🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب كيف نزول الوحي وأول ما نزل:
باب: وحی کیونکر اتری اور سب سے پہلے کون سی آیت نازل ہوئی تھی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4980
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، قَالَ:" أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يَتَحَدَّثُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّ سَلَمَةَ: مَنْ هَذَا؟ أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَتْ: هَذَا دِحْيَةُ، فَلَمَّا قَامَ، قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ خَبَرَ جِبْرِيلَ"، أَوْ كَمَا قَالَ: قَالَ أَبِي: قُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا؟ قَالَ: مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے ‘ کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ‘ ان سے ابوعثمان مہدی نے بیان کیا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے لگے۔ اس وقت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا آپ کے پاس موجود تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ جانتی ہو یہ کون ہیں؟ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔ ام المؤمنین نے کہا کہ دحیہ الکلبی ہیں۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: اللہ کی قسم! اس وقت (تک) بھی میں انہیں دحیہ الکلبی سمجھتی رہی۔ آخر جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کے آنے کی خبر سنائی تب مجھے حال معلوم ہوا یا اسی طرح کے الفاظ بیان کئے۔ معتمر نے بیان کیا کہ میرے والد (سلیمان) نے کہا ‘ میں نے ابوعثمان مہدی سے کہا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہا سے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4980]
حضرت ابوعثمان (نہدی) سے روایت ہے: مجھے بتایا گیا کہ ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرنے لگے۔ اس وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی آپ کے پاس موجود تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: یہ کون ہیں؟ ام المومنین رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یہ دحیہ کلبی ہیں۔ جب وہ چلے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے انہیں دحیہ کلبی ہی خیال کیا تھا حتیٰ کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا کہ آپ حضرت جبرئیل علیہ السلام کی خبر ذکر کر رہے تھے۔ (راویِ حدیث معتمر کہتے ہیں:) میرے والد نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی تھی؟ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4980]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3633
حَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، قَالَ: أُنْبِئْتُ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ أُمُّ سَلَمَةَ فَجَعَلَ يُحَدِّثُ ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِأُمِّ سَلَمَةَ مَنْ هَذَا أَوْ كَمَا، قَالَ: قَالَ: قَالَتْ هَذَا دِحْيَةُ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: ايْمُ اللَّهِ مَا حَسِبْتُهُ إِلَّا إِيَّاهُ حَتَّى سَمِعْتُ خُطْبَةَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُخْبِرُ جِبْرِيلَ أَوْ كَمَا، قَالَ: قَالَ: فَقُلْتُ لِأَبِي عُثْمَانَ: مِمَّنْ سَمِعْتَ هَذَا، قَالَ: مِنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ".
ہم سے عباس بن ولید نرسی نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا، ان سے ابوعثمان نے بیان کیا کہ مجھے یہ بات معلوم کرائی گئی کہ جبرائیل علیہ السلام ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے باتیں کرتے رہے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی تھیں۔ جب جبرائیل علیہ السلام چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ سے فرمایا: معلوم ہے یہ کون صاحب تھے؟ یا ایسے ہی الفاظ ارشاد فرمائے۔ ابوعثمان نے بیان کیا کہ ام سلمہ نے جواب دیا کہ یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ ام سلمہ نے بیان کیا اللہ کی قسم میں سمجھے بیٹھی تھی کہ وہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ ہیں۔ آخر جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا جس میں آپ جبرائیل علیہ السلام (کی آمد) کی خبر دے رہے تھے تو میں سمجھی کہ وہ جبرائیل علیہ السلام ہی تھے۔ یا ایسے ہی الفاظ کہے۔ بیان کیا کہ میں نے ابوعثمان سے پوچھا کہ آپ نے یہ حدیث کس سے سنی؟ تو انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنی ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3633]
ابو عثمان رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یہ خبر پہنچی کہ جبرئیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے جبکہ آپ کے پاس ام سلمہ رضی اللہ عنہا بھی موجود تھیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کی، پھر اٹھ کر چلے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: یہ کون تھے؟ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یہ دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ تھے۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ کی قسم! میں نے انہیں دحیہ ہی خیال کیا تھا یہاں تک کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبرئیل علیہ السلام کے آنے کا ذکر فرما رہے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابو عثمان سے پوچھا: آپ نے یہ واقعہ کس سے سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے یہ واقعہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے سنا ہے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3633]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3634
حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ فِي صَعِيدٍ فَقَامَ أَبُو بَكْرٍ فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي بَعْضِ نَزْعِهِ ضَعْفٌ وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ ثُمَّ أَخَذَهَا عُمَرُ فَاسْتَحَالَتْ بِيَدِهِ غَرْبًا فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا فِي النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ، وَقَالَ هَمَّامٌ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَعَ أَبُو بَكْرٍ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ.
مجھ سے عبدالرحمٰن بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے، ان سے سالم بن عبداللہ نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں نے (خواب میں) دیکھا کہ لوگ ایک میدان میں جمع ہو رہے ہیں۔ ان میں سے ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور ایک کنویں سے انہوں نے ایک یا دو ڈول پانی بھر کر نکالا، پانی نکالنے میں ان میں کچھ کمزوری معلوم ہوتی تھی اور اللہ ان کو بخشے۔ پھر وہ ڈول عمر رضی اللہ عنہ نے سنبھالا۔ ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ ایک بڑا ڈول ہو گیا میں نے لوگوں میں ان جیسا شہ زور پہلوان اور بہادر انسان ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا (انہوں نے اتنے ڈول کھینچے) کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا پلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔ اور ہمام نے بیان کیا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے بیان کر رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دو ڈول کھینچے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3634]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے لوگوں کو پاک صاف زمین میں جمع دیکھا، اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے اور انہوں نے ایک یا دو ڈول نکالے مگر ان کے ڈول کھینچنے میں کچھ کمزوری پائی جاتی تھی، «يَغْفِرُ اللَّهُ لَهُ» اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے۔ پھر ڈول حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لے لیا اور وہ ڈول ان کے لیتے ہی ایک بڑا ڈول بن گیا، میں نے لوگوں میں کسی زور آور کو نہیں دیکھا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرح طاقت کے ساتھ پانی بھرتا ہو، انہوں نے اتنا پانی بھرا کہ سب لوگوں نے اپنے اونٹ سیراب کر کے بٹھا دیے۔ (راویِ حدیث) حضرت ہمام، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک یا دو ڈول کھینچے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 3634]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں