🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
30. بَابُ غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهْيَ الأَحْزَابُ:
باب: غزوہ خندق کا بیان جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4101
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: أَتَيْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , فَقَالَ:" إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ كُدْيَةٌ شَدِيدَةٌ , فَجَاءُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: هَذِهِ كُدْيَةٌ عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ , فَقَالَ:" أَنَا نَازِلٌ" , ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ , وَلَبِثْنَا ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقًا , فَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ فَضَرَبَ , فَعَادَ كَثِيبًا أَهْيَلَ أَوْ أَهْيَمَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي إِلَى الْبَيْتِ , فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: رَأَيْتُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا كَانَ فِي ذَلِكَ صَبْرٌ , فَعِنْدَكِ شَيْءٌ , قَالَتْ: عِنْدِي شَعِيرٌ وَعَنَاقٌ , فَذَبَحَتِ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ , ثُمَّ جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَجِينُ قَدِ انْكَسَرَ وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ الْأَثَافِيِّ قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَجَ , فَقُلْتُ: طُعَيِّمٌ لِي فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَرَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ , قَالَ:" كَمْ هُوَ" , فَذَكَرْتُ لَهُ , قَالَ:" كَثِيرٌ طَيِّبٌ" , قَالَ:" قُلْ لَهَا لَا تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ وَلَا الْخُبْزَ مِنَ التَّنُّورِ حَتَّى آتِيَ" , فَقَالَ: قُومُوا فَقَامَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ , فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ: وَيْحَكِ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَعَهُمْ , قَالَتْ: هَلْ سَأَلَكَ , قُلْتُ: نَعَمْ , فَقَالَ:" ادْخُلُوا وَلَا تَضَاغَطُوا فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ وَيُخَمِّرُ الْبُرْمَةَ وَالتَّنُّورَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ وَيُقَرِّبُ إِلَى أَصْحَابِهِ , ثُمَّ يَنْزِعُ فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَغْرِفُ حَتَّى شَبِعُوا وَبَقِيَ بَقِيَّةٌ , قَالَ:" كُلِي هَذَا وَأَهْدِي فَإِنَّ النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن نے بیان کیا، ان سے ان کے والد ایمن حبشی نے بیان کیا کہ میں جابر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم غزوہ خندق کے موقع پر خندق کھود رہے تھے کہ ایک بہت سخت قسم کی چٹان نکلی (جس پر کدال اور پھاوڑے کا کوئی اثر نہیں ہوتا تھا اس لیے خندق کی کھدائی میں رکاوٹ پیدا ہو گئی) صحابہ رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے عرض کیا کہ خندق میں ایک چٹان ظاہر ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اندر اترتا ہوں۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے اور اس وقت (بھوک کی شدت کی وجہ سے) آپ کا پیٹ پتھر سے بندھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور چٹان پر اس سے مارا۔ چٹان (ایک ہی ضرب میں) بالو کے ڈھیر کی طرح بہہ گئی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئیے۔ (گھر آ کر) میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ آج میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (فاقوں کی وجہ سے) اس حالت میں دیکھا کہ صبر نہ ہو سکا۔ کیا تمہارے پاس (کھانے کی) کوئی چیز ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں کچھ جَو ہیں اور ایک بکری کا بچہ۔ میں نے بکری کے بچہ کو ذبح کیا اور میری بیوی نے جَو پیسے۔ پھر گوشت کو ہم نے چولھے پر ہانڈی میں رکھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولھے پر پکنے کے قریب تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے عرض کیا گھر کھانے کے لیے مختصر کھانا تیار ہے۔ یا رسول اللہ! آپ اپنے ساتھ ایک دو آدمیوں کو لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کتنا ہے؟ میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ تو بہت ہے اور نہایت عمدہ و طیب ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی بیوی سے کہہ دو کہ چولھے سے ہانڈی نہ اتاریں اور نہ تنور سے روٹی نکالیں میں ابھی آ رہا ہوں۔ پھر صحابہ سے فرمایا کہ سب لوگ چلیں۔ چنانچہ تمام انصار و مہاجرین تیار ہو گئے۔ جب جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے انہوں نے کہا اب کیا ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین و انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کچھ پوچھا بھی تھا؟ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اندر داخل ہو جاؤ لیکن اژدہام نہ ہونے پائے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم روٹی کا چورا کرنے لگے اور گوشت اس پر ڈالنے لگے۔ ہانڈی اور تنور دونوں ڈھکے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے لیا اور صحابہ کے قریب کر دیا۔ پھر آپ نے گوشت اور روٹی نکالی۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر روٹی چورا کرتے جاتے اور گوشت اس میں ڈالتے جاتے۔ یہاں تک کہ تمام صحابہ شکم سیر ہو گئے اور کھانا بچ بھی گیا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے) فرمایا کہ اب یہ کھانا تم خود کھاؤ اور لوگوں کے یہاں ہدیہ میں بھیجو کیونکہ لوگ آج کل فاقہ میں مبتلا ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4101]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم خندق کے دن زمین کھود رہے تھے۔ اچانک ایک سخت چٹان نمودار ہوئی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کی: خندق میں ایک سخت چٹان نکل آئی ہے۔ آپ نے فرمایا: میں خود اتر کر اسے دور کرتا ہوں۔ چنانچہ آپ کھڑے ہوئے تو (بھوک کی وجہ سے) آپ کے پیٹ پر پتھر بندھے ہوئے تھے اور ہم بھی تین دن سے بھوکے پیاسے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کدال اپنے ہاتھ میں لی اور جب اس چٹان پر ماری تو مارتے ہی وہ ریت کی طرح ریزہ ریزہ ہو گئی۔ میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے گھر جانے کی اجازت دیں۔ پھر میں نے گھر آ کر اپنی بیوی سے کہا: آج میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حالت میں دیکھا ہے جو مجھ سے برداشت نہیں ہو سکی۔ کیا تمہارے پاس کچھ کھانے کو ہے؟ اس نے کہا: میرے پاس کچھ جو ہیں اور ایک بکری کا بچہ ہے۔ میں نے جلدی سے بکری کا بچہ ذبح کیا اور میری بیوی نے جو پیسے۔ پھر ہم نے گوشت کے ٹکڑے ہنڈیا میں رکھے۔ اس کے بعد میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آٹا گوندھا جا چکا تھا اور گوشت چولہے پر پکنے کے قریب تھا۔ میں نے آپ سے گزارش کی: اے اللہ کے رسول! گھر کھانے کے لیے تھوڑا سا کھانا تیار ہے۔ آپ ایک دو آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لے چلیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھانا کس قدر ہے؟ میں نے آپ کو سب کچھ بتا دیا تو آپ نے فرمایا: یہ تو مقدار میں بہت اور معیار میں بہت عمدہ اور پاکیزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بس اپنی بیوی سے کہو کہ میرے آنے سے پہلے ہنڈیا چولہے سے نہ اتارے اور نہ تنور سے روٹی نکالے۔ پھر آپ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: سب لوگ چلیں۔ چنانچہ تمام مہاجرین اور انصار تیار ہو گئے۔ جب حضرت جابر رضی اللہ عنہ گھر پہنچے تو اپنی بیوی سے کہا: اب کیا ہو گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تو تمام مہاجرین اور انصار کو ساتھ لے کر تشریف لا رہے ہیں۔ ان کی بیوی نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کچھ دریافت کیا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔ اس دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا: سب اندر آ جاؤ لیکن ازدہام نہ کرو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روٹیوں کے ٹکڑے کیے اور ان پر گوشت ڈالنے لگے۔ جب آپ ہنڈیا اور تنور سے کچھ نکالتے تو انہیں ڈھانپ دیتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھانا اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے قریب کر دیا۔ اسی طرح آپ مسلسل روٹیوں کے ٹکڑے کرتے رہے اور ان پر گوشت ڈالتے رہے حتی کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سیر ہو گئے اور کھانا بھی بچ گیا۔ (آخر میں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی سے فرمایا: اب یہ کھانا تم خود بھی کھاؤ اور لوگوں کو ہدیہ بھی بھیجو کیونکہ لوگ آج کل فاقے میں مبتلا ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 4101]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3070
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ذَبَحْنَا بُهَيْمَةً لَنَا وَطَحَنْتُ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ، فَتَعَالَ أَنْتَ وَنَفَرٌ، فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" يَا أَهْلَ الْخَنْدَقِ إِنَّ جَابِرًا قَدْ صَنَعَ سُؤْرًا فَحَيَّ هَلًا بِكُمْ".
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا ‘ انہیں حنظلہ بن ابی سفیان نے خبر دی ‘ انہیں سعید بن میناء نے خبر دی ‘ کہا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا۔ آپ نے بیان کیا ‘ کہ میں نے (جنگ خندق میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پا کر چپکے سے) عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے ایک چھوٹا سا بکری کا بچہ ذبح کیا ہے۔ اور ایک صاع جو کا آٹا پکوایا ہے۔ اس لیے آپ دو چار آدمیوں کو ساتھ لے کر تشریف لائیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا اے خندق کھودنے والو! جابر نے دعوت کا کھانا تیار کر لیا ہے۔ آؤ چلو ‘ جلدی چلو۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3070]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے (غزوہ خندق کے وقت) عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے بکری کا ایک بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا پیسا ہے، لہٰذا آپ خود اور مزید کچھ ساتھی تشریف لے چلیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بآواز بلند فرمایا: اے اہل خندق! آج جابر رضی اللہ عنہ نے تمہارے لیے ضیافت تیار کی ہے، آؤ جلدی چلیں۔ [صحيح البخاري/كتاب المغازي/حدیث: 3070]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں