صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب: {إذ يبايعونك تحت الشجرة} :
باب: آیت کی تفسیر ”وہ وقت یاد کرو جب کہ وہ درخت کے نیچے آپ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے“۔
حدیث نمبر: 4840
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ:" كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَ مِائَةٍ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عمرو نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر لشکر میں ہم (مسلمان) ایک ہزار چار سو تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4840]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ہم حدیبیہ کے دن چودہ سو صحابہ تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 4840]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3576
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ:" عَطِشَ النَّاسُ يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْهِ رِكْوَةٌ فَتَوَضَّأَ، فَجَهِشَ النَّاسُ نَحْوَهُ، فَقَالَ: مَا لَكُمْ، قَالُوا: لَيْسَ عِنْدَنَا مَاءٌ نَتَوَضَّأُ وَلَا نَشْرَبُ إِلَّا مَا بَيْنَ يَدَيْكَ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي الرِّكْوَةِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَثُورُ بَيْنَ أَصَابِعِهِ كَأَمْثَالِ الْعُيُونِ فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ؟ قَالَ، لَوْ كُنَّا مِائَةَ أَلْفٍ لَكَفَانَا كُنَّا خَمْسَ عَشْرَةَ مِائَةً".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن مسلم نے بیان کیا، ان سے حصین نے بیان کیا، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ صلح حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل رکھا ہوا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا بات ہے؟ لوگوں نے کہا کہ جو پانی آپ کے سامنے ہے، اس پانی کے سوا نہ تو ہمارے پاس وضو کے لیے کوئی دوسرا پانی ہے اور نہ پینے کے لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ چھاگل میں رکھ دیا اور پانی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان میں سے چشمے کی طرح پھوٹنے لگا اور ہم سب لوگوں نے اس پانی کو پیا بھی اور اس سے وضو بھی کیا۔ میں نے پوچھا آپ لوگ کتنی تعداد میں تھے؟ کہا کہ اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی کافی ہوتا۔ ویسے ہماری تعداد اس وقت پندرہ سو تھی۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3576]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ حدیبیہ کے دن لوگوں کو پیاس لگی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک چھاگل تھی، جس سے آپ نے وضو فرمایا۔ لوگ جلدی جلدی پانی لینے کے لیے آپ کی طرف دوڑ پڑے۔ آپ نے پوچھا: ”تمہیں کیا ہو گیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: ہمارے پاس پانی نہیں جس سے ہم وضو کریں بلکہ پینے کے لیے بھی پانی نہیں ہے، صرف اسی قدر پانی کی مقدار ہے جو آپ کے سامنے ہے۔ آپ نے اس چھاگل پر اپنا دست مبارک رکھ دیا تو آپ کی انگلیوں سے پانی ایسے پھوٹ کر بہنے لگا جیسے چشموں سے ابل کر نکلتا ہے۔ چنانچہ ہم سب نے وہ پانی پیا اور اس سے وضو بھی کیا۔ (راوی کہتا ہے کہ) میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ اس وقت کتنے آدمی تھے؟ انہوں نے فرمایا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو ہمیں یہ پانی کافی ہوتا، تاہم اس وقت بھی پندرہ سو آدمی تھے۔ [صحيح البخاري/كتاب تفسير القرآن/حدیث: 3576]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة