صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ فَضْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا:
باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ , سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے اور انہوں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو (جو برحق خلیفہ ہیں) یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3772]
حضرت ابو وائل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ روانہ کیا تاکہ لوگوں کو ان کی مدد پر آمادہ کریں اور انہیں اس مقصد کے لیے باہر نکالیں تو وہاں پہنچ کر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”ہمیں اس بات کا علم ہے کہ وہ (اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) دنیا وآخرت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ تم اس (اللہ) کی پیروی کرتے ہو یا اس کے مقابلے میں تم اُم المومنین کی پیروی کرتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7100
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ الْأَسَدِيُّ، قَالَ: لَمَّا سَارَ طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَعَائِشَةُ، إِلَى الْبَصْرَةِ بَعَثَ عَلِيٌّ، عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، وَحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ، فَقَدِمَا عَلَيْنَا الْكُوفَةَ، فَصَعِدَا الْمِنْبَرَ، فَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَوْقَ الْمِنْبَرِ فِي أَعْلَاهُ، وَقَامَ عَمَّارٌ أَسْفَلَ مِنَ الْحَسَنِ، فَاجْتَمَعْنَا إِلَيْهِ، فَسَمِعْتُ عَمَّارًا، يَقُولُ:" إِنَّ عَائِشَةَ قَدْ سَارَتْ إِلَى الْبَصْرَةِ، وَاللَّهِ إِنَّهَا لَزَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَلَكِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ابْتَلَاكُمْ لِيَعْلَمَ إِيَّاهُ تُطِيعُونَ أَمْ هِيَ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبکر بن عیاش نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحصین نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابومریم عبداللہ بن زیاد الاسدی نے بیان کیا کہ جب طلحہ، زبیر اور عائشہ رضی اللہ عنہم بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر اور حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر چڑھے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ تھے اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما ان سے نیچے تھے۔ پھر ہم ان کے پاس جمع ہو گئے اور میں نے عمار رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ گئی ہیں اور اللہ کی قسم وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پاک بیوی ہیں لیکن اللہ تبارک و تعالیٰ نے تمہیں آزمایا ہے تاکہ جان لے کہ تم اس اللہ کی اطاعت کرتے ہو یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7100]
حضرت ابو مریم عبداللہ بن زیاد اسدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ، حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اور ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اور حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔ یہ دونوں بزرگ ہمارے پاس کوفہ آئے اور منبر پر تشریف فرما ہوئے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ منبر کے اوپر سب سے اونچی جگہ پر تھے اور حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ان سے نیچے کی سیڑھی پر تھے۔ ہم ان کے پاس جمع ہو گئے۔ پھر میں نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بصرہ کی طرف روانہ ہو چکی ہیں۔ اللہ کی قسم! وہ دنیا اور آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے سے تمہارا امتحان لینا چاہتا ہے کہ تم صرف اس کی اطاعت کرتے ہو یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا کہا مانتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7100]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7101
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي غَنِيَّةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَامَ عَمَّارٌ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ، فَذَكَرَ عَائِشَةَ وَذَكَرَ مَسِيرَهَا، وَقَالَ:"إِنَّهَا زَوْجَةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّهَا مِمَّا ابْتُلِيتُمْ".
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی غنیہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے بیان کیا اور ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ کوفہ میں عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور کہا کہ بلاشبہ وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں لیکن تم ان کے بارے میں آزمائے گئے ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7101]
حضرت ابو وائل سے روایت ہے کہ کوفہ میں حضرت عمار رضی اللہ عنہ منبر پر کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور ان کی روانگی کا ذکر کیا اور فرمایا: ”بے شک وہ دنیا و آخرت میں تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں، لیکن تمہیں ان کے متعلق آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 7101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة