صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. باب فضل عائشة رضي الله عنها:
باب: عائشہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 3775
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ وَاللَّهِ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ وَإِنَّا نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُهُ عَائِشَةُ فَمُرِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ أَنْ يُهْدُوا إِلَيْهِ حَيْثُ مَا كَانَ أَوْ حَيْثُ مَا دَارَ، قَالَتْ: فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: فَأَعْرَضَ عَنِّي , فَلَمَّا عَادَ إِلَيَّ ذَكَرْتُ لَهُ ذَاكَ فَأَعْرَضَ عَنِّي , فَلَمَّا كَانَ فِي الثَّالِثَةِ ذَكَرْتُ لَهُ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ فَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا نَزَلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا".
ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے کہا، ہم سے ہشام نے، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے کہا کہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے بھیجنے میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میری سوکنیں سب ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور ان سے کہا: اللہ کی قسم لوگ جان بوجھ کر اپنے تحفے اس دن بھیجتے ہیں جس دن عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری ہوتی ہے، ہم بھی عائشہ رضی اللہ عنہا کی طرح اپنے لیے فائدہ چاہتی ہیں، اس لیے تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہو کہ آپ لوگوں کو فرما دیں کہ میں جس بھی بیوی کے پاس رہوں جس کی بھی باری ہو اسی گھر میں تحفے بھیج دیا کرو۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کی، آپ نے کچھ بھی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے دوبارہ عرض کیا جب بھی جواب نہ دیا، پھر تیسری بار عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلمہ! عائشہ کے بارے میں مجھ کو نہ ستاؤ۔ اللہ کی قسم! تم میں سے کسی بیوی کے لحاف میں (جو میں اوڑھتا ہوں سوتے وقت) مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی ہاں (عائشہ کا مقام یہ ہے) ان کے لحاف میں وحی نازل ہوتی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3775]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ لوگ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن اپنے ہدایا اور نذرانے پیش کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جمع ہوئیں اور کہنے لگیں: ”اللہ کی قسم! اے ام سلمہ! لوگ اپنے ہدایا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری میں پیش کرتے ہیں حالانکہ ہم بھی خیر و برکت کی خواہش مند ہیں جیسا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا خیر و برکت کو چاہتی ہیں۔ اس لیے آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں کہ وہ لوگوں سے کہیں، وہ اپنے نذرانے آپ جہاں بھی ہوں پیش کر دیا کریں۔“ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب پھر میری باری پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے دوبارہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مجھ سے اعراض کیا۔ جب تیسری مرتبہ تشریف لائے تو میں نے پھر اپنے موقف کو دہرایا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ رضی اللہ عنہا! تم مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق تکلیف نہ دو۔ اللہ کی قسم! حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی بیوی کے لحاف میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 3775]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2574
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا،" أَنَّ النَّاسَ كَانُوا يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ يَبْتَغُونَ بِهَا، أَوْ يَبْتَغُونَ بِذَلِكَ مَرْضَاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ لوگ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں) تحائف بھیجنے کے لیے عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اپنے ہدایا سے، یا اس خاص دن کے انتظار سے (راوی کو شک ہے) لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی حاصل کرنا چاہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2574]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ لوگ اس بات کا اہتمام کرتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کے دن اپنے تحائف بھیجیں اور اس طریقے سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشنودی چاہتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل الصحابة/حدیث: 2574]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة