🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. باب فضل عائشة رضي الله عنها:
باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْحَكَمِ , سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ، قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ خَطَبَ عَمَّارٌ، فَقَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ لِتَتَّبِعُوهُ أَوْ إِيَّاهَا".
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکم نے اور انہوں نے ابووائل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے عمار اور حسن رضی اللہ عنہما کو کوفہ بھیجا تھا تاکہ لوگوں کو اپنی مدد کے لیے تیار کریں تو عمار رضی اللہ عنہ نے ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا: مجھے بھی خوب معلوم ہے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، لیکن اللہ تعالیٰ تمہیں آزمانا چاہتا ہے کہ دیکھے تم علی رضی اللہ عنہ کی اتباع کرتے ہو (جو برحق خلیفہ ہیں) یا عائشہ رضی اللہ عنہا کی۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3772]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمار بن ياسر العنسي، أبو اليقظانصحابي
👤←👥شقيق بن سلمة الأسدي، أبو وائل
Newشقيق بن سلمة الأسدي ← عمار بن ياسر العنسي
مخضرم
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← شقيق بن سلمة الأسدي
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥محمد بن جعفر الهذلي، أبو عبد الله، أبو بكر
Newمحمد بن جعفر الهذلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← محمد بن جعفر الهذلي
ثقة حافظ
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 3772 کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 3772
حدیث حاشیہ:
حضرت عائشہ ؓ لوگوں کے بھڑکانے میں آگئیں، اور حضرت علی ؓ سے اس بات پر لڑنے کو مستعد ہوگئیں کہ وہ حضرت عثمان ؓ کے قاتلوں سے قصاص نہیں لیتے، حضرت علی ؓ یہ کہتے تھے کہ پہلے سب لوگوں کو ایک ہوجانے دو، پھر اچھی طرح دریافت کرکے جس پر قتل ثابت ہوگا اس سے قصاص لیاجائے گا، خدا کے حکم سے یہ آیت مراد ہے ﴿وقرنَ في بیوتکن﴾ (الأحزاب: 33)
جو خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے لیے اتری ہے، یہاں تک کہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ فرماتی تھیں میں تو اونٹ پرسوار ہوکر حرکت کرنے والی نہیں جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ مل جاؤں یعنی مرتے دم تک اپنے گھر میں رہوں گی، حافظ نے کہا حضرت عائشہ ؓ اور حضرت طلحہ ؓ اور زبیر ؓ یہ سب حضرات مجتہد تھے، ان کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں میں آپس میں اتفاق کرادینا ضروری ہے، اور یہ اس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک کہ حضرت عثمان ؓ کے قاتلین سے قصاص نہ لیاجاتا۔
(وحیدی)
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3772]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:3772
حدیث حاشیہ:

جنگ جمل کے موقع پر حضرت علی ؓ نے حضرت عمار بن یاسر ؓ اور حضرت حسن ؓ کو کوفے روانہ کیا تاکہ لوگوں کو ان کا ساتھ دینے پر آمادہ کیا جائے۔
دراصل حضرت عائشہ ؓ، حضرت طلحہ ؓ، اورحضرت زبیر ؓ یہ سب حضرات مجتہد تھے۔
ان کا مطلب یہ تھا کہ مسلمانوں کا باہمی اتفاق بہت ضروری ہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں جب تک قاتلین عثمان ؓ سے قصاص نہ لیاجائے۔
حضرت علی ؓ کا موقف تھا کہ پہلے سب لوگوں کو ایک ہوجانے دو، پھر اچھی طرح دریافت کرکے جس پر قتل ثابت ہوگا اس سے قصاص لیا جائے گا۔

اس حدیث میں اس کی اتباع سے مراد اللہ کی اتباع ہے۔
مطلب یہ ہے کہ امام وقت کی اطاعت کی جائے، اس کے خلاف خروج نہ کیاجائے۔
بہرحال اس معاملے میں حضرت عائشہ ؓ کا اجتہاد مبنی برحقیقت نہ تھا، لیکن اس کا احساس انھیں بعد میں ہوا۔
۔
۔
رضي اللہ تعالیٰ عنها۔
۔
۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3772]

Sahih Bukhari Hadith 3772 in Urdu