صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ تَأْلِيفِ الْقُرْآنِ:
باب: قرآن مجید یا آیتوں کی ترتیب کا بیان۔
حدیث نمبر: 4994
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ قَيْسٍ، سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ والْكَهْفِ ومَرْيَمَ وطَهَ والْأَنْبِيَاءِ:" إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي".
ہم آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے بیان کیا، انہوں نے عبدالرحمٰن بن امیہ سے سنا اور انہوں نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف، سورۃ مریم، سورۃ طہٰ اور سورۃ انبیاء کے متعلق بتلایا کہ یہ پانچوں سورتیں اول درجہ کی فصیح سورتیں ہیں اور میری یاد کی ہوئی ہیں۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4994]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”سورہ بنی اسرائیل، الکہف، مریم، طہ اور سورۃ الانبیاء، یہ پانچوں سورتیں «الْعِتَاقِ الْأُوَلِ» (نہایت ہی بلیغ) اور «تِلَادِي» (میرا محفوظ خزانہ) ہیں۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4994]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 4708
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ فِي بَنِي إِسْرَائِيلَ، وَالْكَهْفِ، وَمَرْيَمَ:" إِنَّهُنَّ مِنَ الْعِتَاقِ الْأُوَلِ، وَهُنَّ مِنْ تِلَادِي، فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ"، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" يَهُزُّونَ"، وَقَالَ غَيْرُهُ: نَغَضَتْ سِنُّكَ، أَيْ تَحَرَّكَتْ.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے ابواسحاق عمرو بن عبیداللہ سبیعی نے بیان کیا، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے سورۃ بنی اسرائیل، سورۃ الکہف اور سورۃ مریم کے متعلق کہا کہ یہ اول درجہ کی عمدہ نہایت فصیح و بلیغ سورتیں ہیں اور میری پرانی یاد کی ہوئی (آیت) «فسينغضون» کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ اپنے سر ہلائیں گے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ یہ «نغضت سنك» سے نکلا ہے یعنی تیرا دانت ہل گیا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4708]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے سورہ بنی اسرائیل، سورہ کہف اور سورہ مریم کے متعلق فرمایا: ”یہ اول درجے کی عمدہ سورتوں میں سے ہیں اور یہ میری پرانی یاد کی ہوئی ہیں۔“ ﴿فَسَيُنْغِضُونَ إِلَيْكَ رُءُوسَهُمْ﴾ [سورة الإسراء: 51] کے بارے میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ” «فَسَيُنْغِضُونَ» کے معنی ہیں: وہ اپنا سر ہلائیں گے۔“ اور ان کے علاوہ دوسروں نے کہا ہے کہ یہ لفظ «نَغَضَتْ سِنُّكَ» سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں: ”تیرا دانت ہل گیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 4708]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة