صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. باب مد القراءة:
باب: قرآن مجید پڑھنے میں مد کرنا یعنی جہاں مد ہو اس حرف کو کھینچ کر ادا کرنا۔
حدیث نمبر: 5046
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ:" كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَتْ مَدًّا، ثُمَّ قَرَأَ: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، يَمُدُّ بِبِسْمِ اللَّهِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحْمَنِ، وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ".
ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کیسی تھی؟ انہوں نے بیان کیا کہ مد کے ساتھ۔ پھر آپ نے «بسم الله الرحمن الرحيم» پڑھا اور کہا کہ «بسم الله» (میں اللہ کی لام) کو مد کے ساتھ پڑھتے «الرحمن» (میں میم) کو مد کے ساتھ پڑھتے اور «الرحيم.» (میں حاء کو) مد کے ساتھ پڑھتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5046]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، ان سے سوال کیا گیا کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کیسے تھی؟“ تو انہوں نے بیان کیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھینچ کر پڑھتے تھے۔“ پھر انہوں نے «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» کو پڑھا، یعنی ”بسم اللہ“ کو کھینچ کر پڑھتے، ”الرحمن“ کو مد کے ساتھ پڑھتے اور ”الرحیم“ کو بھی کھینچ کر تلاوت کرتے۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5046]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 5045
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، قَالَ:" سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: كَانَ يَمُدُّ مَدًّا".
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم ازدی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت قرآن مجید کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان الفاظ کو کھینچ کر پڑھتے تھے جن میں مد ہوتا تھا۔ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5045]
حضرت قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت یونس رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق سوال کیا، تو انہوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم خوب کھینچ کر پڑھا کرتے تھے۔“ [صحيح البخاري/كتاب فضائل القرآن/حدیث: 5045]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة