🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
17. باب قوله: {لقد تاب الله على النبى والمهاجرين والأنصار الذين اتبعوه فى ساعة العسرة من بعد ما كاد يزيغ قلوب فريق منهم ثم تاب عليهم إنه بهم رءوف رحيم} :
باب: آیت کی تفسیر ”بیشک اللہ نے نبی پر مہاجرین و انصار پر رحمت فرمائی، وہ لوگ جنہوں نے نبی کا ساتھ تنگی کے وقت (جنگ تبوک) میں دیا، بعد اس کے کہ ان میں سے ایک گروہ کے دلوں میں کچھ تزلزل پیدا ہو گیا تھا۔ پھر (اللہ نے) ان لوگوں پر رحمت کے ساتھ توجہ فرما دی، بیشک وہ ان کے حق میں بڑا ہی شفیق بڑا ہی رحم کرنے والا ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4676
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يُونُسُ. ح قَالَ أَحْمَدُ: وَحَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ، حَدَّثَنَا يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فِي حَدِيثِهِ،وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا سورة التوبة آية 118، قَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي، أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی (دوسری سند) احمد بن صالح نے بیان کیا کہ ہم سے عنبسہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبدالرحمٰن بن کعب نے خبر دی، کہا کہ مجھے عبداللہ بن کعب نے خبر دی کہ (ان کے والد) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں یہی ان کو راستے میں ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے ان کے واقعہ کے سلسلے میں سنا جس کے بارے میں آیت «وعلى الثلاثة الذين خلفوا‏» نازل ہوئی تھی۔ آپ نے آخر میں (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) عرض کیا تھا کہ اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں خیرات کرتا ہوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں اپنا کچھ تھوڑا مال اپنے پاس ہی رہنے دو۔ یہ تمہارے حق میں بھی بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4676]
حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں سے یہی ان کو راستے میں ساتھ لے کر چلتے تھے، انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے اس واقعے کے سلسلے میں سنا جس کے بارے میں یہ آیت ﴿وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا﴾ [سورة التوبة: 118] اور ان تین آدمیوں پر بھی (مہربانی کے ساتھ توجہ فرمائی) جن کا معاملہ ملتوی رکھا گیا تھا۔ نازل ہوئی تھی، انہوں نے آخر میں کہا تھا: میں اپنی توبہ کے قبول ہونے کی خوشی میں اپنا تمام مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں صدقہ کرتا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں، کچھ مال اپنے لیے بھی رکھ لو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4676]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2757
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ، قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ‘ ان سے عقیل نے ‘ ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے خبر دی اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میری توبہ (غزوہ تبوک میں نہ جانے کی) قبول ہونے کا شکرانہ یہ ہے کہ میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے راستے میں دیدوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر اپنے مال کا ایک حصہ اپنے پاس ہی باقی رکھو تو تمہارے حق میں یہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ پھر میں اپنا خیبر کا حصہ اپنے پاس محفوظ رکھتا ہوں۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2757]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری توبہ کا اتمام یہ ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان کرکے اس سے دستبردار ہوجاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کچھ اپنے پاس بھی رکھو، یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا: اپنا وہ حصہ اپنے پاس رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2758
وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي كِتَابِهِ لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ سورة آل عمران آية 92 وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِي إِلَيَّ بَيْرُحَاءَ، قَالَ: وَكَانَتْ حَدِيقَةً كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَدْخُلُهَا وَيَسْتَظِلُّ بِهَا وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا فَهِيَ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْجُو بِرَّهُ وَذُخْرَهُ فَضَعْهَا أَيْ رَسُولَ اللَّهِ حَيْثُ أَرَاكَ اللَّهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَخْ يَا أَبَا طَلْحَةَ ذَلِكَ مَالٌ رَابِحٌ قَبِلْنَاهُ مِنْكَ وَرَدَدْنَاهُ عَلَيْكَ، فَاجْعَلْهُ فِي الْأَقْرَبِينَ، فَتَصَدَّقَ بِهِ أَبُو طَلْحَةَ عَلَى ذَوِي رَحِمِهِ، قَالَ: وَكَانَ مِنْهُمْ أُبَيٌّ، وَحَسَّانُ، قَالَ: وَبَاعَ حَسَّانُ حِصَّتَهُ مِنْهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ، فَقِيلَ لَهُ: تَبِيعُ صَدَقَةَ أَبِي طَلْحَةَ، فَقَالَ: أَلَا أَبِيعُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ بِصَاعٍ مِنْ دَرَاهِمَ، قَالَ: وَكَانَتْ تِلْكَ الْحَدِيقَةُ فِي مَوْضِعِ قَصْرِ بَنِي حُدَيْلَةَ الَّذِي بَنَاهُ مُعَاوِيَةُ".
اور اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا کہ مجھے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے خبر دی ‘ انہیں اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے (امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ) میں سمجھتا ہوں کہ یہ روایت انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا (جب سورۃ آل عمران کی) یہ آیت نازل ہوئی «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» تم نیکی ہرگز نہیں پا سکتے جب تک اس مال میں سے خرچ نہ کرو جو تم کو زیادہ پسند ہے۔ تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ تبارک و تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے «لن تنالوا البر حتى تنفقوا مما تحبون‏» تم نیکی ہرگز نہیں پا سکتے جب تک اس مال میں سے خرچ نہ کرو جو تم کو زیادہ پسند ہے۔ اور میرے اموال میں سب سے پسند مجھے بیرحاء ہے۔ بیان کیا کہ بیرحاء ایک باغ تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے جایا کرتے ‘ اس کے سائے میں بیٹھتے اور اس کا پانی پیتے (ابوطلحہ نے کہا کہ) اس لیے وہ اللہ عزوجل کی راہ میں صدقہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ میں اس کی نیکی اور اس کے ذخیرہ آخرت ہونے کی امید رکھتا ہوں۔ پس یا رسول اللہ! جس طرح اللہ آپ کو بتائے اسے خرچ کیجئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا واہ واہ شاباش ابوطلحہ یہ تو بڑا نفع بخش مال ہے ‘ ہم تم سے اسے قبول کر کے پھر تمہارے ہی حوالے کر دیتے ہیں اور اب تم اسے اپنے عزیزوں کو دیدو۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے وہ باغ اپنے عزیزوں کو دے دیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جن لوگوں کو باغ آپ نے دیا تھا ان میں ابی اور حسان رضی اللہ عنہ تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ حسان رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو بیچ دیا تو کسی نے ان سے کہا کہ کیا آپ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کا دیا ہوا مال بیچ رہے ہو؟ حسان رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں کھجور کا ایک صاع روپوں کے ایک صاع کے بدل کیوں نہ بیچوں۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا یہ باغ بنی حدیلہ کے محلہ کے قریب تھا جسے معاویہ رضی اللہ عنہ نے (بطور قلعہ کے) تعمیر کیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2758]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] تم اس وقت تک ہرگز نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پسندیدہ چیز اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ تو حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے: ﴿لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ﴾ [سورة آل عمران: 92] تم اس وقت تک ہرگز نیکی حاصل نہیں کر سکتے جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔ میری جائیداد میں مجھے بیرحاء کا باغ سب سے زیادہ محبوب ہے۔ یہ ایسا باغ تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے جاتے، وہاں سائے میں بیٹھتے اور اس کے چشموں کا پانی نوش فرماتے تھے۔ یہ باغ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہے۔ میں اللہ کے ہاں اس کے ثواب اور ذخیرہ آخرت کی امید رکھتا ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ اسے وہاں خرچ کریں جہاں آپ کو اللہ تعالیٰ بتائے۔ (آپ اسے قبول فرمائیں اور جہاں مناسب خیال کریں اسے مصرف میں لائیں۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: واہ، واہ! اے ابو طلحہ تجھے مبارک ہو۔ یہ مال تو بہت مفید اور نفع بخش ہے۔ ہم اس کو تم سے قبول کر کے پھر تمہارے ہی حوالے کرتے ہیں۔ آپ اسے اپنے قریبی رشتہ داروں میں خرچ کریں۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے اسے قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دیا۔ ان قریبی رشتہ داروں میں سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ اور حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ تھے۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ بیچ دیا۔ اسے کہا گیا: تم حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کا دیا ہوا صدقہ فروخت کر رہے ہو؟ تو انہوں نے فرمایا: میں کھجور کا ایک صاع دراہم کے ایک صاع کے عوض کیوں نہ فروخت کروں؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ باغ بنو حدیلہ کے محل کی جگہ واقع تھا جسے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تعمیر کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 2758]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3556
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ:سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ، قَالَ:" فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، آپ غزوہ تبوک میں اپنے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کر رہے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں نے (توبہ قبول ہونے کے بعد) حاضر ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو چہرہ مبارک مسرت و خوشی سے چمک رہا تھا۔ جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات پر مسرور ہوتے تو چہرہ مبارک چمک اٹھتا، ایسا معلوم ہوتا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشی کو ہم اسی سے پہچان جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3556]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، اور وہ جنگ تبوک سے پیچھے رہ جانے کا واقعہ بیان کر رہے تھے، انہوں نے کہا: جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کیا تو خوشی و مسرت سے آپ کی پیشانی کے خطوط سے نور کی کرنیں پھوٹ رہی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی کسی بات پر خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ انور روشن ہو جاتا تھا گویا چاند کا ٹکڑا ہو، آپ کی مسرت و شادمانی کو ہم اس سے پہچان جاتے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3556]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4418
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ تَبُوكَ، قَالَ كَعْبٌ:" لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا إِلَّا فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، غَيْرَ أَنِّي كُنْتُ تَخَلَّفْتُ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ، وَلَمْ يُعَاتِبْ أَحَدًا تَخَلَّفَ عَنْهَا، إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللَّهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِيعَادٍ، وَلَقَدْ شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْعَقَبَةِ حِينَ تَوَاثَقْنَا عَلَى الْإِسْلَامِ، وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي بِهَا مَشْهَدَ بَدْرٍ، وَإِنْ كَانَتْ بَدْرٌ أَذْكَرَ فِي النَّاسِ مِنْهَا كَانَ مِنْ خَبَرِي أَنِّي لَمْ أَكُنْ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْهُ فِي تِلْكَ الْغَزَاةِ، وَاللَّهِ مَا اجْتَمَعَتْ عِنْدِي قَبْلَهُ رَاحِلَتَانِ قَطُّ حَتَّى جَمَعْتُهُمَا فِي تِلْكَ الْغَزْوَةِ، وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا حَتَّى كَانَتْ تِلْكَ الْغَزْوَةُ غَزَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، وَاسْتَقْبَلَ سَفَرًا بَعِيدًا، وَمَفَازًا وَعَدُوًّا كَثِيرًا، فَجَلَّى لِلْمُسْلِمِينَ أَمْرَهُمْ لِيَتَأَهَّبُوا أُهْبَةَ غَزْوِهِمْ، فَأَخْبَرَهُمْ بِوَجْهِهِ الَّذِي يُرِيدُ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَثِيرٌ، وَلَا يَجْمَعُهُمْ كِتَابٌ حَافِظٌ يُرِيدُ الدِّيوَانَ، قَالَ كَعْبٌ: فَمَا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَتَغَيَّبَ إِلَّا ظَنَّ أَنْ سَيَخْفَى لَهُ مَا لَمْ يَنْزِلْ فِيهِ وَحْيُ اللَّهِ، وَغَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْكَ الْغَزْوَةَ حِينَ طَابَتِ الثِّمَارُ وَالظِّلَالُ، وَتَجَهَّزَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ، فَطَفِقْتُ أَغْدُو لِكَيْ أَتَجَهَّزَ مَعَهُمْ، فَأَرْجِعُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي: أَنَا قَادِرٌ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَزَلْ يَتَمَادَى بِي حَتَّى اشْتَدَّ بِالنَّاسِ الْجِدُّ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُسْلِمُونَ مَعَهُ وَلَمْ أَقْضِ مِنْ جَهَازِي شَيْئًا، فَقُلْتُ: أَتَجَهَّزُ بَعْدَهُ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ ثُمَّ أَلْحَقُهُمْ، فَغَدَوْتُ بَعْدَ أَنْ فَصَلُوا لِأَتَجَهَّزَ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، ثُمَّ غَدَوْتُ، ثُمَّ رَجَعْتُ، وَلَمْ أَقْضِ شَيْئًا، فَلَمْ يَزَلْ بِي حَتَّى أَسْرَعُوا وَتَفَارَطَ الْغَزْوُ وَهَمَمْتُ أَنْ أَرْتَحِلَ فَأُدْرِكَهُمْ وَلَيْتَنِي فَعَلْتُ، فَلَمْ يُقَدَّرْ لِي ذَلِكَ، فَكُنْتُ إِذَا خَرَجْتُ فِي النَّاسِ بَعْدَ خُرُوجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَطُفْتُ فِيهِمْ أَحْزَنَنِي أَنِّي لَا أَرَى إِلَّا رَجُلًا مَغْمُوصًا عَلَيْهِ النِّفَاقُ، أَوْ رَجُلًا مِمَّنْ عَذَرَ اللَّهُ مِنَ الضُّعَفَاءِ، وَلَمْ يَذْكُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى بَلَغَ تَبُوكَ، فَقَالَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي الْقَوْمِ بِتَبُوكَ:" مَا فَعَلَ كَعْبٌ؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَبَسَهُ بُرْدَاهُ وَنَظَرُهُ فِي عِطْفِهِ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ: بِئْسَ مَا قُلْتَ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا عَلِمْنَا عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ: فَلَمَّا بَلَغَنِي أَنَّهُ تَوَجَّهَ قَافِلًا حَضَرَنِي هَمِّي وَطَفِقْتُ أَتَذَكَّرُ الْكَذِبَ وَأَقُولُ بِمَاذَا أَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ غَدًا؟ وَاسْتَعَنْتُ عَلَى ذَلِكَ بِكُلِّ ذِي رَأْيٍ مِنْ أَهْلِي، فَلَمَّا قِيلَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَظَلَّ قَادِمًا، زَاحَ عَنِّي الْبَاطِلُ، وَعَرَفْتُ أَنِّي لَنْ أَخْرُجَ مِنْهُ أَبَدًا بِشَيْءٍ فِيهِ كَذِبٌ، فَأَجْمَعْتُ صِدْقَهُ، وَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَادِمًا، وَكَانَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ بَدَأَ بِالْمَسْجِدِ، فَيَرْكَعُ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ جَلَسَ لِلنَّاسِ، فَلَمَّا فَعَلَ ذَلِكَ جَاءَهُ الْمُخَلَّفُونَ، فَطَفِقُوا يَعْتَذِرُونَ إِلَيْهِ وَيَحْلِفُونَ لَهُ وَكَانُوا بِضْعَةً وَثَمَانِينَ رَجُلًا، فَقَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَانِيَتَهُمْ، وَبَايَعَهُمْ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ وَوَكَلَ سَرَائِرَهُمْ إِلَى اللَّهِ، فَجِئْتُهُ فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَيْهِ تَبَسَّمَ تَبَسُّمَ الْمُغْضَبِ، ثُمَّ قَالَ:" تَعَالَ"، فَجِئْتُ أَمْشِي حَتَّى جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، فَقَالَ لِي:" مَا خَلَّفَكَ؟ أَلَمْ تَكُنْ قَدِ ابْتَعْتَ ظَهْرَكَ؟"، فَقُلْتُ: بَلَى، إِنِّي وَاللَّهِ لَوْ جَلَسْتُ عِنْدَ غَيْرِكَ مِنْ أَهْلِ الدُّنْيَا لَرَأَيْتُ أَنْ سَأَخْرُجُ مِنْ سَخَطِهِ بِعُذْرٍ، وَلَقَدْ أُعْطِيتُ جَدَلًا، وَلَكِنِّي وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُ لَئِنْ حَدَّثْتُكَ الْيَوْمَ حَدِيثَ كَذِبٍ تَرْضَى بِهِ عَنِّي لَيُوشِكَنَّ اللَّهُ أَنْ يُسْخِطَكَ عَلَيَّ، وَلَئِنْ حَدَّثْتُكَ حَدِيثَ صِدْقٍ تَجِدُ عَلَيَّ فِيهِ إِنِّي لَأَرْجُو فِيهِ عَفْوَ اللَّهِ، لَا وَاللَّهِ مَا كَانَ لِي مِنْ عُذْرٍ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ قَطُّ أَقْوَى وَلَا أَيْسَرَ مِنِّي حِينَ تَخَلَّفْتُ عَنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمَّا هَذَا فَقَدْ صَدَقَ، فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِيكَ"، فَقُمْتُ وَثَارَ رِجَالٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ فَاتَّبَعُونِي، فَقَالُوا لِي: وَاللَّهِ مَا عَلِمْنَاكَ كُنْتَ أَذْنَبْتَ ذَنْبًا قَبْلَ هَذَا، وَلَقَدْ عَجَزْتَ أَنْ لَا تَكُونَ اعْتَذَرْتَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَا اعْتَذَرَ إِلَيْهِ الْمُتَخَلِّفُونَ، قَدْ كَانَ كَافِيَكَ ذَنْبَكَ اسْتِغْفَارُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكَ، فَوَاللَّهِ مَا زَالُوا يُؤَنِّبُونِي حَتَّى أَرَدْتُ أَنْ أَرْجِعَ فَأُكَذِّبَ نَفْسِي، ثُمَّ قُلْتُ لَهُمْ: هَلْ لَقِيَ هَذَا مَعِي أَحَدٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ رَجُلَانِ، قَالَا مِثْلَ مَا قُلْتَ، فَقِيلَ لَهُمَا: مِثْلُ مَا قِيلَ لَكَ، فَقُلْتُ: مَنْ هُمَا، قَالُوا: مُرَارَةُ بْنُ الرَّبِيعِ الْعَمْرِيُّ، وَهِلَالُ بْنُ أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيُّ، فَذَكَرُوا لِي رَجُلَيْنِ صَالِحَيْنِ قَدْ شَهِدَا بَدْرًا فِيهِمَا أُسْوَةٌ، فَمَضَيْتُ حِينَ ذَكَرُوهُمَا لِي، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ مِنْ بَيْنِ مَنْ تَخَلَّفَ عَنْهُ، فَاجْتَنَبَنَا النَّاسُ وَتَغَيَّرُوا لَنَا حَتَّى تَنَكَّرَتْ فِي نَفْسِي الْأَرْضُ، فَمَا هِيَ الَّتِي أَعْرِفُ، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، فَأَمَّا صَاحِبَايَ فَاسْتَكَانَا وَقَعَدَا فِي بُيُوتِهِمَا يَبْكِيَانِ، وَأَمَّا أَنَا فَكُنْتُ أَشَبَّ الْقَوْمِ وَأَجْلَدَهُمْ، فَكُنْتُ أَخْرُجُ فَأَشْهَدُ الصَّلَاةَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ وَأَطُوفُ فِي الْأَسْوَاقِ وَلَا يُكَلِّمُنِي أَحَدٌ، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي مَجْلِسِهِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي: هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ عَلَيَّ أَمْ لَا؟ ثُمَّ أُصَلِّي قَرِيبًا مِنْهُ، فَأُسَارِقُهُ النَّظَرَ، فَإِذَا أَقْبَلْتُ عَلَى صَلَاتِي أَقْبَلَ إِلَيَّ، وَإِذَا الْتَفَتُّ نَحْوَهُ أَعْرَضَ عَنِّي حَتَّى إِذَا طَالَ عَلَيَّ ذَلِكَ مِنْ جَفْوَةِ النَّاسِ مَشَيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ جِدَارَ حَائِطِ أَبِي قَتَادَةَ وَهُوَ ابْنُ عَمِّي وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَوَاللَّهِ مَا رَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا قَتَادَةَ، أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُنِي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ؟ فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ، فَسَكَتَ، فَعُدْتُ لَهُ فَنَشَدْتُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَفَاضَتْ عَيْنَايَ وَتَوَلَّيْتُ حَتَّى تَسَوَّرْتُ الْجِدَارَ، قَالَ: فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِي بِسُوقِ الْمَدِينَةِ إِذَا نَبَطِيٌّ مِنْ أَنْبَاطِ أَهْلِ الشَّأْمِ مِمَّنْ قَدِمَ بِالطَّعَامِ يَبِيعُهُ بِالْمَدِينَةِ، يَقُولُ: مَنْ يَدُلُّ عَلَى كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ؟ فَطَفِقَ النَّاسُ يُشِيرُونَ لَهُ حَتَّى إِذَا جَاءَنِي دَفَعَ إِلَيَّ كِتَابًا مِنْ مَلِكِ غَسَّانَ فَإِذَا فِيهِ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّهُ قَدْ بَلَغَنِي أَنَّ صَاحِبَكَ قَدْ جَفَاكَ وَلَمْ يَجْعَلْكَ اللَّهُ بِدَارِ هَوَانٍ وَلَا مَضْيَعَةٍ، فَالْحَقْ بِنَا نُوَاسِكَ، فَقُلْتُ: لَمَّا قَرَأْتُهَا وَهَذَا أَيْضًا مِنَ الْبَلَاءِ، فَتَيَمَّمْتُ بِهَا التَّنُّورَ فَسَجَرْتُهُ بِهَا حَتَّى إِذَا مَضَتْ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً مِنَ الْخَمْسِينَ إِذَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينِي، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُكَ أَنْ تَعْتَزِلَ امْرَأَتَكَ، فَقُلْتُ: أُطَلِّقُهَا أَمْ مَاذَا أَفْعَلُ؟ قَالَ: لَا، بَلِ اعْتَزِلْهَا وَلَا تَقْرَبْهَا، وَأَرْسَلَ إِلَى صَاحِبَيَّ مِثْلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي: الْحَقِي بِأَهْلِكِ، فَتَكُونِي عِنْدَهُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللَّهُ فِي هَذَا الْأَمْرِ، قَالَ كَعْبٌ: فَجَاءَتِ امْرَأَةُ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هِلَالَ بْنَ أُمَيَّةَ شَيْخٌ ضَائِعٌ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ، فَهَلْ تَكْرَهُ أَنْ أَخْدُمَهُ؟ قَالَ:" لَا، وَلَكِنْ لَا يَقْرَبْكِ"، قَالَتْ: إِنَّهُ وَاللَّهِ مَا بِهِ حَرَكَةٌ إِلَى شَيْءٍ، وَاللَّهِ مَا زَالَ يَبْكِي مُنْذُ كَانَ مِنْ أَمْرِهِ مَا كَانَ إِلَى يَوْمِهِ هَذَا، فَقَالَ لِي بَعْضُ أَهْلِي: لَوِ اسْتَأْذَنْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَتِكَ كَمَا أَذِنَ لِامْرَأَةِ هِلَالِ بْنِ أُمَيَّةَ أَنْ تَخْدُمَهُ، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَسْتَأْذِنُ فِيهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَا يُدْرِينِي مَا يَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنْتُهُ فِيهَا وَأَنَا رَجُلٌ شَابٌّ، فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَشْرَ لَيَالٍ حَتَّى كَمَلَتْ لَنَا خَمْسُونَ لَيْلَةً مِنْ حِينَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا، فَلَمَّا صَلَّيْتُ صَلَاةَ الْفَجْرِ صُبْحَ خَمْسِينَ لَيْلَةً وَأَنَا عَلَى ظَهْرِ بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِنَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عَلَى الْحَالِ الَّتِي ذَكَرَ اللَّهُ قَدْ ضَاقَتْ عَلَيَّ نَفْسِي وَضَاقَتْ عَلَيَّ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ سَمِعْتُ صَوْتَ صَارِخٍ أَوْفَى عَلَى جَبَلِ سَلْعٍ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا كَعْبُ بْنَ مَالِكٍ، أَبْشِرْ، قَالَ: فَخَرَرْتُ سَاجِدًا وَعَرَفْتُ أَنْ قَدْ جَاءَ فَرَجٌ وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى صَلَاةَ الْفَجْرِ، فَذَهَبَ النَّاسُ يُبَشِّرُونَنَا وَذَهَبَ قِبَلَ صَاحِبَيَّ مُبَشِّرُونَ، وَرَكَضَ إِلَيَّ رَجُلٌ فَرَسًا وَسَعَى سَاعٍ مِنْ أَسْلَمَ فَأَوْفَى عَلَى الْجَبَلِ وَكَانَ الصَّوْتُ أَسْرَعَ مِنَ الْفَرَسِ، فَلَمَّا جَاءَنِي الَّذِي سَمِعْتُ صَوْتَهُ يُبَشِّرُنِي نَزَعْتُ لَهُ ثَوْبَيَّ فَكَسَوْتُهُ إِيَّاهُمَا بِبُشْرَاهُ، وَاللَّهِ مَا أَمْلِكُ غَيْرَهُمَا يَوْمَئِذٍ وَاسْتَعَرْتُ ثَوْبَيْنِ فَلَبِسْتُهُمَا، وَانْطَلَقْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَتَلَقَّانِي النَّاسُ فَوْجًا فَوْجًا يُهَنُّونِي بِالتَّوْبَةِ، يَقُولُونَ: لِتَهْنِكَ تَوْبَةُ اللَّهِ عَلَيْكَ، قَالَ كَعْبٌ: حَتَّى دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ حَوْلَهُ النَّاسُ، فَقَامَ إِلَيَّ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ يُهَرْوِلُ حَتَّى صَافَحَنِي وَهَنَّانِي، وَاللَّهِ مَا قَامَ إِلَيَّ رَجُلٌ مِنْ الْمُهَاجِرِينَ غَيْرَهُ وَلَا أَنْسَاهَا لِطَلْحَةَ، قَالَ كَعْبٌ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَبْرُقُ وَجْهُهُ مِنَ السُّرُورِ:" أَبْشِرْ بِخَيْرِ يَوْمٍ مَرَّ عَلَيْكَ مُنْذُ وَلَدَتْكَ أُمُّكَ"، قَالَ: قُلْتُ: أَمِنْ عِنْدِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَمْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ؟ قَالَ:" لَا، بَلْ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ"، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُرَّ اسْتَنَارَ وَجْهُهُ حَتَّى كَأَنَّهُ قِطْعَةُ قَمَرٍ، وَكُنَّا نَعْرِفُ ذَلِكَ مِنْهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ أَنْخَلِعَ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِ اللَّهِ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ"، قُلْتُ: فَإِنِّي أُمْسِكُ سَهْمِي الَّذِي بِخَيْبَرَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ اللَّهَ إِنَّمَا نَجَّانِي بِالصِّدْقِ، وَإِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنْ لَا أُحَدِّثَ إِلَّا صِدْقًا مَا بَقِيتُ، فَوَاللَّهِ مَا أَعْلَمُ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَبْلَاهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَحْفَظَنِي اللَّهُ فِيمَا بَقِيتُ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ إِلَى قَوْلِهِ: وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ سورة التوبة آية 117 - 119، فَوَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ قَطُّ بَعْدَ أَنْ هَدَانِي لِلْإِسْلَامِ أَعْظَمَ فِي نَفْسِي مِنْ صِدْقِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا، فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ لِلَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أَنْزَلَ الْوَحْيَ شَرَّ مَا قَالَ لِأَحَدٍ، فَقَالَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَى قَوْلِهِ: فَإِنَّ اللَّهَ لا يَرْضَى عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ سورة التوبة آية 95 - 96، قَالَ كَعْبٌ: وَكُنَّا تَخَلَّفْنَا أَيُّهَا الثَّلَاثَةُ عَنْ أَمْرِ أُولَئِكَ الَّذِينَ قَبِلَ مِنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ حَلَفُوا لَهُ فَبَايَعَهُمْ، وَاسْتَغْفَرَ لَهُمْ، وَأَرْجَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَنَا حَتَّى قَضَى اللَّهُ فِيهِ، فَبِذَلِكَ قَالَ اللَّهُ: وَعَلَى الثَّلاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا سورة التوبة آية 118 وَلَيْسَ الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ مِمَّا خُلِّفْنَا عَنِ الْغَزْوِ إِنَّمَا هُوَ تَخْلِيفُهُ إِيَّانَا وَإِرْجَاؤُهُ أَمْرَنَا عَمَّنْ حَلَفَ لَهُ وَاعْتَذَرَ إِلَيْهِ فَقَبِلَ مِنْهُ".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے، ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے، (جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے لڑکوں میں وہ ہی کعب رضی اللہ عنہ کو راستے میں پکڑ کر چلا کرتے تھے) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب رضی اللہ عنہ سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکنے کا واقعہ سنا۔ انہوں نے بتایا کہ غزوہ تبوک کے سوا اور کسی غزوہ میں ایسا نہیں ہوا تھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک نہ ہوا ہوں۔ البتہ غزوہ بدر میں بھی شریک نہیں ہوا تھا لیکن جو لوگ غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، ان کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی قسم کی خفگی کا اظہار نہیں فرمایا تھا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس موقع پر صرف قریش کے قافلے کی تلاش میں نکلے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی پہلی تیاری کے بغیر، آپ کی دشمنوں سے ٹکر ہو گئی اور میں لیلہ عقبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ یہ وہی رات ہے جس میں ہم نے (مکہ میں) اسلام کے لیے عہد کیا تھا اور مجھے تو یہ غزوہ بدر سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ اگرچہ بدر کا لوگوں کی زبانوں پر چرچہ زیادہ ہے۔ میرا واقعہ یہ ہے کہ میں اپنی زندگی میں کبھی اتنا قوی اور اتنا صاحب مال نہیں ہوا تھا جتنا اس موقع پر تھا۔ جبکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تبوک کے غزوے میں شریک نہیں ہو سکا تھا۔ اللہ کی قسم! اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو اونٹ جمع نہیں ہوئے تھے لیکن اس موقع پر میرے پاس دو اونٹ موجود تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کبھی کسی غزوے کے لیے تشریف لے جاتے تو آپ اس کے لیے ذومعنی الفاظ استعمال کیا کرتے تھے لیکن اس غزوہ کا جب موقع آیا تو گرمی بڑی سخت تھی، سفر بھی بہت لمبا تھا، بیابانی راستہ اور دشمن کی فوج کی کثرت تعداد! تمام مشکلات سامنے تھیں۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں سے اس غزوہ کے متعلق بہت تفصیل کے ساتھ بتا دیا تھا تاکہ اس کے مطابق پوری طرح سے تیاری کر لیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سمت کی بھی نشاندہی کر دی جدھر سے آپ کا جانے کا ارادہ تھا۔ مسلمان بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بہت تھے۔ اتنے کہ کسی رجسٹر میں سب کے ناموں کا لکھنا بھی مشکل تھا۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ کوئی بھی شخص اگر اس غزوے میں شریک نہ ہونا چاہتا تو وہ یہ خیال کر سکتا تھا کہ اس کی غیر حاضری کا کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔ سوا اس کے کہ اس کے متعلق وحی نازل ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اس غزوہ کے لیے تشریف لے جا رہے تھے تو پھل پکنے کا زمانہ تھا اور سایہ میں بیٹھ کر لوگ آرام کرتے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی تیاریوں میں مصروف تھے اور آپ کے ساتھ مسلمان بھی۔ لیکن میں روزانہ سوچا کرتا تھا کہ کل سے میں بھی تیاری کروں گا اور اس طرح ہر روز اسے ٹالتا رہا۔ مجھے اس کا یقین تھا کہ میں تیاری کر لوں گا۔ مجھے آسانیاں میسر ہیں، یوں ہی وقت گزرتا رہا اور آخر لوگوں نے اپنی تیاریاں مکمل بھی کر لیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کو ساتھ لے کر روانہ بھی ہو گئے۔ اس وقت تک میں نے تیاری نہیں کی تھی۔ اس موقع پر بھی میں نے اپنے دل کو یہی کہہ کر سمجھا لیا کہ کل یا پرسوں تک تیاری کر لوں گا اور پھر لشکر سے جا ملوں گا۔ کوچ کے بعد دوسرے دن میں نے تیاری کے لیے سوچا لیکن اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ پھر تیسرے دن کے لیے سوچا اور اس دن بھی کوئی تیاری نہیں کی۔ یوں ہی وقت گزر گیا اور اسلامی لشکر بہت آگے بڑھ گیا۔ غزوہ میں شرکت میرے لیے بہت دور کی بات ہو گئی اور میں یہی ارادہ کرتا رہا کہ یہاں سے چل کر انہیں پا لوں گا۔ کاش! میں نے ایسا کر لیا ہوتا لیکن یہ میرے نصیب میں نہیں تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لے جانے کے بعد جب میں باہر نکلتا تو مجھے بڑا رنج ہوتا کیونکہ یا تو وہ لوگ نظر آتے جن کے چہروں سے نفاق ٹپکتا تھا یا پھر وہ لوگ جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور اور ضعیف قرار دے دیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے بارے میں کسی سے کچھ نہیں پوچھا تھا لیکن جب آپ تبوک پہنچ گئے تو وہیں ایک مجلس میں آپ نے دریافت فرمایا کہ کعب نے کیا کیا؟ بنو سلمہ کے ایک صاحب نے کہا کہ یا رسول اللہ! اس کے غرور نے اسے آنے نہیں دیا۔ (وہ حسن و جمال یا لباس پر اترا کر رہ گیا) اس پر معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بولے تم نے بری بات کہی۔ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! ہمیں ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ معلوم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ نہیں فرمایا۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لا رہے ہیں تو اب مجھ پر فکر سوار ہوا اور میرا ذہن کوئی ایسا جھوٹا بہانہ تلاش کرنے لگا جس سے میں کل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خفگی سے بچ سکوں۔ اپنے گھر کے ہر عقلمند آدمی سے اس کے متعلق میں نے مشورہ لیا لیکن جب مجھے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے بالکل قریب آ چکے ہیں تو غلط خیالات میرے ذہن سے نکل گئے اور مجھے یقین ہو گیا کہ اس معاملہ میں جھوٹ بول کر میں اپنے کو کسی طرح محفوظ نہیں کر سکتا۔ چنانچہ میں نے سچی بات کہنے کا پختہ ارادہ کر لیا۔ صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ جب آپ کسی سفر سے واپس تشریف لاتے تو یہ آپ کی عادت تھی کہ پہلے مسجد میں تشریف لے جاتے اور دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں کے ساتھ مجلس میں بیٹھتے۔ جب آپ اس عمل سے فارغ ہو چکے تو آپ کی خدمت میں لوگ آنے لگے جو غزوہ میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور قسم کھا کھا کر اپنے عذر بیان کرنے لگے۔ ایسے لوگوں کی تعداد اسی کے قریب تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ظاہر کو قبول فرما لیا، ان سے عہد لیا۔ ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی اور ان کے باطن کو اللہ کے سپرد کیا۔ اس کے بعد میں حاضر ہوا۔ میں نے سلام کیا تو آپ مسکرائے۔ آپ کی مسکراہٹ میں خفگی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آؤ، میں چند قدم چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا کہ تم غزوہ میں کیوں شریک نہیں ہوئے۔ کیا تم نے کوئی سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے عرض کیا، میرے پاس سواری موجود تھی۔ اللہ کی قسم! اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی دنیادار شخص کے سامنے آج بیٹھا ہوتا تو کوئی نہ کوئی عذر گھڑ کر اس کی خفگی سے بچ سکتا تھا، مجھے خوبصورتی کے ساتھ گفتگو کا سلیقہ معلوم ہے۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اگر آج میں آپ کے سامنے کوئی جھوٹا عذر بیان کر کے آپ کو راضی کر لوں تو بہت جلد اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا۔ اس کے بجائے اگر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچی بات بیان کر دوں تو یقیناً آپ کو میری طرف سے خفگی ہو گی لیکن اللہ سے مجھے معافی کی پوری امید ہے۔ نہیں، اللہ کی قسم! مجھے کوئی عذر نہیں تھا، اللہ کی قسم اس وقت سے پہلے کبھی میں اتنا فارغ البال نہیں تھا اور پھر بھی میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہو سکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے سچی بات بتا دی۔ اچھا اب جاؤ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں خود کوئی فیصلہ کر دے۔ میں اٹھ گیا اور میرے پیچھے بنو سلمہ کے کچھ لوگ بھی دوڑے ہوئے آئے اور مجھ سے کہنے لگے کہ اللہ کی قسم! ہمیں تمہارے متعلق یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سے پہلے تم نے کوئی گناہ کیا ہے اور تم نے بڑی کوتاہی کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ویسا ہی کوئی عذر نہیں بیان کیا جیسا دوسرے نہ شریک ہونے والوں نے بیان کر دیا تھا۔ تمہارے گناہ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار ہی کافی ہو جاتا۔ اللہ کی قسم! ان لوگوں نے مجھے اس پر اتنی ملامت کی کہ مجھے خیال آیا کہ واپس جا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی جھوٹا عذر کر آؤں۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کیا میرے علاوہ کسی اور نے بھی مجھ جیسا عذر بیان کیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہاں دو حضرات نے اسی طرح معذرت کی جس طرح تم نے کی ہے اور انہیں جواب بھی وہی ملا ہے جو تمہیں ملا۔ میں نے پوچھا کہ ان کے نام کیا ہیں؟ انہوں نے بتا کیا کہ مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما۔ ان دو ایسے صحابہ کا نام انہوں نے لے دیا تھا جو صالح تھے اور بدر کی جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ ان کا طرز عمل میرے لیے نمونہ بن گیا۔ چنانچہ انہوں نے جب ان بزرگوں کا نام لیا تو میں اپنے گھر چلا آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی، بہت سے لوگ جو غزوے میں شریک نہیں ہوئے تھے، ان میں سے صرف ہم تین تھے! لوگ ہم سے الگ رہنے لگے اور سب لوگ بدل گئے۔ ایسا نظر آتا تھا کہ ہم سے ساری دنیا بدل گئی ہے۔ ہمارا اس سے کوئی واسطہ ہی نہیں ہے۔ پچاس دن تک ہم اسی طرح رہے، میرے دو ساتھیوں نے تو اپنے گھروں سے نکلنا ہی چھوڑ دیا، بس روتے رہتے تھے لیکن میرے اندر ہمت تھی کہ میں باہر نکلتا تھا، مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوتا تھا اور بازاروں میں گھوما کرتا تھا لیکن مجھ سے بولتا کوئی نہ تھا۔ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی حاضر ہوتا تھا، آپ کو سلام کرتا، جب آپ نماز کے بعد مجلس میں بیٹھتے، میں اس کی جستجو میں لگا رہتا تھا کہ دیکھوں سلام کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہونٹ ہلے یا نہیں، پھر آپ کے قریب ہی نماز پڑھنے لگ جاتا اور آپ کو کنکھیوں سے دیکھتا رہتا جب میں اپنی نماز میں مشغول ہو جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھتے لیکن جونہی میں آپ کی طرف دیکھتا آپ رخ مبارک پھیر لیتے۔ آخر جب اس طرح لوگوں کی بےرخی بڑھتی ہی گئی تو میں (ایک دن) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار پر چڑھ گیا، وہ میرے چچا زاد بھائی تھے اور مجھے ان سے بہت گہرا تعلق تھا، میں نے انہیں سلام کیا، لیکن اللہ کی قسم! انہوں نے بھی میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ میں نے کہا، ابوقتادہ! تمہیں اللہ کی قسم! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ اور اس کے رسول سے مجھے کتنی محبت ہے۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میں نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اللہ کی قسم دے کر لیکن اب بھی وہ خاموش تھے، پھر میں نے اللہ کا واسطہ دے کر ان سے یہی سوال کیا۔ اس مرتبہ انہوں نے صرف اتنا کہا کہ اللہ اور اس کے رسول کو زیادہ علم ہے۔ اس پر میرے آنسو پھوٹ پڑے۔ میں واپس چلا آیا اور دیوار پر چڑھ کر (نیچے، باہر اتر آیا) انہوں نے بیان کیا کہ ایک دن میں مدینہ کے بازار میں جا رہا تھا کہ شام کا ایک کاشتکار جو غلہ بیچنے مدینہ آیا تھا، پوچھ رہا تھا کہ کعب بن مالک کہاں رہتے ہیں؟ لوگوں نے میری طرف اشارہ کیا تو وہ میرے پاس آیا اور ملک غسان کا ایک خط مجھے دیا، اس خط میں یہ تحریر تھا۔ امابعد! مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہار ے صاحب (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے ساتھ زیادتی کرنے لگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کوئی ذلیل نہیں پیدا کیا ہے کہ تمہارا حق ضائع کیا جائے، تم ہمارے پاس آ جاؤ، ہم تمہارے ساتھ بہتر سے بہتر سلوک کریں گے۔ جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا کہ یہ ایک اور امتحان آ گیا۔ میں نے اس خط کو تنور میں جلا دیا۔ ان پچاس دنوں میں سے جب چالیس دن گزر چکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی میرے پاس آئے اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیوی کے بھی قریب نہ جاؤ۔ میں نے پوچھا میں اسے طلاق دے دوں یا پھر مجھے کیا کرنا چاہئیے؟ انہوں نے بتایا کہ نہیں صرف ان سے جدا ہو، ان کے قریب نہ جاؤ میرے دونوں ساتھیوں کو (جنہوں نے میری طرح معذرت کی تھی) بھی یہی حکم آپ نے بھیجا تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اب اپنے میکے چلی جاؤ اور اس وقت تک وہیں رہو جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملہ کا کوئی فیصلہ نہ کر دے۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہلال بن امیہ (جن کا مقاطعہ ہوا تھا) کی بیوی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہلال بن امیہ بہت ہی بوڑھے اور کمزور ہیں، ان کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ہے، کیا اگر میں ان کی خدمت کر دیا کروں تو آپ ناپسند فرمائیں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صرف وہ تم سے صحبت نہ کریں۔ انہوں نے عرض کی۔ اللہ کی قسم! وہ تو کسی چیز کے لیے حرکت بھی نہیں کر سکتے۔ جب سے یہ خفگی ان پر ہوئی ہے وہ دن ہے اور آج کا دن ہے ان کے آنسو تھمنے میں نہیں آتے۔ میرے گھر کے بعض لوگوں نے کہا کہ جس طرح ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو ان کی خدمت کرتے رہنے کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دے دی ہے، آپ بھی اسی طرح کی اجازت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے لیجئے۔ میں نے کہا نہیں، اللہ کی قسم! میں اس کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت نہیں لوں گا، میں جوان ہوں، معلوم نہیں جب سے اجازت لینے جاؤں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا فرمائیں۔ اس طرح دس دن اور گزر گئے اور جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت فرمائی تھی اس کے پچاس دن پورے ہو گئے۔ پچاسویں رات کی صبح کو جب میں فجر کی نماز پڑھ چکا اور اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا، اس طرح جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے، میرا دم گھٹا جا رہا تھا اور زمین اپنی تمام وسعتوں کے باوجود میرے لیے تنگ ہوتی جا رہی تھی کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی، جبل سلع پر چڑھ کر کوئی بلند آواز سے کہہ رہا تھا، اے کعب بن مالک! تمہیں بشارت ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ یہ سنتے ہی میں سجدے میں گر پڑا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب فراخی ہو جائے گی۔ فجر کی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان کر دیا تھا۔ لوگ میرے یہاں بشارت دینے کے لیے آنے لگے اور میرے دو ساتھیوں کو بھی جا کر بشارت دی۔ ایک صاحب (زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ) اپنا گھوڑا دوڑائے آ رہے تھے، ادھر قبیلہ اسلم کے ایک صحابی نے پہاڑی پر چڑھ کر (آواز دی) اور آواز گھوڑے سے زیادہ تیز تھی۔ جن صحابی نے (سلع پہاڑی پر سے) آواز دی تھی، جب وہ میرے پاس بشارت دینے آئے تو اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس بشارت کی خوشی میں، میں نے انہیں دے دئیے۔ اللہ کی قسم کہ اس وقت ان دو کپڑوں کے سوا (دینے کے لائق) اور میرے پاس کوئی چیز نہیں تھی۔ پھر میں نے (ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے) دو کپڑے مانگ کر پہنے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، جوق در جوق لوگ مجھ سے ملاقات کرتے جاتے تھے اور مجھے توبہ کی قبولیت پر بشارت دیتے جاتے تھے، کہتے تھے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کی قبولیت مبارک ہو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، آخر میں مسجد میں داخل ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف رکھتے تھے۔ چاروں طرف صحابہ کا مجمع تھا۔ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑ کر میری طرف بڑھے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! (وہاں موجود) مہاجرین میں سے کوئی بھی ان کے سوا، میرے آنے پر کھڑا نہیں ہوا۔ طلحہ رضی اللہ عنہ کا یہ احسان میں کبھی نہیں بھولوں گا۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا: (چہرہ مبارک خوشی اور مسرت دمک اٹھا تھا) اس مبارک دن کے لیے تمہیں بشارت ہو جو تمہاری عمر کا سب سے مبارک دن ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ بشارت آپ کی طرف سے ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے؟ فرمایا نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی بات پر خوش ہوتے تو چہرہ مبارک روشن ہو جاتا تھا، ایسا جیسے چاند کا ٹکڑا ہو۔ آپ کی مسرت ہم تو چہرہ مبارک سے سمجھ جاتے تھے۔ پھر جب میں آپ کے سامنے بیٹھ گیا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں، میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کی راہ میں صدقہ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن کچھ مال اپنے پاس بھی رکھ لو، یہ زیادہ بہتر ہے۔ میں نے عرض کیا پھر میں خیبر کا حصہ اپنے پاس رکھ لوں گا۔ پھر میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے سچ بولنے کی وجہ سے نجات دی۔ اب میں اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا سچ کے سوا اور کوئی بات زبان پر نہ لاؤں گا۔ پس اللہ کی قسم! جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ عہد کیا، میں کسی ایسے مسلمان کو نہیں جانتا جسے اللہ نے سچ بولنے کی وجہ سے اتنا نوازا ہو، جتنی نوازشات اس کی مجھ پر سچ بولنے کی وجہ سے ہیں۔ جب سے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ عہد کیا، پھر آج تک کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی زندگی میں بھی مجھے اس سے محفوظ رکھے گا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول پر آیت (ہمارے بارے میں) نازل کی تھی۔ یقیناً اللہ تعالیٰ نے نبی، مہاجرین اور انصار کی توبہ قبول کی اس کے ارشاد «وكونوا مع الصادقين‏» تک اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کے لیے ہدایت کے بعد، میری نظر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس سچ بولنے سے بڑھ کر اللہ کا مجھ پر اور کوئی انعام نہیں ہوا کہ میں نے جھوٹ نہیں بولا اور اس طرح اپنے کو ہلاک نہیں کیا۔ جیسا کہ جھوٹ بولنے والے ہلاک ہو گئے تھے۔ نزول وحی کے زمانہ میں جھوٹ بولنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے اتنی شدید وعید فرمائی جتنی شدید کسی دوسرے کے لیے نہیں فرمائی ہو گی۔ فرمایا ہے «سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم‏» ارشاد «فإن الله لا يرضى عن القوم الفاسقين‏» تک۔ کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا۔ چنانچہ ہم تین، ان لوگوں کے معاملے سے جدا رہے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے قسم کھا لی تھی اور آپ نے ان کی بات مان بھی لی تھی، ان سے بیعت بھی لی تھی اور ان کے لیے طلب مغفرت بھی فرمائی تھی۔ ہمارا معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھوڑ دیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے خود اس کا فیصلہ فرمایا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وعلى الثلاثة الذين خلفوا‏» سے یہی مراد ہے کہ ہمار ا مقدمہ ملتوی رکھا گیا اور ہم ڈھیل میں ڈال دئیے گئے۔ یہ نہیں مراد ہے کہ جہاد سے پیچھے رہ گئے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کے پیچھے رہے جنہوں نے قسمیں کھا کر اپنے عذر بیان کئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے عذر قبول کر لیے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4418]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں سے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ہی انہیں جدھر انہوں نے آنا جانا ہوتا لے جاتے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کا واقعہ سنا، حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے غزوات کیے ہیں میں ان میں سے کسی غزوے میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے نہیں رہا۔ میں صرف غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گیا تھا۔ البتہ میں غزوہ بدر میں بھی شریک نہیں تھا لیکن جنگ بدر سے پیچھے رہ جانے پر اللہ تعالیٰ نے کسی پر عتاب نہیں فرمایا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک قافلے کا ارادہ کر کے باہر نکلے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے وقت طے کیے بغیر مسلمانوں کا سامنا دشمن سے کرا دیا۔ میں تو عقبہ کی رات بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا جہاں میں نے اسلام پر قائم رہنے کا مضبوط قول و قرار کیا تھا۔ اگر لوگوں میں غزوہ بدر کی شہرت زیادہ ہے لیکن میں یہ بات پسند نہیں کرتا کہ مجھے بیعت عقبہ کے بدلے میں غزوہ بدر میں شرکت کا موقع ملا ہوتا۔ اور میرا قصہ یہ ہے کہ میں جس زمانے میں غزوہ تبوک سے پیچھے رہا، اتنا طاقت ور اور خوشحال تھا کہ اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا۔ اللہ کی قسم! اس سے پہلے میرے پاس دو اونٹنیاں کبھی جمع نہیں ہوئی تھیں جبکہ اس موقع پر میرے پاس دو اونٹنیاں موجود تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قاعدہ تھا کہ جب کسی غزوے میں جانے کا ارادہ کرتے تو اس کو مکمل طور پر ظاہر نہ کرتے بلکہ کسی اور مقام کا نام لیا کرتے تھے۔ لیکن یہ غزوہ چونکہ سخت گرمی میں ہوا اور طویل بیابان کا سفر تھا اور دشمن زیادہ تعداد میں تھے، اس لیے آپ نے مسلمانوں سے یہ معاملہ صاف صاف بیان کر دیا تاکہ وہ اس جنگ کے لیے اچھی طرح تیار ہو جائیں اور انہیں وہ سمت بھی بتلا دی جس سمت آپ جانا چاہتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمان کثیر تعداد میں تھے اور کوئی رجسٹر یا دفتر وغیرہ نہ تھا جس میں ان کے نام محفوظ ہوتے۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ صورت حال ایسی تھی کہ جو شخص لشکر میں سے غائب ہونا چاہتا وہ یہ سوچ سکتا تھا کہ اگر بذریعہ وحی آپ کو اطلاع نہ دی گئی تو میری غیر حاضری کا کسی کو پتہ نہ چل سکے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جنگ کا ارادہ ایسے وقت میں کیا تھا جب پھل پک چکے تھے اور ہر طرف سایہ عام تھا۔ خیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ دیگر مسلمانوں نے بھی سفر کا سامان تیار کرنا شروع کیا۔ میری کیفیت یہ تھی کہ میں صبح اس ارادے سے نکلتا کہ میں بھی باقی مسلمانوں کے ساتھ مل کر تیاری کروں گا لیکن جب شام کو واپس آتا تو کوئی فیصلہ نہ کر سکا ہوتا۔ پھر میں اپنے دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لیتا کہ میں تیاری مکمل کرنے پر پوری طرح قادر ہوں۔ اسی طرح وقت گزرتا رہا حتی کہ لوگوں نے زور شور سے تیاری کر لی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھ مسلمان روانہ ہو گئے جبکہ میں اپنی تیاری کے سلسلے میں کچھ بھی نہ کر سکا۔ پھر میں نے اپنے دل میں یہ کہا کہ میں آپ کی روانگی کے ایک یا دو دن بعد تیاری مکمل کر لوں گا اور ان سے جا ملوں گا۔ لیکن ان کے روانہ ہو جانے کے بعد بھی یہی کیفیت رہی کہ صبح کے وقت تیاری کے خیال سے نکلا لیکن جب گھر لوٹا تو وہی کیفیت تھی، یعنی کچھ بھی نہ کر سکا۔ پھر دوسری صبح کو بھی اسی خیال سے نکلا لیکن واپس آیا تو کچھ نہ کر پایا۔ میری کیفیت مسلسل یہی رہی یہاں تک کہ مسلمان تیز تیز چل کر آگے بڑھ گئے۔ میں نے پھر ارادہ کیا کہ میں بھی چل پڑوں اور ان سے جا ملوں، کاش کہ میں نے ایسا کر لیا ہوتا لیکن یہ سعادت میرے مقدر ہی میں نہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد حالت یہ تھی کہ جب میں باہر لوگوں کے پاس جاتا اور ان میں چل پھر کر دیکھتا تو جو بات مجھے غمگین کرتی یہ تھی کہ جو شخص نظر آتا وہ صرف ایسا ہوتا جس پر نفاق کا الزام تھا، یا پھر وہ ضعیف اور کم زور لوگ تھے جنہیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا تھا۔ ادھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں تو مجھے کہیں بھی یاد نہ فرمایا۔ مگر جب تبوک پہنچ گئے اور ایک موقع پر لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے تو آپ نے فرمایا: کعب نے کیا کیا ہے؟ بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اسے صحت و خوشحالی کی دو چادروں نے روک رکھا ہے اور وہ اپنی ان چادروں کے کناروں کو دیکھنے میں مشغول ہو گا۔ یہ سن کر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: تم نے بہت بری بات کہی ہے۔ اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ہم نے کعب میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا۔ یہ گفتگو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ آپ واپس آ رہے ہیں تو خیال ہوا کہ کوئی حیلہ سوچنا چاہئے تاکہ آپ کی ناراضی سے بچ جاؤں، نیز میں نے اس سلسلے میں اپنے خاندان کے ہر صاحب عقل شخص سے مدد مانگی۔ پھر جب یہ اطلاع ملی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (شہر کے) قریب آ گئے ہیں تو یہ خیال باطل میرے قلب سے نکل گیا اور میں نے یقین کر لیا کہ جھوٹ بول کر آپ کی ناراضی سے نہیں بچ سکوں گا، اس لیے میں نے سچ بولنے کا ارادہ کر لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کے وقت تشریف لائے اور آپ کا دستور تھا کہ جب سفر سے واپس آتے تو سب سے پہلے مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھتے، پھر لوگوں سے ملاقات کے لیے تشریف فرما ہوتے، چنانچہ جب آپ نماز سے فراغت کے بعد ملاقات کے لیے بیٹھے تو پیچھے رہ جانے والوں نے آنا شروع کیا اور قسمیں اٹھا کر آپ کے سامنے طرح طرح کے عذر پیش کرنے لگے۔ ان لوگوں کی تعداد اسی سے کچھ زیادہ تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیان کردہ عذر قبول کر لیے۔ ان سے بیعت لی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا فرمائی اور ان کی نیتوں کو اللہ کے حوالے کر دیا۔ الغرض میں بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے جب آپ کو سلام کیا تو آپ مسکرائے لیکن ایسی مسکراہٹ جس میں غصے کی آمیزش تھی۔ پھر آپ نے فرمایا: ادھر آؤ۔ میں آگے بڑھا اور آپ کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ آپ نے دریافت فرمایا: تم کیوں پیچھے رہ گئے؟ تم نے تو سواری خرید نہیں لی تھی؟ میں نے عرض کی: بجا ارشاد! اللہ کی قسم! میں اگر آپ کے علاوہ کسی اور دنیاوی شخصیت کے سامنے ہوتا تو ضرور یہ خیال کرتا کہ میں کسی عذر بہانے سے اس کے غضب سے نجات پا سکتا ہوں کیونکہ میں قوت گویائی اور دلیل بازی میں ماہر ہوں۔ لیکن اللہ کی قسم! مجھے یقین ہے کہ اگر آج میں آپ کے سامنے جھوٹ بول کر آپ کو راضی بھی کر لوں تو عنقریب اللہ آپ کو حقیقت حال سے آگاہ کر دے گا اور آپ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے۔ اور اگر میں آپ سے ساری بات سچ سچ بیان کر دوں تو آپ مجھ سے ناراض تو ہوں گے، تاہم مجھے امید ہے کہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ مجھے معاف فرما دے گا۔ واقعہ یہ ہے کہ اللہ کی قسم! مجھے کوئی معذوری نہیں تھی اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ کی قسم! میں اتنا تنومند اور خوشحال کبھی نہ تھا جتنا میں اس موقع پر تھا جس میں آپ کے ساتھ جانے سے رہ گیا۔ میری یہ گفتگو سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شخص ہے جس نے صحیح بات بتائی ہے۔ اچھا جاؤ اور انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں کوئی فیصلہ صادر فرمائے۔ میں اٹھ گیا اور جب میں جانے لگا تو بنوسلمہ کے کچھ لوگ میرے گرد جمع ہو گئے اور میرے پیچھے چلنے لگے۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہمارے علم میں نہیں ہے کہ تم نے آج سے پہلے کبھی کوئی گناہ کیا ہو تو تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عذر پیش کرنے سے کیوں قاصر رہے جیسا کہ دوسرے پیچھے رہ جانے والوں نے آپ کی خدمت میں عذر پیش کیے ہیں۔ تم نے جو گناہ کیا تھا، اس کی تلافی کے لیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہارے لیے استغفار ہی کافی تھا۔ اللہ کی قسم! ان لوگوں نے مجھے اتنی ملامت کی کہ ایک دفعہ تو میں نے ارادہ کر لیا کہ میں واپس جاؤں اور جو کچھ میں نے آپ سے کہا تھا، اس کے متعلق کہوں کہ وہ جھوٹ تھا۔ پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا: یہ معاملہ جو میرے ساتھ پیش آیا ہے میرے علاوہ کسی اور کے ساتھ بھی ہوا ہے؟ وہ کہنے لگے: ہاں، دو آدمیوں نے بھی وہی کچھ کہا ہے جو تم نے کیا ہے اور ان کو بھی وہی جواب ملا جو آپ کو ملا ہے۔ میں نے پوچھا: وہ دونوں کون ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ایک حضرت مرارہ بن ربیع العمری اور دوسرے حضرت ہلال بن امیہ واقفی رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہوں نے میرے سامنے دو ایک نیک آدمیوں کے نام لیے جو غزوہ بدر میں شرکت کر چکے تھے اور ان کا طرز عمل میرے لیے قابل تقلید تھا، چنانچہ ان دونوں کا ذکر سن کر میں آگے چل پڑا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باقی تمام پیچھے رہ جانے والوں میں سے صرف ہم تینوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے لوگوں کو منع فرما دیا تھا، لہذا لوگ ہم سے دور دور رہنے لگے اور ہمارے لیے اس حد تک بدل گئے کہ میں محسوس کرنے لگا کہ کوئی اجنبی سرزمین ہے۔ ہم پچاس دن تک اسی حال میں رہے۔ دوسرے دونوں ساتھی تو تھک ہار کر گھر میں بیٹھ گئے اور روتے رہے لیکن میں چونکہ سب میں جوان اور طاقتور تھا، لہذا باہر نکلا کرتا تھا۔ مسلمانوں کے ساتھ نماز میں شریک ہوا کرتا اور بازاروں میں پھرا کرتا تھا لیکن مجھ سے کوئی شخص بات نہ کرتا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی اس وقت حاضر ہوتا جب آپ نماز کے بعد لوگوں کے ساتھ تشریف فرما ہوتے۔ میں جب آپ کو سلام کرتا تو اپنے دل میں یہی سوچتا رہتا کہ آیا میرے سلام کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لب مبارک متحرک ہوئے تھے یا نہیں؟ پھر میں آپ کے قریب ہی نماز پڑھتا اور دزدیدہ نظروں سے آپ کی طرف دیکھتا۔ جب میں نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپ کی طرف توجہ کرتا تو آپ دوسری طرف دیکھنے لگتے۔ جب لوگوں کی یہ بے اعتنائی بہت طویل اور ناقابل برداشت ہو گئی تو ایک دن میں حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار پھلانگ کر اندر چلا گیا۔ یہ صاحب میرے چچا زاد بھائی اور میرے محبوب ترین دوست تھے۔ میں نے انہیں سلام کیا لیکن اللہ کی قسم! انہوں نے میرے سلام کا جواب نہ دیا۔ میں نے ان سے کہا: اے ابو قتادہ! میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم مجھے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دوست جانتے ہو؟ لیکن وہ خاموش رہے۔ میں نے ان سے دوبارہ یہی سوال کیا لیکن وہ پھر خاموش رہے۔ میں نے پھر یہی بات دہرائی تو کہنے لگے: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور میں منہ موڑ کر واپس چلا آیا اور دیوار پھلانگ کر باہر آ گیا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ایک دن میں مدینہ کے بازار سے گزر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ علاقہ شام کا ایک نبطی جو مدینہ میں غلہ فروخت کرنے آیا تھا لوگوں سے پوچھ رہا تھا: کوئی شخص ہے جو مجھے کعب بن مالک کا بتا سکے؟ لوگ میری طرف اشارہ کر کے اسے بتانے لگے۔ جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے مجھے شاہ غسان کا ایک خط دیا جس میں لکھا ہوا تھا: مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے صاحب نے تم پر زیادتی کی ہے، حالانکہ تمہیں اللہ نے اس لیے نہیں بنایا کہ تم ذلیل و خوار اور برباد رہو، لہذا تم ہمارے پاس چلے آؤ ہم تمہیں شایان شان عزت و مرتبہ دیں گے۔ میں نے جب یہ خط پڑھا تو دل میں کہا: یہ بھی ایک امتحان ہے اور وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور اسے نذر آتش کر دیا۔ پھر جب پچاس دنوں میں سے چالیس راتیں گزر گئیں تو میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قاصد آیا اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اپنی رفیقہ حیات سے کنارہ کش ہو جاؤ۔ میں نے کہا: کیا میں اسے طلاق دے دوں؟ یا پھر کیا کروں؟ اس نے کہا: نہیں، بس اس سے کنارہ کش ہو جاؤ اور اس کے قریب نہ جاؤ۔ میرے دونوں ساتھیوں کو بھی اسی قسم کا حکم دیا گیا تھا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا: تم اپنے میکے چلی جاؤ اور جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملے کا فیصلہ صادر نہ فرما دے وہیں مقیم رہو۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: اللہ کے رسول! ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ ایک ناتواں اور بوڑھا شخص ہے، اس کے پاس کوئی خادم بھی نہیں تو کیا آپ یہ بھی ناپسند فرمائیں گے کہ میں ان کی خدمت کرتی رہوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم! انہیں تو کسی بات کا ہوش ہی نہیں اور جس دن سے یہ معاملہ پیش آیا ہے وہ مسلسل رو رہے ہیں۔ یہ سن کر میرے بعض اہل خانہ نے مشورہ دیا کہ اگر تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے سلسلے میں اجازت لے لو تو کیا حرج ہے جیسے آپ نے حضرت ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو خدمت کرنے کی اجازت دے دی ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت ہرگز نہیں طلب کروں گا۔ نامعلوم میرے اجازت طلب کرنے پر آپ کیا جواب دیں جبکہ میں ایک نوجوان آدمی ہوں۔ الغرض اس کے بعد دس دن اور گزر گئے حتی کہ جس دن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہمارے ساتھ بائیکاٹ کرنے کا حکم دیا تھا اس دن سے پچاس دن پورے ہو گئے۔ پچاسویں رات کی صبح کو میں اپنے ایک گھر کی چھت پر نماز فجر سے فراغت کے بعد بیٹھا ہوا تھا اور میری حالت بعینہ وہی تھی جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے کہ میں اپنی جان سے تنگ تھا اور زمین اپنی فراخی کے باوجود میرے لیے تنگ ہو چکی تھی کہ اچانک میں نے کسی پکارنے والے کی آواز سنی جو کوہ سلع پر چڑھ کر اپنی بلند ترین آواز میں پکار رہا تھا: اے کعب بن مالک! خوش ہو جاؤ۔ میں یہ سنتے ہی سجدے میں گر گیا اور سمجھ گیا کہ آزمائش کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ دراصل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد اعلان فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی ہے، لہذا لوگ ہمیں خوشخبری دینے کے لیے دوڑ پڑے۔ کچھ لوگ خوشخبری دینے کے لیے میرے دوسرے دونوں ساتھیوں کی طرف گئے اور ایک شخص گھوڑا دوڑا کر میری طرف چلا اور ایک دوڑنے والا جو قبیلہ اسلم کا فرد تھا دوڑ کر پہاڑ پر چڑھ گیا اور اس کی آواز گھوڑے سے تیز نکلی، لہذا یہ شخص جس کی آواز میں، میں نے خوشخبری سنی تھی میرے پاس پہنچا تو میں نے اپنے کپڑے اتار کر خوشخبری دینے والے کو انعام میں پہنا دیے۔ اللہ کی قسم! میرے پاس اس دن ان کپڑوں کے علاوہ کوئی جوڑا نہ تھا، لہذا میں نے دو کپڑے ادھار لے کر پہنے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جانے کے لیے چل پڑا۔ لوگ گروہ در گروہ مجھ سے ملتے اور توبہ قبول ہونے کی مبارک دیتے ہوئے کہتے: تم کو مبارک ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری توبہ قبول فرما لی اور تمہیں معاف کر دیا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جب میں مسجد میں پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ دوڑتے ہوئے آئے اور انہوں نے مصافحہ کیا اور مجھے مبارکباد دی۔ اللہ کی قسم! مہاجرین میں سے ان کے علاوہ اور کوئی شخص میری طرف اٹھ کر نہیں آیا اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے اس سلوک کو میں کبھی نہیں بھولا۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو آپ نے خوشی سے دمکتے ہوئے چہرے کے ساتھ فرمایا: تمہیں آج کا دن مبارک ہو۔ یہ دن ان تمام دنوں میں سے سب سے بہتر ہے جو تمہاری پیدائش کے بعد سے آج تک تم پر گزرے ہیں۔ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! یہ معافی آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ معافی اللہ کی طرف سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت خوش ہوتے تو آپ کا چہرہ مبارک اس طرح دمک اٹھتا جیسے وہ چاند کا ٹکڑا ہو اور ہم اس چہرے کو دیکھ کر جان لیا کرتے تھے کہ آپ خوش ہیں۔ الغرض جب میں آپ کے سامنے بیٹھا تو میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! میں اس توبہ کی خوشی میں چاہتا ہوں کہ اپنا مال اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بطور صدقہ دوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سب نہیں، اپنا کچھ مال اپنے پاس بھی رکھو کیونکہ ایسا رکھنا تمہارے لیے بہتر ہو گا۔ میں نے عرض کی: اچھا میں اپنا وہ حصہ جو خیبر میں ہے اپنے پاس روک لیتا ہوں۔ پھر میں نے عرض کی: اللہ کے رسول! چونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے صرف سچ بولنے کی برکت سے نجات دی ہے، اس لیے میں اپنی توبہ کی قبولیت کی خوشی میں یہ عہد کرتا ہوں کہ جب تک زندہ رہوں گا ہمیشہ سچ بات کہوں گا، چنانچہ اللہ کی قسم! میرے علم میں ایسا کوئی مسلمان نہیں جسے سچ بولنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اتنے خوبصورت انداز میں نوازا ہو جس قدر حسین و خوبصورت انداز میں اس نے مجھے نوازا ہے جس دن سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو یہ عہد کیا تھا۔ میں نے جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کہی اس دن سے آج تک کبھی قصداً جھوٹ نہیں بولا اور مجھے توقع ہے کہ اللہ تعالیٰ باقی ماندہ زندگی میں بھی مجھے جھوٹ سے محفوظ رکھے گا۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿لَقَدْ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَالْمُھٰجِرِیْنَ وَالْاَنْصَارِ﴾ [سورة التوبة: 117] سے اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿وَکُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ﴾ [سورة التوبة: 119] تک۔ اللہ کی قسم! جب سے مجھے اللہ نے دین اسلام کی رہنمائی فرمائی ہے اس کے بعد سے اللہ تعالیٰ نے مجھے جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سب سے عظیم نعمت میرے نقطہ نگاہ سے یہ ہے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائی اور میں جھوٹ بول کر ہلاک نہ ہوا جیسے دوسرے وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نزول وحی کے وقت ان لوگوں کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کیے ہیں جس سے زیادہ برے الفاظ کسی اور کے لیے استعمال نہیں فرمائے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰہِ لَکُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْھِمْ﴾ [سورة التوبة: 95] اس آیت ﴿فَاِنَّ اللّٰہَ لَا یَرْضٰی عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ﴾ [سورة التوبة: 96] تک۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے: ہم تینوں کا معاملہ ان لوگوں کے معاملے سے مؤخر کر دیا گیا تھا جن کے عذر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قسموں کی وجہ سے قبول کر لیے تھے۔ ان سے بیعت لے لی تھی اور ان کے گناہ معاف ہونے کی دعا بھی فرما دی تھی اور ہمارے مقدر کا فیصلہ معلق کر دیا تھا یہاں تک کہ اللہ نے خود اس کا فیصلہ فرمایا۔ اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَعَلَی الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا﴾ [سورة التوبة: 118] اس آیت میں «خُلِّفُوا» سے مراد یہ نہیں کہ انہیں جہاد سے پیچھے چھوڑ دیا گیا بلکہ اس سے مراد یہی ہے کہ انہیں معلق کر دیا گیا اور ان کے مقدر کا فیصلہ مؤخر کر دیا گیا تھا جبکہ ان لوگوں کے عذر قبول کر لیے گئے تھے جنہوں نے قسمیں اٹھا اٹھا کر عذر پیش کیے تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4418]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4658
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ حُذَيْفَةَ، فَقَالَ:" مَا بَقِيَ مِنْ أَصْحَابِ هَذِهِ الْآيَةِ إِلَّا ثَلَاثَةٌ، وَلَا مِنَ الْمُنَافِقِينَ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ: إِنَّكُمْ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُخْبِرُونَا فَلَا نَدْرِي، فَمَا بَالُ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ يَبْقُرُونَ بُيُوتَنَا، وَيَسْرِقُونَ أَعْلَاقَنَا، قَالَ أُولَئِكَ الْفُسَّاقُ، أَجَلْ لَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ إِلَّا أَرْبَعَةٌ، أَحَدُهُمْ شَيْخٌ كَبِيرٌ، لَوْ شَرِبَ الْمَاءَ الْبَارِدَ لَمَا وَجَدَ بَرْدَهُ".
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن وہب نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ بن یمان کی خدمت میں حاضر تھے۔ انہوں نے کہا یہ آیت جن لوگوں کے بارے میں اتری ان میں سے اب صرف تین شخص باقی ہیں، اسی طرح منافقوں میں سے بھی اب چار شخص باقی ہیں۔ اتنے میں ایک دیہاتی کہنے لگا آپ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، ہمیں ان لوگوں کے متعلق بتائیے کہ ان کا کیا حشر ہو گا جو ہمارے گھروں میں چھید کر کے اچھی چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ فاسق بدکار ہیں۔ ہاں ان منافقوں میں چار کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہا ہے اور ایک تو اتنا بوڑھا ہو چکا ہے کہ اگر ٹھنڈا پانی پیتا ہے تو اس کی ٹھنڈ کا بھی اسے پتہ نہیں چلتا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4658]
حضرت زید بن وہب رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا: ہم حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھے، انہوں نے فرمایا: یہ آیت جن لوگوں کے متعلق نازل ہوئی تھی ان میں سے اب صرف تین شخص باقی ہیں۔ اسی طرح منافقین میں بھی اب چار شخص زندہ ہیں۔ اس پر ایک دیہاتی کہنے لگا: آپ حضرات تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ہیں، ہمیں ان لوگوں کے متعلق بتائیں کہ ان کا حشر کیا ہو گا جو ہمارے گھروں میں نقب زنی کر کے اچھی چیزیں چرا کر لے جاتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: یہ لوگ فاسق و بدکردار ہیں، ہاں ان منافقین میں سے چار کے علاوہ اور کوئی باقی نہیں ہے۔ ایک تو اتنا بوڑھا ہو چکا ہے کہ اگر وہ ٹھنڈا پانی پیے تو اسے پانی کی ٹھنڈک بھی محسوس نہ ہو۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4658]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4673
حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ:" وَاللَّهِ مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ مِنْ نِعْمَةٍ بَعْدَ إِذْ هَدَانِي، أَعْظَمَ مِنْ صِدْقِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ لَا أَكُونَ كَذَبْتُهُ فَأَهْلِكَ، كَمَا هَلَكَ الَّذِينَ كَذَبُوا حِينَ أُنْزِلَ الْوَحْيُ، سَيَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ إِذَا انْقَلَبْتُمْ إِلَيْهِمْ إِلَى قَوْلِهِ الْفَاسِقِينَ سورة التوبة آية 95 - 96".
ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے بیان کیا کہ انہوں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہو سکنے کا واقعہ سنا۔ انہوں نے بتلایا، اللہ کی قسم! ہدایت کے بعد اللہ نے مجھ پر اتنا بڑا اور کوئی انعام نہیں کیا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولنے کے بعد ظاہر ہوا تھا کہ اس نے مجھے جھوٹ بولنے سے بچایا، ورنہ میں بھی اسی طرح ہلاک ہو جاتا جس طرح دوسرے لوگ جھوٹی معذرتیں بیان کرنے والے ہلاک ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں وحی نازل کی تھی «سيحلفون بالله لكم إذا انقلبتم إليهم‏» کہ عنقریب یہ لوگ تمہارے سامنے، جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے۔ اللہ کی قسم کھا جائیں گے۔ آخر آیت «الفاسقين‏» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4673]
عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ جب وہ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تو میں نے ان سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! ہدایت کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتنا بڑا اور کوئی انعام نہیں کیا جتنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سچ بولنے کا کیا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ نہ بولا، بصورتِ دیگر میں بھی اسی طرح ہلاک ہو جاتا جس طرح دوسرے جھوٹی معذرتیں بیان کرنے والے لوگ ہلاک ہوئے تھے جب ان کے بارے میں یہ وحی نازل کی گئی: ﴿جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو وہ لوگ تمہارے سامنے قسمیں اٹھائیں گے... جو نافرمان ہوں۔﴾ [سورة التوبة: 95، 96] ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4673]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4678
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ قِصَّةِ تَبُوكَ: فَوَاللَّهِ، مَا أَعْلَمُ أَحَدًا أَبْلَاهُ اللَّهُ فِي صِدْقِ الْحَدِيثِ أَحْسَنَ مِمَّا أَبْلَانِي، مَا تَعَمَّدْتُ مُنْذُ ذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى يَوْمِي هَذَا كَذِبًا، وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَقَدْ تَابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ إِلَى قَوْلِهِ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ سورة التوبة آية 117 - 119.
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے اور ان سے عبداللہ بن کعب بن مالک نے، وہ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کو ساتھ لے کر چلتے تھے۔ (جب وہ نابینا ہو گئے تھے) عبداللہ نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ غزوہ تبوک میں اپنی غیر حاضری کا قصہ بیان کر رہے تھے، کہا کہ اللہ کی قسم! سچ بولنے کا جتنا عمدہ پھل اللہ تعالیٰ نے مجھے دیا، کسی کو نہ دیا ہو گا۔ جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میں نے اس بارے میں سچی بات کہی تھی، اس وقت سے آج تک کبھی جھوٹ کا ارادہ بھی نہیں کیا اور اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل کی تھی «لقد تاب الله على النبي والمهاجرين‏» کہ بیشک اللہ نے نبی پر اور مہاجرین و انصار پر رحمت کے ساتھ توجہ فرمائی۔ آخر آیت «وكونوا مع الصادقين‏» تک۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4678]
حضرت عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جو حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر انہیں چلایا کرتے تھے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، جب آپ غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے تو اپنا قصہ بیان کرتے ہوئے فرماتے تھے: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی شخص کو سچ کہنے کی توفیق دے کر اس پر اتنا بڑا احسان کیا ہو جتنا کہ مجھ پر کیا۔ میں نے اس وقت سے لے کر آج تک قصداً کبھی جھوٹ نہیں بولا اور اللہ تعالیٰ نے اسی باب میں یہ آیات نازل فرمائیں: ﴿لَّقَد تَّابَ اللَّـهُ عَلَى النَّبِيِّ وَالْمُهَاجِرِينَ... وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ﴾ [سورة التوبة: 117-119] ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4678]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6255
حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبٍ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ تَبُوكَ،" وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَلَامِنَا، وَآتِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُسَلِّمُ عَلَيْهِ، فَأَقُولُ فِي نَفْسِي هَلْ حَرَّكَ شَفَتَيْهِ بِرَدِّ السَّلَامِ أَمْ لَا؟ حَتَّى كَمَلَتْ خَمْسُونَ لَيْلَةً، وَآذَنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا حِينَ صَلَّى الْفَجْرَ".
ہم سے ابن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن کعب نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی تھی اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا تھا اور یہ اندازہ لگاتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب سلام میں ہونٹ مبارک ہلائے یا نہیں، آخر پچاس دن گزر گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ کے قبول کئے جانے کا نماز فجر کے بعد اعلان کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6255]
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ غزوہ تبوک میں شریک نہیں ہو سکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے بات چیت کرنے کی ممانعت کر دی تھی، وہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر سلام کرتا تھا، پھر دل میں کہتا تھا کہ دیکھوں آپ نے ہونٹ مبارک ہلائے ہیں یا نہیں؟ آخر پورے پچاس دن گزر گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بارگاہ میں ہماری توبہ قبول کیے جانے کا اعلان نماز پڑھنے کے بعد کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6255]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6690
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ فِي حَدِيثِهِ: وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ خُلِّفُوا، فَقَالَ فِي آخِرِ حَدِيثِهِ: إِنَّ مِنْ تَوْبَتِي أَنِّي أَنْخَلِعُ مِنْ مَالِي صَدَقَةً إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، فَقَال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَمْسِكْ عَلَيْكَ بَعْضَ مَالِكَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ".
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا مجھ کو یونس نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، کہا مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی، جب کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کی اولاد میں ایک یہی کہیں آنے جانے میں ان کے ساتھ رہتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کے واقعہ اور آیت «على الثلاثة الذين خلفوا‏» کے سلسلہ میں سنا، انہوں نے اپنی حدیث کے آخر میں کہا کہ (میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ پیش کش کی کہ) اپنی توبہ کی خوشی میں میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول کے دین کی خدمت میں صدقہ کر دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6690]
عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک سے روایت ہے (وہ اپنے باپ عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں)۔ اور جب حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تھے تو ان کی اولاد میں سے یہی (عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ) ان کو لے کر چلا کرتے تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کی حدیث سنی جو ان حضرات سے متعلق تھی جو غزوہ تبوک سے پیچھے رہ گئے تھے۔ انہوں نے اپنی سرگزشت کے آخر میں کہا: میں نے یہ پیش کش کی کہ اپنی توبہ کی خوشی میں اپنا مال اللہ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صدقہ کر کے اس سے خالی ہونا چاہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا کچھ مال اپنے پاس ہی رکھو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 6690]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7225
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، وَكَانَ قَائِدَ كَعْبٍ مِنْ بَنِيهِ حِينَ عَمِيَ، قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، قَال:" لَمَّا تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، فَذَكَرَ حَدِيثَهُ، وَنَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ كَلَامِنَا، فَلَبِثْنَا عَلَى ذَلِكَ خَمْسِينَ لَيْلَةً، وَآذَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَوْبَةِ اللَّهِ عَلَيْنَا".
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے کہ عبداللہ بن کعب بن مالک، کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے نابینا ہو جانے کے زمانے میں ان کے سب لڑکوں میں یہی راستے میں ان کے ساتھ چلتے تھے، (انہوں) نے بیان کیا کہ میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نہیں جا سکتے تھے، پھر انہوں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے گفتگو کرنے سے روک دیا تھا تو ہم پچاس دن اسی حالت میں رہے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7225]
حضرت عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جس وقت حضرت کعب رضی اللہ عنہ نابینا ہو گئے تو ان کے بیٹوں میں سے یہی ان کے قائد تھے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے سے پیچھے رہ گئے... پھر انہوں نے اپنا پورا واقعہ بیان کیا... اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہمارے ساتھ گفتگو کرنے سے روک دیا تو ہم پچاس راتیں اسی حالت میں رہے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ قبول کر لی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7225]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں