صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب مناقب جعفر بن أبى طالب:
باب: جعفر بن ابی طالب ہاشمی رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3708
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ دِينَارٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيُّ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَقُولُونَ: أَكْثَرَ أَبُو هُرَيْرَةَ وَإِنِّي كُنْتُ أَلْزَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِبَعِ بَطْنِي حَتَّى لَا آكُلُ الْخَمِيرَ، وَلَا أَلْبَسُ الْحَبِيرَ، وَلَا يَخْدُمُنِي فُلَانٌ وَلَا فُلَانَةُ وَكُنْتُ أُلْصِقُ بَطْنِي بِالْحَصْبَاءِ مِنَ الْجُوعِ , وَإِنْ كُنْتُ لَأَسْتَقْرِئُ الرَّجُلَ الْآيَةَ هِيَ مَعِي كَيْ يَنْقَلِبَ بِي فَيُطْعِمَنِي وَكَانَ أَخْيَرَ النَّاسِ لِلْمِسْكِينِ جَعْفَرُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ كَانَ يَنْقَلِبُ بِنَا فَيُطْعِمُنَا مَا كَانَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى إِنْ كَانَ لَيُخْرِجُ إِلَيْنَا الْعُكَّةَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ فَنَشُقُّهَا فَنَلْعَقُ مَا فِيهَا".
ہم سے احمد بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن ابراہیم بن دینار ابوعبداللہ جہنی نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ذئب نے، ان سے سعید مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت احادیث بیان کرتا ہے، حالانکہ پیٹ بھرنے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر وقت رہتا تھا، میں خمیری روٹی نہ کھاتا اور نہ عمدہ لباس پہنتا تھا (یعنی میرا وقت علم کے سوا کسی دوسری چیز کے حاصل کرنے میں نہ جاتا) اور نہ میری خدمت کے لیے کوئی فلاں یا فلانی تھی بلکہ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ سے پتھر باندھ لیا کرتا۔ بعض وقت میں کسی کو کوئی آیت اس لیے پڑھ کر اس کا مطلب پوچھتا تھا کہ وہ اپنے گھر لے جا کر مجھے کھانا کھلا دے، حالانکہ مجھے اس آیت کا مطلب معلوم ہوتا تھا، مسکینوں کے ساتھ سب سے بہتر سلوک کرنے والے جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، ہمیں اپنے گھر لے جاتے اور جو کچھ بھی گھر میں موجود ہوتا وہ ہم کو کھلاتے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا کہ صرف شہد یا گھی کی کپی ہی نکال کر لاتے اور اسے ہم پھاڑ کر اس میں جو کچھ ہوتا اسے ہی چاٹ لیتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3708]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت احادیث بیان کرتا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ میں اپنا پیٹ بھرنے کے لیے ہر وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رہتا تھا، نہ تو میں خمیری روٹی کھاتا اور نہ عمدہ لباس ہی پہنتا، نہ میری خدمت کے لیے فلاں مرد اور فلاں عورت ہی تھی۔ میں بھوک کی شدت کی وجہ سے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا۔ بعض اوقات میں کسی سے کوئی آیت پوچھتا، حالانکہ وہ آیت مجھے یاد ہوتی تھی۔ میرا مطلب یہ ہوتا تھا کہ وہ مجھے گھر لے جا کر کھانا کھلا دے۔ حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ مساکین کے حق میں تمام لوگوں سے زیادہ بہتر تھے۔ وہ ہمیں اپنے گھر لے جاتے اور جو کچھ گھر میں میسر ہوتا وہ ہمیں کھلاتے۔ بعض اوقات تو ایسا ہوتا کہ وہ شہد یا گھی کی کپی ہی لے آتے جس میں کچھ نہ ہوتا، وہ اسے پھاڑ دیتے اور اس میں جو کچھ ہوتا ہم اسے چاٹ لیتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3708]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5332
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ،" أَنَّ ابْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا طَلَّقَ امْرَأَةً لَهُ وَهِيَ حَائِضٌ تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَاجِعَهَا، ثُمَّ يُمْسِكَهَا حَتَّى تَطْهُرَ ثُمَّ تَحِيضَ عِنْدَهُ حَيْضَةً أُخْرَى، ثُمَّ يُمْهِلَهَا حَتَّى تَطْهُرَ مِنْ حَيْضِهَا، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَلْيُطَلِّقْهَا حِينَ تَطْهُرُ مِنْ قَبْلِ أَنْ يُجَامِعَهَا، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ"، وَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ إِذَا سُئِلَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ لِأَحَدِهِمْ: إِنْ كُنْتَ طَلَّقْتَهَا ثَلَاثًا فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْكَ، حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَكَ. وَزَادَ فِيهِ غَيْرُهُ. عَنْ اللَّيْثِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: لَوْ طَلَّقْتَ مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنِي بِهَذَا.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تو اس وقت وہ حائضہ تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو حکم دیا کہ رجعت کر لیں اور انہیں اس وقت تک اپنے ساتھ رکھیں جب تک وہ اس حیض سے پاک ہونے کے بعد پھر دوبارہ حائضہ نہ ہوں۔ اس وقت بھی ان سے کوئی تعرض نہ کریں اور جب وہ اس حیض سے بھی پاک ہو جائیں تو اگر اس وقت انہیں طلاق دینے کا ارادہ ہو تو طہر میں اس سے پہلے کہ ان سے ہمبستری کریں، طلاق دیں۔ پس یہی وہ وقت ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اگر اس کے (مطلقہ ثلاثہ کے) بارے میں سوال کیا جاتا تو سوال کرنے والے سے وہ کہتے کہ اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر تمہاری بیوی تم پر حرام ہے۔ یہاں تک کہ وہ تمہارے سوا دوسرے شوہر سے نکاح کرے۔ «غير قتيبة» (ابوالجہم) کے اس حدیث میں لیث سے یہ اضافہ کیا ہے کہ (انہوں نے بیان کیا کہ) مجھ سے نافع نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دے دی ہو۔ (تو تم اسے دوبارہ اپنے نکاح میں لا سکتے ہو) کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 5332]
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی جبکہ وہ حیض سے تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”اس سے رجوع کریں، پھر اسے اپنے پاس رکھیں حتیٰ کہ وہ حیض سے پاک ہو جائے۔ پھر اسے دوبارہ حیض آئے تو اسے مہلت دیں حتیٰ کہ حیض سے پاک ہو جائے، اگر اس وقت اسے طلاق دینے کا ارادہ ہو تو جس وقت وہ پاک ہو جائے نیز جماع کرنے سے پہلے اسے طلاق دیں۔ یہی وہ وقت ہے جس میں عورتوں کو طلاق دینے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔“ پھر جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا جاتا تو وہ سوال کرنے والے سے کہتے: ”اگر تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں تو پھر بیوی تم پر حرام ہے یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شوہر سے شادی کرے“، ایک روایت میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو تم اسے دوبارہ اپنے پاس لا سکتے ہو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 5332]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة