🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
11. باب: {ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا} إلى قوله: {والله يحب المحسنين} :
باب: آیت کی تفسیر ”جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے پہلے کھا لیا ہے“ آخر آیت «والله يحب المحسنين» تک، یعنی شراب کی حرمت نازل ہونے سے پہلے پہلے جن لوگوں نے شراب پی ہے اور اب وہ تائب ہو گئے، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4620
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ الْخَمْرَ الَّتِي أُهْرِيقَتِ الْفَضِيخُ، وَزَادَنِي مُحَمَّدٌ الْبِيكَنْدِيُّ، عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ، قَالَ: كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، فَنَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ، فَأَمَرَ مُنَادِيًا، فَنَادَى، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ، فَانْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ، قَالَ: فَخَرَجْتُ، فَقُلْتُ: هَذَا مُنَادٍ يُنَادِي، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، فَقَالَ لِي: اذْهَبْ فَأَهْرِقْهَا، قَالَ: فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، قَالَ: وَكَانَتْ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: قُتِلَ قَوْمٌ وَهْيَ فِي بُطُونِهِمْ، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ: لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93".
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے، ان سے انس بن مالک نے کہ (حرمت نازل ہونے کے بعد) جو شراب بہائی گئی تھی وہ «فضيخ‏.‏» کی تھی۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ مجھ سے محمد نے ابوالنعمان سے اس زیادتی کے ساتھ بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں صحابہ کی ایک جماعت کو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر شراب پلا رہا تھا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اور انہوں نے اعلان کرنا شروع کیا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: باہر جا کے دیکھو یہ آواز کیسی ہے۔ بیان کیا کہ میں باہر آیا اور کہا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے کہ خبردار ہو جاؤ، شراب حرام ہو گئی ہے۔ یہ سنتے ہی انہوں نے مجھ کو کہا کہ جاؤ اور شراب بہا دو۔ راوی نے بیان کیا، مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں «فضيخ‏.‏» شراب استعمال ہوتی تھی۔ بعض لوگوں نے شراب کو جو اس طرح بہتے دیکھا تو کہنے لگے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ لوگوں نے شراب سے اپنا پیٹ بھر رکھا تھا اور اسی حالت میں انہیں قتل کر دیا گیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا‏» جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور نیک کام کرتے رہتے ہیں، ان پر اس چیز میں کوئی گناہ نہیں جس کو انہوں نے کھا لیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4620]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شراب بہائی گئی تھی اس کا نام «الْفَضِيخُ» فضیخ تھا۔ محمد بیکندی نے ابونعمان سے یہ اضافہ بیان کیا ہے کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا کہ شراب کی حرمت نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا تو اس نے اعلان کرنا شروع کر دیا۔ حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: (انس!) باہر جا کر دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ میں نے باہر آ کر دیکھا اور (واپس آ کر) بتلایا کہ ایک منادی اعلان کر رہا ہے: خبردار! شراب کو حرام کر دیا گیا ہے۔ یہ سنتے ہی انہوں نے حکم دیا: جاؤ اور اس شراب کو بہا دو، چنانچہ مدینے کی گلیوں میں شراب بہنے لگی۔ راوی نے بیان کیا کہ ان دنوں «الْفَضِيخُ» فضیخ شراب نوش کی جاتی تھی۔ شراب بہتی دیکھ کر کچھ لوگ کہنے لگے: کچھ لوگوں نے شراب سے اپنا پیٹ بھر رکھا تھا اور اسی حالت میں وہ شہید کر دیے گئے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا﴾ [سورة المائدة: 93] جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان پر کوئی گناہ نہیں جو وہ پہلے پی چکے ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4620]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ أَبُو يَحْيَى، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" كُنْتُ سَاقِيَ الْقَوْمِ فِي مَنْزِلِ أَبِي طَلْحَةَ، وَكَانَ خَمْرُهُمْ يَوْمَئِذٍ الْفَضِيخَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنَادِيًا يُنَادِي، أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ، قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو طَلْحَةَ: اخْرُجْ فَأَهْرِقْهَا، فَخَرَجْتُ فَهَرَقْتُهَا فَجَرَتْ فِي سِكَكِ الْمَدِينَةِ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ: قَدْ قُتِلَ قَوْمٌ وَهِيَ فِي بُطُونِهِمْ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ لَيْسَ عَلَى الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوا سورة المائدة آية 93 الْآيَةَ".
ہم سے ابویحییٰ محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو عفان بن مسلم نے خبر دی، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے ثابت نے بیان کیا، اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ میں ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ ان دنوں کھجور ہی کی شراب پیا کرتے تھے۔ (پھر جونہی شراب کی حرمت پر آیت قرآنی اتری) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے ندا کرائی کہ شراب حرام ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا (یہ سنتے ہی) ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ باہر لے جا کر اس شراب کو بہا دے۔ چنانچہ میں نے باہر نکل کر ساری شراب بہا دی۔ شراب مدینہ کی گلیوں میں بہنے لگی، تو بعض لوگوں نے کہا، یوں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اس حالت میں قتل کر دیئے گئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹ میں موجود تھی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليس على الذين آمنوا وعملوا الصالحات جناح فيما طعموا‏» وہ لوگ جو ایمان لائے اور عمل صالح کئے، ان پر ان چیزوں کا کوئی گناہ نہیں ہے۔ جو پہلے کھا چکے ہیں (آخر آیت تک)۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2464]
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھر لوگوں کو شراب پلا رہا تھا۔ اس وقت لوگ کھجور کی شراب استعمال کرتے تھے۔ اس دوران رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی (اعلان) کرنے والے کو حکم دیا کہ لوگوں میں شراب کی حرمت کا اعلان کر دے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے مجھے حکم دیا کہ باہر نکل کر تمام شراب بہا دو، چنانچہ میں نے باہر نکل کر تمام شراب بہا دی تو وہ مدینہ کی گلیوں میں بہہ نکلی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ جو لوگ اس حال میں شہید ہوئے ہیں کہ شراب ان کے پیٹوں میں تھی ان کا کیا حال ہوگا؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: ﴿جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ جو بھی کھا پی چکے ہیں ان پر کوئی گناہ نہیں﴾ [سورة المائدة: 93] ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2464]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں