صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب: {وإذ قال موسى لفتاه لا أبرح حتى أبلغ مجمع البحرين أو أمضي حقبا} :
باب: آیت «وإذ قال موسى لفتاه لا أبرح حتى أبلغ مجمع البحرين أو أمضي حقبا» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 4725
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ نَوْفًا الْبِكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ هُوَ مُوسَى صَاحِبَ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ مُوسَى قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ فَقَالَ: أَنَا، فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ إِنَّ لِي عَبْدًا بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ مُوسَى: يَا رَبِّ، فَكَيْفَ لِي بِهِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ مَعَكَ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ، ثَمَّ فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ وَانْطَلَقَ مَعَهُ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ حَتَّى إِذَا أَتَيَا الصَّخْرَةَ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا فَنَامَا، وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فِي الْمِكْتَلِ، فَخَرَجَ مِنْهُ، فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ، فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، وَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنِ الْحُوتِ جِرْيَةَ الْمَاءِ، فَصَارَ عَلَيْهِ مِثْلَ الطَّاقِ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ نَسِيَ صَاحِبُهُ أَنْ يُخْبِرَهُ بِالْحُوتِ، فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ يَوْمِهِمَا وَلَيْلَتَهُمَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، قَالَ وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَا الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ، وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا، قَالَ: فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَلِمُوسَى وَلِفَتَاهُ عَجَبًا، فَقَالَ مُوسَى: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، قَالَ: رَجَعَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى ثَوْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى، فَقَالَ الْخَضِرُ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ، قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى: بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا، قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا يَا مُوسَى، إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لَا تَعْلَمُهُ أَنْتَ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ، فَقَالَ مُوسَى: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا، وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ: فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ، فَمَرَّتْ سَفِينَةٌ، فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ، فَعَرَفُوا الْخَضِرَ، فَحَمَلُوهُمْ بِغَيْرِ نَوْلٍ، فَلَمَّا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ لَمْ يَفْجَأْ إِلَّا وَالْخَضِرُ قَدْ قَلَعَ لَوْحًا مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ بِالْقَدُومِ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ، فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا، لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا؟ قَالَ: لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ، وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا، قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا"، قَالَ: وَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً، فَقَالَ لَهُ الْخَضِرُ: مَا عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ، إِلَّا مِثْلُ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْ هَذَا الْبَحْرِ، ثُمَّ خَرَجَا مِنَ السَّفِينَةِ، فَبَيْنَا هُمَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ إِذْ أَبْصَرَ الْخَضِرُ غُلَامًا يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ رَأْسَهُ بِيَدِهِ، فَاقْتَلَعَهُ بِيَدِهِ، فَقَتَلَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَاكِيَةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا؟ قَالَ:" وَهَذِهِ أَشَدُّ مِنَ الْأُولَى"، قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا، فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا، فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ، قَالَ: مَائِلٌ، فَقَامَ الْخَضِرُ، فَأَقَامَهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ مُوسَى: قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُطْعِمُونَا، وَلَمْ يُضَيِّفُونَا، لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ إِلَى قَوْلِهِ ذَلِكَ تَأْوِيلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا سورة الكهف آية 78 - 82، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى كَانَ صَبَرَ حَتَّى يَقُصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا"، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا، وَكَانَ يَقْرَأُ وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا، وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ.
ہم سے عبدااللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا نوف بکالی کہتا ہے (جو کعب احبار کا رہیب تھا) کہ جن موسیٰ کی خضر کے ساتھ ملاقات ہوئی تھی وہ بنی اسرائیل کے (رسول) موسیٰ کے علاوہ دوسرے ہیں۔ (یعنی موسیٰ بن میثا بن افراثیم بن یوسف بن یعقوب) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا دشمن خدا نے غلط کہا۔ مجھ سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو وعظ سنانے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ انسانوں میں سب سے زیادہ علم کسے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر غصہ کیا کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں وحی کے ذریعہ بتایا کہ دو دریاؤں (فارس اور روم) کے سنگم پر میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے رب! میں ان تک کیسے پہنچ پاؤں گا؟ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ اپنے ساتھ ایک مچھلی لے لو اور اسے ایک زنبیل میں رکھ لو، وہ جہاں گم ہو جائے (زندہ ہو کر دریا میں کود جائے) بس میرا وہ بندہ وہیں ملے گا چنانچہ آپ نے مچھلی لی اور زنبیل میں رکھ کر روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ آپ کے خادم یوشع بن نون بھی تھے۔ جب یہ دونوں چٹان کے پاس آئے تو سر رکھ کر سو گئے، ادھر مچھلی زنبیل میں تڑپی اور اس سے نکل گئی اور اس نے دریا میں اپنا راستہ پا لیا۔ مچھلی جہاں گری تھی اللہ تعالیٰ نے وہاں پانی کی روانی کو روک دیا اور پانی ایک طاق کی طرح اس پر بن گیا (یہ حال یوشع اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے) پھر جب موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو یوشع ان کو مچھلی کے متعلق بتانا بھول گئے۔ اس لیے دن اور رات کا جو حصہ باقی تھا اس میں چلتے رہے، دوسرے دن موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے فرمایا کہ اب کھانا لاؤ، ہم کو سفر نے بہت تھکا دیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اس وقت تک نہیں تھکے جب تک وہ اس مقام سے نہ گزر چکے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ اب ان کے خادم نے کہا آپ نے نہیں دیکھا جب ہم چٹان کے پاس تھے تو مچھلی کے متعلق بتانا بھول گیا تھا اور صرف شیطانوں نے یاد رہنے نہیں دیا۔ اس نے تو عجیب طریقہ سے اپنا راستہ بنا لیا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مچھلی نے تو دریا میں اپنا راستہ لیا اور موسیٰ اور ان کے خادم کو (مچھلی کا جو نشان پانی میں اب تک موجود تھا) دیکھ کر تعجب ہوا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ وہی جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم تھے، چنانچہ دونوں حضرات پیچھے اسی راستہ سے لوٹے۔ بیان کیا کہ دونوں حضرات پیچھے اپنے نقش قدم پر چلتے چلتے آخر اس چٹان تک پہنچ گئے وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک صاحب (خضر علیہ السلام) کپڑے میں لپٹے ہوئے وہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ خضر علیہ السلام نے کہا (تم کون ہو) تمہارے ملک میں ”سلام“ کہاں سے آ گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ پوچھا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا کہ جی ہاں۔ آپ کے پاس اس غرض سے حاضر ہوا ہوں تاکہ جو ہدایت کا علم آپ کو حاصل ہے وہ مجھے بھی سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، موسیٰ! آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے مجھے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص علم ملا ہے جسے آپ نہیں جانتے، اسی طرح آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو علم ملا ہے وہ میں نہیں جانتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ان شاءاللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کے خلاف نہیں کروں گا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، اچھا اگر آپ میرے ساتھ چلیں تو کسی چیز کے متعلق سوال نہ کریں یہاں تک کہ میں خود آپ کو اس کے متعلق بتا دوں گا۔ اب یہ دونوں سمندر کے کنارے کنارے روانہ ہوئے اتنے میں ایک کشتی گزری، انہوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ انہیں بھی اس پر سوار کر لیں۔ کشتی والوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کسی کرایہ کے بغیر انہیں سوار کر لیا۔ جب یہ دونوں کشتی پر بیٹھ گئے تو خضر علیہ السلام نے کلہاڑے سے کشتی کا ایک تختہ نکال ڈالا۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا تو خضر علیہ السلام سے کہا کہ ان لوگوں نے ہمیں بغیر کسی کرایہ کے اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا اور آپ نے انہیں کی کشتی چیر ڈالی تاکہ سارے مسافر ڈوب جائیں۔ بلاشبہ آپ نے یہ بڑا ناگوار کام کیا ہے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا جو بات میں بھول گیا تھا اس پر مجھے معاف کر دیں اور میرے معاملہ میں تنگی نہ کریں۔ بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، یہ پہلی مرتبہ موسیٰ علیہ السلام نے بھول کر انہیں ٹوکا تھا۔ راوی نے بیان کیا کہ اتنے میں ایک چڑیا آئی اور اس نے کشتی کے کنارے بیٹھ کر سمندر میں ایک مرتبہ اپنی چونچ ماری تو خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ میرے اور آپ کے علم کی حیثیت اللہ کے علم کے مقابلے میں اس سے زیادہ نہیں ہے جتنا اس چڑیا نے اس سمندر کے پانی سے کم کیا ہے۔ پھر یہ دونوں کشتی سے اتر گئے، ابھی وہ سمندر کے کنارے چل ہی رہے تھے کہ خضر علیہ السلام نے ایک بچہ کو دیکھا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ آپ نے اس بچے کا سر اپنے ہاتھ میں دبایا اور اسے (گردن سے) اکھاڑ دیا اور اس کی جان لے لی۔ موسیٰ علیہ السلام اس پر بولے، آپ نے ایک بےگناہ کی جان بغیر کسی جان کے بدلے کے لے لی، یہ آپ نے بڑا ناپسند کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ میں تو پہلے ہی کہہ چکا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ سفیان بن عیینہ (راوی حدیث) نے کہا اور یہ کام تو پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے آخر اس مرتبہ بھی معذرت کی کہ اگر میں نے اس کے بعد پھر آپ سے سوال کیا تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھئے گا۔ آپ میرا باربار عذر سن چکے ہیں (اس کے بعد میرے لیے بھی عذر کا کوئی موقع نہ رہے گا) پھر دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور بستی والوں سے کہا کہ ہمیں اپنا مہمان بنا لو، لیکن انہوں نے میزبانی سے انکار کیا، پھر انہیں بستی میں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ بیان کیا کہ دیوار جھک رہی تھی۔ خضر علیہ السلام کھڑے ہو گئے اور دیوار اپنے ہاتھ سے سیدھی کر دی۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ ان لوگوں کے یہاں ہم آئے اور ان سے کھانے کے لیے کہا، لیکن انہوں نے ہماری میزبانی سے انکار کیا، اگر آپ چاہتے تو دیوار کے اس سیدھا کرنے کے کام پر اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد «ذلك تأويل ما لم تسطع عليه صبرا» تک۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ہم تو چاہتے تھے کہ موسیٰ نے صبر کیا ہوتا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے اور واقعات ہم سے بیان کرتا۔ سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تلاوت کرتے تھے (جس میں خضر علیہ السلام نے اپنے کاموں کی وجہ بیان کی ہے کہ) کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی کو چھین لیا کرتا تھا اور اس کی بھی آپ تلاوت کرتے تھے کہ اور وہ غلام (جس کی گردن خضر علیہ السلام نے توڑ دی تھی) تو وہ (اللہ کے علم میں) کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4725]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کہتا ہے: ”خضر کے ساتھی حضرت موسٰی، وہ بنی اسرائیل کے موسٰی نہیں ہیں۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”وہ اللہ کا دشمن غلط کہتا ہے۔“ مجھے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بتایا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت موسٰی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ اس دوران میں آپ سے پوچھا گیا: لوگوں میں سب سے زیادہ عالم کون ہے؟ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا: میں سب سے بڑا عالم ہوں۔ اس بات پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوئے کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی کہ دو دریاؤں کے سنگم پر میرا ایک بندہ ہے جو تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! میں اس سے ملاقات کس طرح کر سکتا ہوں؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اپنے ساتھ ایک مچھلی لے لو اور اسے زنبیل میں رکھ لو، جہاں وہ گم ہو جائے، میرا وہ بندہ وہیں آپ سے ملے گا۔ چنانچہ انہوں نے ایک مچھلی لی اور اسے زنبیل میں رکھا، پھر عازمِ سفر ہوئے۔ ان کے ساتھ ان کے خادم یوشع بن نون بھی تھے۔ جب یہ دونوں چٹان کے پاس آئے تو وہاں سر رکھ کر سو گئے۔ اتنے میں مچھلی زنبیل میں حرکت کرنے لگی، پھر باہر کود کر اس نے دریا میں اپنا راستہ سرنگ کی صورت میں بنا لیا۔ مچھلی جہاں گری تھی اللہ تعالیٰ نے پانی کے بہاؤ کو روک لیا اور مچھلی کے لیے ایک طاق کی طرح راستہ بن گیا۔ جب موسٰی علیہ السلام بیدار ہوئے تو ان کے خادم انہیں مچھلی کا واقعہ بتانا بھول گئے۔ وہ دونوں باقی دن رات چلتے رہے حتیٰ کہ دوسرے دن حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا: ”اب ہمارا ناشتہ لاؤ، ہمیں تو اس سفر نے بہت تھکا دیا ہے۔“ موسٰی علیہ السلام نے تھکان اس وقت محسوس کی جب اس جگہ سے آگے گزر گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ اب ان کے خادم نے ان سے کہا: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ ۚ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا﴾ [سورة الكهف: 63] ”بھلا آپ نے دیکھا جب ہم اس چٹان کے پاس جا کر ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کا واقعہ بتانا بھول گیا اور وہ مجھے صرف شیطان نے بھلوایا کہ میں آپ سے اس کا ذکر کروں۔ اس نے تو عجیب طریقے سے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا تھا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مچھلی نے تو دریا میں اپنا راستہ لیا لیکن حضرت موسٰی علیہ السلام اور ان کے خادم کو راستہ کے نشانات دیکھ کر تعجب ہوا۔“ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ ۚ فَارْتَدَّا عَلَىٰ آثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ [سورة الكهف: 64] ”یہی تو وہ جگہ تھی جس کی ہمیں تلاش تھی، چنانچہ وہ دونوں اپنے نقش قدم پر چلتے چلتے آخر اس چٹان تک پہنچ گئے۔“ وہاں انہوں نے دیکھا کہ ایک صاحب کپڑا لپیٹے لیٹے ہوئے ہیں۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے انہیں سلام کیا۔ حضرت خضر نے کہا: ”تمہاری اس سرزمین میں سلام کیسے؟“ حضرت موسٰی علیہ السلام نے اپنا تعارف کرایا کہ ”میں موسٰی ہوں۔“ انہوں نے فرمایا: ”موسٰی، جو بنی اسرائیل کے ہیں؟“ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہاں، میں تمہارے پاس اس لیے آیا ہوں تاکہ آپ مجھے وہ رشد و ہدایت کی تعلیم دیں جس کی آپ کو تعلیم دی گئی ہے۔“ حضرت خضر نے کہا: ”اے موسٰی! آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو علم دیا ہے وہ آپ نہیں جانتے اور جو علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے وہ میں نہیں جانتا۔“ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا: ” «إِنْ شَاءَ اللّٰهُ» ”ان شاء اللہ“ آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کے خلاف نہیں کروں گا۔“ حضرت خضر نے کہا: ”اگر آپ میرے ساتھ چلنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو مجھ سے کسی چیز کے متعلق سوال نہ کرنا حتیٰ کہ میں خود اس کا حال بیان کرنا شروع کروں۔“ اب یہ دونوں سمندر کے کنارے کنارے روانہ ہوئے، اتنے میں ایک کشتی گزری، انہوں نے کشتی والوں سے بات کی کہ انہیں بھی اس پر سوار کر لیں۔ انہوں نے حضرت خضر کو پہچان لیا اور کسی کرائے کے بغیر انہیں سوار کر لیا۔ جب یہ دونوں کشتی میں بیٹھ گئے تو حضرت خضر نے تیشے سے کشتی کے تختوں سے ایک تختہ باہر نکال دیا۔ جب حضرت موسٰی علیہ السلام نے یہ دیکھا تو حضرت خضر سے فرمایا: ”ان لوگوں نے ہمیں کرائے کے بغیر کشتی میں سوار کیا اور تم نے قصداً اس کا تختہ توڑ ڈالا تاکہ کشتی میں سوار لوگوں کو غرق کر دو، بلاشبہ آپ نے بہت ہولناک اور ناگوار کام کیا ہے۔“ حضرت خضر نے کہا: ”میں نے تمہیں پہلے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟“ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا: ”جو بات میں بھول گیا تھا، اس پر آپ مجھے معاف کر دیں اور میرے معاملے میں مجھ پر تنگی نہ کریں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واقعی پہلی دفعہ موسٰی علیہ السلام نے بھول کر انہیں ٹوکا تھا۔“ اس دوران میں ایک چڑیا آئی اور اس نے کشتی کے کنارے بیٹھ کر دریا میں ایک مرتبہ اپنی چونچ ماری۔ حضرت خضر نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا: ”میرے اور آپ کے علم کی حیثیت اللہ کے علم کے مقابلے میں اس سے زیادہ نہیں جتنا اس چڑیا نے سمندر سے پانی کم کیا ہے۔“ پھر وہ دونوں کشتی سے اتر گئے۔ ابھی وہ سمندر کے کنارے کنارے جا رہے تھے کہ حضرت خضر نے ایک بچے کو دیکھا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر نے اپنے ہاتھ سے اس کا سر پکڑا اور اس کے تن سے جدا کر دیا اور اسے مار دیا۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ”آپ نے ایک بے گناہ اور معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلے مار دیا ہے، یقیناً آپ نے انتہائی ناپسندیدہ کام کیا ہے۔“ حضرت خضر نے کہا: ”میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟“ راوی نے کہا: یہ کام تو پہلے سے بھی زیادہ سخت تھا۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے آکر اس مرتبہ بھی معذرت کر لی کہ: ”اگر میں نے اس کے بعد پھر آپ سے کوئی سوال کیا تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیے گا، آپ میرا بار بار عذر سن چکے ہیں۔“ پھر دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور بستی والوں سے کہا کہ ہمیں اپنا مہمان بنا لو، لیکن انہوں نے میزبانی سے انکار کر دیا۔ پھر انہیں بستی میں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی یعنی وہ جھک رہی تھی۔ حضرت خضر کھڑے ہوئے اور اپنے ہاتھ سے دیوار کو سیدھا کر دیا۔ حضرت موسٰی علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم ان لوگوں کے پاس آئے اور ان سے مہمانی کا مطالبہ کیا لیکن انہوں نے ہماری میزبانی سے صاف انکار کر دیا۔ اگر آپ چاہتے تو دیوار سیدھی کرنے پر اجرت لے سکتے تھے۔“ حضرت خضر نے کہا: ”یہ میری اور آپ کی جدائی کا وقت ہے، اب یہ حقیقت ہے ان معاملات کی جن پر آپ صبر نہیں کر سکے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری یہ خواہش تھی کہ حضرت موسٰی علیہ السلام صبر سے کام لیتے تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے مزید واقعات ہم سے بیان کرتا۔“ سعید بن جبیر نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس طرح آیت کی تلاوت کرتے تھے: ﴿وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا﴾ [سورة الكهف: 79] ”کشتی والوں کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی چھین لیتا تھا۔“ اور اس آیت کی بھی یوں تلاوت کرتے تھے: ﴿وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ﴾ [سورة الكهف: 80] ”اور وہ بچہ تو کافر تھا جبکہ اس کے والدین مومن تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4725]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 74
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ غُرَيْرٍ الزُّهْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ خَضِرٌ فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ؟ قَالَ مُوسَى: لَا، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَيْهِ؟ فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، وَكَانَ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ لِمُوسَى فَتَاهُ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ، قَالَ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا الَّذِي قَصَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي كِتَابِهِ".
ہم سے محمد بن غریر زہری نے بیان کیا، ان سے یعقوب بن ابراہیم نے، ان سے ان کے باپ (ابراہیم) نے، انہوں نے صالح سے سنا، انہوں نے ابن شہاب سے، وہ بیان کرتے ہیں کہ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے خبر دی کہ وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں بحث و تکرار کرنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ خضر علیہ السلام تھے۔ پھر ان کے پاس سے ابی بن کعب گزرے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میں اور میرے یہ رفیق موسیٰ علیہ السلام کے اس ساتھی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں جس سے انہوں نے ملاقات چاہی تھی۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کچھ ذکر سنا ہے۔ انہوں نے کہا، ہاں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ایک دن موسیٰ بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے پوچھا کیا آپ جانتے ہیں کہ (دنیا میں) کوئی آپ سے بھی بڑھ کر عالم موجود ہے؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے پاس وحی بھیجی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر ہے (جس کا علم تم سے زیادہ ہے) موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے دریافت کیا کہ خضر علیہ السلام سے ملنے کی کیا صورت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان سے ملاقات کی علامت قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم اس مچھلی کو گم کر دو تو (واپس) لوٹ جاؤ، تب خضر سے تمہاری ملاقات ہو گی۔ تب موسیٰ (چلے اور) دریا میں مچھلی کی علامت تلاش کرتے رہے۔ اس وقت ان کے ساتھی نے کہا جب ہم پتھر کے پاس تھے، کیا آپ نے دیکھا تھا، میں اس وقت مچھلی کا کہنا بھول گیا اور شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر بھلا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا، اسی مقام کی ہمیں تلاش تھی۔ تب وہ اپنے نشانات قدم پر (پچھلے پاؤں) باتیں کرتے ہوئے لوٹے (وہاں) انہوں نے خضر علیہ السلام کو پایا۔ پھر ان کا وہی قصہ ہے جو اللہ نے اپنی کتاب قرآن میں بیان کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 74]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا اور حضرت حر بن قیس بن حصن الفزاری رضی اللہ عنہ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے متعلق اختلاف ہو گیا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وہ ساتھی حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔ اسی اثنا میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ان کے پاس سے گزر ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اس ہم نشین کے متعلق باہمی اختلاف ہو گیا جس کی ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ دریافت کیا تھا۔ کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک دن موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف فرما تھے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور آپ سے دریافت کیا کہ آپ کسی شخص کو اپنے سے زیادہ عالم جانتے ہیں؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی: کیوں نہیں! ہمارا بندہ خضر علیہ السلام (تم سے زیادہ دانا ہے)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی: اس سے ملنے کی کیا صورت ہے؟ اللہ تعالیٰ نے ایک مچھلی کو ان سے ملاقات کی علامت قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم مچھلی کو گم پاؤ تو فوراً واپس لوٹ پڑنا کیونکہ وہاں قریب ہی تمہاری اس سے ملاقات ہو گی۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام چلے اور دریا میں مچھلی کی علامت تلاش کرتے رہے۔ پھر (ایک مقام پر) موسیٰ علیہ السلام سے ان کے خادم نے کہا کہ کیا آپ نے دیکھا ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] ”جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو میں (وہیں) مچھلی کو بھول گیا اور شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر بھلایا۔“ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ [سورة الكهف: 64] ”یہی تو وہ چیز تھی جس کے ہم متلاشی تھے“، چنانچہ ﴿فَارْتَدَّا عَلَىٰ آثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ [سورة الكهف: 64] ”وہ دونوں اپنے نقش ہائے قدم تلاش کرتے ہوئے ان پر واپس ہوئے“ تو حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ پھر ان دونوں کا وہی قصہ ہے جو اللہ عزوجل نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 74]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 78
حَدَّثَنَا أَبُو الْقَاسِمِ خَالِدُ بْنُ خَلِيٍّ قَاضِي حِمْصَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ، أَخْبَرَنَا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ؟ فَقَالَ أُبَيٌّ: نَعَمْ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ، يَقُولُ:" بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَتَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ، قَالَ مُوسَى: لَا، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى مُوسَى: بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، فَكَانَ مُوسَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ يَتَّبِعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ فَتَى مُوسَى لِمُوسَى: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ، قَالَ مُوسَى: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا، فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ".
ہم سے ابوالقاسم خالد بن خلی قاضی حمص نے بیان کیا، ان سے محمد بن حرب نے، اوزاعی کہتے ہیں کہ ہمیں زہری نے عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے خبر دی، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں جھگڑے۔ (اس دوران میں) ان کے پاس سے ابی بن کعب گزرے، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا لیا اور کہا کہ میں اور میرے (یہ) ساتھی موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں بحث کر رہے ہیں جس سے ملنے کی موسیٰ علیہ السلام نے (اللہ سے) دعا کی تھی۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کچھ ان کا ذکر فرماتے ہوئے سنا ہے؟ ابی نے کہا کہ ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال بیان فرماتے ہوئے سنا ہے۔ آپ فرما رہے تھے کہ ایک بار موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا میں آپ سے بھی بڑھ کر کوئی عالم موجود ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ ہاں ہمارا بندہ خضر (علم میں تم سے بڑھ کر) ہے۔ تو موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملنے کی راہ دریافت کی، اس وقت اللہ تعالیٰ نے (ان سے ملاقات کے لیے) مچھلی کو نشانی قرار دیا اور ان سے کہہ دیا کہ جب تم مچھلی کو نہ پاؤ تو لوٹ جانا، تب تم خضر علیہ السلام سے ملاقات کر لو گے۔ موسیٰ علیہ السلام دریا میں مچھلی کے نشان کا انتظار کرتے رہے۔ تب ان کے خادم نے ان سے کہا۔ کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم پتھر کے پاس تھے، تو میں (وہاں) مچھلی بھول گیا۔ اور مجھے شیطان ہی نے غافل کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ہم اسی (مقام) کے تو متلاشی تھے، تب وہ اپنے (قدموں کے) نشانوں پر باتیں کرتے ہوئے واپس لوٹے۔ (وہاں) خضر علیہ السلام کو انہوں نے پایا۔ پھر ان کا قصہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 78]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا اور حضرت حر بن قیس بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم نشین کے متعلق اختلاف ہو گیا۔ دریں اثنا ان کے پاس سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ گزرے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلا لیا اور فرمایا کہ میرا اور میرے اس ساتھی کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم نشین کے متعلق اختلاف ہو گیا ہے جن سے ملاقات کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے حالات کے متعلق کچھ سنا ہے؟ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہاں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حالات بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ آپ فرماتے تھے: ”ایک مرتبہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تھے۔ اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا: کیا آپ کسی کو اپنے سے زیادہ عالم جانتے ہیں؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: نہیں۔ تب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی: کیوں نہیں! ہمارا بندہ «الْخَضِرُ» ”خضر“ (آپ سے زیادہ عالم ہے)۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ سے ان کی ملاقات کا راستہ پوچھا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے نشان مقرر کر دیا اور ان سے کہہ دیا گیا کہ جب تم مچھلی کو گم پاؤ تو واپس لوٹ آنا، قریب ہی کہیں تمہاری اس سے ملاقات ہو جائے گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام دریا میں مچھلی کی علامات تلاش کرتے رہے۔ تب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خادم نے ان سے عرض کی: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] ”کیا آپ نے دیکھا تھا جب ہم پتھر کے پاس ٹھہرے تھے تو میں (وہیں) مچھلی کو بھول گیا اور مجھے شیطان ہی نے بتانے سے غافل کر دیا“۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ [سورة الكهف: 64] ”یہی تو وہ چیز تھی جس کے ہم متلاشی تھے“، چنانچہ وہ دونوں اپنے نقش ہائے قدم تلاش کرتے ہوئے ان پر واپس ہوئے تو وہاں خضر سے ملاقات ہو گئی۔“ پھر آگے ان کا قصہ وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 78]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 122
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" قَامَ مُوسَى النَّبِيُّ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ فَقَالَ: أَنَا أَعْلَمُ، فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: يَا رَبِّ، وَكَيْفَ بِهِ؟ فَقِيلَ لَهُ: احْمِلْ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، فَإِذَا فَقَدْتَهُ فَهُوَ ثَمَّ فَانْطَلَقَ، وَانْطَلَقَ بِفَتَاهُ يُوشَعَ بْنِ نُونٍ وَحَمَلَا حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، حَتَّى كَانَا عِنْدَ الصَّخْرَةِ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا وَنَامَا، فَانْسَلَّ الْحُوتُ مِنَ الْمِكْتَلِ، فَاتَّخَذَ سَبِلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا، وَكَانَ لِمُوسَى وَفَتَاهُ عَجَبًا، فَانْطَلَقَا بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمَهُمَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ، قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى مَسًّا مِنَ النَّصَبِ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أُمِرَ بِهِ، فَقَالَ لَهُ فَتَاهُ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، قَالَ مُوسَى: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ إِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى بِثَوْبٍ أَوْ قَالَ تَسَجَّى بِثَوْبِهِ فَسَلَّمَ مُوسَى، فَقَالَ الْخَضِرُ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ، فَقَالَ: أَنَا لمُوسَى، فَقَالَ مُوسَى: بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا؟ قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا يَا مُوسَى، إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ لَا تَعْلَمُهُ أَنْتَ، وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ عَلَّمَكَهُ لَا أَعْلَمُهُ، قَالَ: سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ لَيْسَ لَهُمَا سَفِينَةٌ، فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ فَكَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمَا، فَعُرِفَ الْخَضِرُ فَحَمَلُوهُمَا بِغَيْرِ نَوْلٍ، فَجَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرُ: يَا مُوسَى، مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا كَنَقْرَةِ هَذَا الْعُصْفُورِ فِي الْبَحْرِ، فَعَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى لَوْحٍ مِنْ أَلْوَاحِ السَّفِينَةِ فَنَزَعَهُ، فَقَالَ مُوسَى: قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، قَالَ: لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ، فَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا، فَانْطَلَقَا فَإِذَا غُلَامٌ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ مِنْ أَعْلَاهُ فَاقْتَلَعَ رَأْسَهُ بِيَدِهِ، فَقَالَ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا، قَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ: وَهَذَا أَوْكَدُ فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ فَأَقَامَهُ، قَالَ الْخَضِرُ: بِيَدِهِ فَأَقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوَدِدْنَا لَوْ صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا".
ہم سے عبداللہ بن محمد المسندی نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، انہیں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ نوف بکالی کا یہ خیال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام (جو خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے وہ) موسیٰ بنی اسرائیل والے نہیں تھے بلکہ دوسرے موسیٰ تھے، (یہ سن کر) ابن عباس رضی اللہ عنہما بولے کہ اللہ کے دشمن نے جھوٹ کہا ہے۔ ہم سے ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا کہ (ایک روز) موسیٰ علیہ السلام نے کھڑے ہو کر بنی اسرائیل میں خطبہ دیا، تو آپ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ صاحب علم کون ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ میں ہوں۔ اس وجہ سے اللہ کا غصہ ان پر ہوا کہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے کیوں نہ کر دیا۔ تب اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ دریاؤں کے سنگم پر ہے۔ (جہاں فارس اور روم کے سمندر ملتے ہیں) وہ تجھ سے زیادہ عالم ہے، موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے پروردگار! میری ان سے ملاقات کیسے ہو؟ حکم ہوا کہ ایک مچھلی زنبیل میں رکھ لو، پھر جہاں تم اس مچھلی کو گم کر دو گے تو وہ بندہ تمہیں (وہیں) ملے گا۔ تب موسیٰ علیہ السلام چلے اور ساتھ اپنے خادم یوشع بن نون کو لے لیا اور انہوں نے زنبیل میں مچھلی رکھ لی، جب (ایک) پتھر کے پاس پہنچے، دونوں اپنے سر اس پر رکھ کر سو گئے اور مچھلی زنبیل سے نکل کر دریا میں اپنی راہ بناتی چلی گئی اور یہ بات موسیٰ علیہ السلام اور ان کے ساتھی کے لیے بےحد تعجب کی تھی، پھر دونوں باقی رات اور دن میں (جتنا وقت باقی تھا) چلتے رہے، جب صبح ہوئی موسیٰ علیہ السلام نے خادم سے کہا، ہمارا ناشتہ لاؤ، اس سفر میں ہم نے (کافی) تکلیف اٹھائی ہے اور موسیٰ علیہ السلام بالکل نہیں تھکے تھے، مگر جب اس جگہ سے آگے نکل گئے، جہاں تک انہیں جانے کا حکم ملا تھا، تب ان کے خادم نے کہا، کیا آپ نے دیکھا تھا کہ جب ہم صخرہ کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کا ذکر بھول گیا، (بقول بعض صخرہ کے نیچے آب حیات تھا، وہ اس مچھلی پر پڑا، اور وہ زندہ ہو کر بقدرت الٰہی دریا میں چل دی) (یہ سن کر) موسیٰ علیہ السلام بولے کہ یہ ہی وہ جگہ ہے جس کی ہمیں تلاش تھی، تو وہ پچھلے پاؤں واپس ہو گئے، جب پتھر تک پہنچے تو دیکھا کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے ہوئے (موجود ہے) موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا، خضر علیہ السلام نے کہا کہ تمہاری سر زمین میں سلام کہاں؟ پھر موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ میں موسیٰ (علیہ السلام) ہوں، خضر بولے کہ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں! پھر کہا کیا میں آپ کے ساتھ چل سکتا ہوں، تاکہ آپ مجھے ہدایت کی وہ باتیں بتلائیں جو اللہ نے خاص آپ ہی کو سکھلائی ہیں۔ خضر علیہ السلام بولے کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ اسے موسیٰ! مجھے اللہ نے ایسا علم دیا ہے جسے تم نہیں جانتے اور تم کو جو علم دیا ہے اسے میں نہیں جانتا۔ (اس پر) موسیٰ نے کہا کہ اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پاؤ گے اور میں کسی بات میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ پھر دونوں دریا کے کنارے کنارے پیدل چلے، ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی کہ ایک کشتی ان کے سامنے سے گزری، تو کشتی والوں سے انہوں نے کہا کہ ہمیں بٹھا لو۔ خضر علیہ السلام کو انہوں نے پہچان لیا اور بغیر کرایہ کے سوار کر لیا، اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے پر بیٹھ گئی، پھر سمندر میں اس نے ایک یا دو چونچیں ماریں (اسے دیکھ کر) خضر علیہ السلام بولے کہ اے موسیٰ! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم میں سے اتنا ہی کم کیا ہو گا جتنا اس چڑیا نے سمندر (کے پانی) سے پھر خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ نکال ڈالا، موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ ان لوگوں نے تو ہمیں کرایہ لیے بغیر (مفت میں) سوار کیا اور آپ نے ان کی کشتی (کی لکڑی) اکھاڑ ڈالی تاکہ یہ ڈوب جائیں، خضر علیہ السلام بولے کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟ (اس پر) موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا کہ بھول پر میری گرفت نہ کرو۔ موسیٰ علیہ السلام نے بھول کر یہ پہلا اعتراض کیا تھا۔ پھر دونوں چلے (کشتی سے اتر کر) ایک لڑکا بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر علیہ السلام نے اوپر سے اس کا سر پکڑ کر ہاتھ سے اسے الگ کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ آپ نے ایک بےگناہ بچے کو بغیر کسی جانی حق کے مار ڈالا (غضب ہو گیا) خضر علیہ السلام بولے کہ میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے۔ ابن عیینہ کہتے ہیں کہ اس کلام میں پہلے سے زیادہ تاکید ہے (کیونکہ پہلے کلام میں لفظ لک نہیں کہا تھا، اس میں لک زائد کیا، جس سے تاکید ظاہر ہے) پھر دونوں چلتے رہے۔ حتیٰ کہ ایک گاؤں والوں کے پاس آئے، ان سے کھانا لینا چاہا۔ انہوں نے کھانا کھلانے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے وہیں دیکھا کہ ایک دیوار اسی گاؤں میں گرنے کے قریب تھی۔ خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اسے سیدھا کر دیا۔ موسیٰ بول اٹھے کہ اگر آپ چاہتے تو (گاؤں والوں سے) اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔ خضر نے کہا کہ (بس اب) ہم اور تم میں جدائی کا وقت آ گیا ہے۔ جناب محبوب کبریا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اللہ موسیٰ پر رحم کرے، ہماری تمنا تھی کہ موسیٰ کچھ دیر اور صبر کرتے تو مزید واقعات ان دونوں کے بیان کئے جاتے (اور ہمارے سامنے روشنی میں آتے، مگر موسیٰ علیہ السلام کی عجلت نے اس علم لدنی کے سلسلہ کو جلد ہی منقطع کرا دیا) محمد بن یوسف کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن خشرم نے یہ حدیث بیان کی، ان سے سفیان بن عیینہ نے پوری کی پوری بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 122]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام)، موسیٰ بنی اسرائیل نہیں تھے بلکہ وہ کوئی اور موسیٰ تھے۔ انہوں نے فرمایا: غلط کہتا ہے اللہ کا دشمن۔ فرمایا: حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام ایک دن بنی اسرائیل میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا: سب لوگوں میں بڑا عالم کون ہے؟ انہوں نے کہا: میں سب سے بڑا عالم ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کو اللہ کے حوالے نہ کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں ایک بندہ، دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر، ایسا ہے جو تجھ سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے پروردگار! میری ان سے کیونکر ملاقات ہو گی؟ حکم ہوا: ایک مچھلی کو تھیلے میں رکھو۔ جہاں وہ گم ہو جائے، وہی اس کا ٹھکانہ ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام روانہ ہوئے اور ان کا خادم یوشع بن نون بھی ساتھ تھا۔ ان دونوں نے ایک مچھلی کو تھیلے میں رکھ لیا۔ جب ایک پتھر کے پاس پہنچے تو دونوں اپنے سر اس پر رکھ کر سو گئے۔ اس دوران میں مچھلی تھیلے سے نکل کر دریا میں چلی گئی جس سے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم کو تعجب ہوا۔ پھر دونوں بقیہ دن اور ایک رات چلتے رہے۔ صبح کو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا: ناشتہ لاؤ! ہم تو اس سفر سے تھک گئے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام جب تک اس جگہ سے آگے نہیں نکل گئے جس کا انہیں حکم دیا گیا تھا، اس وقت تک انہوں نے کچھ تھکاوٹ محسوس نہ کی۔ اس وقت ان کے خادم نے کہا: کیا آپ نے دیکھا کہ جب ہم پتھر کے پاس بیٹھے تھے تو مچھلی (نکل بھاگی تھی اور میں اس کا ذکر کرنا) بھول گیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم تو اسی کی تلاش میں تھے۔ آخر وہ دونوں کھوج لگاتے ہوئے اپنے پاؤں کے نشانوں پر واپس لوٹے۔ جب اس پتھر کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ ایک آدمی کپڑا لپیٹے ہوئے یا اپنے کپڑے میں لپٹا ہوا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: تیرے ملک میں سلام کہاں سے آیا؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: (میں یہاں کا رہنے والا نہیں ہوں بلکہ) میں موسیٰ ہوں۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا میں اس امید پر تمہارے ہمراہ ہو جاؤں جو کچھ ہدایت کی تمہیں تعلیم دی گئی ہے، وہ مجھے بھی سکھا دو گے۔ خضر علیہ السلام نے کہا: تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔ موسیٰ! بات دراصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک (قسم کا) علم مجھے دیا ہے جو تمہارے پاس نہیں ہے اور تم کو ایک قسم کا علم دیا ہے جو میرے پاس نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ان شاء اللہ تم مجھے صابر پاؤ گے اور میں کسی کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ پھر وہ دونوں سمندر کے کنارے چلے، ان کے پاس کوئی کشتی نہ تھی، اتنے میں ایک کشتی گزری، انہوں نے کشتی والوں سے کہا: ہمیں سوار کر لو۔ حضرت خضر علیہ السلام پہچان لیے گئے، اس لیے کشتی والوں نے بغیر اجرت کے بٹھا لیا۔ اتنے میں ایک چڑیا آئی اور کشتی کے کنارے بیٹھ کر اس نے سمندر میں ایک دو چونچیں ماریں۔ حضرت خضر علیہ السلام گویا ہوئے: اے موسیٰ! میرے اور تمہارے علم نے اللہ کے علم سے صرف چڑیا کی چونچ کی بقدر حصہ لیا ہے۔ پھر حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کے تختوں میں سے ایک تختہ اکھاڑ ڈالا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کہنے لگے: ان لوگوں نے تو ہمیں بغیر کرائے کے سوار کیا اور آپ نے یہ کام کیا کہ ان کی کشتی میں چھید کر ڈالا تاکہ اہل کشتی کو غرق کر دو۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے نہ کہہ دیا تھا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکو گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: میری بھول چوک پر مؤاخذہ نہ کریں۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) موسیٰ علیہ السلام کا پہلا اعتراض بھول کی وجہ سے تھا۔ پھر دونوں (کشتی سے اتر کر) چلے، ایک لڑکا ملا جو دوسرے لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر الگ کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ نے ایک معصوم جان کو ناحق قتل کیا۔ خضر علیہ السلام نے کہا: میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ سے میرے ساتھ صبر نہیں ہو سکے گا؟“ ابن عیینہ رحمہ اللہ نے کہا: یہ زیادہ تاکیدی الفاظ ہیں (کیونکہ اس میں «لَكَ» کا اضافہ ہے۔) ”پھر دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں کے پاس پہنچے۔ وہاں کے باشندوں سے انہوں نے کھانا مانگا تو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ اسی دوران میں دونوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے کے قریب تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اسے اپنے ہاتھ سے سہارا دے کر سیدھا کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اگر تم چاہتے تو اس پر اجرت لے لیتے؟ حضرت خضر علیہ السلام بولے: بس یہاں سے ہمارے تمہارے درمیان جدائی کی گھڑی آ پہنچی ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے! ہم چاہتے تھے، کاش موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے تو ان کے اور حالات بھی ہم سے بیان کیے جاتے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 122]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3278
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِنَّ مُوسَى، قَالَ:" لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا، قَالَ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ، وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ الْمَكَانَ الَّذِي أَمَرَ اللَّهُ بِهِ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا (نوف بکالی کہتا ہے کہ خضر کے پاس جو موسیٰ گئے تھے وہ دوسرے موسیٰ تھے) تو انہوں نے کہا کہ ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر (یوشع بن نون) سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لا، اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ کو معلوم بھی ہے جب ہم نے چٹان پر پڑاؤ ڈالا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا (اور اپنے ساتھ نہ لا سکا) اور مجھے اسے یاد رکھنے سے صرف شیطان نے غافل رکھا اور موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکن معلوم نہیں کی جب تک اس حد سے نہ گزر لیے، جہاں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3278]
حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیقِ سفر سے فرمایا: ﴿آتِنَا غَدَاءَنَا﴾ [سورة الكهف: 62] ”ہمارا ناشتہ لاؤ۔“ تو اس نے کہا: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] ”دیکھیے! جب ہم نے چٹان کے پاس پڑاؤ کیا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا، اور مجھے اسے یاد رکھنے سے صرف شیطان ہی نے غافل رکھا۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک کوئی تھکاوٹ محسوس نہ ہوئی جب تک اس جگہ سے آگے نہ گزر گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3278]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3400
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ خَضِرٌ فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ، قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ، قَالَ: لَا فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى مُوسَى بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَيْهِ فَجُعِلَ لَهُ الْحُوتُ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ فَكَانَ يَتْبَعُ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ: لِمُوسَى فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ، فَقَالَ مُوسَى: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا فَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا الَّذِي قَصَّ اللَّهُ فِي كِتَابِهِ".
ہم سے عمر بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے صالح نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے خبر دی اور انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ سے صاحب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ان کا اختلاف ہوا۔ پھر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اپنے ان ساتھی سے صاحب موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں اختلاف ہو گیا ہے جن سے ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا ‘ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے ان کے بارے میں کچھ سنا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جی ہاں ‘ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی ایک جماعت میں تشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا ‘ کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو اس تمام زمین پر آپ سے زیادہ علم رکھنے والا ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل کی کہ کیوں نہیں ‘ ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا تو انہیں مچھلی کو اس کی نشانی کے طور پر بتایا گیا اور کہا گیا کہ جب مچھلی گم ہو جائے (تو جہاں گم ہوئی ہو وہاں) واپس آ جانا وہیں ان سے ملاقات ہو گی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام دریا میں (سفر کے دوران) مچھلی کی برابر نگرانی کرتے رہے۔ پھر ان سے ان کے رفیق سفر نے کہا کہ آپ نے خیال نہیں کیا جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے اسے یاد رکھنے سے غافل رکھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اسی کی تو ہمیں تلاش ہے چنانچہ یہ بزرگ اسی راستے سے پیچھے کی طرف لوٹے اور خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ان دونوں کے ہی وہ حالات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بیان فرمایا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3400]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کا اور حضرت حر بن قیس فزاری رضی اللہ عنہ کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے متعلق اختلاف ہوا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ حضرت خضر علیہ السلام ہیں۔ اس دوران میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا کہ میرا اور میرے ساتھی کا صاحبِ موسیٰ علیہ السلام کے متعلق اختلاف ہو گیا ہے جس سے ملاقات کا حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق کوئی حدیث سنی ہے؟ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: ”ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے مجمع میں وعظ کر رہے تھے کہ ایک شخص نے ان سے آکر کہا: کیا آپ کسی کو اپنے سے زیادہ عالم جانتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: (مجھ سے زیادہ کوئی عالم) نہیں۔ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی کی: کیوں نہیں، ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان تک پہنچنے کا راستہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لیے ملاقات کی علامت قرار دیا۔ اور ان سے کہہ دیا گیا کہ تم جہاں مچھلی کو گم پاؤ تو واپس آ جاؤ، وہیں ان سے ملاقات ہو گی، چنانچہ وہ مچھلی کی نگرانی کرتے ہوئے سمندر کے کنارے سفر کرنے لگے۔ آخر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے رفیقِ سفر نے ان سے کہا: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] ”کیا آپ نے خیال نہیں کیا کہ جب ہم چٹان کے پاس بیٹھے تھے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے شیطان نے اسے یاد رکھنے سے غافل کر دیا“۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ [سورة الكهف: 64] ”اسی کو تو ہم تلاش کر رہے تھے“، چنانچہ ﴿فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا﴾ [سورة الكهف: 64] ”وہ دونوں بزرگ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے ہوئے واپس پلٹے“ تو حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی۔ آگے ان دونوں کا وہی قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3400]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3401
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّ يَزْعُمُ أَنَّ مُوسَى صَاحِبَ الْخَضِرِ لَيْسَ هُوَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنَّمَا هُوَ مُوسَى آخَرُ، فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" أَنَّ مُوسَى قَامَ خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ فَسُئِلَ أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ، فَقَالَ: أَنَا فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ: بَلَى لِي عَبْدٌ بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ وَمَنْ لِي بِهِ وَرُبَّمَا، قَالَ سُفْيَانُ: أَيْ رَبِّ وَكَيْفَ لِي بِهِ، قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا فَتَجْعَلُهُ فِي مِكْتَلٍ حَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَهُوَ ثَمَّ وَرُبَّمَا، قَالَ: فَهُوَ ثَمَّهْ وَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ هُوَ وَفَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ حَتَّى إِذَا أَتَيَا الصَّخْرَةَ وَضَعَا رُءُوسَهُمَا فَرَقَدَ مُوسَى وَاضْطَرَبَ الْحُوتُ فَخَرَجَ فَسَقَطَ فِي الْبَحْرِ فَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ سَرَبًا فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنِ الْحُوتِ جِرْيَةَ الْمَاءِ فَصَارَ مِثْلَ الطَّاقِ، فَقَالَ: هَكَذَا مِثْلُ الطَّاقِ فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ بَقِيَّةَ لَيْلَتِهِمَا وَيَوْمَهُمَا حَتَّى إِذَا كَانَ مِنَ الْغَدِ، قَالَ: لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا وَلَمْ يَجِدْ مُوسَى النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ حَيْثُ أَمَرَهُ اللَّهُ، قَالَ: لَهُ فَتَاهُ أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ وَاتَّخَذَ سَبِيلَهُ فِي الْبَحْرِ عَجَبًا فَكَانَ لِلْحُوتِ سَرَبًا وَلَهُمَا عَجَبًا، قَالَ: لَهُ مُوسَى ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا رَجَعَا يَقُصَّانِ آثَارَهُمَا حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِذَا رَجُلٌ مُسَجًّى بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ مُوسَى فَرَدَّ عَلَيْهِ، فَقَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ، قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: نَعَمْ، أَتَيْتُكَ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا، قَالَ: يَا مُوسَى إِنِّي عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ وَأَنْتَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ، قَالَ: هَلْ أَتَّبِعُكَ، قَالَ: إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا إِلَى قَوْلِهِ إِمْرًا سورة الكهف آية 68 - 71 فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى سَاحِلِ الْبَحْرِ فَمَرَّتْ بِهِمَا سَفِينَةٌ كَلَّمُوهُمْ أَنْ يَحْمِلُوهُمْ فَعَرَفُوا الْخَضِرَ فَحَمَلُوهُ بِغَيْرِ نَوْلٍ فَلَمَّا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ جَاءَ عُصْفُورٌ فَوَقَعَ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ فَنَقَرَ فِي الْبَحْرِ نَقْرَةً أَوْ نَقْرَتَيْنِ، قَالَ لَهُ: الْخَضِرُ يَا مُوسَى مَا نَقَصَ عِلْمِي وَعِلْمُكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ مَا نَقَصَ هَذَا الْعُصْفُورُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ إِذْ أَخَذَ الْفَأْسَ فَنَزَعَ لَوْحًا، قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِلَّا وَقَدْ قَلَعَ لَوْحًا بِالْقَدُّومِ، فَقَالَ: لَهُ مُوسَى مَا صَنَعْتَ قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا سورة الكهف آية 72، قَالَ: لا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا سورة الكهف آية 73 فَكَانَتِ الْأُولَى مِنْ مُوسَى نِسْيَانًا فَلَمَّا خَرَجَا مِنَ الْبَحْرِ مَرُّوا بِغُلَامٍ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَقَلَعَهُ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَوْمَأَ سُفْيَانُ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ كَأَنَّهُ يَقْطِفُ شَيْئًا، فَقَالَ: لَهُ مُوسَى أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا سورة الكهف آية 75، قَالَ: إِنْ سَأَلْتُكَ عَنْ شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلا تُصَاحِبْنِي قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَدُنِّي عُذْرًا {76} فَانْطَلَقَا حَتَّى إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ سورة الكهف آية 75-76 مَائِلًا أَوْمَأَ بِيَدِهِ هَكَذَا وَأَشَارَ سُفْيَانُ كَأَنَّهُ يَمْسَحُ شَيْئًا إِلَى فَوْقُ فَلَمْ أَسْمَعْ سُفْيَانَ يَذْكُرُ مَائِلًا إِلَّا مَرَّةً، قَالَ: قَوْمٌ أَتَيْنَاهُمْ فَلَمْ يُطْعِمُونَا وَلَمْ يُضَيِّفُونَا عَمَدْتَ إِلَى حَائِطِهِمْ لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا سورة الكهف آية 78، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى كَانَ صَبَرَ فَقَصَّ اللَّهُ عَلَيْنَا مِنْ خَبَرِهِمَا، قَالَ: سُفْيَانُ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى لَوْ كَانَ صَبَرَ لَقُصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا وَقَرَأَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَامَهُمْ 0 مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ 0، ثُمَّ قَالَ لِي سُفْيَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ، قِيلَ لِسُفْيَانَ حَفِظْتَهُ قَبْلَ أَنْ تَسْمَعَهُ مِنْ عَمْرٍو أَوْ تَحَفَّظْتَهُ مِنْ إِنْسَانٍ، فَقَالَ: مِمَّنْ أَتَحَفَّظُهُ وَرَوَاهُ أَحَدٌ، عَنْ عَمْرٍو غَيْرِي سَمِعْتُهُ مِنْهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا وَحَفِظْتُهُ مِنْهُ.
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ نوف بکالی یہ کہتا ہے کہ موسیٰ ‘ صاحب خضر بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں ہیں بلکہ وہ دوسرے موسیٰ ہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ دشمن اللہ نے بالکل غلط بات کہی ہے۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے ہم سے بیان کیا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو کھڑے ہو کر خطاب فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا کون سا شخص سب سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ کیوں نہیں میرا ایک بندہ ہے جہاں دو دریا آ کر ملتے ہیں وہاں رہتا ہے اور تم سے زیادہ علم والا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے رب العالمین! میں ان سے کس طرح مل سکوں گا؟ سفیان نے (اپنی روایت میں یہ الفاظ) بیان کئے کہ ”اے رب! «وكيف لي به» “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی پکڑ کر اسے اپنے تھیلے میں رکھ لینا ‘ جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے بس میرا بندہ وہیں تم کو ملے گا۔ بعض دفعہ راوی نے (بجائے «فهو ثم» کے) «فهو ثمه» کہا۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی لے لی اور اسے ایک تھیلے میں رکھ لیا۔ پھر وہ اور ایک ان کے رفیق سفر یوشع بن نون روانہ ہوئے ‘ جب یہ چٹان پر پہنچے تو سر سے ٹیک لگالی ‘ موسیٰ علیہ السلام کو نیند آ گئی اور مچھلی تڑپ کر نکلی اور دریا کے اندر چلی گئی اور اس نے دریا میں اپنا راستہ بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور وہ محراب کی طرح ہو گئی ‘ انہوں نے واضح کیا کہ یوں محراب کی طرح۔ پھر یہ دونوں اس دن اور رات کے باقی حصے میں چلتے رہے ‘ جب دوسرا دن آیا تو موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر سے فرمایا کہ اب ہمارا کھانا لاؤ کیونکہ ہم اپنے سفر میں بہت تھک گئے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکان محسوس نہیں کی تھی جب تک وہ اس مقررہ جگہ سے آگے نہ بڑھ گئے جس کا اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا تھا۔ ان کے رفیق نے کہا کہ دیکھئیے تو سہی جب چٹان پر اترے تھے تو میں مچھلی (کے متعلق کہنا) آپ سے بھول گیا اور مجھے اس کی یاد سے شیطان نے غافل رکھا اور اس مچھلی نے تو وہیں (چٹان کے قریب) دریا میں اپنا راستہ عجیب طور پر بنا لیا تھا۔ مچھلی کو تو راستہ مل گیا اور یہ دونوں حیران تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ یہی وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم نکلے ہیں۔ چنانچہ یہ دونوں اسی راستے سے پیچھے کی طرف واپس ہوئے اور جب اس چٹان پر پہنچے تو وہاں ایک بزرگ اپنا سارا جسم ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے موجود تھے۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا اور انہوں نے جواب دیا پھر کہا کہ تمہارے خطے میں سلام کا رواج کہاں سے آ گیا؟ موسیٰ علیہ اسلام نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا ‘ بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا کہ جی ہاں۔ میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم نافع سکھا دیں جو آپ کو سکھایا گیا ہے۔ انہوں نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ علم سکھایا ہے اور آپ اس کو نہیں جانتے۔ اسی طرح آپ کے پاس اللہ کا دیا ہوا ایک علم ہے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اسے نہیں جانتا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں انہوں نے کہا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے اور واقعی آپ ان کاموں کے بارے میں صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں جو آپ کے علم میں نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد «إمرا» تک آخر موسیٰ اور خضر علیہم السلام دریا کے کنارے کنارے چلے۔ پھر ان کے قریب سے ایک کشتی گزری۔ ان حضرات نے کہا کہ انہیں بھی کشتی والے کشتی پر سوار کر لیں۔ کشتی والوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کوئی مزدوری لیے بغیر ان کو سوار کر لیا۔ جب یہ حضرات اس پر سوار ہو گئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ کر اس نے پانی میں اپنی چونچ کو ایک یا دو مرتبہ ڈالا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: اے موسیٰ! میرے اور آپ کے علم کی وجہ سے اللہ کے علم میں اتنی بھی کمی نہیں ہوئی جتنی اس چڑیا کے دریا میں چونچ مارنے سے دریا کے پانی میں کمی ہوئی ہو گی۔ اتنے میں خضر علیہ السلام نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کشتی میں سے ایک تختہ نکال لیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے جو نظر اٹھائی تو وہ اپنی کلہاڑی سے تختہ نکال چکے تھے۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ یہ آپ نے کیا کیا؟ جن لوگوں نے ہمیں بغیر کسی اجرت کے سوار کر لیا انہیں کی کشتی پر آپ نے بری نظر ڈالی اور اسے چیر دیا کہ سارے کشتی والے ڈوب جائیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ نے نہایت ناگوار کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ (یہ بے صبری اپنے وعدہ کو بھول جانے کی وجہ سے ہوئی ‘ اس لیے) آپ اس چیز کا مجھ سے مواخذہ نہ کریں جو میں بھول گیا تھا اور میرے معاملے میں تنگی نہ فرمائیں۔ یہ پہلی بات موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوئی تھی پھر جب دریائی سفر ختم ہوا تو ان کا گزر ایک بچے کے پاس سے ہوا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑ کر اپنے ہاتھ سے (دھڑ سے) جدا کر دیا۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے (جدا کرنے کی کیفیت بتانے کے لیے) اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑ رہے ہوں۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ نے ایک جان کو ضائع کر دیا۔ کسی دوسری جان کے بدلے میں بھی یہ نہیں تھا۔ بلاشبہ آپ نے ایک برا کام کیا۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا: کیا میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اچھا اس کے بعد اگر میں نے آپ سے کوئی بات پوچھی تو پھر آپ مجھے ساتھ نہ لے چلئے گا، بیشک آپ میرے بارے میں حد عذر کو پہنچ چکے ہیں۔ پھر یہ دونوں آگے بڑھے اور جب ایک بستی میں پہنچے تو بستی والوں سے کہا کہ وہ انہیں اپنا مہمان بنا لیں ‘ لیکن انہوں نے انکار کیا۔ پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے یوں اشارہ کیا۔ سفیان نے (کیفیت بتانے کے لیے) اس طرح اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز اوپر کی طرف پھیر رہے ہوں۔ میں نے سفیان سے «مائلا» کا لفظ صرف ایک مرتبہ سنا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ لوگ تو ایسے تھے کہ ہم ان کے یہاں آئے اور انہوں نے ہماری میزبانی سے بھی انکار کیا۔ پھر ان کی دیوار آپ نے ٹھیک کر دی ‘ اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت ان سے لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ بس یہاں سے میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہو گئی جن باتوں پر آپ صبر نہیں کر سکتے ‘ میں ان کی تاویل و توجیہ اب تم پر واضح کر دوں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہماری تو خواہش یہ تھی کہ موسیٰ علیہ السلام صبر کرتے اور اللہ تعالیٰ تکوینی واقعات ہمارے لیے بیان کرتا۔ سفیان نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے ‘ اگر انہوں نے صبر کیا ہوتا تو ان کے (مزید واقعات) ہمیں معلوم ہوتے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (جمہور کی قرآت «ودرائهم» کے بجائے) «أمامهم ملك يأخذ كل سفينة صالحة غصبا» پڑھا ہے۔ اور وہ بچہ (جس کی خضر علیہ السلام نے جان لی تھی) کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے۔ پھر مجھ سے سفیان نے بیان کیا کہ میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو مرتبہ سنی تھی اور انہیں سے (سن کر) یاد کی تھی۔ سفیان نے کسی سے پوچھا تھا کہ کیا یہ حدیث آپ نے عمرو بن دینار سے سننے سے پہلے ہی کسی دوسرے شخص سے سن کر (جس نے عمرو بن دینار سے سنی ہو) یاد کی تھی؟ یا (اس کے بجائے یہ جملہ کہا) «تحفظته من إنسان» دو مرتبہ (شک علی بن عبداللہ کو تھا) تو سفیان نے کہا کہ دوسرے کسی شخص سے سن کر میں یاد کرتا ‘ کیا اس حدیث کو عمرو بن دینار سے میرے سوا کسی اور نے بھی روایت کیا ہے؟ میں نے ان سے یہ حدیث دو یا تین مرتبہ سنی اور انہیں سے سن کر یاد کی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3401]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا: نوف بکالی کہتا ہے کہ وہ موسیٰ علیہ السلام جو حضرت خضر علیہ السلام کے ساتھ ہیں وہ بنی اسرائیل کے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی اور موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ اس اللہ کے دشمن نے غلط کہا ہے۔ ہمیں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک مرتبہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل میں کھڑے تقریر کر رہے تھے کہ ان سے دریافت کیا گیا: کون سا شخص سب سے زیادہ علم والا ہے؟ انہوں نے فرمایا: میں (سب سے بڑا عالم ہوں)۔ اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوا کہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ کی طرف کیوں نہیں کی اور فرمایا: کیوں نہیں، میرا ایک بندہ ہے جہاں دو دریا ملتے ہیں وہ وہاں رہتا ہے، وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ انہوں نے عرض کیا: اے میرے رب! میرے لیے اس تک پہنچنے کا کون ضامن ہے؟ کبھی سفیان نے یوں کہا: میں ان سے کس طرح ملاقات کروں گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک مچھلی لو اور اسے (بھون کر) اپنے توشہ دان (ٹوکری) میں رکھ لو، جہاں تم سے وہ مچھلی گم ہو جائے بس وہ میرا بندہ وہیں ہوگا، چنانچہ انہوں نے ایک مچھلی لی اور اسے ٹوکری میں رکھ لیا۔ پھر وہ اور ان کے خادم یوشع بن نون سفر پر روانہ ہوئے حتیٰ کہ ایک چٹان کے پاس پہنچ گئے۔ وہاں آرام کرنے کے لیے دونوں نے اپنے سر اس پر رکھ دیے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو وہاں نیند آ گئی۔ اس دوران میں مچھلی نے حرکت کی، توشہ دان سے باہر نکلی اور سمندر کے اندر چلی گئی۔ اس نے سمندر میں اپنا راستہ سرنگ جیسا بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی سے پانی کا بہاؤ روک دیا اور وہ طاق کی مانند ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارے سے بتایا کہ ایسے طاق کی طرح ہو گیا۔ پھر وہ دونوں حضرات باقی رات چلتے رہے حتیٰ کہ جب دوسرا دن ہوا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے خادم سے کہا: ناشتہ لاؤ ہمیں تو اس سفر میں بڑی تھکاوٹ محسوس ہوئی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکاوٹ محسوس نہیں کی جب تک وہ اس مقرر جگہ سے آگے نہ بڑھ گئے جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا تھا۔ خادم نے کہا: دیکھئے جہاں ہم نے چٹان کے پاس آرام کیا تھا وہاں میں مچھلی کے متعلق آپ کو بتانا بھول گیا تھا اور مجھے اس کے بارے میں شیطان نے غافل رکھا اور اس مچھلی نے تو سمندر میں اپنا راستہ عجیب طور پر بنایا تھا۔ مچھلی کے لیے تو جانے کا راستہ تھا لیکن ان دونوں کے لیے تعجب کا باعث بن گیا۔ وہ دونوں حیران تھے، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: یہی وہ جگہ تھی جس کی تلاش میں ہم دونوں نکلے تھے، چنانچہ یہ دونوں اسی راستے سے پہلے کی طرف واپس ہوئے اور جب اس چٹان کے پاس پہنچے تو ایک بزرگ اپنا سارا بدن ایک کپڑے میں لپیٹے ہوئے موجود تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کہا اور انہوں نے اس کا جواب دیا، پھر کہا کہ تمہاری سر زمین میں سلام کہاں سے آیا؟ فرمایا: میں موسیٰ ہوں۔ انہوں نے پوچھا: بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا: ہاں (وہی ہوں) میں آپ کی خدمت میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ آپ مجھے وہ علم ہدایت سکھائیں جو آپ کو سکھلایا گیا ہے۔ وہ فرمانے لگے: اے موسیٰ! میں اللہ کی طرف سے ایک ایسے علم کا حامل ہوں جو اللہ نے مجھے سکھایا ہے آپ اسے نہیں جانتے اور آپ اللہ کی طرف سے ایک ایسے علم شریعت کے حامل ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھایا ہے میں اسے نہیں جانتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں؟ انہوں نے فرمایا: آپ ہرگز میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔ واقعی آپ اس چیز پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کا آپ کے علم نے احاطہ نہیں کیا۔۔۔ «أَمْرًا» تک؟ پھر دونوں حضرات ساحل سمندر پر چل پڑے تو ان کے قریب سے ایک کشتی گزری۔ انہوں نے ان (کشتی والوں) سے بات چیت کی کہ ان کو بھی سوار کر لیں تو انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کرایہ لیے بغیر انہیں سوار کر لیا۔ جب یہ حضرات اس میں سوار ہو گئے تو ایک چڑیا آئی اور کشتی کے ایک کنارے بیٹھ کر اس نے پانی میں اپنی چونچ کو ایک یا دو مرتبہ ڈالا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: اے موسیٰ! میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم سے اتنی بھی کمی نہیں کر پایا جس قدر اس چڑیا نے اپنی چونچ سے سمندر کے پانی میں کمی کی ہے۔ اس دوران میں حضرت خضر علیہ السلام نے کلہاڑی اٹھائی اور اس کے ذریعے سے کشتی میں سے ایک تختہ نکال لیا۔ اچانک موسیٰ علیہ السلام نے دیکھا کہ کلہاڑی سے کشتی کا ایک تختہ اکھڑ چکا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا: آپ نے یہ کیا کیا؟ ان لوگوں نے ہم سے کرایہ لیے بغیر ہمیں کشتی میں سوار کیا۔ آپ نے دانستہ تختہ نکال کر کشتی میں شگاف کر دیا تاکہ سارے کشتی والے ڈوب جائیں، اس طرح آپ نے نہایت ہی ناگواری کا کام سرانجام دیا ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: میں نے آپ سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: بھول چوک پر آپ میری گرفت نہ کریں اور میرے معاملے میں مجھ پر تنگی نہ فرمائیں۔ یہ پہلی غلطی حضرت موسیٰ علیہ السلام سے بھول کر ہوئی تھی، چنانچہ جب سمندری سفر ختم ہوا تو ان دونوں کا گزر ایک بچے کے پاس سے ہوا جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اپنے ہاتھ سے اسے دھڑ سے جدا کر دیا۔ راویِ حدیث سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے وہ کوئی چیز توڑ رہے ہوں۔۔۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: آپ نے ایک معصوم جان کو بغیر کسی جان کے بدلے قتل کر دیا ہے، اس طرح آپ نے ایک ناپسندیدہ حرکت کی ہے۔ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: میں نے آپ کو پہلے سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اس کے بعد اگر میں نے آپ سے کسی چیز کے متعلق پوچھا تو آپ مجھے ساتھ نہ لے جائیں، میری طرف سے تمہارا عذر پورا ہو چکا ہے، چنانچہ وہ دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے، ان سے کھانا طلب کیا تو انہوں نے میزبانی سے انکار کر دیا۔ ان حضرات کو بستی میں ایک ایسی دیوار نظر آئی جو گرنے کے قریب تھی، حضرت خضر علیہ السلام نے اسے اپنے ہاتھ سے سیدھا کر دیا۔ سفیان نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ وہ جھک رہی تھی، انہوں نے اشارہ کیا کہ گویا وہ کسی چیز کو اوپر کی طرف پھیر رہے ہیں۔ میں نے سفیان سے «مَائِلًا» کا لفظ صرف ایک مرتبہ سنا ہے۔۔۔ بہرحال حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا: ہم ان لوگوں کے پاس آئے، انہوں نے نہ تو ہمیں کھانا کھلایا اور نہ میزبانی ہی کا حق ادا کیا، آپ نے مفت میں ان کی دیوار درست کر دی، آپ چاہتے تو اس پر کچھ مزدوری لے سکتے تھے؟ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: بس یہاں سے میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہوگی، آپ جن باتوں پر صبر نہیں کر سکے میں اب آپ کو ان کی حقیقت بتاتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام پر رحم کرے، اگر وہ تھوڑا سا صبر کر لیتے تو اللہ تعالیٰ ہم سے ان کا مزید حال بیان کرتا۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بایں طور پر اس آیت کو پڑھا ہے: ﴿وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا﴾ [سورة الكهف: 79] ”ان کے آگے ایک بادشاہ تھا جو ہر صحیح و سالم کشتی ان سے چھین لیتا تھا۔“ اور ﴿وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا وَكَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ﴾ [سورة الكهف: 80] ”اور وہ لڑکا کافر تھا اور اس کے والدین مومن تھے۔“ سفیان نے مجھ سے کہا: میں نے یہ حدیث عمرو بن دینار سے دو دفعہ سنی اور انہی سے یاد کی۔ سفیان سے پوچھا گیا: کیا عمرو بن دینار سے سننے سے پہلے آپ نے اس کو یاد کر لیا تھا یا کسی اور انسان سے اسے یاد کیا ہے؟ سفیان نے کہا: میں کس سے اس حدیث کو یاد کرتا؟ کیا اس حدیث کو عمرو بن دینار سے میرے سوا کسی اور نے روایت کیا ہے؟ میں نے ہی اسے عمرو بن دینار سے دو بار یا تین بار سنا اور اس کو ان سے یاد کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3401]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4726
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرُهُمَا قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: إِنَّا لَعِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي بَيْتِهِ، إِذْ قَالَ: سَلُونِي؟ قُلْتُ: أَيْ أَبَا عَبَّاسٍ جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ بِالْكُوفَةِ رَجُلٌ قَاصٌّ يُقَالُ لَهُ نَوْفٌ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَيْسَ بِمُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ، أَمَّا عَمْرٌو، فَقَالَ لِي: قَالَ قَدْ كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ وَأَمَّا يَعْلَى، فَقَالَ لِي: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُوسَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام، قَالَ: ذَكَّرَ النَّاسَ يَوْمًا حَتَّى إِذَا فَاضَتِ الْعُيُونُ، وَرَقَّتِ الْقُلُوبُ وَلَّى، فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ أَيْ رَسُولَ اللَّهِ، هَلْ فِي الْأَرْضِ أَحَدٌ أَعْلَمُ مِنْكَ؟ قَالَ: لَا، فَعَتَبَ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَى اللَّهِ، قِيلَ: بَلَى، قَالَ: أَيْ رَبِّ فَأَيْنَ؟ قَالَ: بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ، قَالَ: أَيْ رَبِّ اجْعَلْ لِي عَلَمًا أَعْلَمُ ذَلِكَ بِهِ، فَقَالَ لِي عَمْرٌو: قَالَ حَيْثُ يُفَارِقُكَ الْحُوتُ، وَقَالَ لِي يَعْلَى: قَالَ: خُذْ نُونًا مَيِّتًا حَيْثُ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَأَخَذَ حُوتًا فَجَعَلَهُ فِي مِكْتَلٍ، فَقَالَ لِفَتَاهُ: لَا أُكَلِّفُكَ إِلَّا أَنْ تُخْبِرَنِي بِحَيْثُ يُفَارِقُكَ الْحُوتُ، قَالَ: مَا كَلَّفْتَ كَثِيرًا، فَذَلِكَ قَوْلُهُ جَلَّ ذِكْرُهُ: وَإِذْ قَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ سورة الكهف آية 60 يُوشَعَ بْنِ نُونٍ لَيْسَتْ، عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: فَبَيْنَمَا هُوَ فِي ظِلِّ صَخْرَةٍ فِي مَكَانٍ ثَرْيَانَ إِذْ تَضَرَّبَ الْحُوتُ وَمُوسَى نَائِمٌ، فَقَالَ فَتَاهُ: لَا أُوقِظُهُ حَتَّى إِذَا اسْتَيْقَظَ نَسِيَ أَنْ يُخْبِرَهُ، وَتَضَرَّبَ الْحُوتُ حَتَّى دَخَلَ الْبَحْرَ، فَأَمْسَكَ اللَّهُ عَنْهُ جِرْيَةَ الْبَحْرِ حَتَّى كَأَنَّ أَثَرَهُ فِي حَجَرٍ، قَالَ لِي عَمْرٌو: هَكَذَا كَأَنَّ أَثَرَهُ فِي حَجَرٍ، وَحَلَّقَ بَيْنَ إِبْهَامَيْهِ، وَاللَّتَيْنِ تَلِيَانِهِمَا لَقَدْ لَقِينَا مِنْ سَفَرِنَا هَذَا نَصَبًا، قَالَ: قَدْ قَطَعَ اللَّهُ عَنْكَ النَّصَبَ لَيْسَتْ هَذِهِ عَنْ سَعِيدٍ أَخْبَرَهُ، فَرَجَعَا فَوَجَدَا خَضِرًا، قَالَ لِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: عَلَى طِنْفِسَةٍ خَضْرَاءَ عَلَى كَبِدِ الْبَحْرِ، قَالَ سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ: مُسَجًّى بِثَوْبِهِ قَدْ جَعَلَ طَرَفَهُ تَحْتَ رِجْلَيْهِ، وَطَرَفَهُ تَحْتَ رَأْسِهِ، فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى، فَكَشَفَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: هَلْ بِأَرْضِي مِنْ سَلَامٍ مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى: بَنِي إِسْرَائِيلَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: جِئْتُ لِتُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا، قَالَ: أَمَا يَكْفِيكَ أَنَّ التَّوْرَاةَ بِيَدَيْكَ، وَأَنَّ الْوَحْيَ يَأْتِيكَ يَا مُوسَى، إِنَّ لِي عِلْمًا لَا يَنْبَغِي لَكَ أَنْ تَعْلَمَهُ، وَإِنَّ لَكَ عِلْمًا لَا يَنْبَغِي لِي أَنْ أَعْلَمَهُ، فَأَخَذَ طَائِرٌ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ، وَقَالَ: وَاللَّهِ مَا عِلْمِي وَمَا عِلْمُكَ فِي جَنْبِ عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا كَمَا أَخَذَ هَذَا الطَّائِرُ بِمِنْقَارِهِ مِنَ الْبَحْرِ، حَتَّى إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ وَجَدَا مَعَابِرَ صِغَارًا تَحْمِلُ أَهْلَ هَذَا السَّاحِلِ إِلَى أَهْلِ هَذَا السَّاحِلِ الْآخَرِ عَرَفُوهُ، فَقَالُوا: عَبْدُ اللَّهِ الصَّالِحُ، قَالَ: قُلْنَا لِسَعِيدٍ: خَضِرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، لَا نَحْمِلُهُ بِأَجْرٍ، فَخَرَقَهَا وَوَتَدَ فِيهَا وَتِدًا، قَالَ مُوسَى: أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا، لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا، قَالَ مُجَاهِدٌ: مُنْكَرًا، قَالَ: أَلَمْ أَقُلْ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِي صَبْرًا؟ كَانَتِ الْأُولَى نِسْيَانًا، وَالْوُسْطَى شَرْطًا، وَالثَّالِثَةُ عَمْدًا، قَالَ: لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ، وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا لَقِيَا غُلَامًا، فَقَتَلَهُ، قَالَ يَعْلَى: قَالَ سَعِيدٌ: وَجَدَ غِلْمَانًا يَلْعَبُونَ، فَأَخَذَ غُلَامًا كَافِرًا ظَرِيفًا، فَأَضْجَعَهُ، ثُمَّ ذَبَحَهُ بِالسِّكِّينِ، قَالَ: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَمْ تَعْمَلْ بِالْحِنْثِ، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَرَأَهَا زَكِيَّةً زَاكِيَةً مُسْلِمَةً كَقَوْلِكَ غُلَامًا زَكِيًّا، فَانْطَلَقَا فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ، فَأَقَامَهُ، قَالَ سَعِيدٌ: بِيَدِهِ هَكَذَا وَرَفَعَ يَدَهُ، فَاسْتَقَامَ، قَالَ يَعْلَى: حَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدًا، قَالَ: فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ، فَاسْتَقَامَ، لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ سَعِيدٌ: أَجْرًا نَأْكُلُهُ، وَكَانَ وَرَاءَهُمْ، وَكَانَ أَمَامَهُمْ، قَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَزْعُمُونَ عَنْ غَيْرِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ هُدَدُ بْنُ بُدَدَ وَالْغُلَامُ الْمَقْتُولُ اسْمُهُ يَزْعُمُونَ جَيْسُورٌ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ غَصْبًا، فَأَرَدْتُ إِذَا هِيَ مَرَّتْ بِهِ أَنْ يَدَعَهَا لِعَيْبِهَا، فَإِذَا جَاوَزُوا أَصْلَحُوهَا، فَانْتَفَعُوا بِهَا، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: سَدُّوهَا بِقَارُورَةٍ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: بِالْقَارِ كَانَ أَبَوَاهُ مُؤْمِنَيْنِ، وَكَانَ كَافِرًا فَخَشِينَا أَنْ يُرْهِقَهُمَا طُغْيَانًا وَكُفْرًا أَنْ يَحْمِلَهُمَا حُبُّهُ عَلَى أَنْ يُتَابِعَاهُ عَلَى دِينِهِ، فَأَرَدْنَا أَنْ يُبَدِّلَهُمَا رَبُّهُمَا خَيْرًا مِنْهُ زَكَاةً، لِقَوْلِهِ: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً وَأَقْرَبَ رُحْمًا هُمَا بِهِ أَرْحَمُ مِنْهُمَا بِالْأَوَّلِ الَّذِي قَتَلَ خَضِرٌ، وَزَعَمَ غَيْرُ سَعِيدٍ أَنَّهُمَا أُبْدِلَا جَارِيَةً، وَأَمَّا دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَاصِمٍ، فَقَالَ: عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ إِنَّهَا جَارِيَةٌ".
ہم سے ابراہیم بن موسی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں ابن جریر نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے خبر دی سعید بن جبیر سے، دونوں میں سے ایک اپنے ساتھی اور دیگر راوی کے مقابلہ میں بعض الفاظ زیادہ کہتا ہے اور ان کے علاوہ ایک اور صاحب نے بھی سعید بن جبیر سے سن کر بیان کیا کہ انہوں نے کہا ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں ان کے گھر حاضر تھے۔ انہوں نے فرمایا کہ دین کی باتیں مجھ سے کچھ پوچھو۔ میں نے عرض کیا: اے ابوعباس! اللہ آپ پر مجھے قربان کرے کوفہ میں ایک واعظ شخص نوف نامی (نوف بکالی) ہے اور وہ کہتا ہے کہ موسیٰ، خضر علیہ السلام سے ملنے والے وہ نہیں تھے جو بنی اسرائیل کے پیغمبر موسیٰ علیہ السلام ہوئے ہیں (ابن جریج نے بیان کیا کہ) عمرو بن دینار نے تو روایت اس طرح بیان کی کہ ابن عباس نے کہا دشمن خدا جھوٹی بات کہتا ہے اور یعلیٰ بن مسلم نے اپنی روایت میں اس طرح مجھ سے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ مجھ سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول تھے ایک دن آپ نے لوگوں (بنی اسرائیل) کو ایسا وعظ فرمایا کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے اور دل پسیج گئے تو آپ واپس جانے کے لیے مڑے۔ اس وقت ایک شخص نے ان سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا دنیا میں آپ سے بڑا کوئی عالم ہے؟ انہوں نے کہا کہ نہیں، اس پر اللہ نے موسیٰ علیہ السلام پر عتاب نازل کیا، کیونکہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف نہیں کی تھی۔ (ان کو یوں کہنا چاہئے تھا کہ اللہ ہی جانتا ہے)۔ ان سے کہا گیا کہ ہاں تم سے بھی بڑا عالم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا، اے پروردگار! وہ کہاں ہے۔ اللہ نے فرمایا جہاں (فارس اور روم کے) دو دریا ملے ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے پروردگار! میرے لیے ان کی کوئی نشانی ایسی بتلا دے کہ میں ان تک پہنچ جاؤں۔ اب عمرو بن دینار نے مجھ سے اپنی روایت اس طرح بیان کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جہاں تم سے مچھلی تمہاری زنبیل سے چل دے (وہیں وہ ملیں گے) اور یعلیٰ نے حدیث اس طرح بیان کی کہ ایک مردہ مچھلی ساتھ لے لو، جہاں اس مچھلی میں جان پڑ جائے (وہیں وہ ملیں گے) موسیٰ علیہ السلام نے مچھلی ساتھ لے لی اور اسے ایک زنبیل میں رکھ لیا۔ آپ نے اپنے ساتھی یوشع سے فرمایا کہ میں بس تمہیں اتنی تکلیف دیتا ہوں کہ جب یہ مچھلی زنبیل سے نکل کر چل دے تو مجھے بتانا۔ انہوں نے عرض کیا کہ یہ کون سی بڑی تکلیف ہے۔ اسی کی طرف اشارہ ہے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «وإذ قال موسى لفتاه» میں وہ «فتي» (رفیق سفر) یوشع ابن نون تھے۔ سعید بن جبیر (راوی حدیث) نے اپنی روایت میں یوشع بن نون کا نام نہیں لیا۔ بیان کیا کہ پھر موسیٰ علیہ السلام ایک چٹان کے سایہ میں ٹھہر گئے جہاں نمی اور ٹھنڈ تھی۔ اس وقت مچھلی تڑپی اور دریا میں کود گئی۔ موسیٰ علیہ السلام سو رہے تھے اس لیے یوشع نے سوچا کہ آپ کو جگانا نہ چاہئے۔ لیکن جب موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو مچھلی کا حال کہنا بھول گئے۔ اسی عرصہ میں مچھلی تڑپ کر پانی میں چلی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی جگہ پانی کے بہاؤ کو روک دیا اور مچھلی کا نشان پتھر پر جس پر سے گئی تھی بن گیا۔ عمرو بن دینار نے مجھ (ابن جریج) سے بیان کیا کہ اس کا نشان پتھر پہ بن گیا اور دونوں انگوٹھوں اور کلمہ کی انگلیوں کو ملا کر ایک حلقہ کی طرح اس کو بتایا۔ بیدار ہونے کے بعد موسیٰ علیہ السلام باقی دن اور باقی رات چلتے رہے۔ آخر کہنے لگے۔ ہمیں اب اس سفر میں تھکن ہو رہی ہے۔ ان کے خادم نے عرض کیا۔ اللہ نے آپ کی تھکن کو دور کر دیا ہے (اور مچھلی زندہ ہو گئی ہے)۔ ابن جریج نے بیان کیا کہ یہ ٹکڑا سعید بن جبیر کی روایت میں نہیں ہے۔ پھر موسیٰ علیہ السلام اور یوشع دونوں واپس لوٹے اور خضر علیہ السلام سے ملاقات ہوئی (ابن جریج نے کہا) مجھ سے عثمان بن ابی سلیمان نے بیان کیا کہ خضر علیہ السلام دریا کے بیچ میں ایک چھوٹے سے سبز زین پوش پر تشریف رکھتے تھے۔ اور سعید بن جبیر نے یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے سے تمام جسم لپیٹے ہوئے تھے۔ کپڑے کا ایک کنارہ ان کے پاؤں کے نیچے تھا اور دوسرا سر کے تلے تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے پہنچ کو سلام کیا تو خضر علیہ السلام نے اپنا چہرہ کھولا اور کہا، میری اس زمین میں سلام کا رواج کہاں سے آ گیا۔ آپ کون ہیں؟ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ پوچھا، موسیٰ بنی اسرائیل؟ فرمایا کہ ہاں! پوچھا، آپ کیوں آئے ہیں؟ فرمایا کہ میرے آنے کا مقصد یہ ہے کہ جو ہدایت کا علم آپ کو اللہ نے دیا ہے وہ مجھے بھی سکھا دیں۔ اس پر خضر علیہ السلام نے فرمایا کہ موسیٰ کیا آپ کے لیے یہ کافی نہیں ہے اس کا پورا سیکھنا آپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ اسی طرح آپ کو جو علم حاصل ہے اس کا پورا سیکھنا میرے لیے مناسب نہیں۔ اس عرصہ میں ایک چڑیا نے اپنی چونچ سے دریا کا پانی لیا تو خضر علیہ السلام نے فرمایا: اللہ کی قسم! میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اس سے زیادہ نہیں ہے۔ جتنا اس چڑیا نے دریا کا پانی اپنی چونچ میں لیا ہے۔ کشتی پر چڑھنے کے وقت انہوں نے چھوٹی چھوٹی کشتیاں دیکھیں جو ایک کنارے والوں کو دوسرے کنارے پر لے جا کر چھوڑ آتی تھیں۔ کشتی والوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کہا کہ یہ اللہ کے صالح بندے ہیں ہم ان سے کرایہ نہیں لیں گے۔ لیکن خضر علیہ السلام نے کشتی میں شگاف کر دیئے اور اس میں (تختوں کی جگہ) کیلیں گاڑ دیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا آپ نے اس لیے اسے پھاڑ ڈالا کہ اس کے مسافروں کو ڈبو دیں۔ بلاشبہ آپ نے ایک بڑا ناگوار کام کیا ہے۔ مجاہد نے آیت میں «إمرا» کا ترجمہ «منكرا» کیا ہے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا میں نے پہلے ہی نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے۔ موسیٰ علیہ السلام کا پہلا سوال تو بھولنے کی وجہ سے تھا لیکن دوسرا بطور شرط تھا اور تیسرا قصداً انہوں نے کیا تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے اس پہلے سوال پر کہا کہ جو میں بھول گیا اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں تنگی نہ کیجئے۔ پھر انہیں ایک بچہ ملا تو خضر علیہ السلام نے اسے قتل کر دیا۔ یعلیٰ نے بیان کیا کہ سعید بن جبیر نے کہا کہ خضر علیہ السلام کو چند بچے ملے جو کھیل رہے تھے آپ نے ان میں سے ایک بچہ کو پکڑا جو کافر اور چالاک تھا اور اسے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، آپ نے بلا کسی خون کے ایک بےگناہ جان کو جس نے کہ برا کام نہیں کیا تھا، قتل کر ڈالا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما آیت میں «زكية» کی جگہ «زاكية» پڑھا کرتے تھے۔ بمعنی «مسلمة» جیسے «غلاما زكيا» میں ہے۔ پھر وہ دونوں بزرگ آگے بڑھے تو ایک دیوار پر نظر پڑی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ خضر علیہ السلام نے اسے ٹھیک کر دیا۔ سعید بن جبیر نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے بتایا کہ اس طرح۔ یعلیٰ بن مسلم نے بیان کیا میرا خیال ہے کہ سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ خضر نے دیوار پر ہاتھ پھیر کر اسے ٹھیک کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے۔ سعید بن جبیر نے اس کی تشریح کی کہ اجرت جسے ہم کھا سکتے۔ آیت «وكان وراءهم» کی ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآت «وكان أمامهم» کی یعنی کشتی جہاں جا رہی تھی اس ملک میں ایک بادشاہ تھا۔ سعید کے سوا دوسرے راوی سے اس بادشاہ کا نام ہدد بن بدد نقل کرتے ہیں اور جس بچہ کو خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا اس کا نام لوگ جیسور بیان کرتے ہیں۔ وہ بادشاہ ہر (نئی) کشتی کو زبردستی چھین لیا کرتا تھا۔ اس لیے میں نے چاہا کہ جب یہ کشتی اس کے سامنے سے گزرے تو اس کے اس عیب کی وجہ سے اسے نہ چھینے۔ جب کشتی والے اس بادشاہ کی سلطنت سے گزر جائیں گے تو وہ خود اسے ٹھیک کر لیں گے اور اسے کام میں لاتے رہیں گے۔ بعض لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ انہوں نے کشتی کو پھر سیسہ لگا کر جوڑا تھا اور بعض کہتے ہیں کہ تار کول سے جوڑا تھا (اور جس بچہ کو قتل کر دیا تھا) تو اس کے والدین مومن تھے اور وہ بچہ (اللہ کی تقدیر میں) کافر تھا۔ اس لیے ہمیں ڈر تھا کہ کہیں (بڑا ہو کر) وہ انہیں بھی کفر میں مبتلا نہ کر دے کہ اپنے لڑکے سے انتہائی محبت انہیں اس کے دین کی اتباع پر مجبور کر دے۔ اس لیے ہم نے چاہا کہ اللہ اس کے بدلے میں انہیں کوئی نیک اور اس سے بہتر اولاد دے۔ «وأقرب رحما» یعنی اس کے والدین اس بچہ پر جو اب اللہ تعالیٰ انہیں دے گا پہلے سے زیادہ بہتر مہربان ہوں جسے خضر علیہ السلام نے قتل کر دیا ہے۔ سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ان والدین کو اس بچے کے بدلے ایک لڑکی دی گئی تھی۔ داود بن ابی عاصم رحمہ اللہ کئی راویوں سے نقل کرتے ہیں کہ وہ لڑکی ہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4726]
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے گھر ان کی خدمت میں حاضر تھے، انہوں نے فرمایا: ”مجھ سے کوئی سوال کرو۔“ میں نے عرض کی: ”ابو العباس! اللہ تعالیٰ آپ پر مجھے قربان کرے! کوفہ میں ایک آدمی واعظ ہے، جسے نوف کہا جاتا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات کرنے والے موسیٰ بنی اسرائیل والے موسیٰ نہیں تھے۔“ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کا دشمن غلط کہتا ہے کیونکہ مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دن لوگوں کو ایسا وعظ کیا کہ لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور دل پسیج گئے۔ جب آپ واپس جانے لگے تو ایک شخص نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا دنیا میں آپ سے بڑا کوئی عالم ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے علم کی نسبت اللہ کی طرف نہ کرنے کی وجہ سے (عتاب فرمایا)۔ ان سے کہا گیا: کیوں نہیں؟ بلکہ آپ سے بڑھ کر ایک عالم ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! وہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: دو دریاؤں کے سنگم پر۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے پروردگار! میرے لیے کوئی نشانی مقرر فرما دے جس کے ذریعے سے میں اسے معلوم کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جہاں تم سے مچھلی جدا ہو جائے، یعنی ایک مردہ مچھلی لو، جہاں اس مچھلی میں جان پڑ جائے وہ اس جگہ ہوں گے، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے ایک مچھلی ساتھ لے لی اور اسے اپنی زنبیل میں رکھ لیا۔ آپ نے اپنے خادم (یوشع) سے فرمایا: میں تمہیں بس اتنی تکلیف دیتا ہوں کہ جب یہ مچھلی زنبیل سے نکل کر چل دے تو مجھے مطلع کرنا۔ خادم نے کہا: یہ کون سی بڑی تکلیف ہے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد: ﴿وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِفَتَىٰهُ﴾ [سورة الكهف: 60] میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے (یہ خادمِ رفیقِ سفر حضرت یوشع بن نون علیہ السلام تھے۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اس کا نام نہیں لیا)۔ پھر موسیٰ علیہ السلام ایک چٹان کے سائے میں ٹھہر گئے جہاں نمی اور ٹھنڈک تھی۔ اس وقت مچھلی نے حرکت کی اور دریا میں کود گئی جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اس وقت سو رہے تھے۔ خادم نے کہا: اس وقت آپ کو جگانا مناسب نہیں لیکن جب موسیٰ علیہ السلام بیدار ہوئے تو وہ انہیں مچھلی کا حال کہنا بھول گئے۔ اس دوران میں مچھلی حرکت کر کے دریا میں کود گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کے کودنے کی جگہ پانی کا بہاؤ روک دیا اور مچھلی کا نشان اس پتھر پر بن گیا جس کے اوپر سے گزر کر گئی تھی (عمرو بن دینار نے مجھ (ابن جریج) سے بیان کیا کہ اس کا نشان پتھر پہ بن گیا۔ اور انہوں نے دونوں انگوٹھوں اور شہادت کی انگلیوں کو جوڑ کر ایک حلقے کی طرح پتھر پر پڑے ہوئے نشان کو نمایاں کیا)۔ (بیدار ہونے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام باقی دن اور باقی رات چلتے رہے۔) آخر کہنے لگے: ”ہمیں اس سفر میں تھکن ہو رہی ہے۔“ ان کے خادم نے کہا: ”اللہ تعالیٰ نے آپ کی تھکن کو دور کر دیا ہے۔“ (یہ الفاظ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کی روایت میں نہیں ہیں)۔ اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام اور ان کے خادم دونوں واپس لوٹے اور وہاں حضرت خضر علیہ السلام سے ملاقات ہو گئی جو دریا کے درمیان میں ایک چھوٹے سے سبز زین پوش پر تشریف رکھتے تھے۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اپنی روایت میں یوں بیان کیا کہ وہ اپنے کپڑے سے تمام جسم لپیٹے ہوئے تھے۔ کپڑے کا ایک کنارہ ان کے پاؤں کے نیچے تھا اور دوسرا سر کے تلے تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں پہنچ کر سلام کیا تو حضرت خضر علیہ السلام نے اپنے چہرے سے کپڑا اٹھایا اور فرمایا: ”میری اس سرزمین میں سلام کا رواج کہاں سے آ گیا؟ آپ کون ہیں؟“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”میں موسیٰ ہوں۔“ انہوں نے پوچھا: ”بنی اسرائیل کے موسیٰ؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں۔“ انہوں نے پوچھا: ”آپ یہاں کیوں آئے ہیں؟“ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”میرے آنے کا مقصد یہ ہے کہ جو ہدایت کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے وہ مجھے بھی سکھا دیں۔“ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ”کیا آپ کو یہ کافی نہیں کہ تورات آپ کے پاس ہے اور آپ کے پاس وحی آتی ہے؟ اے موسیٰ! میرے پاس علم ہے، آپ کے لیے اس کو پورا جاننا مناسب نہیں اور آپ کے پاس علم ہے، میرے لیے مناسب نہیں کہ میں وہ سارا سیکھوں۔“ اس دوران میں ایک چڑیا نے اپنی چونچ سے دریا یا پانی لیا تو حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اس سے زیادہ نہیں جتنا اس چڑیا نے دریا کا پانی اپنی چونچ میں لیا ہے۔“ بہرحال کشتی پر چڑھتے وقت انہوں نے چھوٹی چھوٹی کشتیاں دیکھیں جو ایک کنارے والوں کو دوسرے کنارے پر لے جا کر چھوڑ آتی تھیں۔ ملاحوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور کہا کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہیں۔ ہم نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے کہا: ”کیا انہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو پہچانا تھا؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، کشتی والوں نے کہا: ہم ان سے کرایہ نہیں لیں گے لیکن حضرت خضر علیہ السلام نے کشتی کا تختہ توڑ دیا اور اس کی جگہ میخیں گاڑ دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”آپ نے کشتی کا تختہ اس لیے نکالا ہے تاکہ کشتی میں سوار لوگوں کو غرق کر دیں۔ بلاشبہ آپ نے بڑا ناگوار کام کیا ہے۔““ مجاہد رحمہ اللہ نے کہا: ﴿إِمْرًا﴾ [سورة الكهف: 71] کے معنی ”منکرا“ کے ہیں۔ یہ سن کر حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ””میں نے پہلے ہی نہ کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے۔““ موسیٰ علیہ السلام کا پہلا سوال بھولنے کی وجہ سے تھا لیکن دوسرا بطور شرط اور تیسرا قصداً بطور اعتراض تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ””جو میں بھول گیا ہوں اس کے بارے میں مجھ سے مؤاخذہ نہ کریں اور میرے معاملے میں مجھے تنگی میں نہ ڈالیں۔“ پھر انہیں ایک بچہ ملا تو (حضرت خضر علیہ السلام نے) اسے قتل کر دیا۔“ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اس کی تفصیل بیان کی کہ حضرت خضر علیہ السلام کو چند بچے ملے جو کھیل رہے تھے۔ انہوں نے ان بچوں میں سے ایک بچے کو پکڑا جو کافر اور چالاک تھا اور اسے لٹا کر چھری سے ذبح کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ””آپ نے بلاوجہ ایک بے گناہ بچے کو قتل کر دیا““ حالانکہ اس نے کوئی برا کام نہیں کیا تھا۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس مقام پر لفظ ﴿زَكِيَّةًۢ﴾ [سورة الكهف: 74] کو «زَاكِيَةً» پڑھا کرتے تھے۔ اس کے معنی مسلمان کے ہیں جیسا کہ ﴿غُلَامًا زَكِيًّا﴾ [سورة مريم: 19] کو ”نفس زکیہ“ کہا جاتا ہے۔ پھر وہ دونوں بزرگ آگے بڑھے تو ایک دیوار پر نظر پڑی ”جو بس گرنے ہی والی تھی۔ خضر (علیہ السلام) نے اسے درست کر دیا۔“ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا ”اس طرح“ یعنی حضرت خضر علیہ السلام نے دیوار پر ہاتھ پھیر کر اسے ٹھیک کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ””اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے۔““ سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اس کی تشریح کی کہ اجرت جسے ہم کھا سکتے تھے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ﴿وَكَانَ وَرَاءَهُمْ مَلِكٌ﴾ [سورة الكهف: 79] کو ”وَكَانَ أَمَامَهُمْ“ پڑھا ہے، یعنی ان کے آگے ایک بادشاہ تھا۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ کے علاوہ دوسروں کی روایت میں اس بادشاہ کا نام ہدد بن بدد ہے اور جس بچے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا اس کا نام لوگ حیسور بیان کرتے ہیں۔ ””وہ بادشاہ ہر (نئی) کشتی کو زبردستی چھین لیا کرتا تھا““ اس لیے میں نے چاہا کہ جب یہ کشتی اس کے سامنے سے گزرے تو اس کے اس عیب کی وجہ سے اسے نہ چھینے۔ پھر جب کشتی والے اس بادشاہ کی سلطنت سے گزر جائیں گے تو وہ خود اسے ٹھیک کر لیں گے اور اسے کام میں لاتے رہیں گے۔ بعض نے کہا: انہوں نے کشتی کو پھر سیسہ پگھلا کر جوڑ لیا تھا اور کچھ کہتے ہیں کہ تارکول سے سوراخ بند کر لیا تھا۔ (اور جس بچے کو قتل کر دیا تھا تو) ””اس کے والدین مومن تھے““ جبکہ بچہ کافر تھا، ””اس لیے ہمیں ڈر تھا کہ کہیں وہ انہیں بھی کفر میں مبتلا نہ کر دے““ اس طرح کہ وہ لڑکے کی محبت میں گرفتار ہو کر اس کے دین کی پیروی کر لیں گے ””اس لیے ہم نے یہ ارادہ کیا کہ ان کا رب اس سے بہتر بچہ ان کو عنایت کر دے جو پاکباز (اور صلہ رحمی کرنے والا ہو)۔““ (یہ جواب ہے اس کا کہ) ””تو نے ایک بے قصور جان کو قتل کر دیا۔““ ﴿وَأَقْرَبَ رُحْمًا﴾ [سورة الكهف: 81] کے معنی ہیں کہ ””اس کے والدین اس بچے پر جو اب اللہ انہیں دے گا پہلے بچے سے زیادہ مہربان ہوں گے جسے حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کر دیا تھا۔““ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا کہ اس کے والدین کو اس بچے کے بدلے ایک لڑکی دی گئی تھی۔ داود بن عاصم رحمہ اللہ، کئی ایک راویوں سے نقل کرتے ہیں کہ وہ لڑکی ہی تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4726]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4727
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: إِنَّ نَوْفًا الْبَكَالِيَّيَ زْعُمُ أَنَّ مُوسَى بَنِي إِسْرَائِيلَ لَيْسَ بِمُوسَى الْخَضِرِ، فَقَالَ: كَذَبَ عَدُوُّ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" قَامَ مُوسَى خَطِيبًا فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَقِيلَ لَهُ: أَيُّ النَّاسِ أَعْلَمُ؟ قَالَ: أَنَا، فَعَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِ إِذْ لَمْ يَرُدَّ الْعِلْمَ إِلَيْهِ، وَأَوْحَى إِلَيْهِ، بَلَى عَبْدٌ مِنْ عِبَادِي بِمَجْمَعِ الْبَحْرَيْنِ هُوَ أَعْلَمُ مِنْكَ، قَالَ: أَيْ رَبِّ كَيْفَ السَّبِيلُ إِلَيْهِ؟ قَالَ: تَأْخُذُ حُوتًا فِي مِكْتَلٍ، فَحَيْثُمَا فَقَدْتَ الْحُوتَ فَاتَّبِعْهُ، قَالَ: فَخَرَجَ مُوسَى وَمَعَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ وَمَعَهُمَا الْحُوتُ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَنَزَلَا عِنْدَهَا، قَالَ: فَوَضَعَ مُوسَى رَأْسَهُ فَنَامَ، قَالَ سُفْيَانُ: وَفِي حَدِيثِ غَيْرِ عَمْرٍو، قَالَ: وَفِي أَصْلِ الصَّخْرَةِ عَيْنٌ يُقَالُ لَهَا الْحَيَاةُ لَا يُصِيبُ مِنْ مَائِهَا شَيْءٌ إِلَّا حَيِيَ، فَأَصَابَ الْحُوتَ مِنْ مَاءِ تِلْكَ الْعَيْنِ، قَالَ: فَتَحَرَّكَ وَانْسَلَّ مِنَ الْمِكْتَلِ، فَدَخَلَ الْبَحْرَ، فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ مُوسَى، قَالَ لِفَتَاهُ آتِنَا غَدَاءَنَا سورة الكهف آية 62 الْآيَةَ، قَالَ: وَلَمْ يَجِدِ النَّصَبَ حَتَّى جَاوَزَ مَا أُمِرَ بِهِ، قَالَ لَهُ فَتَاهُ يُوشَعُ بْنُ نُونٍ، أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ سورة الكهف آية 63 الْآيَةَ، قَالَ: فَرَجَعَا يَقُصَّانِ فِي آثَارِهِمَا، فَوَجَدَا فِي الْبَحْرِ كَالطَّاقِ مَمَرَّ الْحُوتِ، فَكَانَ لِفَتَاهُ عَجَبًا وَلِلْحُوتِ سَرَبًا، قَالَ: فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الصَّخْرَةِ إِذْ هُمَا بِرَجُلٍ مُسَجًّى بِثَوْبٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ مُوسَى، قَالَ: وَأَنَّى بِأَرْضِكَ السَّلَامُ، فَقَالَ: أَنَا مُوسَى، قَالَ مُوسَى: بَنِي إِسْرَائِيلَ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِي مِمَّا عُلِّمْتَ رَشَدًا؟ قَالَ لَهُ الْخَضِرُ: يَا مُوسَى إِنَّكَ عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَكَهُ اللَّهُ لَا أَعْلَمُهُ، وَأَنَا عَلَى عِلْمٍ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ عَلَّمَنِيهِ اللَّهُ لَا تَعْلَمُهُ، قَالَ: بَلْ أَتَّبِعُكَ، قَالَ: فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا، فَانْطَلَقَا يَمْشِيَانِ عَلَى السَّاحِلِ، فَمَرَّتْ بِهِمْ سَفِينَةٌ، فَعُرِفَ الْخَضِرُ، فَحَمَلُوهُمْ فِي سَفِينَتِهِمْ بِغَيْرِ نَوْلٍ، يَقُولُ: بِغَيْرِ أَجْرٍ، فَرَكِبَا السَّفِينَةَ، قَالَ: وَوَقَعَ عُصْفُورٌ عَلَى حَرْفِ السَّفِينَةِ، فَغَمَسَ مِنْقَارَهُ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ الْخَضِرُ لِمُوسَى: مَا عِلْمُكَ وَعِلْمِي وَعِلْمُ الْخَلَائِقِ فِي عِلْمِ اللَّهِ إِلَّا مِقْدَارُ مَا غَمَسَ هَذَا الْعُصْفُورُ مِنْقَارَهُ، قَالَ: فَلَمْ يَفْجَأْ مُوسَى إِذْ عَمَدَ الْخَضِرُ إِلَى قَدُومٍ، فَخَرَقَ السَّفِينَةَ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: قَوْمٌ حَمَلُونَا بِغَيْرِ نَوْلٍ عَمَدْتَ إِلَى سَفِينَتِهِمْ فَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ سورة الكهف آية 71 الْآيَةَ، فَانْطَلَقَا إِذَا هُمَا بِغُلَامٍ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَأَخَذَ الْخَضِرُ بِرَأْسِهِ فَقَطَعَهُ، قَالَ لَهُ مُوسَى: أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا إِلَى قَوْلِهِ فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ سورة الكهف آية 75 - 77، فَقَالَ بِيَدِهِ: هَكَذَا، فَأَقَامَهُ، فَقَالَ لَهُ مُوسَى: إِنَّا دَخَلْنَا هَذِهِ الْقَرْيَةَ فَلَمْ يُضَيِّفُونَا وَلَمْ يُطْعِمُونَا، لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ: هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ، سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَدِدْنَا أَنَّ مُوسَى صَبَرَ حَتَّى يُقَصَّ عَلَيْنَا مِنْ أَمْرِهِمَا، قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَقْرَأُ 0 وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا 0".
مجھ سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، کہا ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کیا۔ نوف بکالی کہتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام جو اللہ کے نبی تھے وہ نہیں ہیں جنہوں نے خضر علیہ السلام سے ملاقات کی تھی۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، دشمن خدا نے غلط بات کہی ہے۔ ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا کہ سب سے بڑا عالم کون شخص ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر غصہ کیا، کیونکہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی تھی اور ان کے پاس وحی بھیجی کہ ہاں، میرے بندوں میں سے ایک بندہ دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ پر ہے اور وہ تم سے بڑا عالم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: اے پروردگار! ان تک پہنچنے کا طریقہ کیا ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایک مچھلی زنبیل میں ساتھ لے لو۔ پھر جہاں وہ مچھلی گم ہو جائے وہیں انہیں تلاش کرو۔ بیان کیا کہ موسیٰ علیہ السلام نکل پڑے اور آپ کے ساتھ آپ کے رفیق سفر یوشع بن نون بھی تھے۔ مچھلی ساتھ تھی۔ جب چٹان تک پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ موسیٰ علیہ السلام اپنا سر رکھ کر وہیں سو گئے، عمرو کی روایت کے سوا دوسری روایت کے حوالہ سے سفیان نے بیان کیا کہ اس چٹان کی جڑ میں ایک چشمہ تھا، جسے ”حیات“ کہا جاتا تھا۔ جس چیز پر بھی اس کا پانی پڑ جاتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس مچھلی پر بھی اس کا پانی پڑا تو اس کے اندر حرکت پیدا ہو گئی اور وہ اپنی زنبیل سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔ موسیٰ علیہ السلام جب بیدار ہوئے تو انہوں نے اپنے ساتھی سے فرمایا «قال لفتاه آتنا غداءنا» کہ ”ہمارا ناشتہ لاؤ“ الآیۃ۔ بیان کیا کہ سفر میں موسیٰ علیہ السلام کو اس وقت تک کوئی تھکن نہیں ہوئی جب تک وہ مقررہ جگہ سے آگے نہیں بڑھ گئے۔ رفیق سفر یوشع بن نون نے اس پر کہا «أرأيت إذ أوينا إلى الصخرة فإني نسيت الحوت» ”آپ نے دیکھا جب ہم چٹان کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے تو میں مچھلی کے متعلق کہنا بھول گیا“ الآیۃ۔ بیان کیا کہ پھر وہ دونوں الٹے پاؤں واپس لوٹے۔ دیکھا کہ جہاں مچھلی پانی میں گری تھی وہاں اس کے گزرنے کی جگہ طاق کی سی صورت بنی ہوئی ہے۔ مچھلی تو پانی میں چلی گئی تھی لیکن یوشع بن نون کو اس طرح پانی کے رک جانے پر تعجب تھا۔ جب چٹان پر پہنچے تو دیکھا کہ ایک بزرگ کپڑے میں لپٹے ہوئے وہاں موجود ہیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تمہاری زمین میں سلام کہاں سے آ گیا؟ آپ نے فرمایا کہ میں موسیٰ ہوں۔ پوچھا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ فرمایا کہ جی ہاں! موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کیا آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ جو ہدایت کا علم اللہ تعالیٰ نے آپ کو دیا ہے وہ آپ مجھے بھی سکھا دیں۔ خضر علیہ السلام نے جواب دیا کہ آپ کو اللہ کی طرف سے ایسا علم حاصل ہے جو میں نہیں جانتا اور اسی طرح مجھے اللہ کی طرف سے ایسا علم حاصل ہے جو آپ نہیں جانتے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، لیکن میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔ خضر علیہ السلام نے اس پر کہا کہ اگر آپ کو میرے ساتھ رہنا ہی ہے تو پھر مجھ سے کسی چیز کے متعلق نہ پوچھئے گا، میں خود آپ کو بتاؤں گا۔ چنانچہ دونوں حضرات دریا کے کنارے روانہ ہوئے، ان کے قریب سے ایک کشتی گزری تو خضر علیہ السلام کو کشتی والوں نے پہچان لیا اور اپنی کشتی میں ان کو بغیر کرایہ کے چڑھا لیا دونوں کشتی میں سوار ہو گئے۔ بیان کیا کہ اسی عرصہ میں ایک چڑیا کشتی کے کنارے آ کے بیٹھی اور اس نے اپنی چونچ کو دریا میں ڈالا تو خضر علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا کہ میرا، آپ کا اور تمام مخلوقات کا علم اللہ کے علم کے مقابلہ میں اس سے زیادہ نہیں ہے جتنا اس چڑیا نے اپنی چونچ میں دریا کا پانی لیا ہے۔ بیان کیا کہ پھر یکدم جب خضر علیہ السلام نے بسولا اٹھایا اور کشتی کو پھاڑ ڈالا تو موسیٰ علیہ السلام اس طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا ان لوگوں نے ہمیں بغیر کسی کرایہ کے اپنی کشتی میں سوار کر لیا تھا اور آپ نے اس کا بدلہ یہ دیا ہے کہ ان کی کشتی ہی چیر ڈالی تاکہ اس کے مسافر ڈوب مریں۔ بلاشبہ آپ نے بڑا نا مناسب کام کیا ہے۔ پھر وہ دونوں آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک بچہ جو بہت سے دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، خضر نے اس کا سر پکڑا اور کاٹ ڈالا۔ اس پر موسیٰ علیہ السلام بول پڑے کہ آپ نے بلا کسی خون و بدلہ کے ایک معصوم بچے کی جان لے لی، یہ تو بڑی بری بات ہے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا، میں نے آپ سے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے، اللہ تعالیٰ کے ارشاد ”پس اس بستی والوں نے ان کی میزبانی سے انکار کیا، پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ خضر علیہ السلام نے اپنا ہاتھ یوں اس پر پھیرا اور اسے سیدھا کر دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ہم اس بستی میں آئے تو انہوں نے ہماری میزبانی سے انکار کیا اور ہمیں کھانا بھی نہیں دیا اگر آپ چاہتے تو اس پر اجرت لے سکتے تھے۔ خضر علیہ السلام نے فرمایا بس یہاں سے اب میرے اور آپ کے درمیان جدائی ہے اور میں آپ کو ان کاموں کی وجہ بتاؤں گا جن پر آپ صبر نہیں کر سکے تھے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کاش موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا ہوتا اور اللہ تعالیٰ ان کے سلسلے میں اور واقعات ہم سے بیان کرتا۔ بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما «وكان وراءهم ملك» کی بجائے «وكان أمامهم ملك يأخذ كل سفينة صالحة غصبا» قرآت کرتے تھے اور بچہ (جسے قتل کیا تھا) اس کے والدین مومن تھے۔ اور یہ بچہ (مشیت الٰہی میں) کافر تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4727]
حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی: ”نوف بکالی کہتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جو بنی اسرائیل کے رسول تھے وہ وہ موسیٰ نہیں تھے جو حضرت خضر علیہ السلام سے ملے تھے۔“ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اللہ کے دشمن نے غلط بات کہی ہے۔“ ہم سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک دن حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو وعظ کرنے کے لیے کھڑے ہوئے تو ان سے پوچھا گیا: سب سے بڑا عالم کون ہے؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: میں ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر ان پر عتاب فرمایا کیونکہ انہوں نے علم کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ میرے بندوں میں سے ایک بندہ دو دریاؤں کے سنگم پر رہتا ہے وہ تم سے زیادہ علم رکھتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کی: اے میرے رب! ان تک پہنچنے کا کیا طریقہ ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک مچھلی زنبیل میں ساتھ لے لو، پھر وہ مچھلی جہاں گم ہو جائے وہیں انہیں تلاش کرو۔ الغرض حضرت موسیٰ علیہ السلام نکل پڑے اور آپ کے ساتھ آپ کے رفیق سفر یوشع بن نون بھی تھے۔ مچھلی ان کے پاس تھی۔ جب وہ چٹان تک پہنچے تو وہاں ٹھہر گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنا سر وہیں رکھ کر سو گئے۔“ سفیان نے عمرو کی روایت کے علاوہ دوسری روایت کے حوالے سے بیان کیا کہ اس چٹان کی جڑ میں ایک چشمہ تھا جسے «عَيْنُ الْحَيَاةِ» ”حیات“ کہا جاتا تھا، جس چیز پر بھی اس کا پانی پڑتا وہ زندہ ہو جاتی تھی۔ اس مچھلی پر اس کا پانی پڑا تو اس کے اندر حرکت پیدا ہو گئی اور وہ زنبیل سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب بیدار ہوئے تو ﴿آتِنَا غَدَاءَنَا﴾ [سورة الكهف: 62] ”انہوں نے اپنے ساتھی سے فرمایا: ہمارا ناشتہ لاؤ۔“ اس سفر کے دوران میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سفر کی تھکاوٹ کا کوئی احساس نہ ہوا۔ جب مقررہ جگہ سے آگے بڑھے تو تھکاوٹ محسوس کی، تاہم ان کے رفیق سفر یوشع بن نون نے عرض کی: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ﴾ [سورة الكهف: 63] ”آپ نے دیکھا جب ہم چٹان کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے تو میں مچھلی کے متعلق آپ کو آگاہ کرنا بھول گیا۔“ پھر وہ دونوں الٹے پاؤں واپس آئے، دیکھا کہ جہاں مچھلی پانی میں گری تھی وہاں اس کے گزرنے کی جگہ پر طاق کی سی صورت بنی ہوئی تھی۔ مچھلی تو پانی میں چلی گئی تھی لیکن یوشع بن نون کو اس طرح پانی کے رک جانے پر تعجب تھا۔ جب وہ چٹان کے پاس پہنچے تو وہاں ایک بزرگ کو کپڑے میں لپٹا ہوا پایا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اسے سلام کیا تو انہوں نے فرمایا: ”تمہاری زمین میں سلام کہاں سے آ گیا؟“ فرمایا: ”میں موسیٰ ہوں۔“ انہوں نے دریافت کیا: ”بنی اسرائیل کے موسیٰ؟“ فرمایا: ”جی ہاں۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان سے مزید کہا: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ [سورة الكهف: 66] ”کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ علم ہدایت جو آپ کو دیا گیا ہے وہ آپ مجھے بھی سکھا دیں؟“ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: ”اے موسیٰ! آپ کو اللہ کی طرف سے ایسا علم حاصل ہے جو میں نہیں جانتا اور اسی طرح اللہ کی طرف سے مجھے ایسا علم حاصل ہے جو آپ نہیں جانتے۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”میں آپ کے ساتھ رہوں گا۔“ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ [سورة الكهف: 70] ”اگر آپ نے میرے ساتھ رہنا ہی ہے تو پھر مجھ سے کسی چیز کے متعلق مت پوچھیں حتی کہ میں خود آپ کو بتانا شروع کروں۔“ چنانچہ دونوں حضرات دریا کے کنارے کنارے روانہ ہوئے۔ ان کے قریب سے ایک کشتی گزری تو حضرت خضر علیہ السلام کو کشتی والوں نے پہچان لیا اور اپنی کشتی میں انہیں بغیر کرائے کے سوار کر لیا۔ وہ دونوں کشتی میں سوار ہو گئے۔ اس دوران میں ایک چڑیا کشتی کے کنارے پر آ بیٹھی اور اس نے اپنی چونچ کو دریا میں ڈالا تو حضرت خضر علیہ السلام نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا: ”میرا، تمہارا اور دیگر تمام مخلوق کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اس سے زیادہ نہیں جتنا اس چڑیا نے اپنی چونچ میں دریا کا پانی لیا ہے۔“ پھر یکدم حضرت خضر علیہ السلام نے تیشہ اٹھایا اور کشتی کو توڑ دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ﴿أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا﴾ [سورة الكهف: 71] ”ان لوگوں نے کرائے کے بغیر ہمیں اپنی کشتی میں سوار کیا اور آپ نے بدلے میں یہ دیا کہ ان کی کشتی کو توڑ ڈالا تاکہ اس میں سوار تمام مسافر پانی میں ڈوب مریں۔ یقیناً آپ نے انتہائی (نامناسب) کام کیا ہے۔“ پھر وہ دونوں آگے بڑھے تو دیکھا کہ ایک بچہ جو دوسرے بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، حضرت خضر علیہ السلام نے اس کا سر پکڑا اور اسے جسم سے الگ کر دیا۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام بول پڑے: ﴿أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُكْرًا﴾ [سورة الكهف: 74] ”آپ نے بلا کسی خون و بدلہ کے ایک معصوم بچے کی جان لے لی۔ یہ تو بہت نازیبا حرکت ہے۔“ حضرت خضر علیہ السلام نے کہا: ﴿أَلَمْ أَقُلْ لَكَ إِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا﴾ [سورة الكهف: 75] ”میں نے آپ سے پہلے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کر سکیں گے؟“ اس بستی والوں نے ان کی میزبانی سے انکار کر دیا۔ پھر اس بستی میں انہیں ایک دیوار دکھائی دی جو بس گرنے ہی والی تھی۔ حضرت خضر علیہ السلام نے اس پر اپنا ہاتھ پھیرا اور اسے سیدھا کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”ہم اس بستی میں آئے تو انہوں نے ہماری میزبانی سے انکار کر دیا اور ہمیں کھانا بھی نہیں دیا ﴿لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا﴾ [سورة الكهف: 77] ”اگر آپ چاہتے تو اس کے بدلے میں اجرت لے سکتے تھے۔“ حضرت خضر علیہ السلام نے فرمایا: ﴿هَذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَلَيْهِ صَبْرًا﴾ [سورة الكهف: 78] ”یہ میرے اور آپ کے درمیان جدائی کا وقت ہے۔ میں عنقریب آپ کو ان کاموں کی وجہ سے آگاہ کر دوں گا جن پر آپ نے صبر نہیں کیا۔“ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کاش! موسیٰ علیہ السلام نے صبر کیا ہوتا تو ہمیں اس سلسلے سے متعلق مزید واقعات بیان کیے جاتے۔“ راوی نے کہا: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما یوں پڑھا کرتے تھے: «وَكَانَ أَمَامَهُمْ مَلِكٌ يَأْخُذُ كُلَّ سَفِينَةٍ صَالِحَةٍ غَصْبًا» اور یہ بھی پڑھا کرتے تھے: «وَأَمَّا الْغُلَامُ فَكَانَ كَافِرًا» ۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4727]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 7478
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى أَهُوَ خَضِرٌ، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ شَأْنَهُ؟، قَالَ: نَعَمْ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" بَيْنَا مُوسَى فِي مَلَإٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ؟، فَقَالَ مُوسَى: لَا، فَأُوحِيَ إِلَى مُوسَى بَلَى عَبْدُنَا خَضِرٌ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ اللَّهُ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: إِذَا فَقَدْتَ الْحُوتَ، فَارْجِعْ فَإِنَّكَ سَتَلْقَاهُ، فَكَانَ مُوسَى يَتْبَعُ أَثَرَ الْحُوتِ فِي الْبَحْرِ، فَقَالَ فَتَى مُوسَى لِمُوسَى: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ؟ قَالَ مُوسَى: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا فَوَجَدَا خَضِرًا وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ اللَّهُ".
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوحفص عمرو نے بیان کیا، ان سے اوزاعی نے بیان کیا ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ بن مسعود نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ وہ اور حر بن قیس بن حصین الفزاری، موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں اختلاف کر رہے تھے کہ کیا وہ خضر علیہ السلام ہی تھے۔ اتنے میں ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور ان سے کہا کہ میں اور میرا یہ ساتھی اس بارے میں شک میں ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے وہ صاحب کون تھے جن سے ملاقات کے لیے موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا۔ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلہ میں کوئی حدیث سنی ہے انہوں نے کہا کہ ہاں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں تھے کہ ایک شخص نے آ کر پوچھا کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ نہیں۔ چنانچہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ کیوں نہیں ہمارا بندہ خضر ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے ملاقات کا راستہ معلوم کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مچھلی کو نشان قرار دیا اور آپ سے کہا گیا کہ جب تم مچھلی کو گم پاؤ تو لوٹ جانا کہ وہیں ان سے ملاقات ہو گی۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام مچھلی کا نشان دریا میں ڈھونڈنے لگے اور آپ کے ساتھی نے آپ کو بتایا کہ آپ کو معلوم ہے۔ جب ہم نے چٹان پر ڈیرہ ڈالا تھا تو وہیں میں مچھلی بھول گیا اور مجھے شیطان نے اسے بھلا دیا۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا کہ یہ جگہ وہی ہے جس کی تلاش میں ہم سرگرداں ہیں پس وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانوں پر واپس لوٹے اور انہوں نے خضر علیہ السلام کو پا لیا ان ہی دونوں کا یہ قصہ ہے جو اللہ نے بیان فرمایا۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7478]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ اور حر بن قیس بن حصن فزاری رضی اللہ عنہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھی کے متعلق اختلاف کر رہے تھے کہ کیا وہ حضرت خضر علیہ السلام ہی تھے؟ اتنے میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کا ادھر سے گزر ہوا تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں بلایا اور کہا: ”میں اور میرا یہ ساتھی شک میں مبتلا ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام کے وہ ”صاحب“ کون تھے جن سے ملاقات کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے راستہ پوچھا تھا؟ کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سلسلے میں کوئی حدیث سنی ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے ایک مجمع میں تھے کہ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے پوچھا: کیا آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جواب دیا: نہیں۔ پھر ان پر وحی نازل ہوئی: کیوں نہیں بلکہ ہمارا بندہ خضر ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کی ملاقات کا راستہ پوچھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ایک مچھلی کو (نشانی قرار دیا اور فرمایا کہ اسے) گم پاؤ تو واپس لوٹ آنا، وہیں ان سے ملاقات ہوگی۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے مچھلی کا نشان تلاش کرتے رہے، تو موسیٰ علیہ السلام کے خادم نے کہا: ﴿أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ وَمَا أَنْسَانِيهُ إِلَّا الشَّيْطَانُ أَنْ أَذْكُرَهُ﴾ [سورة الكهف: 63] ”کیا آپ کو معلوم ہے جہاں ہم نے چٹان کے سائے میں آرام کیا تھا، میں مچھلی وہاں بھول گیا ہوں اور اسے یاد کرنے سے مجھے شیطان نے غافل کر دیا تھا۔“ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ﴿ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ﴾ [سورة الكهف: 64] ”یہی وہ جگہ ہے جس کی ہم تلاش میں تھے۔“ وہ فوراً اپنے پاؤں کے نشانات پر واپس ہو گئے اور انہوں نے وہاں حضرت خضر علیہ السلام کو پا لیا۔ ان دونوں کا وہ قصہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 7478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة