صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
88. باب تشبيك الأصابع فى المسجد وغيره:
باب: مسجد وغیرہ میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کر کے قینچی کرنا درست ہے۔
حدیث نمبر: 478
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ، حَدَّثَنَا وَاقِدٌ، عَنِ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَوْ ابْنِ عَمْرٍو،" شَبَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ".
ہم سے حامد بن عمر نے بشر بن مفضل کے واسطہ سے بیان کیا، کہا ہم سے عاصم بن محمد نے، کہا ہم سے واقد بن محمد نے اپنے باپ محمد بن زید کے واسطہ سے، انہوں نے عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہم سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں داخل کیا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 478]
حضرت عبداللہ بن عمر یا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو قینچی بنایا۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 480
وَقَالَ عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ: حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي فَلَمْ أَحْفَظْهُ فَقَوَّمَهُ لِي وَاقِدٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو كَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ بِهَذَا.
اور عاصم بن علی نے کہا، ہم سے عاصم بن محمد نے بیان کیا کہ میں نے اس حدیث کو اپنے باپ محمد بن زید سے سنا۔ لیکن مجھے حدیث یاد نہیں رہی تھی۔ تو میرے بھائی واقد نے اس کو درستی سے اپنے باپ سے روایت کر کے مجھے بتایا۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عبداللہ بن عمرو تمہارا کیا حال ہو گا جب تم برے لوگوں میں رہ جاؤ گے اس طرح (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ میں کر کے دکھلائیں)۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 480]
حضرت عاصم بن محمد کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث اپنے والد محمد بن زید سے سنی، پھر وہ مجھے یاد نہ رہی تو (میرے بھائی) واقد بن محمد نے اسے اپنے والد سے ٹھیک ٹھیک اور صحیح طریقے سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو! اس وقت تیرا کیا حال ہو گا جب تو کوڑے کرکٹ جیسے لوگوں کے درمیان باقی رہ جائے گا۔“ پھر انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔ [صحيح البخاري/كتاب الصلاة/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة