🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
23. باب: {يا أيها الذين آمنوا كتب عليكم القصاص فى القتلى الحر بالحر} إلى قوله: {عذاب أليم} :
باب: آیت کی تفسیر ”اے ایمان والو! تم پر مقتولوں کے بارے میں بدلہ لینا فرض کر دیا گیا ہے، آزاد کے بدلہ میں آزاد اور غلام کے بدلے میں غلام“ آخر آیت «عذاب أليم» تک۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4500
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ , سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ السَّهْمِيَّ , حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ أَنَسٍ: أَنَّ الرُّبَيِّعَ عَمَّتَهُ، كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا إِلَيْهَا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا فَعَرَضُوا الْأَرْشَ، فَأَبَوْا فَأَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَوْا إِلَّا الْقِصَاصَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَنَسُ ,كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ"، فَرَضِيَ الْقَوْمُ فَعَفَوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
مجھ سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن بکر سہمی سے سنا، ان سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میری پھوپھی ربیع نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دئیے، پھر اس لڑکی سے لوگوں نے معافی کی درخواست کی لیکن اس لڑکی کے قبیلے والے معافی دینے کو تیار نہیں ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قصاص کے سوا اور کسی چیز پر راضی نہیں تھے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ربیع رضی اللہ عنہا کے دانت توڑ دئیے جائیں گے، نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے، ان کے دانت نہ توڑے جائیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انس! کتاب اللہ کا حکم قصاص کا ہی ہے۔ پھر لڑکی والے راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کچھ اللہ کے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھائیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر ہی دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4500]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی حضرت ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دیے۔ پھر کچھ لوگوں نے لڑکی سے معافی کی درخواست کی لیکن اس کے ورثاء معافی کے لیے تیار نہ ہوئے۔ پھر انہوں نے دیت کی پیش کش کی تو لڑکی کے ورثاء نے دیت لینے سے انکار کر دیا۔ پھر وہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بایں حالت پیش ہوئے کہ قصاص کے علاوہ کسی اور چیز پر راضی نہ تھے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا حکم دے دیا۔ اس پر حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا ربیع رضی اللہ عنہا کے دانت توڑ دیے جائیں گے؟ ہرگز نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے! اس کے دانت نہیں توڑے جائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھو انس! کتاب اللہ میں تو قصاص ہی ہے۔ پھر وہ لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے معاف کر دیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے کچھ بندے ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کے نام لے کر قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو ضرور پورا کرتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4500]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2703
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ، أَنَّ أَنَسًا حَدَّثَهُمْ، أَنَّ الرُّبَيِّعَ وَهِيَ ابْنَةُ النَّضْرِ كَسَرَتْ ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ، فَطَلَبُوا الْأَرْشَ، وَطَلَبُوا الْعَفْوَ، فَأَبَوْا، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُمْ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ: أَتُكْسَرُ ثَنِيَّةُ الرُّبَيِّعِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ لَا، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا تُكْسَرُ ثَنِيَّتُهَا، فَقَالَ: يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ، فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَعَفَوْا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ". زَادَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ.
ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا، کہا مجھ سے حمید نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نضر کی بیٹی ربیع رضی اللہ عنہا نے ایک لڑکی کے دانت توڑ دئیے۔ اس پر لڑکی والوں نے تاوان مانگا اور ان لوگوں نے معافی چاہی، لیکن معاف کرنے سے انہوں نے انکار کیا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدلہ لینے کا حکم دیا۔ (یعنی ان کا بھی دانت توڑ دیا جائے) انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ربیع کا دانت کس طرح توڑا جا سکے گا۔ نہیں اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے، اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انس! کتاب اللہ کا فیصلہ تو بدلہ لینے (قصاص) ہی کا ہے۔ چنانچہ یہ لوگ راضی ہو گئے اور معاف کر دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے کچھ بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ خود ان کی قسم پوری کرتا ہے۔ فزاری نے (اپنی روایت میں) حمید سے، اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے یہ زیادتی نقل کی ہے کہ وہ لوگ راضی ہو گئے اور تاوان لے لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2703]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت ربیع رضی اللہ عنہا جو نضر کی دختر تھیں، انہوں نے کسی نوجوان لڑکی کا اگلا دانت توڑ دیا تو لڑکی کے ورثاء نے تاوان کا مطالبہ کر دیا۔ ربیع کے خاندان نے معافی کی درخواست کی تو انہوں نے انکار کر دیا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے قصاص لینے کا حکم دیا۔ حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا ربیع کا دانت توڑ دیا جائے گا؟ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! کتاب اللہ کا فیصلہ تو قصاص ہی ہے۔ یہ سن کر دوسرے لوگ راضی ہو گئے اور انہوں نے قصاص معاف کر دیا۔ تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں، اگر وہ اللہ پر یقین محکم رکھتے ہوئے قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم پوری فرما دیتا ہے۔ (راویِ حدیث) فزاری نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں، قوم راضی ہو گئی اور انہوں نے دیت قبول کر لی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2703]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4611
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، أَخْبَرَنَا الْفَزَارِيُّ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كَسَرَتْ الرُّبَيِّعُ، وَهْيَ عَمَّةُ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، ثَنِيَّةَ جَارِيَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَطَلَبَ الْقَوْمُ الْقِصَاصَ، فَأَتَوْا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْقِصَاصِ، فَقَالَ أَنَسُ بْنُ النَّضْرِ عَمُّأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: لَا وَاللَّهِ لَا تُكْسَرُ سِنُّهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَنَسُ، كِتَابُ اللَّهِ الْقِصَاصُ"، فَرَضِيَ الْقَوْمُ وَقَبِلُوا الْأَرْشَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ، مَنْ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ".
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو مروان بن معاویہ فزاری نے خبر دی، انہیں حمید طویل نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ربیع نے جو انس رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں، انصار کی ایک لڑکی کے آگے کے دانت توڑ دیئے۔ لڑکی والوں نے قصاص چاہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاص کا حکم دیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے چچا انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: نہیں اللہ کی قسم! ان کا دانت نہ توڑ ا جائے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انس! لیکن کتاب اللہ کا حکم قصاص ہی کا ہے۔ پھر لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور دیت لینا منظور کر لیا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے بہت سے بندے ایسے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم سچی کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4611]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ان کی پھوپھی حضرت ربیع بنت نضر رضی اللہ عنہا نے انصار کی ایک لڑکی کا سامنے والا دانت توڑ دیا۔ لڑکی والوں نے قصاص کا مطالبہ کیا اور اس غرض سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی قصاص کا حکم دیا تو حضرت انس بن مالک کے چچا حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! نہیں۔ اللہ کی قسم! اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انس! اللہ کی کتاب میں قصاص ہی ہے۔ اس دوران میں لڑکی والے معافی پر راضی ہو گئے اور انہوں نے دیت قبول کر لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے بندوں میں سے کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ اگر وہ اللہ کا نام لے کر قسم اٹھا لیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو ضرور سچا کر دیتا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4611]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں