِ لَوْلَا أَنَّكَ مَعَ أَبِي صَفْوَانَ مَا رَجَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ سَالِمًا، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: وَرَفَعَ صَوْتَهُ عَلَيْهِ أَمَا وَاللَّهِ لَئِنْ مَنَعْتَنِي هَذَا لَأَمْنَعَنَّكَ مَا هُوَ أَشَدُّ عَلَيْكَ مِنْهُ , طَرِيقَكَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَقَالَ لَهُ أُمَيَّةُ: لَا تَرْفَعْ صَوْتَكَ يَا سَعْدُ عَلَى أَبِي الْحَكَمِ سَيِّدِ أَهْلِ الْوَادِي، فَقَالَ سَعْدٌ: دَعْنَا عَنْكَ يَا أُمَيَّةُ فَوَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّهُمْ قَاتِلُوكَ"، قَالَ: بِمَكَّةَ، قَالَ: لَا أَدْرِي , فَفَزِعَ لِذَلِكَ أُمَيَّةُ فَزَعًا شَدِيدًا , فَلَمَّا رَجَعَ أُمَيَّةُ إِلَى أَهْلِهِ، قَالَ: يَا أُمَّ صَفْوَانَ أَلَمْ تَرَيْ مَا قَالَ لِي سَعْدٌ؟ قَالَتْ: وَمَا قَالَ لَكَ؟ قَالَ: زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا أَخْبَرَهُمْ أَنَّهُمْ قَاتِلِيَّ، فَقُلْتُ لَهُ: بِمَكَّةَ، قَالَ: لَا أَدْرِي، فَقَالَ: أُمَيَّةُ وَاللَّهِ لَا أَخْرُجُ مِنْ مَكَّةَ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ بَدْرٍ اسْتَنْفَرَ أَبُو جَهْلٍ النَّاسَ، قَالَ: أَدْرِكُوا عِيرَكُمْ فَكَرِهَ أُمَيَّةُ أَنْ يَخْرُجَ , فَأَتَاهُ أَبُو جَهْلٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا صَفْوَانَ إِنَّكَ مَتَى مَا يَرَاكَ النَّاسُ قَدْ تَخَلَّفْتَ وَأَنْتَ سَيِّدُ أَهْلِ الْوَادِي تَخَلَّفُوا مَعَكَ , فَلَمْ يَزَلْ بِهِ أَبُو جَهْلٍ حَتَّى قَالَ: أَمَّا إِذْ غَلَبْتَنِي فَوَاللَّهِ لَأَشْتَرِيَنَّ أَجْوَدَ بَعِيرٍ بِمَكَّةَ، ثُمَّ قَالَ أُمَيَّةُ" يَا أُمَّ صَفْوَانَ جَهِّزِينِي، فَقَالَتْ لَهُ: يَا أَبَا صَفْوَانَ وَقَدْ نَسِيتَ مَا، قَالَ: لَكَ أَخُوكَ الْيَثْرِبِيُّ، قَالَ: لَا مَا أُرِيدُ أَنْ أَجُوزَ مَعَهُمْ إِلَّا قَرِيبًا , فَلَمَّا خَرَجَ أُمَيَّةُ أَخَذَ لَا يَنْزِلُ مَنْزِلًا إِلَّا عَقَلَ بَعِيرَهُ , فَلَمْ يَزَلْ بِذَلِكَ حَتَّى قَتَلَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبَدْرٍ".
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے عمرو بن میمون نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ امیہ بن خلف کے (جاہلیت کے زمانے سے) دوست تھے اور جب بھی امیہ مدینہ سے گزرتا تو ان کے یہاں قیام کرتا تھا۔ اسی طرح سعد رضی اللہ عنہ جب مکہ سے گزرتے تو امیہ کے یہاں قیام کرتے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ ہجرت کر کے تشریف لائے تو ایک مرتبہ سعد رضی اللہ عنہ مکہ عمرہ کے ارادے سے گئے اور امیہ کے پاس قیام کیا۔ انہوں نے امیہ سے کہا کہ میرے لیے کوئی تنہائی کا وقت بتاؤ تاکہ میں بیت اللہ کا طواف کروں۔ چنانچہ امیہ انہیں دوپہر کے وقت ساتھ لے کر نکلا۔ ان سے ابوجہل کی ملاقات ہو گئی۔ اس نے پوچھا، ابوصفوان! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ امیہ نے بتایا کہ یہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ ہیں۔ ابوجہل نے کہا، میں تمہیں مکہ میں امن کے ساتھ طواف کرتا ہوا نہ دیکھوں۔ تم نے بے دینوں کو پناہ دے رکھی ہے اور اس خیال میں ہو کہ تم لوگ ان کی مدد کرو گے۔ خدا کی قسم! اگر اس وقت تم، ابوصفوان! امیہ کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامتی سے نہیں جا سکتے تھے۔ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، اس وقت ان کی آواز بلند ہو گئی تھی کہ اللہ کی قسم! اگر آج تم نے مجھے طواف سے روکا تو میں بھی مدینہ کی طرف سے تمہارا راستہ بند کر دوں گا اور یہ تمہارے لیے بہت سی مشکلات کا باعث بن جائے گا۔ امیہ کہنے لگا، سعد! ابوالحکم (ابوجہل) کے سامنے بلند آواز سے نہ بولو۔ یہ وادی کا سردار ہے۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا، امیہ! اس طرح کی گفتگو نہ کرو۔ اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں کہ تو ان کے ہاتھوں سے مارا جائے گا۔ امیہ نے پوچھا۔ کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ انہوں نے کہا کہ اس کا مجھے علم نہیں۔ امیہ یہ سن کر بہت گھبرا گیا اور جب اپنے گھر لوٹا تو (اپنی بیوی سے) کہا، ام صفوان! دیکھا نہیں سعد میرے متعلق کیا کہہ رہے ہیں۔ اس نے پوچھا، کیا کہہ رہے ہیں؟ امیہ نے کہا کہ وہ یہ بتا رہے تھے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے انہیں خبر دی ہے کہ کسی نہ کسی دن وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ میں نے پوچھا کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ تو انہوں نے کہا کہ اس کی مجھے خبر نہیں۔ امیہ کہنے لگا: خدا کی قسم! اب مکہ سے باہر میں کبھی نہیں جاؤں گا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر جب ابوجہل نے قریش سے لڑائی کی تیاری کے لیے کہا اور کہا کہ اپنے قافلہ کی مدد کو چلو تو امیہ نے لڑائی میں شرکت پسند نہیں کی، لیکن ابوجہل اس کے پاس آیا اور کہنے لگا، اے صفوان! تم وادی کے سردار ہو۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ تم ہی لڑائی میں نہیں نکلتے ہو تو دوسرے لوگ بھی نہیں نکلیں گے۔ ابوجہل یوں ہی برابر اس کو سمجھاتا رہا۔ آخر مجبور ہو کر امیہ نے کہا جب نہیں مانتا تو خدا کی قسم (اس لڑائی کے لیے) میں ایسا تیز رفتار اونٹ خریدوں گا جس کا ثانی مکہ میں نہ ہو۔ پھر امیہ نے (اپنی بیوی سے) کہا، ام صفوان! میرا سامان تیار کر دے۔ اس نے کہا، ابوصفوان! اپنے یثربی بھائی کی بات بھول گئے؟ امیہ بولا، میں بھولا نہیں ہوں۔ ان کے ساتھ صرف تھوڑی دور تک جاؤں گا۔ جب امیہ نکلا تو راستہ میں جس منزل پر بھی ٹھہرنا ہوتا، یہ اپنا اونٹ (اپنے پاس ہی) باندھے رکھتا۔ وہ برابر ایسا ہی احتیاط کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے قتل کرا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3950]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت میں امیہ بن خلف کے دوست تھے اور امیہ جب مدینہ طیبہ سے گزرتا تو ان کے پاس ٹھہرتا تھا۔ اسی طرح جب حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ جاتے تو اس کے پاس قیام کرتے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لائے تو حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ بغرضِ عمرہ مکہ مکرمہ گئے اور امیہ کے پاس قیام کیا۔ انہوں نے امیہ سے کہا: ”میرے لیے تنہائی کا وقت دیکھو تاکہ میں عمرہ کر لوں۔“ چنانچہ امیہ انہیں دوپہر کے وقت اپنے ساتھ لے کر نکلا تو ان کی ابوجہل سے ملاقات ہو گئی۔ اس نے پوچھا: ”اے ابوصفوان! تمہارے ساتھ یہ کون ہے؟“ اس نے کہا: ”یہ سعد بن معاذ ہیں۔“ ابوجہل نے کہا: ”میں تمہیں مکہ میں امن کے ساتھ طواف کرتا ہوا نہ دیکھوں۔ تم لوگوں نے بے دین حضرات کو اپنے ہاں پناہ دے رکھی ہے اور تم اپنے خیال کے مطابق ان کا تعاون بھی کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! اگر اس وقت تم ابو صفوان کے ساتھ نہ ہوتے تو اپنے گھر سلامتی کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے۔“ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے بآوازِ بلند ابوجہل سے کہا: ”خبردار! اللہ کی قسم! اگر تو مجھے اس وقت طواف سے روکے گا تو میں بھی تجھے اس سے سخت کام سے منع کروں گا، یعنی مدینے کی طرف سے تمہارا راستہ بند کر لوں گا۔“ امیہ کہنے لگا: ”اے سعد! ابوالحکم کے سامنے بلند آواز سے گفتگو نہ کرو، یہ اس وادی کا سردار ہے۔“ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”امیہ! تم اس طرح کی گفتگو نہ کرو، اللہ کی قسم! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں: ”یقینا وہ تجھے قتل کریں گے۔“”امیہ نے پوچھا: ”کیا (وہ) مکہ میں (مجھے قتل کر دیں گے)؟“ انہوں نے فرمایا: ”مجھے اس کا علم نہیں۔“ یہ سن کر امیہ بہت گھبرایا۔ جب وہ اپنی بیوی کے پاس لوٹا تو اس نے کہا: ”اے ام صفوان! تجھے معلوم ہے کہ مجھے سعد نے کیا کہا ہے؟“ اس نے کہا: ”کیا کہا ہے؟“ امیہ نے کہا: ”اس نے بتایا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے کہنے کے مطابق وہ مجھے کسی نہ کسی دن موت کے گھاٹ اتار دیں گے۔ میں نے پوچھا: کیا مکہ میں مجھے قتل کریں گے؟ تو انہوں نے کہا: مجھے اس کے متعلق کچھ معلوم نہیں۔“ امیہ کہنے لگا: ”اللہ کی قسم! اب میں مکہ سے باہر کبھی نہیں جاؤں گا۔“ چنانچہ جب غزوہ بدر کا موقع آیا تو ابوجہل نے لوگوں کو لڑائی کی تیاری کے لیے کہا، نیز انہیں ابھارا کہ تم اپنے قافلے کی حفاظت کے لیے نکلو، لیکن امیہ نے مکے سے باہر نکلنے کو پسند نہ کیا۔ ابوجہل نے اس کے پاس آ کر کہا: ”ابے ابو صفوان! تم وادی کے سردار ہو، جب لوگ دیکھیں گے کہ تم لڑائی کے لیے نہیں نکل رہے تو وہ بھی نہیں نکلیں گے۔“ ابوجہل مسلسل اصرار کرتا رہا حتی کہ امیہ نے کہا: ”اگر تو مجھے مجبور کرتا ہے تو اللہ کی قسم! میں ایسا تیز رفتار اونٹ خریدتا ہوں جس کا مکے میں کوئی ثانی نہیں ہو گا۔“ پھر امیہ ملعون نے (اپنی بیوی سے) کہا: ”اے ام صفوان! میرا جنگی سامان تیار کرو۔“ اس نے کہا: ”اے ابو صفوان! کیا تم اپنے یثربی بھائی (دوست) کی بات بھول گئے ہو؟“ امیہ بولا: ”میں بھولا نہیں ہوں لیکن ان کے ساتھ صرف تھوڑی دور تک جاؤں گا۔“ جب امیہ نکلا تو راستے میں جس منزل پر بھی ٹھہرنا ہوتا یہ اپنا اونٹ قریب ہی باندھ لیتا۔ وہ مسلسل ایسے ہی احتیاط کرتا رہا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے میدان بدر میں کیفرِ کردار تک پہنچا دیا۔ [صحيح البخاري/كتاب المناقب/حدیث: 3950]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة